Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۳(کتاب الطلاق ،ایمان، حدود وتعزیر )
132 - 175
مسئلہ۲۰۱: قرآن مجید کی قسم کھانے سے قسم ہوجاتی ہے یانہیں؟اور اس کا کفارہ کیا ہے؟ اور اگر کسی گناہ کرنے پر قسم کھائی ہوتو اسے توڑے یا کیا کرے؟ اور جوشخص دوسرے کو دھوکا دینے کے لئے قسم کھائے اس کے پورے کرنے کا دل میں ارادہ نہ ہو اس کا کیاحکم ہے؟بینواتوجروا۔
الجواب

قرآن مجید کی قسم شرعاً قسم ہے،
فی الدرالمختار قال الکمال لایخفی ان الحلف بالقراٰن الاٰن متعارف فیکون یمینا انتہی۲؎۔
درمختار میں ہے کہ کمال نے فرمایا کہ مخفی نہ رہے کہ آجکل قرآن پاک کی قسم متعارف ہوچکی ہے لہذا یہ قسم قرار پائیگی اھ(ت)
 (۲؎ الدرالمختار         کتاب الایمان     مطبع مجتبائی دہلی     ۱ /۲۹۱)
اسی میں ہے:
الایمان مبنیۃ علی العرف فما تعورف الحلف بہ فیمین وما لافلا انتہی۳؎۔
قسموں کی بناء عرف پر ہے ، توعرف میں جس چیز کی قسم متعارف ہوجائے وہ قسم قرار پائے گی، اور جو متعارف نہ ہوقسم نہ ہوگی اھ(ت)
(۳؎ الدرالمختار         کتاب الایمان     مطبع مجتبائی دہلی     ۱ /۲۹۱)
اور قسم اگرامر مستقبل پر ہے جس کا کرنا اس کے قبضہ اقتدار میں ہے تو اس کے جھوٹا کرنے میں گناہ ہے اور کفارہ اس کا رافع، بشرطیکہ وہ کسی معصیت پر نہ ہو مثلاً شراب پئے گا یا نماز نہ پڑھے گا کہ اس کا تو جھوٹا کرنا پھر کفارہ دینا واجب ہے
فی الدرالمختار ومنعقدۃ وھی حلفہ علی مستقبل اٰت یمکنہ وفیہ الکفارۃ ان حنث وھی ای الکفارۃ ترفع الاثم وان لم توجد منہ التوبۃ معھا ای مع الکفارۃ، سراجیہ۱؎ اھ ملخصاً،
درمختارمیں ہے:
یمین منعقدہ اور وہ ہوتی ہے کہ آئندہ ممکنہ چیز کے متعلق حلف  دیا جائے، اس میں حانث ہونے پر کفارہ ہوتا ہے اور وہ کفارہ قسم کے گناہ کو ختم کردیتا ہے اگرچہ اس کے ساتھ توبہ بھی نہ کرے،سراجیہ اھ ملخصاً۔
(۱؎ الدرالمختار     کتاب الایمان     مطبع مجتبائی دہلی     ۱ /۲۹۰)
وفیہ ایضا من حلف علی معصیۃ کعدم الکلام مع ابویہ اوقتل فلان وجب الحنث والتکفیر لانہ اھون الامرین۲؎۔
اس میں یہ بھی ہے اگر کسی نے گناہ پر قسم کھائی مثلاً کہا میں والدین سے بات نہ کروں گا یافلاں کو قتل کروں گا، تو اس پر لازم ہے کہ وہ حنث کرے (یعنی قسم توڑ دے) اور کفارہ دے دے کیونکہ یہ کفارہ اس گناہ کے مقابلہ میں کم تر ہے۔(ت)
(۲؎ الدرالمختار     کتاب الایمان     مطبع مجتبائی دہلی      ۱/ ۲۹۳ )
اور کفارہ ایک غلام آزاد کرنا یادس مسکینوں کو متوسط کھانا یا کپڑا دینا جو تین مہینہ سے زیادہ چلے اور سب بدن ڈھک لے، اور جو کچھ نہ ہوسکے تو متواتر تین روزے رکھناہے،
فی الدرالمختار وکفارتہ تحریررقبۃ اواطعام عشرۃ مساکین کمافی الظہار او کسوتھم بما یصلح للاوساط وینفع بہ فوق ثلثۃ اشھر ویستر عامۃ البدن فان عجز عنھا کلھا وقت الاداء صام ثلثۃ ایام ولاء ۳؎اھ ملخصاً۔
درمختار میں ہے کہ اس کا کفارہ یہ ہے کہ گردن آزاد کرے، یا دس مسکینوں کو کھانا دے جیسا کہ ظہار میں ہوتا ہے، یادس مسکینوں کو درمیانہ لباس دے جو عام بدن کو ڈھانپ لے اور کم از کم تین ماہ تک وہ لباس کام دے۔ اور اگر ان امور کی ادائیگی سے عاجز ہوتو مسلسل تین دن روزے رکھے اھ ملخصاً(ت)
(۳؎ الدرالمختار     کتاب الایمان     مطبع مجتبائی دہلی    ۱/ ۹۳۔۲۹۲)
اور اپنی بریت کو مغالطہ مسلمین کے لئے قصداً جھوٹی قسم کھانا  کہ زبان سے قسم کھانا اور دل میں اس کے خلاف پر عزم رکھتا ہو ہر گز جائز نہیں ،اور احترام نام پاک الٰہی سے بالکل خلاف ہے، حق سبحانہ وتعالٰی نے قرآن  عظیم میں ان لوگوں کی مذمت فرمائی جو قسموں کو اپنی سپر بناتے ہیں، کفارہ اس لئے مقرر ہوا ہے کہ اگر احیاناً حنث واقع ہو یہ اس کا مصلح ہوسکے نہ کہ یہ کفارہ پر تکیہ کرکے قصداً جھوٹی قسم کھائے اسے اپنی بریت کی ڈھال بنائے، واﷲ تعالٰی اعلم وعلمہ اتم واحکم۔
مسئلہ۲۰۲ : ۲۷رمضان ۱۳۲۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے قسم کھائی کہ میں آج ظہر جماعت کے ساتھ ادا کروں گااور مسجد کو گیا مگر امام دو رکعت پڑھ چکا تھا دو رکعت سے امام کے ساتھ اس صورت میں زید کی قسم پوری ہوئی یا نہیں؟بینواتوجروا۔
الجواب

زید کی قسم پوری نہ ہوئی کہ دو رکعت بلکہ تین رکعت پانے والاجماعت کے ساتھ نماز پڑھنے والا نہیں،
درمختار میں ہے:
وکذامدرک الثلث لایکون مصلیا بجماعۃ علی الاظھر وقال السرخسی للاکثر حکم الکل وضعفہ فی البحر۱؎۔
جماعت میں تین رکعتیں پانے والا جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے والانہ قرار پائے گا، اظہر قول کے مطابق اور امام سرخسی نے فرمایا: اکثر کا حکم کل والا ہوتا ہے، لیکن اس کو بحر میں ضعیف قرار دیا ہے۔(ت)
 (۱؎ الدرالمختار     باب ادراک الفریضۃ     مطبع مجتبائی دہلی     ۱ /۱۰۰)
ہاں ثواب جماعت کا قعدہ میں شامل ہونے پر بھی پائے گا وہ جدا بات ہے بلکہ حدیث سے ثابت ہے کہ جو گھر سے بارادہ جماعت چلے اور جماعت ہوچکی اس نے ثواب پالیا فقد وقع اجرہ علی اﷲ (ہاں اجر وثواب اﷲ تعالٰی سے پائے گا ۔ ت ) واﷲتعالٰی اعلم ۔
مسئلہ ۲۰۳: مسئولہ شیخ عاشق علی خادم مسجد بی بی صاحبہ شہر بریلی ۴جمادی الاول ۱۳۱۳ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگر کسی نے غصہ میں قسم کھالی کہ میں بریلی ہی میں نہ رہوں گا، پھر غصہ دور ہوجانے کے بعد وہ پچھتایا، تو کوئی تدبیر ایسی ہے کہ بریلی میں رہے اور حانث نہ ہو یا سواکفارہ ادا کرنے کے کوئی صورت نہیں۔ بینواتوجروا۔
الجواب 

بریلی سے ترکِ سکونت کرکے نکل جانے کے لئے جس سامان وتدبیر ضروری کی اسے حاجت واقعیہ تھی اگر اس کلمہ کے زبان سے نکلتے ہی اس نے شروع نہ کردی یا اس میں معمولی واقعی کوشش نہ کی یا سامان مہیا ہوجانے پر پھر نکلنے میں ڈھیل کی توحانث ہوگیا اور کفارہ لازم، اب چاہے نکلے یانہ نکلے کفارہ دینا ہوگا اور نکلنا کچھ ضرور نہ رہا، او راگر اسی وقت سے سچے طور پر تدبیر میں مشغول ہے اور اس میں ایسی سستی نہ کی جسے عرف میں ایسے کام میں سستی گنیں تو جب تک سامان مہیا کرنے میں رہے گا حانث نہ ہوگا اگرچہ کچھ دن گزر جائیں، ہاں سامان درست ہوتے ہی نکل جانا ہوگا، ایسی کوئی صورت نہیں کہ باختیارخود بریلی میں رہےاور کفارہ دینا نہ پڑے، البتہ اگر یہ تہیّہ میں مشغول تھا کہ کسی نے قید کرلیا اور نکلنے نہ دیا توجب تک یہ مجبوری رہے گی حانث نہ ہوگااگرچہ عمر گزرجائے، یوں ہی اگر بریلی کے سواکہیں اس کے رہنے کا ٹھکانا نہیں نہ اپنے ذاتی مال یا حرفت یا تجارت کے ذریعہ سے دوسری جگہ بسر ممکن ہے تو بھی مجبور سمجھاجائے گا جب تک حالت ایسی باقی رہے،
فی تنویر الابصار والدرالمختار دوام الرکوب واللبس والسکنی کالانشاء فیحنث بمکثہ ساعۃ۱؎
تنویر الابصار اور درمختار میں ہے کہ لباس اور سواری اور سکنٰی پر مداومت کرنا یعنی قسم کے بعد اس کو جاری رکھنا ابتداء عمل کی طرح ہے، لہذا قسم کے بعد ایک گھڑی بھی باقی رکھنے پر قسم ٹوٹ جائےگی،
(۱؎ الدرالمختار شرح تنویر الابصار    کتاب الایمان    مطبع مجتبائی دہلی     ۱ /۲۹۷)
فی ردالمحتار یعنی لو حلف لایرکب ھذہ الدابۃ وھو راکبھا اولایلبس ھذالثوب وھولابسہ اولا یسکن ھذہ الدار وھو ساکنھا فمکث ساعۃ حنث فلو نزل او نزع الثوب او اخذفی النقلۃ من ساعتہ لایحنث۲؎۔
ردالمحتار میں ہے: یعنی اگر قسم کھائی کہ میں اس جانور پر سواری نہ کروں گا جبکہ اس پر سوار تھا یا یہ کپڑا نہ پہنوں گا جبکہ وہ پہنے ہوئے تھا، یااس گھر میں رہائش نہ کروں گا جبکہ اس میں رہائش پذیر تھا، تو قسم کے بعد ایک گھڑی بھی اس حال پر باقی رہا تو قسم ٹوٹ جائے گی، اور اگر فوراً سواری سے اتر گیا یا کپڑا اتاردیا، یا مکان سے منتقل ہونا شروع ہوگیا تو حانث نہ ہوگا۔(ت)
(۲؎ ردالمحتار              کتاب الایمان      داراحیاء التراث العربی بیروت ۳ /۷۶)
اسی میں ہے:
قال فی الفتح ثم انما یحنث بتاخیر ساعۃ اذا امکنہ النقل فیھا والا بان کان لعذر خوف اللص او منع ذی سلطان او عدم موضع ینتقل الیہ او اغلق علیہ الباب فلم یستطع فتحہ لایحنث ویلحق ذٰلک الوقت بالعدم للعذر اھ ولو قدر علی الخروج بھدم بعض الحائط ولم یھدم لم یحنث لان المعتبر القدرۃ علی الخروج  من الوجہ المعھودعند الناس کذافی الظہیریۃ بحر۱؎اھ ملتقطا۔
فتح میں فرمایا  کہ پھر اگر کچھ دیر کردی جبکہ اس کو فوراً منتقل ہونا ممکن تھا تو حانث ہوجائے گا، ورنہ اگر فوراً ممکن نہ تھا کہ وہاں چوری کا ڈر تھا، یا اختیار والے حاکم کی طرف سے رکاوٹ تھی، یا منتقل ہونے کو دوسرا مکان نہ تھا، یا دوسرے مکان کو تالا پڑاہوا تھا جس کو کھولنے پر قادر نہ ہواتو حانث نہ ہوگا، کیونکہ فوراً منتقل ہونے میں یہ وقت بھی شمار ہوگا، اور عذر کی وجہ سے اس وقفہ کو کالعدم قرار دیاجائے گا اھ، اور اگر وہاں سے دیوار توڑ کر فوراً نکلنے پر قدرت ہوتو بھی قسم نہ ٹوٹے گی، کیونکہ نکلنے کےلئے معروف طریقے پر نکلنا معتبر ہے، جیساکہ ظہیریہ میں ہے، بحر، اھ ملتقطا(ت)
(۱؎ ردالمحتار     کتاب الایمان     داراحیاء التراث العربی بیروت    ۳ /۷۸۔۷۷)
اسی میں زیر قول درمختار
لویمکنہ الخروج او اشتغل بطلب داراخری او دابۃ وان بقی ایامالم یحنث
(اگر نکلنا ممکن ہو یا وہ دوسرا مکان تلاش کرنے یا منتقل ہونے کے لئے سواری کی تلاش میں مصروف ہوگیا اور کئی روز اس تلاش میں گزرگئے تو بھی حانث نہ ہوگا۔ت) فرمایا:
ھوالصحیح لان طلب المنزل من عمل النقلۃ فصار مدۃ الطلب مستثنی اذالم یفرط فی الطلب فتح۲؎اھ۔ واﷲتعالٰی اعلم۔
یہی صحیح ہے،کیونکہ دوسرامکان تلاش کرنا یہ منتقل ہونے کاعمل ہے لہذا تلاش کی مدت شمار نہ ہوگی بشرطیکہ تلاش کرنے میں کوتاہی نہ کرے، فتح، اھ۔ واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔(ت)
 (۲؎ ردالمحتار     کتاب الایمان     داراحیاء التراث العربی بیروت    ۳ /۷۸)
Flag Counter