Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۳(کتاب الطلاق ،ایمان، حدود وتعزیر )
133 - 175
مسئلہ۲۰۴: از سیتا پور تامسن گنج دولت کدہ حضرت سید صادق میاں صاحب مرسلہ سید ارتضاحسین صاحب ۲۳جمادی الاول ۱۳۱۶ھ
زید نے قسم کھائی کہ میں مغرب کی نماز میں امام کے ساتھ آدھی میں شریک ہوں گا، اور وہ وضو کررہا تھا، اب وہ تیسری رکعت میں شریک ہوا، آیا وہ حانث ہوگا یانہیں؟اور آیا اس کو آدھی نماز ملی یا نہیں؟بینواتوجروا۔
الجواب

حانث ہوگا، ظاہر ہے کہ ایک رکعت تین کی تہائی ہے نہ کہ آدھی۔ قسم پوری اس وقت ہوتی کہ دو رکوع پاتا کہ دوتہائی اگرچہ نصف سے زائد ہے مگر زیادت مانع بر نہیں،
وبھذاالوجہ کان البرمتصورافانعقدت الیمین وان لم یکن للصلوٰۃ الثلاثۃ نصف معتبر فی الشرع نعم ان حلف لیدرکن نصفھا لااقل ولاازید فالظاھر انہ لایحنث اصلا لعدم تصور البر فیما یظھر وھو شرط الانعقاد کما قدصرحوابہ فی مسئلۃ الکوز وغیرہ ھذاماظھرلی۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
تو اس طرح قسم کو پور ا کرنا متصور ہوسکتا ہے لہذا قسم قرار پائے گی اگرچہ شرعاً تین رکعت والی نماز کا نصف نہیں ہوتا، ہاں اگر قسم میں یوں کہا ہو میں اس نماز کا نصف پاؤں گا نہ اس سے کم نہ زیادہ، تو پھر ظاہر یہ ہے کہ بالکل حانث نہ ہوگا، کیونکہ اس صورت میں قسم کا پورا ہونا ممکن نہیں، یہی ظاہر ہورہا ہے کیونکہ قسم منعقد ہونے کے لئے، اس کا پورا ہونا متصور ہو، یہ شرط ہے، جیسا کہ فقہاء نے کوزے کے مسئلہ میں تصریح فرمائی ہے۔ یہ ہے جو مجھے ظاہر معلوم ہوا۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔(ت)
مسئلہ۲۰۵: ازبنگالہ زین العابدین سراج گنج       ۔
کسے شخص رابرامر شرعی سو گند خدا ورسول داداست کہ اگر چنیں کار خواہی کرد بر تو سوگند خدا ورسول  است آنکس سوگند خداورسول در حسابے نیاوردہ ہر کارے از ومنع کردہ بود از راہ سر کشی آں کار کرد شرعاً بر آنکس چہ حکم صادر آید وتعزیرش در پیش آید۔ بینواتوجروا۔
اگر کوئی شخص دوسرے کو خداو رسول کی قسم دیتے ہوئے یوں کہے اگر تو نے یہ کام کیا تو تجھے اﷲ ورسول کی قسم ہے، تو وہ دوسرا شخص اس قسم کی پروا نہ کرتے ہوئے جس کام سے منع کیا تھا اس کوکرنے پر بضد رہے تو اس شخص پر شرعاً کیا حکم ہوگا اور اس پر کیا تعزیر ہوگی۔ بینواتوجروا۔(ت)
الجواب

سوگند بدادن کسے بردیگر ے لازم نمی شود بے آنکہ دیگر سوگند برخود گیرد پذیرد پس در قبول نکردنش برآں الزامے نیست
ففی الحدیث ان الصدیق رضی اﷲ تعالٰی عنہ عبررؤیا فاخبرہ النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم انہ اصاب بعضا واخطأ بعضا تالیفا للصدیق رضی اﷲ تعالٰی عنہ ان نجھرہ واقسم علیہ صلی اﷲ تعالٰی وسلم فقال النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لاتقسم۱؎۔ ففیہ دلیل واضح علی ماقلنا وقد نص علی المسألۃ العلماء۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
دوسرے کو قسم دینے سے دوسرے کو اس وقت تک قسم لازم نہ ہوگی جب تک وہ خود قسم نہ اٹھائے لہذا مذکورہ صورت میں دوسرے شخص پر قسم لازم نہ ہوئی اس لئے اگر وہ قبول نہ کرے تو اس پر الزام نہ ہوگا، اس لئے کہ حدیث شریف میں ہے کہ حضرت صدیق اکبر رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے ایک خواب کی تعبیر بیان کی تو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے حضرت صدیق اکبر رضی اﷲ تعالٰی عنہ کو بتایا کہ یہ تعبیر کچھ درست ہے اورکچھ غلط ہے، یہ بات حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے حضرت صدیق رضی اﷲ تعالٰی عنہ کی تالیفِ قلبی کے طور پر فرمائی کہ خطا کو ظاہر نہ فرمایا۔ اس پر حضرت صدیق رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو قسم دی کہ آپ بتائیں (کیاخطا اور کیا درست) تو آپ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: قسم نہ دو، تو اس حدیث میں واضح دلیل ہے ہمارے بیان پر، اور علمائے کرام نے بھی یونہی مسئلہ ذکر کیا ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
 (۱؎ مسند احمد بن حنبل     مرویات ابن عباس     دارالفکر بیروت     ٭٭٭)
مسئلہ۲۰۶: از کریلی ضلع بریلی     مرسلہ مولوی انعام الحق صاحب
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ چار شریکوں نے باغ کی فصل خرید کی اور حصے بخرے پر جھگڑا پیدا ہوا، ایک شخص نے منجملہ ان شریکوں کے قسم کھائی اگر اس باغ میں رہوں تو اپنی ماں اور بیٹی سے زنا کروں، اور اپنے مکان کو چلاگیا، آخر کار دو آدمی اس کو جبراً اسی باغ میں لائے اور رات کو بھی رکھا اور قسم کے خلاف عمل میں آیا لیکن جبراً عمل میں آیا ہے، اور صبح کو اپنا فیصلہ کرکے مکان کو چلاگیا اور شخصوں نے اس کو اپنی برادری سے خارج کیا ہے تو اب اس پر جو قسم خوردہ ہے کیا تعزیر ہونا چاہئے؟یانہیں ہوناچاہئے؟بینواتوجروا۔
الجواب

وہ ناپاک و بیہودہ قسم محض مہمل ہیے، لوگ بعد قسم اسے باغ میں لائے اور شب کو رکھا اس سے اس قسم کھانے والے پر کوئی تعزیر نہ آئی نہ وہ اس بناء پر برادری سے خارج کئے جانے کے قابل ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
Flag Counter