Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۳(کتاب الطلاق ،ایمان، حدود وتعزیر )
13 - 175
رسالہ (۱۳۲۲ھ)

آکدالتحقیق بباب التعلیق

(باب تعلیق کے متعلق تحقیق انیق)

بسم اﷲ الرحمٰن الرحیم ط
مسئلہ ۱۰: از بنگالہ موضع نواکھالی ڈاک خانہ بیگم گنج مرسلہ عبد المجید صاحب از رامپور ۶محرم الحرام ۱۳۲۲ھ 

بگرامی خدمت، فیضدرجت، مجمع الفضائل، منبع الفواضل، کاشف دقائق شرعیہ، واقف حقائق عقلیہ نقلیہ، محی السنّۃ النبویہ، مروج الاحادیث المصطفویہ، صاحب التحقیقات الرائقہ، زبدۃ السعادت الفائقہ، اعنی مولانا المولوی شاہ احمد رضا خاں صاحب دام افضالہم۔ بعداد ائے تسلیمات فرواواں وکور نشات بیکراں معرض آں خدمت یہ ہے جناب حضور نے جو فتوائے طلاق معلق بالصلٰوۃکی تحریر فرما کر ارسال فرمائے تھے بندہ گم گشتہ نے ملک کو بھیج دیا اور سب علمائے موافقین ومخالفین نے دیکھ کر بہت خر سندیں حاصل کیں بلکہ سب علماء متفق ہوکر بسبب فرمان فتوائے موصوف کے زوج احمد سے زوجہ مغلظہ کو علیحدہ کیا تھااور اس پر بہت دن گزر گئے مگر مولوی وجیہ اﷲ جو دیوبند سے عنقریب تحصیل کرکے گھر کو گئے اس نے زوج احمد کو کہا کہ تمہاری زوجہ مطلقہ مغلظہ نہیں ہوئی تم ہماری رائے پر چلو تو ہم فتوائے ہند کو مردود کردیں گے، چنانچہ احمد علی بھی بوجہ نفع اپنے کے اور بوجہ تعلیم اپنے قول سے منکر ہوگئے یعنی جو پہلے تعمیم کے منکر اور تخصیص کے  راجع، اب بعد چندیں مدت اپنی نیت ظاہر کرتے ہیں کہ نیت ہمارا علی الابد کے لئے ہے اور مولوی وجیہ اﷲ نے اس وقت کے نیت کے مطابق ایک فتوٰی بھی لکھا وہی فتوٰی آپ کی خدمت عالی میں ارسال کرتاہوں اور فتوٰی تحریر کرکے احمد علی کو مدعی بناکر کچہری میں مقدمہ دائر کئے ہیں بعدہ اس کے فتوٰی اور آنحضور کی تحریر مبارک دونوں کچہری میں پیش ہوا اور مولوی وجیہ اﷲ کو اور اس طرف کے علماؤں کو حاکم نے طلب کیا اور دونوں فتوٰی کے مطلب حاکم کو سمجھا دئے مگر مولوی وجیہ اﷲ نے حضور کے فتوٰی پر اور مذہب کے قیل وقال ناشائستہ بیان کیا مگر حاکم کے نزدیک کچھ اعتبار نہیں ہوا اور حاکم نے خود کہا کہ جناب مولٰینا شاہ احمد رضا خاں صاحب کو میں خوب جانتا ہوں اور ا ن کی حالت مجھے خوب معلوم ہے اور دیوبند کے علمائے لامذہب کو بھی معلوم ہے کہ میں ہند کی سیر کرنے والا ہوں،مولوی وجیہ اللہ نے کہا  کہ صاحب،زجرا وتنبیہا بغرض نصیحت طلاق دینے سے طلاق نہیں ہو تی ، اور دلالت حال ویمین الفور کا شرعاً کچھ اعتبار نہیں ہے، اگر تسلیم بھی کیا جائے کہ طلاقیں مغلظ واقع ہوگئیں تاہم بوجہ رجعت کے اولین طلاق باطل بعد وجود جوطلاق بلاشرط دیا ہے اس کے لئے رجعت جائز ہے، اوردلیل بھی بیان کیا اس وجہ سے حاکم کے دل میں خدشہ پیدا ہوا حاکم نے اس طرف کے علماؤں کو فرمایا کہ آپ لوگ مولونا موصوف کے بیس۲۰دن کے اندر مولوی وجیہ اﷲ کا رد جواب منگوائیے ورنہ یہ شبہ کس طرح دور ہوسکتا ہے، اور حاکم نے بیس۲۰ روز مقدمہ کا حکم مؤخر کردئے، اکنوں دست بستہ ہو کر عرض کرتا ہوں کہ آپ ازروئے مہر بانی وشفقت گزاری کے پندرہ یا سولہ روزکے اندر جواب تحریر فرمادیجئے اور ہم لوگوں کو بحر غموم سے خلاص کر لیجئے ورنہ جمیع علماء کی بلکہ ملک ہند کی بھی بدنامی کی بات ہے، زیادہ کیا عرض کروں۔ 

عرض گزار خادم عبد المجید عفا اﷲ عنہ 

نقل فتوٰی  مولوی وجیہ اﷲ دیوبندی باشندہ بنگالہ
سوال : چہ مے فرمایند علمائے دین وراز دارانِ شرع متین کہ درحاضر ان مجلس بحضور علماء وغیرہم کہ احمد علی بزبان خود اقرار نمود کہ من دائما زوجہ ام برائے نماز خوانی تاکید وزجرمی کردہ بودم وبرائے نماز خوانی چند قواعد نماز تعلیم ہم کردم لیکن بعد روزے چند بوقت مغرب مرزوجہ ام را گفتم کہ تو نماز بخواں زن مذکورہ اباوانکار کردو گفت کہ مرافرصتے نیست ازیں وجہ گفتم کہ اگر تو نماز نگزاری برتو دو طلاق معلق دادم کہ بزبان بنگالہ (دیلام) ودر لغت اردو (دیامیں) استعمال کنندبعدہ زن مذکورہ نمازِ عشانخواند وقضاہم نہ گزارد ونمازِ فجر بخواند بعد فجر رجعت ہم کرد وبعد سالے بلاشرط دو طلاق آں زوجہ مذکورہ را ایضاہم داد واحمد علی بمحفل مذکور علماء وغیرہم نیت بوقت بیان تعمیم وتخصیص ہر دو منکر بود بلاقرینہ برائے تخصیص راجع اما بعد شش ماہ بجہت تعلیم مخالفین وبوجہ نفع خود بگوید کہ نیتم برائے دائم وعلی الابدست اکنوں از روئے شرع شریف اقرار ش صحیح بود یا چہ وبگوید کہ زجراً وتنبیہاً برائے تعود للصلٰوۃ طلاق واقع نمی شود بلکہ معنی آں وعدہ طلاق شود ووعدہ طلاق طلاق  واقع نمی شود  بگوید کہ قول زوج بخوان صیغہ امر بردلالت حال راجع لیکن فور ثابت نمی شود بلکہ فور راہیچ اعتبار نیست بر تقدیر تسلیم کہ طلاقین اولین بوجہ رجعت باطل ست کما ھوالمعروف اکنوں بہر حال برائے زوج احمد علی رجعت صحیح است آیا حکمش فے الواقع ہمیں ست یا زوجہ احمد علی بہ سہ طلاق شدہ مغلظہ شد بینوابالتفصیل،

اندریں صورت کہ زوج احمد علی بزبان خود اقرار مے کند کہ روزے بعد ادائے نماز مغرب مرزوجہ خودر ابسبب تارک الصلوۃ زجر وتوبیخ کردکشاں کشاں آنکہ باعتدال طبع واستقلال مزاج بطریق زجر وتنبیہ گفت کہ  تو نماز بخواں  اگر نماز نخوانی ترادو طلاق وآں زن نیت نماز وسورہ بخوبی ندانستی غرض آنکہ زن عشاء نخواند بوقت فجر وضو کردہ برائے گزاردن نماز فجر استاد شویش نیت وسورۃ تعلیم کردووے نماز خواند بعد دو سہ روز میانجی محلہ را طلبیدہ رجعت نمود و در صورت کذائیہ زوجہ اش برائےوے حلال  ماندیا چہ وبعد چند ماہ دو طلاق بلاشرط ایضاً برآں زوجہ مذکورہ  اش دادہ است ،آیا کہ اگر تسلیم کردہ شود کہ اول طلاقین واقع شد ند بر تقدیر ش بوجہ رجعت اول طلاقین بن باطل شد یاچہ، واکنوں رجعت کردہ از زوجہ مذکورہ استمتاع گرفتن رواست یا نہ؟بینوا۔
سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین ورازدارانِ شرع متین کہ حاضرین مجلس علماء وغیرہم کی موجودگی میں احمد علی نے اپنی زبان سے اقرار کیا کہ میں ہمیشہ اپنی بیوی کو تاکیداور تنبیہ کرتا رہا ہوں اور نمازپڑھنے کا طریقہ سکھا تا رہا ہوں لیکن چند روز بعد مغرب کے وقت میں نے بیوی سے کہا کہ نماز پڑھو تو بیوی نے انکار کرتے ہوئے کہا کہ مجھے فرصت نہیں ہے،اس پر میں نے اسے کہا''اگر تو نماز نہ پڑھے توتجھ پر دو۲ طلاقیں معلق طور پر دیتا ہوں'' یہ بات بنگالی زبان میں(دیلام) جس کا اردو میں معنی (میں نے دیا) ہے، کہا، اس کے بعد بیوی نے عشاء کی نماز ادا نہ کی اور نہ قضا کی اور پھر فجر کی نماز پڑھی فجر کے بعد اس نے رجوع کرلیا، اور اس کے ایک سال بعد خاوند نے اس بیوی کو دو طلاقیں بغیر شرط پھر دے دیں، احمد علی مذکور نے علماء کی مجلس مذکورہ میں بیان دیتے ہوئے بیوی کو نہ نماز پڑھنے پر طلاق کو معلق کرنے میں تعمیم، وتخصیص کی نیت کا انکار کیا بلکہ تخصیص کا قرینہ راجع معلوم تھا، لیکن اس کے چھ ماہ بعد ہمارے مخالفوں کے سمجھانے سے اور اپنے فائدے کو ملحوظ رکھتے ہوئے اس نے کہا کہ میں نے تو دائمی وابدی کوئی نماز نہ پڑھنے کی نیت سے کہا تھا(یعنی کوئی خاص نماز نہیں بلکہ زندگی میں نماز نہ پڑھنے کی نیت سے طلاق دینے کی بات کی تھی) کیا اب اس کا یہ اقرار درست ہے یاکیا ہے،اب کوئی کہتا ہے کہ اس نے بیوی کو نماز کا عادی بنانے کےلئےیہ بات بطور تنبیہ اور ڈانٹ کی تھی اور یہ طلاق نہیں ہے بلکہ طلاق کا وعدہ تھا جبکہ طلاق کا وعدہ طلاق نہیں ہوتی، اور کوئی کہتا ہے کہ خاوند کا بیوی کو کہنا کہ ''نماز پڑھ'' صیغہ امر ہے جس کی حالت پر دلالت واضح ہے لیکن یہ یمینِ فور ثابت نہیں ہے بلکہ فور کا کوئی اعتبار نہیں ہے، اور اگر تسلیم کر بھی لیاجائے کہ پہلی دو طلاقیں رجعی تھیں تو اس کے رجوع کرلینے کے بعد وہ دونوں طلاقیں ختم، اور باطل ہوگئیں جیسا کہ مشہور ہے لہذااب دوسری باردو طلاقوں کے بعد اب احمد علی خاوند کا دوبارہ رجوع کرنا صحیح ہے۔ کیا یہ باتیں درست ہیں یا پہلی دونوں طلاقوں کے بعد دو طلاقوں سے احمد علی کی بیوی کو تین طلاقیں یعنی مغلظہ طلاق ہوگئی ہے، تفصیل سے بیان کیجئے۔

خلاصہ اس سوال کا یہ ہے کہ احمد علی خاوند نے خود اقرار کیا کہ ایک روز نمازِ مغرب ادا کرنے کے بعد اس نے اپنی بیوی کو نماز کی تارک ہونے پر ڈانٹ اور سختی سے سمجھا یا اور پھر معتدل مزاجی اور مستقل مزاجی سے ڈانٹ کے طور پر  کہا نماز اگر تو نہ پڑھے تو تجھے دو طلاق ہیں، جبکہ وہ بیوی نماز کی نیت اور کوئی سورت اچھی طرح نہیں جانتی غرضیکہ بیوی نے عشاء کی نماز بھی نہ پڑھی فجر کی نماز کےلئے اس نے وضو کیا تاکہ نماز پڑھے،نماز کے لئے کھڑی ہوئی تو خاوند نے اس کو نماز کی نیت اور سورۃ سکھائی اور اس نے نماز پڑھی، اس سے دو تین روز بعد محلہ کے مولوی صاحب کو طلب کرکے احمد علی نے بیوی سے رجوع کیا،تو اس صورت میں رجوع کرنے پر احمد علی کےلئے اس کی بیوی حلال ہوئی یانہیں، پھر اس کے چند ماہ بعد مزید دوطلاقیں بلاشرط اس کو دیں کیا یہ تسلیم کرلینے پر پہلی دو طلاقیں واقع ہوگئی تھیں تو ان سے رجوع کرلینے پر کیا وہ پہلی طلاقیں کا لعدم اور باطل ہوجائیں گی یانہیں، اور دوسری طلاقوں کے بعد اس کا بیوی سے رجوع کرنا اور ہمبستری کرنا جائز ہے یانہیں، بیان کیجئے۔
الجواب: البتہ زوجہ اش برائے وے حلال ماند چہ دریں صورت مطلق طلاق واقع نشد نہ حاجت تجدید نکاح نہ رجعت ھم واحتیاطا امرے دیگر قولہ اگر نماز نخوانی ترادو طلاق اولاً گویم کہ ایں قول تعلیق طلاق نیست بلکہ وعدہ طلاق دادن ست زیراکہ میان تو طلاق وطالق وترا طلاق فرق ست در اول وصف زن ست ومحمول بروے ودر ثانی طلاق ایقاع زوج ست پس دریں قول فعل ایقاع زوج ضرورمحذوف است در تنجیز معنی تراطلاق دادم ست ودر صورت تعلیق یعنی اگر ایں کا رکنی تراطلاق معنی آں ترا طلاق خواہم دادہست چہ در تعلیق شرط وجزا ہر دو خودند وجزاہمیشہ مستقبل مے شود ولو معنی پس دریں مقام مطلب اگر نماز نخوانی ترا دو طلاق خواہم دادہست وخواہم درفعل ایقاع مخذوف است وپیدا ست اگر نماز نخوانی ترا دو طلاق  خواہم داد وعدہ طلاق دادن ست نہ تعلیق طلاق واز وعدہ طلاق ، طلاق واقع نشود وایں مطلب از خود نگرفتم بلکہ احمدعلی خود میگوید کہ من بہ نیت طلاق دادن نگفتم بلکہ بطریق زجر وتہدید تنبیہاً بغرض تعود للصلاۃ گفتم وطلاق دادن در دلم مطلقا مخطور نشد وظاہر ست کہ وعدہ طلاق مفید ایں مدعاست وباغراض متکلم خوب چسپاں ومقتضائے قرینہ ہم ہمچنیں ست۔

ثانیاً گویم قولہ تو نماز بخواں اگر نماز نخوانی ترادو طلاق، تعلیق طلاق ست اگرچہ از مطلب متکلم فرسنگہا دورست معنی آں ترادو طلاق ہست، باید دانست کہ در تعلیق طلاق معلق ہرسہ گونہ است وہر یک دو گانہ است جانب وجود جانب عدم مجموعہ شش قسمت ست فعل الزوجین وجوداً او عدماً وفعل الغیر وجوداً اوعدماً کما لایخفی من شرح الوقایۃ

دریں جا معلق بہ فعل عدمی زوجہ است یعنی نماز نخواند ومعنی التعلیق ربط حصول مضمون جملۃ ای جزا بحصول مضمون جملۃ اٰخری ای الشرط فاذا وجد الشرط وجد المشروط وکذا اذا فات الشرط فات المشروط وھذا یعم الصورۃ الستۃ کلھا من غیر فرق پس ہرگاہ ایں قول تعلیق طلاق مسلم نشت حالانکہ ایں قول مطلق ست مقید بوقت دون وقت نیست وغرض متکلم نیز معتاد للصلٰوۃ شدن زوجہ است دائما پس تخصیص نماز عشاء نہ فجر وغیرہ از کجا آمد وقرینہ یمین الفور ہم مفقود بل اعتبار نیست چہ قائل باعتدال مزاج واستقلال طبع بغیر غضب بطریق نصیحت مے گفت یمین الفور از کجا برخاست تا ایں قول را مخصوص باقرب الاوقات للصلٰوۃ گر داند بلکہ ایں تعلیق طلاق ست پس مطلق طلاق ماند چہ قاعدہ اصول ست المطلق یجری علی اطلاقہ والمقید یجری علی تقییدہ ووجود صلاۃ مطلق صادق آید بسبب وجود صلاۃ مایعنی یک صلاۃ بطریق فرد منتشر وعدم صلوٰۃ مطلق صادق آید بسبب عدم جمیع افراد صلاۃ در مدت العمر،

وجود مطلق الصلوٰہ متحقق شود بسبب تحقق وجود فرد ما وینتفی بانتفائے فرد ماھذا ھو الفرق بین مطلق الشیئ والشیئ المطلق وہمیں ست فرق میان موضوع مہملہ قد مائیہ وموضوع قضیہ طبعیہ ومطلق الشیئ یعنی مطلق الصلاۃ موضوع مہملہ قد ماست والشیئ المطلق یعنی الصلاۃ المطلقہ موضوع قضیہ طبعیہ است پس درینجا معلق بعدم الصلاۃ المطلقۃ ست وآں بسبب عدم جمیع افراد نماز از زبان متکلم بالتعلیق تا قبیل موت متحقق شود وعدم صلاۃ مطلق منتفی زیر اکہ زوجہ احمد علی صرف دراں روز نماز نخواند ونماز فجر خواند متعود بالصلوٰہ گشت وہویداست کہ انتفائے عدم صلاۃ مطلق عدم عدم صلاۃ مطلق ست وعدم عدم صلاۃ مطلق وجود صلاۃ مطلق ست پس وجودِ صلاۃ مطلق متحقق وعدم صلاۃ مطلق معدوم وفائت حالانکہ آں شرط ومعلق بہ بود و فوت شد فاذا فات الشرط فات المشروط وھو المدعا،پس طلاق واقع نشد آنکہ درسلک تحریر کشیدہ شد صرف گفتگو در نفس عبارت اقرار بود حالااثبات مطلوب بادلہ فقیہہ میگویند
الجواب: یقینا احمد علی کی بیوی اس پر حلال رہی کیونکہ اس صورت میں مطلقاً کوئی طلاق نہ ہوئی اور نہ ہی تجدید نکاح اور نہ ہی رجعت کی کوئی ضرورت ہے، ہاں احتیاط کریں تو اور بات ہے، احمد علی کا کہنا''اگر تو نماز نہ پڑھے تو تجھے دو طلاق'' اس کے متعلق میں کہتا ہوں: اولاًیہ تعلیق طلاق نہیں بلکہ وعدہ طلاق ہے کیونکہ تو طلاق، تو طلاق والی، اور تجھ کو طلاق، ان تینوں میں فرق ہے۔ پہلی عورت کی صفت اوراسی پر محمول ہے۔ دوسری میں خاوند کا طلاق دینا ہے، لہذا اس میں خاوند کا طلاق دینا  ضرور محذوف ہے جب شرط سے معلق نہ ہو یعنی اس کا معنی یہ ہے کہ تجھ کو میں نے طلاق دی ہے، اور اگر شرط سے معلق ہو مثلاً یہ کہ اگر تو یہ کام کرے تو تجھے طلاق ہے تو اس کا معنی طلاق کا وعدہ ہے کہ تجھے طلاق دوں گا کیونکہ تعلیق میں شرط وجزا دونوں ہوتے ہیں اور جزا ہمیشہ مستقبل میں ہوتی ہے خواہ معناً ہو اس مقام میں مطلب یہ ہے کہ اگر تو نماز نہ پڑھے تو تجھے میں دو طلاق دوں گا کیونکہ ''دوں گا'' یہاں فعل محذوف ہوگا، تو ظاہر ہوا کہ یوں کہا''اگر تو نماز نہ پڑھے تو تجھے دو طلاق دوں گا'' تو یہ طلاق دینے کا وعدہ ہوا نہ کہ تعلیق طلاق ہوا، جبکہ طلاق کے وعدہ سے طلاق نہیں ہوتی، یہ مطلب میں نے خود نہیں نکالا، بلکہ احمد علی خود کہتا ہے کہ میں نے یہ بات طلاق دینے کے ارادے  سے نہیں کہی بلکہ ڈانٹ اور زجر کے لیے کہی ہے  تاکہ بیوی نماز کی عادی بن جائے اور طلاق دینے کا میرے دل میں خیال تک نہ تھا، تو ظاہر ہوا کہ یہ صرف طلاق دینے کا وعدہ تھا، یہی بات احمد علی کے قول سے حاصل ہوئی، اور متکلم کی غرض کے یہی مطابق ہے اور قرینہ بھی یہی بتاتا ہے۔ 



ثانیاً میں کہتا ہوں کہ احمد علی کا بیوی کو یہ کہنا کہ ''تو نماز پڑھ۔ اگرتو نماز نہ پڑھے تو تجھے دو طلاق''، اس کو تعلیق قرار دیا جائے، اگرچہ یہ احتمال متکلم کے مقصد سے کوسوں دور ہے، تاہم دو طلاق درست ہوں گی، لیکن معلوم ہونا چاہئے کہ طلاق کوکسی شرط سے معلق کرنا تین طرح ہوتا ہے، پھر ہر ایک کی دو دو صورتیں ہوتی ہیں، شرط کا وجود، دوسری شرط کا عدم ہے تو مجموعی چھ صورتیں بنیں ،وہ شرط خاوند کا  فعل یا بیوی کا فعل وجوداً یا عدماً، اسی طرح اگر وہ شرط کسی غیر کا فعل ہوتو وجوداً یا عدما ہوگا، جیسا کہ شرح وقایہ میں واضح ہے۔

یہاں زیر بحث صورت میں شرط بیوی کا فعل عدماً ہے یعنی اس کا نماز نہ پڑھنا اور تعلیق کا معنی یہ ہے کہ ایک جملہ کے مضمون کو دوسرے جملے کے مضمون یعنی جزاء کے جملے کو شرط کے مضمونِ جملہ سے معلق کرنا ہے، تو جب شرط پائی جائے گی جزاء بھی پائی جائےگی، اور جب شرط نہ پائی جائے تو جزاء بھی نہ پائی جائےگی۔ یہ بات سب صورتوں  کو شامل ہے جن میں کوئی فرق نہیں لہذا جب احمد علی کے قول کو تعلیق  تسلیم کرلیں، حالانکہ یہ قول مطلق ہے اور کسی وقت کے ساتھ مقید نہیں ہے،اور متکلم کی غرض صرف بیوی کو نماز کا عادی بنانا ہے، تو یہاں کسی نماز عشاء یا فجر کی کوئی تخصیص نہ ہوگی کہ اس کی کوئی وجہ نہیں اور نہ ہی یہ یمینِ فور بنتی ہے کیونکہ احمد علی نے معتدل مزاجی غصہ کے بغیر مستقل مزاجی سے یہ بات کہی ہے اورنصیحت کے طور پر کہی ہے، تو یہ یمین فور کیسے ہوسکتی ہے تاکہ احمد علی کے اس قول کے قریب ترین وقت کی نماز سے مخصوص کیا جائے، اس لئے اس کو تعلیق طلاق ہی کہا جائے گا اور وہ بھی مطلق ہے اور قاعدہ ہے کہ مطلق کو اپنے اطلاق پر باقی رکھا جائے اور مقید کو قید سے پابند کیا جائے، لہذا کسی نماز سے بھی مطلق نماز کاوجود ہوسکتا ہے یعنی نماز کافرد پایا جائے تو مطلق نماز کاتحقق ہوجائے گا، یو نہی مطلق نماز کا عدم عمر بھر تمام نمازوں کے نہ پائے جانے پر متحقق ہوجائیگا،

 مطلق الصلوٰۃ کا وجود اور انتفاء ایک فردکے وجود اور نفی سے ہوتا ہے یہی وہ فرق ہے جو منطقی حضرات، مہملہ قد مائیہ اور قضیہ طبعیہ کے موضوع کے بارے میں بیان کرتے ہیں یعنی مطلق الشیئ قضیہ مہملہ قد مائیہ کا موضوع اور الشیئ المطلق قضیہ طبعیہ کا موضوع ہے، پس یہاں شرط میں  نماز مطلقہ کا عدم ہے جس کی نفی اور عدم کےلئے متکلم کے تعلیق کے وقت سے لے کر موت سے تھوڑا قبل تک تمام نمازوں کے معدوم ہونا ضروری ہے جبکہ یہاں نماز مطلقہ کا عدم  نہیں پایا گیاکیونکہ احمد علی کی بیوی نے صرف ایک نماز نہیں پڑھی اس کے بعد اس نے فجر کی نماز اور باقی نمازیں پڑھیں اور نماز کی عادی ہوگئی، تو واضح ہوا کہ نماز مطلقہ کے عدم کا نہ ہونا نماز مطلقہ کے عدم کا عدم ہے،اور نماز مطلقہ کے عدم کا عدم نمازمطلق کا وجود ہے تو اس طرح نماز مطلق کا تحقق ہوا اور نماز مطلقہ کا عدم معدوم ہوا حالانکہ طلاق، عدم نماز مطلقہ سے معلق ہے جو منتفی ہے، اور جب شرط منتفی ہوجائے تو مشروط بھی منتفی ہوگا، یہی مطلوب ہے، پس طلاق نہ ہوئی۔ یہ جو کچھ تحریر ہوا صرف احمد علی کے اقرارمیں گفتگو تھی، اور اب ہم مطلوب کو فقہی دلائل سے ثابت کرتے ہیں۔
Flag Counter