Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۳(کتاب الطلاق ،ایمان، حدود وتعزیر )
129 - 175
مسئلہ۱۹۷: از کلکتہ دھرم تلالین مکان حاجی سلیمان یوسف مہ پارہ نمبر۴۵ مرسلہ مولوی سید ابراہیم صاحب مدنی ۱۸شوال ۱۳۱۹ھ
ماقولکم دام فضلکم معشر علماء الاسلام رحمکم اﷲ تعالٰی فی الدارین فی رجل یشرب الخمر دائما ویھتک ویمزق الاوراق الکریمۃ التی فیھا نقش المسجد الحرام والروضۃ المطھرۃ النبویۃ علیہ الف الف صلوٰۃ وتحیۃ ویعلق بدلھا علی الجدران تصاویراٰلھۃ الکفار الفجار، وقدرمی اوراق المتبرکۃ فی القاذورات ویضرب الزوجۃ علی اداء الصلٰوۃ ویمنعھا وویضربھا اذا لاتشرب الخمر واذا قیل لہ تعال نذھب الی المسجد فیقول انااذھب الی المسکرات لاشربھا ومالی حاجۃ الیہ ولاینفق علیہا النفقۃ واذااجبر علی الطلاق لایطلقھا ویأبی الطلاق حتی عجزت ورفعت شکواھا الی الحاکم فاقر عندہ فی الشھر بعشرۃ مضروبۃ مسکوکۃ والان صارت ثلث مااعطاھا شیأ من ذٰلک فما حکمہ فی الصور المرقومۃ ھل بقیت زوجتہ فی النکاح ام لا وھل یحکم بکفرہ ام لا فاذا بطل نکاحہ بالامور المذکورۃ ھل یجوز لھا ان تنکح رجلا اٰخر للضرورۃ والظاھر انھا لاتجد من یقرضھا وھل استحسن الاحناف ان ینصب القاضی الحنفی نائبا شافعی المذھب یفرق بینھما اذاکان الزوج حاضرا وابی عن الطلاق لان دفع الحاجۃ الدائمۃ لایتیسر بالاستدانۃ فالتفریق امر ضروری بینوابالکتاب تؤجروا بیوم الحساب۔
علماء اسلام کی جماعت، اﷲ تعالٰی تم پردونو ں جہان میں رحمت فرمائے اور تمہاری فضیلت کو دائم رکھے، آپ کا کیا ارشاد ہے ایسے شخص کے بارے میں جو ہمیشہ شراب پیتا ہے اور مسجد حرام اور روضہ مطہر نبی پاک ان پر ہزار ہزار صلوٰۃ وسلام ہو، کے نقش والے مبارک اوراق کی ہتک کرتے ہوئے ان کو پھاڑتا ہے، اور دیوار پر ان کی جگہ کافروں کے بتوں کی تصاویر کو آویزاں کرتا ہے اور اس نے مبارک اور اق کو گندگی  میں پھینکا ہے اور بیوی کو نماز سے روکتا اور مارتا ہے اور اسے شراب نہ پینے پر مارتا ہے، اور جب اسے مسجد میں جانے کے لئے کہا جاتا ہے تو کہتا ہے میں تو شراب خانوں میں جاکر شراب نوشی کرونگا اور مجھے مسجد میں جانے کی ضرورت نہیں ہے، اور بیوی کو نفقہ نہیں دیتا اور جب اسے طلاق دینے پر مجبور کیا جائے تو وہ انکار کرتے ہوئے بیوی کو طلاق نہیں دیتا حتی کہ بیوی نفقہ سے عاجز ہوکر حاکم سے شکایت کرتی ہے تو وہ حاکم کے پاس بیوی کو ماہانہ دس روپے دینے کا اقرار کرتا ہے جبکہ اب تک تین سال ہوچکے ہیں اس نے بیوی کو کچھ نہیں دیا، تو ان تمام مذکورہ صورتوں میں اس شخص کے لئے کیا حکم ہے، کیا اس کی بیوی اس کے نکاح میں باقی ہے، اور کیا اس کے کافر ہوجانے کا حکم ہوگا یا نہیں، تو کیا مذکورامور کی وجہ سے جب اس کا نکاح باطل ہے تو بیوی دوسری شخص سے ضرورت کی بناپر نکاح کرسکتی ہے جبکہ ظاہر یہ ہے کہ نفقہ کے لئے اس کو قرض دینے والا کوئی نہیں ملتا اور کیا احناف نے حنفی قاضی کے لئے کسی شافعی مذہب والے کو اپنا نائب بنانا پسند کیا ہے تاکہ وہ شافعی مذہب کے مطابق خاوند کی موجودگی میں اس سے طلاق کا مطالبہ کرے اور انکار پر وہ دونوں میں تفریق کا فیصلہ دے، کیونکہ بیوی کی دائمی نفقہ کی حاجت قرض سے پوری ہونا آسان نہیں ہے اس بنا پر دونوں میں ضرورت کی وجہ سے تفریق کے بغیر چارہ نہیں ہے، کتاب کے حوالے سے بیان کرو اور قیامت کے روز اجر پاؤ۔(ت)
الجواب

اللھم لک الحمد رب انی اعوذبک من ھمزات الشیٰطین واعوذبک رب ان یحضرون کل ماوصف فی السوال فما للرجل من سیئ الافعال واسوء الاقوال فکبائر متناھیۃ فی الاثم والو بال وکلہ کفر علی الاحتمال فان شرب الخمر کبیرۃ والادمان اکبر صحبہ استحلال لھا اواستخفاف بحرمتھا فقد کفر
یا ﷲ!تیرے لئے ہی حمد ہے، اے رب ! میں شیطانوں کے وسوسوں سے تیری پناہ چاہتا ہوں، اور اے رب!شیطانوں کی موجودگی سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔ سوال میں شخص مذکور کے برے افعال اور بدترین اقوال جو ذکر کئے گئے ہیں وہ گناہ اور وبال میں انتہائی کبیرہ ہیں ، اور تمام کفر کا احتمال رکھتے ہیں کیونکہ شراب پینا کبیرہ گناہ ہے اور اس پر دوام اس سے بھی بڑا گناہ ہے اور اس پر دوام اس سے بھی بڑا گناہ ہے اور اگر اس سے کے ساتھ ساتھ وہ حلال جان کر اور شراب کی حرمت میں تخفیف جان کر پیتا ہے تو وہ کافر ہے۔
و تمزیق الاوراق الکریمۃ المذکورات والقاء وھافی موضع القاذورات ان کان مبنیا علی اصول الوھابیۃ النجدیۃ خذلھم اﷲتعالٰی من ان ذلک بدعۃ والبدعۃ تزال، فجھل وضلال واستحقاق لعذاب ونکال وان قصد اھانۃ تلک البقاع فکفر بواح وارتداد صراح
اور مبارک اوراق کو پھاڑنا اور ان کو گندگی میں پھینکنا اگر بدنامِ زمان نجدی وہابیوں کی روش پر مبنی ہے کہ یہ بدعت ہیں اور بدعت کوختم کرنا چاہئے تو یہ جہالت، گمراہی اور عذاب و سزا کا مستحق بننا ہے، اور اگر اس عمل سے اس کا مقصد اوراق پر تصویروں والے مقامات کی اہانت و تحقیر مقصود ہیے تو یہ کھلا کفر  ہےاور  واضح طور پر ارتداد ہے۔
وتعلیق تلک التصاویر النجسۃ علی الجدران ان کان علی مایتعاداہ المجان یزعمون فیہ تزیین المکان غیر متعمدین الی الکفرمن الکفران فکبیرۃ خبیثۃ تدعواالی النیران وتبعد الملٰئکۃ وتقرب الشیطان،وان وقع علی جھۃ استحسان صنیع الکفاروتعظیم اٰلھۃ اصحاب النارفکفر صریح جلی الاکفار
اور بتوں کی ناپاک تصویروں کو دیواروں پرآویزاں کرنا اگر ویسے عادت کے طور پر کہ اس کو پاگل لوگ مکانات کی زینت سمجھتے ہیں اور کسی کو کفر کی طرف تجاوز نہ کیا ہوتویہ خبیث ترین کبیرہ گناہ ہے جو جہنم میں لے جانے والا فرشتوں کودور اور شیطانوں کو قریب کرنے والا ہے، اور اگر یہ کام کفار کی رسم کو پسند کرتے ہوئے اور دوزخیوں کے معبودوں کی تعظیم کے طور پر کیا ہوتو یہ صریح کفر جو اس کی تکفیر کا باعث ہے،
وضرب المرأۃ علی اداء الصّلوٰۃ ومنعھا منہ وضربھا علی ترک شرب الخمر وابائھا عنہ کل ذٰلک تناہ فی التشطین والبغی والتفرعن وان کان مع ذٰلک ینکر فرضیۃ الصلوٰۃ اوحرمۃ الخمر او یستخف بالشرع والنھی والامر فکفر واضح وارتداد فاضح
بیوی کو نماز کی ادائیگی پر مارنا اور اس سے منع کرنا اور شراب نہ پینے پر اور شراب نوشی سے انکار پر اس کو مارنا تو یہ تمام انتہائی شیطینت، فرعونیت اور بغاوت ہے اور اس کے ساتھ ساتھ وہ نماز کی فرضیت اور شراب کی حرمت کا منکر ہے اور شریعت اور اس کے اومراورنواہی کی تحقیر کرتا ہے تو یہ کھلا کفر ہے اور رسواکن ارتداد ہے۔
واعراضہ عن المسجد خیر الاماکن ومکابرۃ الداعی الی اﷲ بذلک القول الخبیث المنتن فھو بہ للکفراقرب منہ للایمان وباﷲ العیاذ من مجون المجان فان کان قالہ علی نھج الملاعبۃ فیالھا من کبیرۃ کثیرۃ الشناعۃ والافالکفر ظاہر فیہ لاشک یعتریہ بید ان الکفر امر شدید لایحکم، بہ مع احتمال الاسلام ولو من بعید والمرأۃ لاتبین الابتفریق مبین اوکفر متبین نعم یومر بالتوبۃ عن تلک القبائح ثم بعد ذٰلک بتجدید النکاح،
ا س کا بہترین مکان جو مسجد ہے سے اعراض کرنا اور اﷲ تعالٰی کی دعوت سنانے والے کو مکابرہ کے طور پر خبیث اور بدبو والی بات کہنا(کہ میں  شراب خانے جاؤں گا مجھے مسجد کی ضرورت نہیں ہے) تو اس سے وہ کفر سے قریب اور ایمان سے دور ہوگیا(پاگلوں کے پاگل پن سے اﷲ تعالٰی کی پناہ) تو یہ بات اگر کھیل میں رغبت کے طور پر کی ہے تو یہ کتنی بڑی جرأت کبیرہ ہے اور بہت زیادہ قابلِ نفرت ہے ،ورنہ یہ کھلا کفر ہے جس میں کوئی شک نہیں، تاہم کفر شدید معاملہ ہے، تو جب تک اسلام کا پہلو نکل سکتا ہے کفر کا حکم نہ لگایا جائے، اگرچہ اسلام کا احتمال بعید ہی کیوں نہ ہو، جبکہ بیوی صرف قاضی کی تفریق یا واضح کفر کی بناء پر ہی نکاح سے خارج ہوگی، ہاں ایسے شخص کو اس کی مذکورہ قباحتوں پر توبہ کرنے اور پھر بعد میں تجدید نکاح کا حکم کیا جائے،
Flag Counter