کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید آوارہ اور بدچلن ہونے کے علاوہ نان و نفقہ کاکفیل بھی نہیں ہوسکتا اور اس کا باپ یعنی خالد اگرچہ نان ونفقہ کا کفیل ہوسکتا ہے اگر وہ چاہے، مگر وہ اور اس کی اہلیہ وغیرہ بھی ہندہ کو سخت تکالیف کھانے پینے پہننے کی دیتے ہیں اور سخت خدمت مثل ایک لونڈی کے لیتے ہیں تو کیا ایسی صورت میں ہندہ کو اپنے نفس کے روکنے کا اختیار ہے کیونکہ ان کی معاشرت نہایت خراب ہے بلکہ جان کا خطرہ ہے، اور کیا قاضی کو حق ہے کہ وہ دونوں میں تفریق یعنی خلع کرادے۔بینواتوجروا۔
الجواب
نفقہ نہ دینے پر حاکم اسے مجبور کرے گا کہ نفقہ دے یا طلاق
لقولہ تعالٰی فامساک بمعروف او تسریح باحسان۱؎
(کیونکہ اﷲ تعالٰی کا ارشاد ہے : بھلائی کے ساتھ پاس رکھو یا نیکی کرتے ہوئے چھوڑدو۔ت)
(۱؎ القرآن الکریم ۲ /۲۱۹)
لیکن قاضی بطور خود اس وجہ سے تفریق نہیں کرسکتا۔
درمختار میں ہے:
لایفرق بینھما بعجزہ عنھا بانواعھا الثلثۃ (وھی ماکول و ملبوس و مسکن ح اھ ش) ولا بعدم ایفائہ حقھا ولو موسرا۲؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
تینوں کے حقوق سے عجز پر خاوند او ربیوی میں تفریق نہ ہوگی ، وہ حقوق ، خوراک، لباس اور مسکن ہیں، بحر، اھ ش(شرح کی عبارت ختم) اور نہ ہی امیر ہونے کے باوجود بیوی کے یہ حقوق مکمل نہ کرنے پر تفریق ہوگی۔واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
(۲؎ درمختار باب النفقۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۲۶۹)
(ردالمحتار باب النفقۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۶۵۶)
مسئلہ۱۸۸: از اودے پور میواڑ مدرسہ شرقیہ مرسلہ سید عبدالرحیم صاحب ۲۰شوال ۱۳۳۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ قادر بخش کی عورت مسماۃ محرم ہے ۳۰سال شادی کو ہوئے اولاد نہ ہونے کی وجہ سے نام بردہ سے عقد ثانی کیا اور محرم کو اس مضمون کی تحریر لکھ دی کہ جو میرا گاؤں جاگیر کا ہے اس میں ۳۰۰ روپے سالانے ادا کرتا رہوں گا بلا عذ ر، اور حال میں نیا مکان جو بنایا ہے وہ تیرےرہنے کو دے دیا، اگر تیرے لڑکا ہوگا تو میری تمام جائداد کا مالک ہوگا اور اگر اس دوسری عورت سے ہوگا تو وہ اس تحریر کی پابندی کرے گا، کچھ عرصہ بعددوسری کے لڑکا پیدا ہوا، مسماۃ محرم قادر بخش کی تابعداری کرتی رہی لیکن دوسری عورت کی اور اس کی باہمی تکرار اس بنا پر ہوتی رہی کہ جو تحریر قادر بخش نے زوجہ اولیٰ کو لکھ دی ہے وہ واپس دے دے کیونکہ میرے لڑکا تولد ہوگیا ہے، محرم نے باوجود تکرار فسادتحریر نہیں دی، قادر بخش نے زوجہ ثانیہ کے بہکانے سے پہلی کو نکال دیا، جبکہ محرم نے کچہری میں نان و نفقہ وپابندی تحریر کا دعوی کیا اس پر شوہر نے اپنا بیان قلمبند کرایا کہ محرم کو میں نے طلاق دے دی، لیکن اصلیت یہ ہے کہ اس نے اسے طلاق نہ دی نہ کوئی طلاق نامہ تحریر کیا نہ کوئی گواہ طلاق دینے کا ہے، صرف دوسری عورت کے ورغلانے پر اس نے ایسا کہہ دیا ہے اور مشہور کیا ہے، محرم نے شوہر کی کوئی خطا نہیں کی ہے، کیا قادر بخش کے ایسا کہہ دینے اور شہرت دے دینے سے محرم کو عندالشرع طلاق ہوگئی اگرہوگئی تو محرم کو عند الشرع یہ حق حاصل ہے کہ وہ تحریر جو قادر بخش نے محرم کو دی ہے اس کی پابندی کرانے کی وہ کس حد تک مستحق ہے؟
الجواب
طلاق شوہر کے زبان پر ہے وہ کہتا ہے کہ میں نے طلاق دے دی طلاق ہوگئی نہ دی تھی تو اب ہوگئی اور رہنے کو مکان دینا مالک کردینا نہیں جب تک ولایت تملیک ثابت نہ ہو، اور اس کے ساتھ اپنے اسباب وغیرہا سے خالی کرکے قبضہ دلادینا ضرور ہے،تین سو روپے سالانہ دینا اگر علاوہ نان ونفقہ تھا تو محض ایک وعدہ تھا وعدہ کی بناء پر دعوی نہیں ہوسکتا ۔
اشباہ وغیرہما میں ہے:
لاجبر علی الوفاء بالوعد۱؎
(وعدہ پوراکرنے پر جبر نہیں۔ت)
(۱؎ الاشباہ والنظائر کتاب الحظر والاباحۃ ادارۃ القرآن کراچی ۲ /۱۱۰، ۵۱۱)
اور اگر یہ نفقہ مقرر کیا گیا تھا تو طلاق سے ساقط ہوگیا اس کا دعوی نہیں کرسکتی، مگر ماہ رواں کا جس میں اس نے کہا کہ میں نے اسے طلاق دے دی۔
تنویر میں ہے:
بموت احدھما وطلاقھما یسقط المفروض۲؎۔
خاوند بیوی میں سے ایک کے فوت ہوجانے یا طلاق سے مقررہ نفقہ ساقط ہوجاتا ہے(ت)
(۲؎ درمختار باب النفقۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۲۷۰)
ردالمحتار میں ہے:
قال الخیرالرملی وقید السقوط بالطلاق شیخنا الشیخ محمد بن سراج الدین الحانوتی بمااذا مضی شھر فازید وھو قید لابد منہ تامل ۳؎اھ واﷲ تعالٰی اعلم۔
خیرالدین رملی نے فرمایا کہ طلاق کی وجہ سے نفقہ ساقط ہونے کو، ہمارے شیخ محمد بن سراج الدین حانوتی نے ایک ماہ یا زائد گزرجانے سے مقید کیا ہے اور یہ قید ضروری ہے، غور کرو،ا ھ، واﷲ تعالٰی اعلم۔(ت)
(۳؎ ردالمحتار باب النفقۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۶۵۹)
مسئلہ۱۸۹تا۱۹۳ از مہاندی ہیڈورکس ڈویژن ضلع رائے پورسی پی مرسلہ سردار خاں کلرک ۲۶صفر ۱۳۳۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کی زوجہ ہندہ اس سے سخت بدزبانی او ردرشت کلامی سے پیش آتی ہے اور مندرجہ ذیل امور اس نے بغیر اپنے خاوند زید کی رضامندی کے کئے؛
(۱) بغیر اجازت زید کے وہ اپنے مکان سے باہر کئی مرتبہ گئی اور اپنے عزیزوں رشتہ داروں کی شادی میں اس نے زید کی کئی چیزیں بغیر اجازت و رضامندی زید کے بطور جہیز دے دیں۔
(۲) بلااجازت و مرضی زیداس نے اپنے چھوٹے بھائی کی لڑکی کو اپنا متبنی کیا اور زیورات، آب و خورش اور ملبوسات سے اس کی کفالت کرتی رہی، یہ زیورات وغیرہ بھی اس نے بلااجازت زید کے اس لڑکی کیلئے زید کی آمدنی سے بنوائے۔
(۳) چونکہ زید کی ملازمت ایسی ہے کہ اسے گاہے گاہے حکام کے ساتھ دورہ پر نیز کارِ گورنمنٹ کی بجاآوری کے لئے دوسری جگہ جانا پڑا اس لئے اس نے ہندہ کو ساتھ چلنے کےلئے کہا مگر اس نے تعمیل احکامِ زید نہ کی یا اگر کی بھی تو کسی بہانہ سے چند روز کے بعد بلا اس کی اجازت رضامندی کے واپس آگئی اس لئے اپنے انتظامات کے خیال سے زید کو دوسری ملازمہ رکھنی پڑی اور مزید خرچ کا بار اٹھانا پڑا۔
(۴) زید نے ان امور کو ضبط اور تحمل سے اس وجہ سے برداشت کیا کہ وہ شریف ہے اور ہندہ بدزبان بدکلام، نیز ہندہ کے رشتہ دار اس کے معاون، مبادازیادہ فساد برپا ہو، غرض جو کچھ فضول خرچیاں اور دیگر امور بلارضامندی زید کے ہوتے رہے انہیں دیکھ کر زید نے خاموشی اختیار کی مگر جب زید نے دیکھا ہندہ کسی طرح راہ راست پر نہیں آتی تو اس نے اسے بہت کچھ سمجھایا اور تاکید کی کہ ایسا نہ کرے مگر ہندہ نے بالعوض راستی اختیار کرنے کے زید کو دھمکایا اور اس نے نہایت فحش الفاظ میں برا کہا کہ اگر تم اپنے باپ کی اولاد ہوتو ہمیں طلاق دے دو اور ہرگز ہم سے بات نہ کرو،پس صورت مسئولہ میں تحقیق طلب یہ امور ہیں، بلااجازت زید کے جب ہندہ نے باہر قدم رکھا تو آیا وہ نان ونفقہ کی مستحق ہے یانہیں؟ہندہ نے بلااجازت زید کے ایک لڑکی کو اپنی فرزندی میں لیا ونیز خلاف مرضی زید کے اس کو زیورات و لباس و خورش کی کفیل ہوتی رہی و نیز دورہ ودیگر مقامات میں زید کے ہمراہ نہ رہ کراس پر مزید خرچہ کا بارڈالا پس ایسی حالت میں کیا وہ اپنے پورے مہر مستحق ہوسکتی ہے اگرچہ مہر اس کا واجب ہے تو ہندہ جو زید کے ساتھ نہ گئی اور نہ ہی جس کی وجہ سے زید کو مزید خرچہ کابار پڑا اس کا دین دار کون ہوگا، اور لڑکی متبنی کو زید کی بلااجازت اپنی فرزندی میں لی اور خلاف مرضیِ زید کے اس کو زیورات اور لباس و خورش کی کفیل جو ہوتی رہی اس کا دیندار کون ہوگا، یہ امر ذہن نشین رہے کہ زید نے شرافت کو مدّ نظر رکھ کر آئندہ کے فساد کی مدافعت کے خیال سے جیسا کہ فقرہ نمبر ۵ میں مذکور ہے ہندہ کے معاملات میں دخل نہیں دیا۔
(۵) چونکہ ہندہ نے زید کو قسم دی کہ اسے طلاق دے دے پس ایسی حالت میں خلع کی صورت ہوسکتی ہے کیا۔
الجواب
ہندہ سخت گنہگار ہے مگر صرف اتنی بات کہ اس نے اپنے منہ سے طلاق مانگی خلع نہیں ہوسکتی، نوکر وغیر ہ کا مزید بار جو زید پر اپنے آرام کے لئے پڑاہندہ سے اس کا مطالبہ نہیں کرسکتا اگرچہ ہندہ کا اس کے پاس نہ رہنا ہی اس کے باعث ہواہو، ہاں جتنے دنوں بے اجازتِ زید زید کے یہاں سے جاکر دوسری جگہ رہی اتنے دنوں نفقہ نہ پائیگی جو مالِ زید اس نے اس متبنی یا اپنے اعزا کی شادیوں یا متبنی کے خوردونوش میں بے اجازت زید صرف کیا اس کا تاوان ہندہ پر لازم ہے اور ناگواری کے ساتھ زید کا خاموش رہنا اجازت نہ سمجھا جائے گا
''لاینسب الی ساکت قول''
( خاموش کی طرف قول منسوب نہ کیا جائے۔ت) اس سب کا مجموعہ جتنی قیمت کا ہو زید اس کے مہر میں سے کم کرسکتا ہے
لصحۃ جریان المقاصۃ بینھما
(کیونکہ خاوند بیوی میں لین دین کا حساب صحیح ہے۔ت) واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ۱۹۴تا۱۹۵: ازسکندرہ راؤ ضلع علی گڑھ مرسلہ امداد علی خاں ۱۵رجب المرجب ۱۳۳۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ میری زوجہ فاترا لعقل ہونے کے باعث اپنی ضروریات زندگی و نفسانی خواہش کو محسوس نہیں کرسکتی یا ظاہر نہیں کرتی۔ نہ مری آبرواور جان و مال کی حفاظت کرتی ہے بلکہ اشیاء کو خراب و برباد کرتی ہے اور تربیت اولاد و پاکیزگی جسم وصوم و صلوٰۃ اموراتِ شرعیہ و معاملات خانہ داری سے بالکل غافل ہے ہدایت پر عمل نہیں کرتی، جب بیماری شروع تھی تو اس سے تین لڑکے پیداہوئے، بے حفاظتی کے باعث بقضائے الٰہی فوت ہوئے، وقت شادی سے جس کو عرصہ تقریبا دس سال کا گزرا ان نقصانات کو برداشت کرتے ہوئے حتی الامکان میں نے اور میری ضعیفہ ماں نے مریضہ کی دلجوئی، خاطر تواضع میں کوئی کمی نہ کی مرض کایقین ہونے پر حکیموں ڈاکٹروں دائیوں اور عاملوں سے علاج کرانے پر بھی کامیابی نہ ہوئی، مرض مستقل ہوگیا صحت سے مایوسی ہوگئی تقریباً پانچ سال سے خاموشی طاری ہے اور وہ میری خدمت سے قاصر ہے ، اب میری ماں کی رائے اور میری خواہش ہے کہ دوسری عورت سے عقد کیا جائے مگر مریضہ کی ماں نے اس امر سے مطلع ہوکر مجھ سے اور میری ماں سے سخت ناراضگی کا اظہار کیا ہے اور اسی بنا پر تجاہل عارفانہ سے کام لے کر تمام برادری میں مشہور کرتی ہیں کہ میری بیٹی پاگل نہیں ہے بلکہ اس کے سسرالیوں کے ظلم سے اس کی بدمزاجی بڑھ گئی ہے،اور اپنے اس قول کی تائید کے لئے اپنی بیٹی کو بلارضامندی اپنے پاس تقریباً چھ ماہ سے رکھ چھوڑا ہپے اور چاہتی ہیں کہ میرے پاس ہی اس کےلئے پانچ روپیہ ماہوار اور خوردنو ش کو مقر ر کردو یا ساڑھے پانچ سورو پیہ ماہوار زر مہر معینہ ادا کرکے اس کوطلاق دے دو، میں نے مریضہ کی ماں سے درخواست کی مہر سے لادعوی ہوکر مجھ سے تین روپیہ ماہوار کا اقرار نامہ عمر بھر کے واسطے لکھا لو یہ اس کے خوردو نوش کو کافی ہے مجھے اتنی ہی توفیق ہے اور کل زرِ مہر ادا کرنے کی استطاعت اس وقت مجھے نہیں ہے، وہ اس درخواست کو منظور نہیں کرتیں، اس صورت میں ازروئے شرع مجھے کیا عمل کرنا چاہئے؟
دوم یہ کہ مندرجہ صورت میں دوسرا عقد ہونے پر اگر عورت خاوند کی خدمت و اطاعت کم کرے یا بالکل نہ کرے اور دوسری عورت اس سے زیادہ خدمت و اطاعت کرے تو حقوق زو جگان میں مساوات رکھنی شوہر کے ذمہ لازم ہوگی یا کوئی تفریق رہ سکتی ہے اور کیا؟
الجواب
جب تک وہ آپ کی اجازت کے بغیر اپنی ماں کے یہاں یا کسی دوسری جگہ رہے نفقہ کی مستحق نہیں،اور جب تک طلاق یا موت نہ ہو غیر میعادی مہر واجب الادا نہیں ہوتا۔ دوسری شادی اگر کی جائے اور زوجہ اولیٰ بھی شوہر کے پاس رہے تو دینے لینے اور شب کو پاس رہنے میں مساوات ہوگی۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ کا حالتِ نابالغی میں نکاح کردیا تھا وہ اپنے شوہر کے گھر بالغ ہوئی اور اس کے اولادیں پیدا ہوئیں حتی کہ اب اس کے اولا د جوان موجود ہے مگر اسی عرصہ میں وہ آوارہ اور زانیہ ہو گئی اس سبب سے اس کے شوہر نے نکال کر اس کے حقیقی بھائی کے گھر پہنچادیا، بھائی نے پھر اس کو شوہر کے یہاں پہنچادیا، ایسا قصہ تین چار مرتبہ ہوا، اور ایک مرتبہ ایسا ہوا کہ ہندہ کو اس کے شوہر کے چچا نے اپنی لڑکیوں کی شادی میں بلوایا، اور چودھری نے اسکے شوہر کے یہاں حلقہ شادی میں پہنچادیا، مگر صبح کو پھر اس کے شوہر نے اس کو اس کے بھائی کے یہاں پہنچا دیا ،اور ایک مرتبہ ہندہ مذکور کو بھائی نے نہیں رکھا تو وہ اپنے ماموں کے گھر آئی تو ماموں نے چند روز رکھ کے کہا کہ میں کنبہ والا ہوں مجھ میں اب طاقت رکھنے کی نہیں ہے اپنے چچا تایاؤں اور دوسرے عزیزوں کے یہاں رہو، برادر لوگ، بھائی اور ہندہ کے ماموں کا حقہ پانی بند کرتے ہیں ، ازروئے شرع کے ان کا حقہ پانی بند ہونا چاہئے یانہیں؟ اور ہندہ کا رکھنا کس پر واجب ہوگا؟ چچا یا شوہر یا ماموں اور بھائی وغیرہ کس پر اس کا روٹی کپڑا مقرر ہوگا یا کوئی بھی رکھنے کا ذمہ دار نہ ہوگا؟ ہندہ کو نکال دیا جائے یا کیاکیا جائے ؟مکرر یہ کہ شوہر نے ہندہ کو ابھی طلاق نہیں دی ہے اور برابر اس کو روٹی کپڑا دیتا ہے، سال بھر سے ماقبل کے اپنے بھائی اور ماموں کے سر ہے شوہر کے بوجہ نہ دینے طلاق کے نان و نفقہ ہندہ کو دینا چاہئے یا نہیں؟اور شوہر کو تحقیق ہوجانے زنا پر فوراً طلاق دینا چاہئے یا روٹی بندکرنا چاہئے ؟
الجواب
اگر زنا متحقق بھی ہوجائے جب بھی طلاق دینا واجب نہیں جب تک طلاق نہ دے، اور ہندہ اس کے یہاں سے خود نہ نکلے تو روٹی کپڑا شوہرکے ذمہ ہے اس پر واجب ہے کہ روٹی کپڑا دے یا طلاق دے گا تو ختمِ عدت تک کاروٹی کپڑا اور مہر اسے ادا کرنا ہوگا، بعد عدت ہندہ مہر وغیرہ اپنے مال سے کھائے گی اگر مال رکھتی ہو یا دوسرے شوہر کے پاس سے، اگر دوسرا نکاح کرے، اور مال نہ رکھتی ہو نہ کما سکتی ہو نہ دوسرا نکاح ہوتو اس کا روٹی کپڑا اس کے جوان بیٹے پر واجب ہے بھائی یا چچا یا ماموں وغیرہ پر کچھ نہیں، واﷲ تعالٰی اعلم۔