Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۳(کتاب الطلاق ،ایمان، حدود وتعزیر )
131 - 175
کتابُ الایمان
مسئلہ۱۹۹: ۵جمادی الآخرہ ۱۳۰۶ھ
بسم اﷲ الرحمٰن الرحیمoالحمد ﷲ رب العٰلمینoوالعاقبۃ للمتقینoوالصلوٰۃ والسلام علٰی رسولہ محمد واٰلہ واصحابہ اجمعینo
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین اس مسئلہ مقدمہ میں کہ زید نے قسم مغلظہ کھائی ساتھ اس معاہدہ کے کہ اگر میں بکر سے کسی وقت میں ہمکلام ہوں تو زوجہ میری کو طلاق ہے چنانچہ بعد اس عہد کے بکر نے وفات پائی اور زید قبر پر گیا اور احکام شرعیہ کو کام میں لانا یعنی سلام علیکم کہہ کر فاتحہ قبر پر زید نے پڑھی تو اس صورت میں زوجہ زید پر طلاق عائد ہوئی یانہیں؟فقط
الجواب
الحمد الکثیر للحی القدیر، والصلوٰۃ والسلام علی السمیع البصیر واٰلہ وصحبہ الٰی یوم المصیر۔
کثیر ترین حمدیں زندہ قدرت والے کے لئے ہیں، صلوٰۃ وسلام کامل سمع و بصر والے پر اور ان کی آل واصحاب پر تایوم القیامۃ۔(ت)
صورت مستفسرہ میں زنِ زیدپر طلاق نہ ہوئی،
جامع صغیرامام محمد رحمہ اﷲتعالٰی میں ہے: محمد عن یعقوب عن ابی حنیفۃ رضی اﷲ تعالٰی عنھم رجل قال  لاٰخر ان ضربتک فعبدی حرفمات فضربہ قال فھو علی الحیٰوۃ، وکذٰلک الکسوۃ والکلام والدخول۱؎انتہی۔
امام محمد نے امام ابویوسف سے اور انہوں نے امام ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالٰی عنہم سے روایت کیا کہ ایک شخص نے دوسرےکو کہا اگرمیں تجھے ماروں تو میرا غلام آزاد ہے، دوسرے کے فوت ہونے کے بعد اس نے اسے مارا(تو قسم نہ ٹوٹے گی) یوں ہی لباس، کلام یا دخولِ دار کی قسم کھائی ہوتو وہ بھی فوت ہونے کے بعد کارروائی پر نہ ٹوٹے گی کہ ان قسموں کا تعلق زندہ سے ہوتا ہے اھ(ت)
(۱؎ جامع الصغیر     باب الیمین فی القتل والضرب    مطبع یوسفی لکھنؤ    ص۷۴)
وجہ اس کی یہ ہے کہ بنائے یمین عرف پر ہے اور عرف میں اس سے کلام بعد الموت مقصود ومفہوم نہیں ہوتا، نہ بعد موت کلام و سلام کویہ کہتے ہیں کہ زائرمیت سے باتیں کررہا ہے اگرچہ و حقیقۃً وشرعاً کلام و سلام ہے جیسے قسم کھانے والاکہ گوشت نہ کھائے گا مچھلی کھانے سے حانث نہ ہوگا اگرچہ حقیقۃً وشرعاً گوشت اس پر بھی صادق،
قال اﷲ تعالٰی لتأکلوامنہ لحماطریا۲؎۔
اﷲ تعالٰی نے فرمایا: تم دریا سے تازہ گوشت کھاؤ۔(ت)
(۲؎ القرآن الکریم    ۱۶/ ۱۴ )
ولہذا اگرقسم کھائی کہ کلام نہ کرے گا اور قرآن پڑھا، تسبیح و تہلیل کی، حانث نہ ہوگا، حالانکہ حقیقۃً و شرعاً یہ بھی کلام ہے
قال اﷲتعالٰی الیہ یصعد الکلم الطیب۳؎
اﷲ تعالٰی نے فرمایا: اسی کی طرف طیب کلمات اٹھتے ہیں۔
 (۳؎ القرآن الکریم۳۵ /۱۰)
وقال صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کلمتان خفیفتان علی اللسان ثقیلتان  فی المیزان حبیبتان الی الرحمٰن سبحان اﷲ وبحمدہ سبحان  اللہ العظیم ۴؎۔ رواہ البخاری۔
ا ورحضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا: دو کلمے زبان پر خفیف، ترازوں میں بھاری، اﷲ تعالٰی کے ہاں محبوب ہیں سبحان اﷲ وبحمدہ سبحان اﷲ العظیم،اس کو بخاری نے روایت کیا(ت)
 (۴؎ صحیح بخاری     کتاب الرد علی الجہیمۃ     قدیمی کتب خانہ کراچی     ۲ /۱۱۲۹)
یہاں تک کہ علماء فرماتے ہیں اگر قسم کھائی زید سے کلام نہ کروں گا اور زید نماز جماعت میں اس کے برابر کھڑا تھا سلام پھیرتے وقت اس کی طرف منہ کرکے السلام علیکم ورحمۃ اﷲ کہا حانث نہ ہوااگرچہ اس سلام میں نیت حاضرین کا قطعاً حکم ہے اسی طرح اگر جس کی نسبت قسم کھائی تھی وہ امام ہوا اور نماز میں بھولا اس نے بتایا قرأت میں لقمہ دیا حانث نہ ہوگا حالانکہ یہ قطعاً اس سے خطاب ہے اور خاص بقصد خطاب صادر،
فی الھندیۃ لوحلف لایتکلم ولانیۃلہ فصلی وقرأفیھا اوسبح او ھلل لم یحنث وقال الفقیہ ابواللیث ان عقد یمینہ بالفارسیۃ لایحنث بالقراءۃ والتسبیح خارج الصلوٰۃ ایضا للعرف فانہ یسمی قارئا ومسبحا لامتکلما وعلیہ الفتوی کذافی الکافی اھ۱؎ ملخصاً۔
ہندیہ میں ہے کسی نے قسم کھائی کہ کلام نہ کروں گا،اورخاص نیت نہ کی، تو نمازپڑھنے میں قرأت کرنے، تسبیح و تہلیل کرنے پر قسم نہ ٹوٹے گی۔ اور ابوللیث فقیہ نے فرمایا اگر کسی نے فارسی زبان میں قسم کھائی کہ بات نہ کروں گا، تو خارج از نماز قرأت کرنے اور تسبیح پڑھنے پر بھی قسم نہ ٹوٹے گی کیونکہ اس عمل والے کو عرف میں قاری اور تسبیح پڑھنے والاکہا جاتا ہے کلام کرنے والانہیں کہا جاتا، اور اسی پر فتوی ہے جیسا کہ کافی میں ہے اھ ملخصاً(ت)
 (۱؎ الفتاوی الہندیۃ     الباب السادس فی الیمین علی الکلام     نورانی کتب خانہ پشاور     ۲ /۹۷)
اسی میں ہے:
اذاحلف لایکلم فلانا فاقتدی الحالف بالمحلوف علیہ فسھا المحلوف علیہ فسبح لہ الحالف لم یحنث کذافی المحیط۲؎۔
اگر قسم کھائی کہ وہ فلاں سے بات نہ کرے گا، تو اس کی اقتداء میں نماز پڑھتے ہوئے وہ بھول جائے تو قسم کھانے والے نے اسے سبحان اﷲ کہہ کر لقمہ دیا تو حانث نہ ہوگا، یعنی قسم نہ ٹوٹے گی جیسا کہ محیط میں ہے۔(ت)
 ( ۲؎ الفتاوی الہندیۃ     الباب السادس فی الیمین علی الکلام     نورانی کتب خانہ پشاور     ۲ /۹۷)
اسی میں ہے:
کذا اذا سلم عن الصلوٰۃ وفلان عن جنبہ کذافی العتابیۃ ۳؎۔
یونہی جب نماز سے سلام پھیرے اور وہ فلاں اس کے پہلو میں ہو، جیسے کہ عتابیہ میں ہے۔(ت)
 ( ۳؎ الفتاوی الہندیۃ     الباب السادس فی الیمین علی الکلام     نورانی کتب خانہ پشاور     ۲ /۹۷)
اسی میں ہے:
لوکان المحلوف علیہ اماماوالحالف مقتدیابہ ففتح علی الامام لایحنث۴؎الخ۔
جس کے متعلق قسم کھائی اگر وہ امام ہو اور قسم کھانے والا مقتدی ہوتو امام کو لقمہ دینے پر وہ حانث نہ ہوگا، الخ(ت)
 ( ۴؎ الفتاوی الہندیۃ     الباب السادس فی الیمین علی الکلام     نورانی کتب خانہ پشاور     ۲ /۹۷)
اسی طرح صدہا مسائل میں جن کا ماخذ وہی عرف پر احکامِ ایمان کی بنا ہے، واﷲ سبحنہ وتعالٰی اعلم۔
مسئلہ۲۰۰:ازاوجین مکان میر خادم علی صاحب اسسٹنٹ مرسلہ حاجی یعقوب علی خاں صاحب ۱۷شوال ۱۳۱۱ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے عمرو سے قسمیہ کہا کہ یہ کام کر، اور اس نے نہ کیا تو بہ سبب انکار اس کام کے عمروپر قسم عائد ہوتی ہے یانہیں ؟بینواتوجروا۔
الجواب

کسی کے قسم دلانے سے نہ اس پر قسم عائد ہو نہ اس کام کا کرنا واجب، حدیث میں ہے حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:
لاتقسم۱؎
قسم نہ دو۔
 (۱؎ مسند احمد بن حنبل     مروی از عبداﷲ بن عباس     دارالفکر بیروت  ۱ /۲۱۹)
معلوم ہواکہ دلانے سے ماننا واجب نہیں ہوتا، ہاں اگر حرج نہ ہوتومان لینا مستحب ہے کما نص علیہ الفقھاء الکرام(جیسا کہ اس پر فقہاء کرام نے تصریح فرمائی۔ت) واﷲ تعالٰی اعلم۔
Flag Counter