| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۳(کتاب الطلاق ،ایمان، حدود وتعزیر ) |
مسئلہ۱۸۴:از اکورہا ڈاک خانہ گنگیری ضلع علی گڑھ مسئولہ امداد علی خاں صاحب مدرس اول۲۰ محرم ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ میں کہ میری زوجہ وقتِ نکاح بدمزاج معلوم ہوتی تھی بعد میں وہی بدمزاجی بڑھتے بڑھتے فتور عقل ثابت ہوئی، فاتر العقلی کی حالت میں اس سے تین بچے بھی مختلف اوقات میں پیداہوئے اور مرے، اس کے مرض کا علاج مدت مدیر تک حکیموں ، دائیوں، ڈاکٹروں ، عاملوں کے ذریعہ کرایا گیا اور اپنی حیثیت سے زیادہ صرف کیا مگر کوئی صورت افاقہ کی نہ ہوئی اور مریضہ کے عملوں سے بہت کچھ نقصانات مالی ظہور میں آئے، اس کی حالت فاتر العقلی کے باعث ایسی ہوگئی ہے کہ وہ احکام شرعیہ اور خاوند کے جائز حکموں کی تعمیل نہیں کرسکتی نہ وہ اپنی خواہشات کو محسوس کرسکتی ہے نہ پاکی و ناپاکی میں تمیز رکھتی ہے نہ امورات خانہ داری و علائق زندگی کو سمجھ سکتی ہے غرض کہ مجھے اس سے تمام مصلحتیں فوت نظر آتی ہیں اس کے علاج سے ہر طرح مایوس ہوکر اعزاواقربا کے اصرار واپنی آسائش و قیام نسلی کی امید پر میں نے بحالت مجبوری بعد بسیار کے دوسری شادی کرلی ہے اس سے بفضلہ ایک بچہ بھی پیدا ہوا ہے، اب میرے متعلقین میں میری ایک والدہ ضعیفہ اور زوجگان وایک بچہ و ایک میں خود یہ پانچ کس ہیں اور کچھ بارِ قرضہ بھی ہے جو بوجہ ضروریات شرعی ہوا ہے اب زوجہ سابقہ یعنی فاترا لعقلی کی والدہ کو (میرے خیال میں تجاہل عارفانہ سے)شبہہ ہے کہ میری لڑکی کو ان لوگوں سے تکالیف پہنچتی ہیں، اور نہ وہ ان لوگوں میں آسائش رہ سکتی ہے، اس لئے ان کی خواہش ہے کہ اپنی بیٹی کو اپنے پاس رکھ کر میری نصف آمدنی کو بٹالیں اور اسی امید پر وہ عنقریب کچہری مجاز میں نالش کرنے والی ہیں میں ان سے کہہ رہاہوں کہ میری جانب سے کوئی تکلیف کبھی نہیں ہوئی نہ آئندہ ہوگی بلکہ آپ خودرہ کر میرے کاموں میں مدد کیجئے اور اپنی بیٹی کو حسبِ منشاآرام پہنچائیے اور بوجہ ناپاک رہنے اور ہوش وحواس درست نہ ہونے کے اپنی بیٹی کے ساتھ کھانے پینے اور اس کے برتنوں سے احتیاط رکھئے یا زردین مہر سے دست بردار ہوکر مجھ سے اپنی بیٹی زوجہ میرے کے واسطے چار روپیہ ماہوار علاوہ پارچہ پوشیدنی کے تاحینِ حیات لیتی رہئے، کیونکہ اس وقت پانچ آدمیوں کی پرورش، قرضہ کی ادائیگی، تربیت اولاد، اتفاقی ضروریات کا پورا کرنا میرے ذمہ ہے، اور اس کو اپنے مکان پر رکھئے وہ ان باتوں میں سے کسی کو منظور نہیں کرتیں، پس ایسی صورت میں میرے لئے شرع شریف کا کیا حکم ہے جس سے کہ میں خدا ورسول کے نزدیک مواخذہ دار نہ ہوں اس میں دوسرا سوال یہ ہے کہ ایسی عورت کا دین مہر و نان نفقہ کسی خدمت کے عوض مجھ پر واجب ہے۔
الجواب مہر کسی خدمت کا معاوضہ نہیں وہ نکاح میں بضع کا عوض ہے اور بہر حال واجب ہے اور جب فاتر العقل ہے تو اس کے مہر سے دستبرداری نہ وہ کرسکتی ہے نہ اس کی ماں نہ کوئی اور، یوں ہی جب تک وہ شوہر کے گھر ہے یا اس کے گھر آنے سے انکار نہ کرے، اس کا نفقہ شوہر پر واجب ہے جو زن و شو دونوں کو حال کی رعایت سے بقدر متوسط دلایا جائے گا مادرِ زن کا نصف آمدنی مانگنا ظلم صریح ہے جب کہ یہ مقدار نفقہ زن سے زائد ہو،
درمختار میں ہے:
النفقۃ تجب للزوجۃ علی زوجھا بقدر حالھما بہ یفتی ویخاطب بقدر وسعہ والباقی دین الی المیسرۃ۱؎، واﷲ تعالٰی اعلم۔
خاوندپر بیوی کا نفقہ ان دونوں کے حال کے مطابق ہے، اسی پر فتوی دیا جائے گا، اور خاوند کو اس کی وسعت کے مطابق ادائیگی کا حکم ہوگا اور باقی ہوتو اس کے ذمہ واجب الادا رہے گا جب وہ آسانی والا ہوگا، واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
(۱؎ درمختار باب النفقۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۲۶۶)
مسئلہ۱۸۵: از جامع مسجد بریلی مسئولہ نواب چھوٹے میاں صاحب ۷رجب ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنی لڑکی کا عقد بکر کے لڑکے کے ساتھ کیا عقد کے بعد ایک ماہ تک زید کی لڑکی اپنے شوہر کے مکان پر رہی اس وقت سے زمانہ تخمیناً نو ماہ کا ہوا کہ لڑکی زید کے مکان پر موجود ہے، نان نفقہ کی شوہر یا شوہر کے باپ نے خبر نہیں لی، اب اس امر کا تقاضا ہے، کہ زید اپنی لڑکی کی رخصت کردے، زید کو رخصت کرنے سے کچھ انکار نہیں ہے، علمائے دین کی خدمت میں صرف یہ گزارش ہے کہ ان ایام کا نان نفقہ کس پر فرض ہے اور لڑکی رخصت ہونے کے بعد زید کے اور شرعی خاندان کے تعلق والوں کے کس کس کے یہاں جا سکتی ہے، بینواتوجروا۔
الجواب اس نو مہینے کا نان نفقہ کسی پر نہیں، جو دن گزرگئے گزرگئے، ہاں اگر نان ونفقہ کچھ مقرر و معین قرار پاچکا کہ اتنا ماہوار دیں گے، اور زید نے لڑکی کو بٹھانہ رکھا،نہ لڑکی نے شوہر کے یہاں جانے سے انکار کیا بلکہ باپ کے یہاں آئی تھی، پھر شوہر کے بلانے کی منتظر رہی اور اس نے اتنے مہینوں نہ بلایا تو اس صورت میں وہ مقررشدہ نفقہ ان مہینوں کا دے گا، اور اگر یہ بلانا چاہتا تھا اور لڑکی نہ گئی تو ان مہینوں کا نفقہ کسی پر نہیں اگرچہ مقرر شدہ ہو، عورت آٹھویں دن اپنے ماں باپ کے یہاں صبح سے شام تک کےلئے بلا اجازت شوہر جاسکتی ہے اور اپنے محارم مثلاً حقیقی یا سوتیلے بہن، بھائی ، بھتیجے، بھتیجی، بھانجے، بھانجی، چچا، ماموں، پھوپھی، خالہ، نانا، دادا کے یہاں ہر سال بھر بعد دن بھر کے لئے، رات کو بہر حال شوہر کے یہاں آنا ہوگا، یہ بلااجازت ہے، اور شوہر کی اجازت سے انہیں لوگوں کے یہاں مہینہ بھر اور زائد جتنے دنوں کی وہ اجازت دے رہ سکتی ہے، لیکن غیر محارم مثلاً چچا ماموں خالہ پھوپھی کے بیٹوں بیٹیوں یا جیٹھ دیور بہنوئی وغیرہم یا اجنبی کے یہاں شوہر کی اجازت سے بھی نہیں جاسکتی اگر شوہر اجازت دے گا تو وہ بھی گنہگار ہوگا۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ۱۸۶:ازشہر بریلی محلہ ملوکپور مسئولہ احمد یار خاں صاحب ۱۸شعبان ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک عورت کے چند اولادیں ہوئیں ان میں سے ایک لڑکی بعمر چھ سال موجود ہے اس عورت کے جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو بہت سخت تکلیف ہوتی ہے اور قریب المرگ ہوجاتی ہے، لہذا اب یہ عورت اور اس کی ماں و بھائی وغیرہ کہتے یہں کہ ہم کو جان بچانا فرض ہے، اور یہ عورت اپنے خاوند سے جماع کرنا نہیں چاہتی اور کہتی ہے کہ مجھ کو اپنی جان کا اندیشہ ہے، اس حالت میں اس کے خاوند پر نان نفقہ دینا لازم ہے یانہیں ؟ اور یہ عورت اور اس کی ماں و بھائی کہتے ہیں کہ تم اپنی دوسری شادی کرلو، اس کے خاوند میں اتنی قوت نہیں کہ دو عورتوں کا خرچ برداشت کرسکے کیونکہ یہ بیحد غریب آدمی ہے، لہذا شرع شریف کا جو حکم ہو۔ بینواتوجروا۔
الجواب عورت اگر مکانِ شوہر میں نہ رہے نفقہ نہ پائے گی، اور اگر یہاں رہے اور جماع پر راضی نہ ہومگر شوہر چاہے تو جماع کرسکے پھر اگرچہ نہ کرے نفقہ پائے گی، مرد اگر دو کا خرچ برداشت نہ کرسکنے کے سبب اسے نکال دے گا اور عورت اس کے یہاں رہنا چاہے گی اور یہ اس سے زبرستی جماع پر قادر ہوگا تو نفقہ آئے گا۔
درمختار میں ہے:
لھا النفقۃ لو مرضت وفی منزلھا بقیت ولنفسھا مامنعت لانفقۃ لخارجۃ من بیتہ بغیر حق وھی الناشزۃ حتی تعود قید بالخروج لانھا لو مانعتہ من الوطئ لم تکن ناشزۃ۱؎اھ۔
بیوی کےلئے نفقہ کا حق ہوگا وہ بیمار ہو، اور اپنے گھر میں ہو اور اپنے آپ کو سپرد کرنے سے مانع نہ ہو اور خاوند کے گھر سے بلاوجہ باہر رہنے والی کے لئے نفقہ نہیں وہ نافرمان ہوگی تا وقتیکہ واپس آئے، اور ماتن نے خاوند کے گھر سے باہر کی قید ذکر کی، اس لئے کہ اگر خاوند کے گھر میں رہتے ہوئے جماع سے رکاوٹ کرے تو نافرمان نہ ہوگی اھ(ت)
(۱؎ درمختا ر باب النفقۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۲۶۷)
ردالمحتار میں ہے:
قولہ لو مانعتہ قیدہ فی السراج بمنزل الزوج وبقدرتہ علی وطئھا کرھا۲؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
درمختارنے جو کہا کہ جماع سے منع کرے، تو اس کو سراج الوہاج میں، خاوند کے گھر، اور خاوند کو جبراً اس سے جماع کی قدرت ہو، کے ساتھ مقید کیا ہے(کہ ایسی صورت ہوتو وہ نافرمان نہ کہلائے گی) واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
(۲؎ ردالمحتار باب النفقۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۶۴۷)