فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۳(کتاب الطلاق ،ایمان، حدود وتعزیر )
125 - 175
بحر میں ہے:
فی الظھیریۃ قدر محمد الکسوۃ بدرعین وخمارین وملحفۃ فی کل سنۃ، ارادبھما صیفیا وشتویا ولم یذکر السراویل فی الصیف اذلا بد منہ فی الشتاء، وھذا فی عرفھم امافی عرفنا فتجب السراویل وثیاب اخر کالجبۃ والفراش التی تنام علیہ واللحاف وماتدفع بہ اذی الحر والبرد، وفی الشتاء درع خز وجبۃ قز وخمارابریسم اھ وفی المجتبی ان ذٰلک یختلف باختلاف الاماکن والعادات فیجب علی القاضی اعتبارالکفایۃ بالمعروف وفی کل وقت و مکان۱؎۔
ظہیریہ میں ہے کہ امام رحمہ اﷲ تعالٰی نے لباس میں سالانہ دوچادروں ، ایک لحاظ اور دو اوڑھنیوں کی مقدار ذکر کی ہے، اس سے مراد گرما اور سرما دونوں موسموں کے لئے، انہو ں نے موسم گرما میں شلوار کاذکر نہ فرمایا کیونکہ یہ سردی کے موسم میں ضروری ہے ، یہ ان کے عرف میں ہے، لیکن ہمارے عرف میں شلوار اور دیگر کپڑے مثلاً، گدّا جس پر سوتے ہیں اور لحاف اور وہ کپڑا جس سے سردی اور گرمی کی شدت سے تحفظ کیا جاتا ہے اور سردیوں میں اونی چادر اور گرم جبہ اور ریشمی دوپٹہ اھ، مجتبٰی میں ہے کہ لباس علاقوں اور عادتوں کی وجہ سے مختلف ہوتا ہے تو قاضی پر لازم ہے کہ وہ ہر علاقے اور وقت کا اعتبار کرتے ہوئے وہاں کے عرف کے مطابق کفایت والے کا فیصلہ کرے۔(ت)
(۱؎ بحرالرائق باب النفقۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۴ /۱۷۷)
اسی طرح فتح القدیر میں اقضیہ اور ہندیہ میں محیط سے ہے۔ رہا شوہر کا مدیون ہونا اقول (میں کہتا ہوں۔ت) ظاہراً اس کے سبب نفقہ زن میں تنگی نہیں کرسکتے کہ یہ بھی مطالبہ عبد ہے بلکہ فتاوی امام اجل قاضی خاں پھر ہندیہ میں ہے:
المحبوس بالدین اذاکان یسرف فی اتخاذ الطعام یمنع القاضی عن الاسراف ویقدر لہ الکفاف المعروف وکذٰلک فی الثیاب یقتصد فیھا ویأمرہ بالوسط ولایضیق علیہ فی مأکولہ ومشروبہ وملبوسہ۲؎۔
قرض میں مقید شخص اگر خوراک کی تیاری میں اسراف سے کام لیتا ہوتو قاضی اس کو اسراف سے منع کرے اور بقدر کفایت عرف کے مطابق خرچ کا پابندکرے اور ایسے ہی لباس کے معاملے میں میانہ روی سے کا م لے اور اس کا پابند کرے تاہم کھانے پینے اور لباس میں اس پر تنگی نہ کرے۔(ت)
(۲؎ فتاوی قاضی خاں کتاب الحجر نولکشور لکھنؤ ۴ /۹۱۸)
جب مدیون پر خود اس کے نفقہ میں تنگی نہ کی گئی اوسط کا لحاظ رہا تو دوسرے کے نفقہ واجبہ میں بدرجہ اولی
فلیراجع ولیحرر
(اس کی طرف رجوع کیا جائے اور چھان بین کی جائے۔ت) واﷲ تعالٰی اعلم۔
اس کے ساتھ عورت کا خود اپنا حال بھی دیکھا جائے گا کہ غنیـہ مفرطہ فی الغنا ہے یا فقیرہ یا متوسطۃ الحال۔ اگر زن و شودونوں ایک طرح کے ہیں تو اسی طرح کا نفقہ لازم آئے گا اور مختلف ہیں تو دونوں کے حال کے اوسط مثلاً ایک کے اعتبار سے عورت کا نفقہ دس روپے ماہوار ہونا چاہئے اور دوسرے کے لحاظ سے چار روپے تو سات روپے ماہوار واجب کریں گے پھر اگر شوہر فی الحال اس کی ادا پر قادر ہے فبہا ورنہ جس قدر پر قادر ہے دے گا باقی وقت فراخی تک اس پر دین رہے گا۔
قال اﷲ تعالٰی لینفق ذوسعۃ من سعتہ ومن قدر علیہ رزقہ فلینفق ممااٰتاہ اﷲ لایکلف اﷲ نفسا الامااٰتٰھا سیجعل اﷲ بعد عسر یسرا۱؎o
اﷲ تعالٰی نے فرمایا : وسعت والا اپنی وسعت کے مطابق خرچ کرے اور جس پر خرچہ مقدر کیا گیا ہو وہ اﷲ تعالٰی کے دئے سے خرچ کرے اﷲ تعالٰی کسی کو تکلیف نہیں دیتا مگر اسی کے جو اس نے اسے عطا کیا ہے عنقریب اﷲ تعالٰی تنگی کے بعد آسانی فرمائےگا۔(ت)
دونوں کے حال کے مطابق وہ نفقہ برداشت کرے گا، اسی پر فتوی دیاجائےگا ، اور جتنی توفیق ہو اسی کے مطابق ادائیگی کا حکم ہوگا اور باقی اس کے ذمہ ہوگا اس کو آسانی کے وقت ادا کرے گا۔(ت)
فقہاء کرام کا اتفاق ہے کہ اگر دونوں کشادہ حال ہوں تو ا سکے مطابق اور اگر دونوں تنگدست ہوں تو اس کے مطابق نفقہ واجب ہوگا اور اختلاف صرف اس صورت میں ہے جب ایک فراخی والا ہو اور دوسراتنگدست ہو تو ظاہر روایت کے مطابق اس صورت میں خاوند کی حالت کا اعتبار ہوگا اگر خاوند فراخ دست اور بیوی تنگدست ہوتو فراخی والا نفقہ اور اگر خاوند تنگدست ہو اور بیوی امیر ہو توتنگی والا نفقہ واجب ہوگا جبکہ فتوی والا قول یہ ہے کہ دونوں صورتوں میں صرف خاوند کے حال کی بجائے دونوں کے حال کے اعتبار سے درمیانہ نفقہ واجب ہوگا، اور وہ تنگ حالی سے زائد اور فراخی سے کم ہوگا۔(ت)
( ۱؎ ردالمحتار باب النفقۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۶۴۵)
اس کے سوا ایسا ر واعسار کی کوئی خاص تحدید یہاں علماء نے نہ فرمائی امر عرف پر دائر رکھاہے بخلاف نفقہ اقارب کے وہاں یسار مقدر بہ نصاب ہے،
ورأیت فتاوی الخیریۃ انہ ساق الی ھنا ماذکروہ ثمہ، اذسئل فی الزوجین اذاکانا غنیین ھل تجب علیہ نفقۃ الاغنیاء وماحدالغنی فی باب النفقۃ (اجاب) نعم تجب نفقۃ الاغنیاء قال فی البحر اختلفوا فی حدالیسارعلی اربعۃ اقوال احدھا انہ مقدر بنصاب الزکوٰۃ قال فی الخلاصہ وبہ یفتی واختارہ الولو الجی معللا بان النفقۃ تجب علی الموسر ونھایۃ الیسار لاحدلھا وبدایتہ النصاب فیقدربہ، والثانی انہ نصاب حرمان الصدقۃ وھو النصاب الذی لیس بنام قال فی الھدایۃ وعلیہ الفتوی وصححہ فی الذخیرۃ اھ والذی یظھر للفقیہ البارع فی الفقہ ان الاول اولٰی بالقبول لان مالیس بنام سریع النفاد اذاتواردت علیہ النفقات کما ھوظاھر واﷲ تعالٰی اعلم۱؎ اھ مافی الخیریۃ،
اور میں نے فتاوی خیریہ میں دیکھا تو انہوں نے وہی روش اختیار کی جو فقہا نے اوپر ذکر کی ہے، جب ان سے سوال ہوا کہ جب دونوں غنی ہوں تو کیا غنی والانفقہ واجب ہوگا اور نفقہ میں غنی کی حد کیا ہے تو انہوں نے جواب دیا ہاں غنی والانفقہ واجب ہوگا، بحر میں فرمایا کہ غنا کی حدمیں فقہاء نے اختلاف کیاجو چار قول ہیں، ایک یہ غنا کی حد نصاب زکوٰۃ کا اندازہ ہے، خلاصہ میں کہا، ا سی پر فتوی ہے، ولوالجی نے اسی کو پسند کیا اور وجہ یہ بیان کی کہ نفقہ سہولت پر مبنی ہے اور سہولت کی کوئی آخری حد نہیں ہے جبکہ اس کی ابتدائی حد نصاب ہے لہذا اسی کو معیاد قرار دیا جائے گا۔ اور دوسرا قول یہ کہ غناء کی حد وہ ہے جس پرصدقہ لینا حرام ہوتا ہے یہ وہ نصاب ہے جو نامی نہ ہو یعنی تجارتی یا نقدی والا نصاب نہ ہو، ہدایہ میں فرمایا اسی پر فتوی ہے، اور ذخیرہ مں اسی کو صحیح قرار دیا ہے اھ اورفقہ میں مہارت رکھنے والے پر جو ظاہر ہورہا ہے وہ یہ کہ پہلا قول قبولیت میں اولیٰ ہے کیونکہ جو نصاب نامی نہ ہویکے بعد دیگرے اخراجات میں وہ جلدی ختم ہوجاتا ہے جیسا کہ ظاہر ہے، واﷲ تعالٰی اعلم، خیریہ کی عبارت ختم ہوئی،
(۱؎ فتاوی خیریۃ باب النفقۃ دارالمعرفۃ بیروت ۱ /۷۵)
اقول تعلیل الامام الولو الجی لایفید الاشتراط النصاب دون النمو الاان یضم الیہ ما افادالعلامۃ الرملی وفیہ تامل فتامل ثم اقول فی سوقہ الی ھنا نظر فان المعتبر فی الاقارب القدرۃ حتی اوجب محمد علی من یکسب کل یوم درھما وتکفیہ اربع دوانق ان ینفق الدانقین علی محارمہ قال فی الفتح وھذا یجب ان یعول علیہ فی الفتوٰی۲؎ اھ
اقول(میں کہتا ہوں) امام ولوالجی کی بیان کردہ علت صرف نصاب کی متقاضی ہے نامی ہونے کو متقاضی نہیں ہے ہاں اگر علامہ رملی کی بیان کردہ وجہ کہ نفقہ کے باب میں غناء کا اعتبار ہوتا ہے، کوشامل کیا جائے تو نامی کی وجہ بن سکتی ہے، کو شامل کیا جائے تو نامی کی وجہ بن سکتی ہے جبکہ وہ قابل غور بات ہے تو غور کرو،ثم اقول(میں پھر کہتا ہوں)خیریہ کا جو یہاں تک بیان ہے اس میں اعتراض ہے کیونکہ اقرباء کے نفقہ میں صرف قدرت والی وسعت معتبر ہے حتی کہ امام محمد رحمہ اﷲ تعالٰی نے روزانہ ایک درھم کمانے والے پر اقرباء کے نفقہ کے متعلق یہ واجب کیاہے کہ اگر درھم کمانے والے کا گزارچار دانق پر ہوتا ہے تو وہ اپنے ذوالارحام پر دو دانق خرچ کرے ۔ فتح میں فرمایا کہ یہی وہ قول ہے جس پر فتوی دینے میں اعتباد کیا جاسکتا ہے اھ ،
(۲؎ فتح القدیر فصل وعلی الرجل ان ینفق علی ابویہ الخ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۴ /۲۲۷)
فالموسر ثمہ من یمکنہ دفع حاجۃ غیرہ بدون لحوق ضرر بہ والمعسر بخلافہ ولذا لم تجب علیہ اصلا اما نفقۃ المرأۃ فتجب علی الزوج مطلقا وان لم یکن لہ شیئ وانما الموسر والمعسر ھھنا بمعنی الموسع والمقتر وذٰلک لایتقید بالنصاب ولایلزمہ، بل یختلف بما قدمنا فجعلھم مالک النصاب قادرا لایستلزم جعلہ موسعا، وان یلزم علیہ لامرأتہ نفقۃ الاغنیاء، وھی ربما تفنی النصاب فی اقل من نصب سنۃ بل فی ربعھا۔
تو ذوی الارحام کے نفقہ میں جو دوسرے کی حاجت کو پورا کرسکے اور خود ضرر میں مبتلا نہ ہو وہ فراخ دست کہلائے گا، اور تنگدست وہ ہوگا جو ایسا نہ کرسکے اور اس وجہ سے اس پر بالکل واجب نہ ہوگا لیکن بیوی کا نفقہ تو خاوند پر ہر حال میں واجب ہوتا ہے اگرچہ خاوند کے پاس کچھ بھی نہ ہو، تو بیوی کے نفقہ کے معاملہ میں غنی اور تنگدست بمعنی صاحب و سعت اور تنگی ہے اور یہ معنی نصاب سے مقید نہیں ہوسکتا اور نہ ہی اس کو نصاب لازم ہے بلکہ دونوں جدا ہوجاتے ہیں، جیسا کہ ہم نے پہلے بیان کیا ہے، تو ان کا خاوند کو صاحب نصاب قرار دے کر نفقہ پر قادر ماننا اس چیز کو مستلزم نہیں کہ خاوند وسعت والا قرار پائے اور اس پر غنیوں والانفقہ بیوی کے لئے واجب ہو جبکہ بیوی چھ ماہ میں نصاب کا خاتمہ کردیتی ہے بلکہ سال کے چوتھائی حصّہ میں خاتمہ کردیتی ہے۔(ت)
لاجرم ردالمحتار میں ہے:
صرحواببیان الیسار والاعسار فی نفقۃ الاقارب ولم ارمن عرفھما فی نفقۃ الزوجۃ ولعلھم وکلو ذٰلک الی العرف والنظر الی الحال من التوسع فی الانفاق وعدمہ ویؤیدہ قول البدائع لوکان الرجل مفر طافی الیسار۱؎الخ، وسیاتی تمامہ۔
فقہاء نے اقرباء کے نفقہ میں خوشحالی اور تنگ حالی کو بیان کیا لیکن میں نے بیوی کے نفقہ میں کسی کو خوشحالی اور تنگ خالی کے کے معیار کو بیان کرتے ہوئے نہیں دیکھا، اور ہوسکتا ہے کہ انہوں نے یہ معیار عرف پر چھوڑدیاہو کہ عرف میں خوشحالی کا نفقہ اور غیر خوش خالی کا کیا ہے، اور اس کی تائید بدائع کا یہ قو ل کہ''اگر کوئی شخص خوش حالی میں انتہائی زیادہ ہو الخ'' کررہا ہے، بدائع کا مکمل قول آگے آرہا ہے۔(ت)
(۱؎ ردالمحتار باب النفقۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۶۴۵)
ولہذا نفقہ اقارب میں دوہی قسمیں رہیں کہ قادر اور عاجز میں حصر ہے اور یہاں تین قسمیں ہیں: غنی، فقیر، متوسط۔ اور ان کے نفقات کے فرق میں عبارات مختلف آئیں ، امام سراج الدین قاری الہدایہ نے فرمایاغنی کے لئے دونوں وقت گیہوں کی روٹی اور گوشت ہے، متوسط کے لئے روٹی اور روغن ، فقیر کے لئے روٹی اور پنیرو سرکہ۔ اقضیہ میں فرمایا: غنی کی نانخورش گوشت، متوسط کی دودھ، فقیر کی روغن یعنی زیتون،
وقال تعالٰی وصبغ للاٰکلین۲؎
(اﷲ تعالٰی نے فرمایا: اور کھانے والوں کے لئے سالن ہے۔ت)
(۲؎ القرآن الکریم ۲۳ /۲۰)
اور ہمارے عرف سے قریب تر وہ ہے جو امام ملک العلماء نے فرمایا کہ اعلی درجہ مرغ کا گوشت اور سوجی کے پھلکے، اور اوسط گیہوں کی روٹی بکر ی کا گوشت اور ادنی جو کی روٹی۔
عقودالدریہ میں ہے: سئل قاری الھدایۃ اذا طلبت تقدیر النفقۃ لھا ولاولدھادراھم ھل لھا ذلک (اجاب) لایجب بل الواجب علیہ طعام وادام علی الغنی خبز حنطۃ ولحم غدا وعشاء بقدر کفایتھا، والمتوسط خبز و دھن وعلی الفقیر خبز وجبن وخل۱؎۔
قاری الہدایہ سے سوال کیاگیا کہ جب بیوی اپنے لئے اور اوالاد کے لئے روزانہ چند درہم کا نفقہ مقرر کرنے کا مطالبہ کرے تو کیا اس کویہ حق ہے، تو انہوں نے جواب میں فرمایا کہ عورت کا یہ مطالبہ پورا کرنا ضروری نہیں بلکہ خاوند پر اگر غنی ہوتو روٹی اور سالن میں صبح و شام گندم کی روٹی اور گوشت بقدر کفایت اور درمیانے حال والا ہوتو اس پردونوں وقت روٹی اور روغن، اور اگر فقیر ہوتو روٹی، پنیر اور سرکہ واجب ہے(ت)
(۱؎ عقود الدریۃ فی تنقیح الفتاوی الحامدیۃ باب النفقۃ حاجی عبدالغفار تاجران ارگ بازار قندھار افغانستان ۱ /۷۴)
اگر خاوند اعلی درجے کا امیر ہے جو سوجی کے پھلکے اور مرغ کا گوشت کھاتا ہے اور عورت انتہائی فقیر ہو جو اپنے گھر میں جو کی روٹی کھاتی ہو، تو یہ خاوند اس کو گندم کی روٹی اور بکری کا گوشت دے۔(ت)
(۳؎ ردالمحتار باب النفقۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۶۴۵)
عالمگیریہ میں کافی سے ہے:
ان کانت موسرۃ وھو معسر لھا فوق مایفرض لوکانت معسرۃ فیقال لہ اطعمھا خبز البر وباجۃ او باجتین،وان کان الزوج موسرا مفرط الیسار نحوان یاکل الحلواء واللحم الشوی والباجات و ھی فقیرۃ کانت تاکل فی بیتھا خبز الشعیر لایجب علیہ ان یطعمھا مایاکل بنفسہ ولاماکانت تاکل فی بیتھا، لکن یطعمھا خبزالبر وباجۃ اوباجتین۱؎۔
اگر خاوند فقیر ہوتو امیر بیوی کو وہ خوراک دے جو غریب بیوی کے لئے مقررہ سے زیادہ ہو، اس صورت میں خاوند کو پابند کیا جائے گا کہ وہ اس کو گندم کی روٹی باجہ یا دو باجے(بھیڑ بکری کے پائے) خوراک دے، اور اگر خاوند اعلی درجے کا امیر ہو مثلاً وہ حلوا، گوشت بھنا ہوا یا بھیڑ بکری کے پائے کھاتا ہے اور بیوی فقیر ہوجو اپنے گھر میں جو کی روٹی کھاتی تھی تو خاوند پر یہ واجب نہیں کہ اس کو وہی خوراک دے جو خود کھاتا ہے، اور نہ ہی وہ خوراک دے جو بیوی اپنے گھر میں کھاتی تھی بلکہ وہ اس کو گندم کی روٹی اور بھیڑ بکری کے پائے ایک یا دو خوراک میں دے۔(ت)
ان اعصاروامصار میں پچھتّر روپے ماہوار کی آمدنی والا نہ امیر کہلائے گا نہ فقیر بلکہ ایک متوسط الحال ہے، اگر عورت بھی ایسی ہی ہے اور متوسط زناں کا نفقہ لیا گیہوں کی روٹی اور بکری کا گوشت کبھی سادہ کبھی ترکاری کا، کبھی اور کھانا کہ قیمۃً اس کے قریب ہو، اور پہننے کو ململ خاصا چھینٹ(یہاں مسودہ میں بیاض ہے) تو حق بحقدار رسید، نہ یہ اس میں کمی کرسکتا ہے نہ وہ اس سے زائد کے مطالبے یا صرف کا اختیار رکھتی ہے، اور اگر وہ غنا میں طبقہ اعلی سے ہے تو ضرور زائد کی مستحق ہے جو اوسط اعلیٰ کے اوسط سے زائد نہ ہو، اور اگر طبقہ ادنی سے ہے تو ضرور کم کی مستحق ومستوجب ہے جو اوسط وادنی کے اوسط سے کم نہ ہو، ان اصول پر صحیح محاسبہ کیاجائے، اگر اس نے اپنے استحقاق سے زیادت قلیلہ کی ہے تو قابل لحاظ نہیں اور زیادت فاحشہ کی ہے مثلاً اس کے خر چ میں حساب شرعی سے دس روپے ماہوار ہونا چاہئے تھا اور اس نے پندرہ روپے ماہوار خرچ کیا تو جبکہ اول سے شوہر نےاسے مقدار شرعی پر خرچ کی اجازت دی تھی زیادت غصب ہوئی اور اس کا تاوان عورت پر آیا جو اس کے مہر میں محسوب ہوسکتا ہے۔
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
علی الیدما اخذت حتی تؤدی۱؎۔ ھذا ماظھرلی واﷲ تعالٰی اعلم۔
ہاتھ نے جو لیا وہ اس پر بوجہ ہے جب تک وہ اسے ادا نہ کرے۔ یہ وہ بحث ہے جو مجھ پر ظاہر ہوئی۔ واﷲتعالٰی اعلم(ت)