Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۳(کتاب الطلاق ،ایمان، حدود وتعزیر )
126 - 175
مسئلہ۱۸۱: ازجاورہ محلہ مرسلہ سید ذوالفقار احمد صاحب ۱۲ شوال ۱۳۳۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسماۃ ہندہ جو جوان العمر نیک چلن ہے عرصہ آٹھ نوسال سے ہندہ کے شوہر زید نے ہندہ کو چھوڑ دیا ہے اس کا نان ونفقہ نہیں دیتا ہے، نہ کسی طرح کی خبر گیری اس کی کرتا ہے، بلکہ ہندہ کو ایذا وتکلیف پہنچانے کی غرض سے طلاق بھی نہیں دیتا ہے تاکہ ہندہ اس کے ظلم سے نجات پاکر کسی شخص سے نکاح کرکے اپنی گزراوقات کرے، ہندہ پردہ نشین ہے اس کوکوئی کھانا کپڑا دینے والا نہیں ہے، نہ اس کوکوئی قرض دیتا ہے، نہ اس کے پاس اثاثہ ہے جس کو فروخت کرکے بسر اوقات کرے، نہ ہندہ دستکار ہے، کہ جس کی اجرت سے ضروریات خورد ونوش کو پوراکرسکے، اگر ہندہ کا نکاح ثانی نہ ہوگاتو وہ یقینی طور پر ضرور زناکاری میں مبتلا ہوگی کیونکہ اس کا عالم شباب ہے اور بغیر نکاح ثانی کئے دوسرا ذریعہ معاش نہیں ہوسکتا، او رہندہ ایسے مقام پر ہے جہاں قاضی نہیں ہے پس صورت مرقومہ میں ہندہ کے واسطے خاوند ظالم سے کوئی صورت رہائی کی نکلتی ہے یانہیں؟ اگر کوئی صورت ہندہ کی خلاصی کی نہیں نکلتی ہے تو کیا شرع ہندہ کو زنا کراکر گزرِ اوقات کرنے کی اجازت دیتی ہے؟بینواتوجروا۔
الجواب

شرع مطہر اﷲ ورسول کا حکم ہے، اﷲ ورسول سے زنا کی اجازت مانگنی کفر ہے، جب تک شوہر زندہ ہے اور طلاق نہیں دی دوسرا نکاح حرام حرام حرام، زنا زنا زنا ہے۔ وساوس اور اندیشے کاہے کے ہیں زناکے ، موہوم زناسے بچنے کےلئے موجود زنا کراؤ یہ کون سا دین ہے، چارہ کارنالش ہے کہ روٹی کپڑا دے یا طلاق، اور یہ بھی نہ ہوسکے تو سوائے صبر کے کچھ علاج نہیں، اور جو ا ﷲ کے لئے صبر کرتا ہے اﷲ اس کی مشکل کھول دیتا ہے، رزق اﷲ پر ہے شوہر رزاق نہیں، محنت مزدوری کرے اور غلبہ خواہش کےلئے روزے رکھے۔
نبی صلی ا ﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ومن لم یستطع فعلیہ بالصوم فانہ لہ وجاء۱؎۔
اور جو شادی کے خرچے کی استطاعت نہیں رکھتا اس پر لازم ہے کہ وہ روزہ رکھے کیونکہ روزہ اس کے لئے شہوت کاتوڑ ہے۔(ت)
 ( ۱؎ مسند احمد بن حنبل     مروی از عبد اﷲ بن عباس     دارالمعرفۃ بیروت     ۱ /۴۲۴،۴۳۲)
اﷲ عزّوجل فرماتا ہے:
ومن یتق اﷲ یجعل لہ مخرجاoویرزقہ من حیث لایحتسب ومن یتوکل علی اﷲ فھو حسبہ۱؎۔
جو اﷲ سے ڈرے گا اﷲ اس کے لئے راہ نکال دے گا اور اسے وہاں سے رزق پہنچائے گا جہاں سے اسے گمان بھی نہ ہوگا، جو اﷲ پر بھروسہ کرے تو اﷲ اسے کافی ہے۔
 (۱؎  القرآن الکریم ۶۵ /۲و ۳)
اور فرماتا ہے:
ومن یتق اﷲ یجعل لہ من امرہ یسرا۲؎۔
جو اﷲ سے ڈرے گا اﷲ اس کا کام آسان کردے گا۔
(۲؎ القرآن الکریم ۶۵ /۴)
اﷲ سچا اور اس کے وعدے سچے، اور شیطان جھوٹا اور اس کے ڈراوے جھوٹے، اﷲ سے ڈرے اور اس پر بھروسہ کرے، یقینا اﷲ اس کے لئے آسانی کردے گا اور اس کے لئے راہ نکال دے گا۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ۱۸۲: از اودے پور میواڑراجپوتانہ محلہ چھاوت واڑی     مرسلہ قادر بخش چابک سوار ۱۳رمضان ۱۳۳۸ھ
کیا کوئی ایسی تحریر دستاویز کہ جس کو زید نے مسماۃ ہندہ کو دوسری شادی کے وقت بابت انتظام نان نفقہ لکھ دی ہو کیا بعد طلاق ہندہ کااس تحریر سے کسی قسم کا کوئی حق رہتا ہے:
الجواب

مہر ونفقہ ایام عدت کے سوا اور کوئی حق واجب شرعاً نہیں اور اگر زید نے لکھ دیا ہو کہ عمر بھر تیرانان و نفقہ میرے ذمہ ہے تو یہ ایک وعدہ ہے اسے وفا کرنا چاہئے مگر اس کی بناپر جبراً مطالبہ نہیں ہوسکتا۔
اشباہ میں ہے:
لاجبر ف علی الوفاء بالوعد۳؎
 ( وعدہ پورا کرنے پر جبر نہیں۔ت)
ف: وفائے وعدہ سے متعلق اشباہ سے جو عبارت مجھے ملی اس کے الفاظ یوں ہیں:
وعدہ ان یأتیہ فلم یأتہ لایأثم ولا یلزم الوعد الااذا کان معلقا ___
اسی معنیٰ کی عبارت فتاوی ہندیۃ الباب السابع فی اجازۃ المستاجر جلد ۴ص ۴۲۷پر ملاحظہ ہو۔ نذیر احمد سعیدی
(۳؎ الاشباہ والنظائر     کتاب الحظر والاباحۃ     ادارۃ القرآن کراچی    ۲ /۱۱۰و ۵۱۱)
اس کے سوااس تحریر کا حاصل اگر کچھ اور ہوتو بعد ملاحظہ تحریر معلوم ہوسکتا ہے۔واﷲتعالٰی اعلم۔
مسئلہ۱۸۳: از چتوڑگڑھ محلہ چھیپیاں مسئولہ جمیع مسلمانان گنگرار ۱۵محرم ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک عورت کو شوہر عرصہ آٹھ سال سے ہندوستان چھوڑ کر غیر ملک میں چلاگیا زندہ ہے خیریت کا حال لکھتا رہتا ہے مگر اس کے لئے نہ تو یہاں اس کی جائداد ہے اور نہ اس نے آج تک  خرچ کے لئے زوجہ کے پاس روپیہ پیسہ روانہ کیا نہ اس عرصہ میں وہ کبھی آیا اور نہ آئندہ آنے کا قصد رکھتا ہے ، زوجہ نے نان نفقہ کے انتظام کے لئے کئی مرتبہ اسے لکھا مجبور ہوکر طلاق چاہی مگر نہ تو نان نفقہ دیتاہے اور نہ طلاق دیتا ہے، اب سنا جاتا ہے کہ عورت پریشان ہوکر نصرانیت اختیار کرنے والی ہے، ایسی صورت میں عورت مذکورہ سے معاملہ مندرجہ سوال میں کسی عالم بامعتبر سے فسخ نکاح کی درخواست کراکے بعدانقضائے عدت فسخ نکاح نکاح جدید کسی دوسرے شخص  سے کرادینا جائز ہے یاناجائز، آیا اس کے لئے کوئی صورت ہے  شرعی کہ اسے مرتدہ ہونے سے بچائے۔
الجواب

جس نے مرتدہ ہونے کا قصد کیا وہ اس وقت مرتدہ ہوگئی، بچائی کاہے سے جائے، اور شوہر کی زندگی میں بلاطلاق دوسرے سے نکاح کی کوئی صورت نہیں
قال تعالٰی والمحصنت من النساء۱؎
 (اﷲ تعالٰی نے فرمایا: نکاح والی عورتیں (حرام ہیں)۔ت)
(۱؎ القرآن الکریم    ۴ /۲۴)
یہاں نہ کوئی حنبلی مذہب کا قاضی ہے نہ کسی حنفی مقلد کو اس مذہب کے خلاف قضا کا اختیار ہے اور اگر کرے گا نافذ نہ ہوگی ایسی تو سیعیں لازم مذہب کرتی ہیں،
والتفصیل فی البحرالرائق وردالمحتار وغیرھما من الاسفار
 (اور اسکی تفصیل بحرالرائق اور ردالمحتار وغیرہما کتب میں ہے۔ت) واﷲ تعالٰی اعلم۔
Flag Counter