Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۳(کتاب الطلاق ،ایمان، حدود وتعزیر )
130 - 175
فی جامع الفصولین اواخرالفصل ۳۸ قیل لہ یا یک درہم بدہ تا بعمارت مسجد صرف کنم یا بہ مسجد بیا بنماز فقال من نہ بمسجد آیم ونہ درہم دہم مرابمسجد چہ کاروھو مصر علی ذٰلک لایکفر ولکن یعزر۱؎،
جامع الفصولین کی فصل نمبر۳۸ کے آخر میں ہے  کسی شخص کو کہا  کہ مسجد کی عمارت کے لیے ایک درہم چندہ دے یا اس کو کہا گیا  مسجد میں آکر نماز پڑھ ،تو اس نے جواب میں یوں کہا کہ میں نہ مسجد میں آتا ہوں اور نہ درہم دیتا ہوں مجھے مسجد سے کیا کام، اور اس نے اصرار کیا ہو تو اسے کافر نہ کہا جائے گا لیکن تعزیر لگائی جائیگی۔
(۱؎ جامع الفصولین     الفصل الثامن والثلاثون     اسلامی کتب خانہ کراچی ۲ /۳۱۶)
واما التفریق لعدم الانفاق والزوج حاضر وموسر قادر فلم یقل بہ حنفی ولاشافعی بل نص علی خلافہ الامام الشافعی فلا سبیل للمرام الاالاشتکاء الی الحکام لیجبروہ علی الانفاق وان لم یرضہ فعلی الطلاق
لقولہ تعالٰی فامسکوھن بمعروف او فارقوھن بمعروف۲؎،
لیکن خرچ نہ دینے پر جب خاوند حاضر ہو اور امیر ہو نفقہ دینے پر قادر ہو تو اس صورت میں کسی حنفی نہ کسی شافعی نے تفریق کا قول کیا ہے بلکہ امام شافعی رحمہ اﷲ تعالٰی نے اس کے خلاف تصریح کی ہے لہذا خاوند جب قادر ہو اور امیر ہوتو پھر مقصد برآری کی یہی صورت ہے کہ حکام سے بیوی شکایت کرے تاکہ وہ خاوند کو نفقہ دینے پر مجبور کریں اگر نفقہ دینے پر راضی نہ ہوتو پھراس کو طلاق دینے پر مجبور کریں کیونکہ اﷲ تعالٰی کا ارشاد ہے بیویوں کو اچھی طرح رکھو یا ان سے بھلائی کے ساتھ جدائی کرلو۔
 (۲؎ القرآن الکریم   ۶۵/ ۲)
فی ردالمحتار عن غرر الاذکار ثم اعلم ان مشائخنا استحسنواان ینصب القاضی الحنفی نائبا ممن مذھبہ التفریق بینھما اذاکان الزوج حاضرا وابی عن الطلاق لان دفع الحاجۃ الدائمۃ لایتیسر بالاستدانہ اذ الظاھر انھا لاتجد من یقرضھا وغنی الزوج ماٰلا امرمتوھم فالتفریق ضروری اذا طلبتہ وان کان غائبا لایفرق لان عجزہ غیر معلوم حال غیبتہ وان قضی عجزہ غیر معلوم حال غیبتہ وان قضی بالتفریق لاینفذ قضاؤہ لانہ لیس فی مجتھدفیہ لان العجز لم یثبت۱؎اھ
ردالمحتار میں غررالاذکار سے منقول ہے کہ ہمارے مشائخ نے یہ پسند کیا ہے کہ حنفی قاضی کسی شافعی یا اس شخص کو جس کا  مذہب یہ ہو کہ نفقہ نہ دینے پر حاضر خاوند کو طلاق دینے پر مجبور کیا جائے اگرطلاق نہ دے تو قاضی تفریق کرے، اپنا نائب بناکر اس سے تفریق کرادے کیونکہ نفقہ کی حاجت دائمی ہے جو کہ بیوی کے قرض اٹھانے پر پوری نہیں ہوسکتی کیونکہ ظاہر میں کوئی ایساشخص نہیں ملتا جو اس کو قرض دیتا رہے جبکہ خاوند کا بالآخرغنی ہو کر نفقہ ادا کرنا موہوم بات ہے تو بیوی کے مطالبہ پر اس صورت میں تفریق ضروری ہے ،اور مذکورہ صورت میں اگر خاوند غائب ہوتو تفریق نہ کی جائے کیونکہ غائب ہونے کی صورت میں خاوند کا نفقہ سے عجز معلوم نہ ہوسکے گا اس صورت میں اگر تفریق کردی تو وہ نافذ نہ ہوگی کیونکہ اس صورت میں تفریق مجتہدین کے ہاں زیر بحث مسئلہ نہیں ہے کیونکہ خاوند کا عجز معلوم نہیں ہے، اھ۔
 (۱؎ ردالمحتار    باب النفقۃ     داراحیاء التراث العربی بیروت    ۲ /۶۵۶)
فانظر الی قولہ وغنی الزوج ماٰلا امرمتوھم وقولہ فی الغائب لان عجزہ غیر معلوم یرشد انک ان الکلام انما ھو فی العاجز المعسر دون القادر المستکبر وانظر اٰخر الکلام یفیدک ان القضاء بالتفریق حیث لم یثبت عجزہ باطل سحیق وقد قال فی ردالمحتارایضا قبلہ مانصہ والحاصل ان عند الشافعی اذا اعسر الزوج بالنفقۃ فلھا الفسخ وکذااذاغاب وتعذر تحصیلھا منہ علی مااختارہ کثیرون منھم لکن الاصح المعتمد عندھم ان لافسخ مادام موسراوان انقطع خبرہ وتعذر استیفاء النفقۃ من مالہ کما صرح بہ فی الاُم قال فی التحفۃ (یعنی سیدنا الامام الشافعی رضی اﷲ تعالٰی عنہ) قال(یعنی العلامۃ ابن حجر المکی الشافعی رحمہ اﷲ تعالٰی) بعد نقلہ ذلک فجزم شیخنا (یعنی العلامۃ شیخ الاسلام زکریا الانصاری) فی شرح منھجہ، ان القول بالفسخ فی منقطع خبر لامال لہ حاضر مخالف للمنقول  کما علمت۱؎الخ
اس عبارت میں''بالآخر خاوند کا غنی ہونا موہوم ہے'' اور غائب ہونے والے کے بارے میں ''یہ کہ اس کا عجز معلوم نہیں'' پر غور کریں تو یہ رہنمائی ملتی ہے کہ تفریق کی بات صرف خاوند کے تنگدست اور عاجز ہونے کی صورت میں ہے، نہ کہ قادر اورہٹ دھرم خاوند کی صورت میں، اور پھر مذکورہ کلام کاآخری حصہ تو واضح طور پر بتارہا ہے کہ جب خاوند کا عجز ثابت نہ ہوتو وہاں تفریق  کافیصلہ بالکل باطل ہے جبکہ ردالمحتار میں مذکور کلام سے قبل بھی فرمایا، عبارت یوں ہے، الحاصل امام شافعی کے ہاں جب خاوند تنگدست قرار پائے تو بیوی کو فسخ کے مطالبے کا حق ہوتا ہے اور یونہی اگر خاوند غائب ہو اور اس کے ملنے کی امید نہ ہوتو بھی نفقہ کی ناامیدی پر اکثر شوافع حضرات کے ہاں فسخ مختار ہے لیکن ان کے مذہب میں معتمد علیہ اور اصح یہ ہے کہ اس وقت تک فسخ کا اختیار نہیں جب تک اس کی تنگدستی ثابت نہ ہوجائے اگرچہ غائب ہوکہ اس کی کوئی خبر نہ ہو اور اس کے مال سے بیوی کےلئے نفقہ کی کوئی صورت نہ بن  پاتی ہو، جیسا کہ امام شافعی کی کتاب ''الام'' میں تصریح ہے کہ امام شافعی رحمہ اﷲ تعالٰی نے تحفہ میں فرمایا، علامہ ابن حجر مکی شافعی نے یہ عبارت نقل کرنے کے بعد فرمایا کہ ہمارے شیخ یعنی شیخ الاسلام زکریا انصاری نے اپنی منہج کی شرح میں یہ جزم فرمایا ہے کہ ایسے غائب شخص جس کی کوئی خبر نہ ہو اور اس کا مال بھی موجود نہ ہو، تو فسخ کا فیصلہ منقول کے خلاف ہے جیسا کہ آپ کو معلوم ہوا ہے۔
 (۱؎ ردالمحتار     باب النفقۃ     داراحیاء التراث العربی بیروت    ۲ /۶۵۶)
وفی کتاب الانوار للامام یوسف ارد بیلی الشافعی رحمہ اﷲ تعالٰی لوامتنع مع القدرۃ اوغاب مع الیسار اوقدرت علی مالہ فلاخیار۲؎۔ وفیہ ولو جھل حال الغائب من الیسار او الاعسار او شک فی یسارہ فلاخیار لان السبب لم یتحقق ویفھم من ھذاانہ لوغاب معسر اومضت مدۃ فلاخیار لھا لاحتمال الیسار۱؎،
امام یوسف اردبیلی شافعی کی ''کتاب الانوار'' میں ہے کہ خاوند قادر ہونے کے باوجود نہ دے، یا امیر ہونے پر وہ غائب ہو، یابیوی اس کے مال سے نفقہ حاصل کرنے پر قادر ہو تو پھر فسخ کا اختیار نہیں ہے، اور اس میں ہے کہ اگر غائب ہو اور اس کی تنگدستی یا تو نگری معلوم نہ ہو یا اس کے حال میں شک ہوتو فسخ کا اختیار نہیں ہوگا، کیونکہ فسخ کا سبب موجود نہیں ہے۔ اور اس سے یہ معلوم ہوا کہ اگر خاوند تنگدست غائب ہو اور کچھ مدت گزر جائے تو بھی اختیار فسخ نہیں کیونکہ ہوسکتا ہے کہ اب وہ امیر بن چکا ہو۔
 (۲؎ الانوار) (۱؎ الانوار)
وفی شرح الکمثری قال فی التحفۃ والمنھاج والاصح ان لافسخ بمنع موسراو متوسط حضر اوغاب لتمکنھا منہ ولو غائبا کمالہ بالحاکم والمعتمد مافی المتن ومن ثم صرح فی الام بانہ لافسخ مادام موسراوان انقطع خبرہ وتعذر استیفاء النفقۃ من مالہ والمذھب نقل کما قالہ الاذرعی فجزم شیخنافی شرح منھجہ بالفسخ فی منقطع خبر لامال لہ حاضرا مخالف للمنقول کما علمت ولافسخ بغیبتہ من جھل حالہ یسارا او اعسارا بل لو شھدت بینۃ انہ غاب معسرا فلافسخ مایشھد باعسارہ الان اھ کلام التحفۃ۲؎اھ باختصار،
کمثری کی شرح میں ہے کہ تحفہ اور منہاج میں فرمایا کہ اصح یہ ہے کہ امیر خاوند غائب یا متوسط حال والاحاضر ہو یا غائب تو فسخ نہیں ہوگا کیونکہ بیوی کو نفقہ کا حصول ممکن ہے جیساکہ غائب ہونے کی صورت میں اس کا مال موجود ہوتو قاضی کے ذریعہ حاصل کرسکتی ہے، اور قابل اعتماد وہ ہے جو متن میں ہے، اسی لئے الام میں تصریح ہے کہ امیر خاوند غائب ہواگرچہ اس کی کوئی خبر نہ ہواور اس کے مال سے نفقہ حاصل کرنا مشکل ہو، یہی مذہب منقول ہے، جیسا کہ اذرعی نے فرمایا کہ ہمارے شیخ نے اپنی منہج کی شرح میں فرمایا کہ ایسا غائب جس کی کوئی خبر نہ ہواور حاضر مال بھی نہ ہوتو اس صورت میں فسخ کا قول منقول مذہب کے خلاف ہے جیسا کہ تمہیں معلوم ہوا ہے، اور فسخ جب بھی نہیں کہ غائب شخص کے تنگدست یا امیر ہونے کا علم نہ ہو بلکہ گواہوں نے شہادت بھی دی ہو کہ غائب ہونے والاتنگدست ہے تب بھی فسخ نہیں کہ یہ شہادت موجودہ حال کی نہیں ہے، تحفہ کا کلام ختم ہوا، اھ، اختصاراً۔
 (۲؎الانوار)
وفی تعلیقاتہ للفاضل ابراھیم الشافعی جزم فی شرح منھجہ بالفسخ فی منقطع خبرلامال لہ قال ابن حجر وھو خلاف المنقول فانہ صرح فی الام بانہ فسخ مادام موسر اوان انقطع خبرہ وتعذر استیفاء النفقۃ من مالہ ۱؎ اھ
الفاضل ابراہیم شافعی نے اپنی تعلیقات میں فرمایا کہ شیخ نے اپنی منہج کی شرح میں اس  پر جزم کیا ہے کہ وہ غائب جس کی خبر معلوم نہ ہو اور اس کا مال نہ ہوتو فسخ ہوگا جبکہ ابن حجر نے کہا ہے کہ یہ منقول مذہب کے خلاف ہے کیونکہ امام شافعی نے الام میں تصریح کی ہے کہ غائب شخص جس کی خبر معلوم نہ ہو وہ جب تک امیر ہے اور اس کے مال سے نفقہ پورا کرنا مشکل ہوتو بھی فسخ نہ ہوگا۔
  (۱؎ تعلیقات)
وفی قرۃ العین بمھمات الدین وشرحھا فتح المعین کلاھما للعلامۃ زین الدین الشافعی تلمیذ الامام ابن حجر المکی رحمھمااﷲتعالٰی(فسخ نکاح من اعسر فلافسخ) علی المعتمد(بامتناع غیرہ) موسرااومتوسطا من الانفاق حضراوغاب (و)لافسخ(قبل ثبوت اعسارہ) باقرارہ او بینۃ تذکراعسارہ الاٰن ولاتکفی بینۃ ذکرت انہ غاب معسرا۲؎اھ ملتقطا واﷲ تعالٰی اعلم۔
علامہ زین الدین شافعی تلمیذ امام ابن حجر مکی رحمہمااﷲتعالٰی کی دونوں کتب، قرۃ العین بمہمات الدین، اور اس کی شرح فتح المعین، میں ہے کہ تنگ دست کانکاح فسخ ہوگا اور معتمد قول کے مطابق کسی ایسے شخص کا جوامیر ہویا متوسط ہو اور وہ نفقہ نہ دے خواہ حاضر ہو یا غائب کانکاح فسخ نہ ہوگا تنگدستی کا ثبوت اس کے ا قرارسے ہوگا یا شہادت سے ہوگا جس میں یہ ذکر ہو کہ اب تنگدست ہے اس میں یہ ذکر کافی نہیں کہ غائب ہوتے وقت وہ تنگدست تھااھ ملتقطا، واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
 (۲؎ فتح المعین شرح قرۃ العین     عامر الاسلام پور پرس     ترونگاری کبیر    ص۴۲۴تا۴۲۷)
مسئلہ۱۹۸: از ہوڑہ رام کشٹوپور محلہ بانس تلاگھاٹ روڈ مرسلہ محمد حسن رضاخاں صاحب ۱۶شعبان المعظم ۱۳۳۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک عورت پردہ نشین اپنے شوہر کی مطلقہ ہے، بعد عدت عقد ثانی کیا، بعد گزرنے ایک برس میکے آئی اور ذاتی یا زوجی تکلیف کی وجہ سے شوہر ثانی کے یہاں جانا پسند نہیں کرتی ہے اور اس سے خلع چاہتی ہے اور شوہر اولیٰ کی موانست کو پسند کرتی ہے، شوہر ثانی باعث جہالت اور بہکانے دوسروں کے طلاق نہیں دیتا اور نہ کافی طورپر بی بی کا حق ادا کرسکتا ہے اور صورت اوقات بسری عورت کی ذاتی حیثیت کچھ بھی نہیں اور نہ میکے میں فراغت، پردہ بھی فرض ہے اور کھانا کپڑا بھی واجب، پھر ایسے موقعہ میں کیوں اقتداء مسائل حضرت امام شافعی رحمہ اﷲ تعالٰی نہیں ہوسکتی ہے کیونکہ چاروں امام جب کہ برحق ہیں اور اگر اقتداامام شافعی کی کی جائے تو حقیقت اس مسئلہ  کی کیا ہے، ایسی حالت میں پیروی دوسرے امام کی نہ کرنے سے خوف غلبہ شیطان کا ہے نہ معلوم کس گناہ کبیرہ میں مرتکب ہو اس لئے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ضرورۃ  اور مصلحۃ اقتداء لازم ہے۔
الجواب

قرآن عظیم نے شوہر دار عورتوں  کو حرام قطعی فرمایا سائل کے گول لفظ شرط مذہب شافعی کو پورا نہیں کرتے، عورتوں کو ہوائے نفس کا اتباع کرنا اور اسے کسی امام دین کے سر رکھنا دین نہیں نہ حنفی اس پر فتوے کا مجاز بلکہ اگرحنفی حاکم شرعی اس پر حکم دے گا قضا نافذ نہ ہوگی،
درمختار میں ہے:
لایفرق بینھما بعجزہ عنھا ولابعدم ایفائہ حقھا ولو قضی بہ حنفی لم ینفذ۱؎۔
حنفی مذہب میں نفقہ سے عاجز ہونے یا بیوی کا حق پورا نہ کرنے پر تفریق نہ ہوگی اگر کسی حنفی نے یہ تفریق کی تو نافذ نہ ہوگی۔(ت)
(۱؎ درمختار     باب النفقۃ     مطبع مجتبائی دہلی     ۱ /۲۶۹)
چارہ کار حکومت کی طرف رجوع ہے کہ وہ اسے دوباتوں میں سے ایک پر مجبور کرے یا ادائے نفقہ یا طلاق، واﷲ تعالٰی اعلم۔
Flag Counter