Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۳(کتاب الطلاق ،ایمان، حدود وتعزیر )
124 - 175
مسئلہ۱۷۹: از یادسوگنج ضلع ہردوئی(اودھ) مرسلہ سید عنایت حسین گرد اور قانون گو۱۳ذی الحجہ۱۳۳۶ھ
زید کی شادی تقریباً تین سال ہوئے کہ ہوئی، اس وقت تک کوئی اولاد نہیں ہوئی، عورت منکوحہ ناقص العقل یہاں تک کہ ایک آنہ کا حساب نہیں جانتی، تین سو روپے کا زیور گم کرچکی ہے، ناقص العقل ہونے کی وجہ سے اسے گم کردیا، اسے گفتگو کی تمیز نہیں ہے کہ جو اس کاہے اس سے گفتگو کرسکے، وہ کھانا پکانا اور کپڑاسینا بھی نہیں جانتی ہے اور نماز روزے کو بھی نہیں سمجھتی ہے اور نہ اسے یاد ہوتا ہے، اب وہ شخص شادی دوسری ان وجوہات سے کرنا چاہتا ہے، مسئلہ اسلام اجازت دیتا ہے یانہیں، اور اس کو کس صورت سےشوہر کو رکھنا پڑے گا جبکہ وہ خبط الحواس ہے، کیا اخراجات دونوں عورتوں کے برابر اٹھانا پڑیں گے یانہیں، اور اگر وہ منکوحہ دوسری عورت صاحبِ جائداد ہو وے تب کس حیثیت سے اس کو رکھنا چاہئے اور آیا شوہر کو دونوں عورتیں اپنے ہمراہ رکھنا پڑیں گی یا صرف ایک اور ایک بہ سبب خبط الحواس ہونے کے نہیں رکھنا پڑے گی۔
الجواب

دوسری شادی کی اجازت ہے مگر عدل فرض ہوگا، دونوں کو برابر رکھنا ہوگا، یہ جائز نہ ہوگا کہ دوسری کے پاس رہے اور پہلی سے اس کی کم عقلی کے باعث جدارہے، دوسری عورت اگر مالدار ہے اور پہلی محتاج ہے تو شوہر اگر مالدار ہے تو دوسری کے لئے مالداروں کا نفقہ واجب ہوگا اور پہلی کےلئے مالداروں اور محتاجوں کے نفقہ کا اوسط، اور اگر شوہر محتاج ہے تو پہلے کے لئے محتاجوں کا نفقہ واجب ہوگا اور دوسری کےلئے اوسط، یہ اوسط اب نہ دے سکا تو جتنا دے سکے دے گا باقی اس پراس دوسری عورت کےلئے قرض رہے گا جب طاقت پائے ادا کرے۔
درمختارمیں ہے:
النفقۃ تجب للزوجۃ علی زوحھا بقدر حالھما بہ یفتی ویخاطب بقدر وسعہ والباقی دین الی المیسرۃ ۱؎۔ ملخصاً۔
خاوند پر بیوی کا نفقہ دونوں کے حال کے پیش نظر واجب ہوگا، اسی پر فتوی دیاجائے گا، لہذا خاوند سے وصولی اس کی توفیق کے مطابق ہوگی، اگر کچھ باقی رہ جائے تو وہ خاوند کے ذمہ قرض ہوگا جس کی وصولی اس کی بہتر پوزیشن پر کی جائے گی ، ملخصاً۔(ت)
 (۱؎ درمختار     باب النفقۃ     مطبع مجتبائی دہلی  ۱ /۲۶۶)
دونوں عورتوں کے نفقہ میں فرق ہوگا اگر ایک ان میں مالدار اور دوسری محتاج ہے، باقی رات کو رہنے اور لینے دینے وغیرہ اختیاری باتوں میں دونوں کو برابر رکھنا ہوگا اگرچہ ایک کم عقل اور بے سلیقہ ہے۔
عالگیری میں ہے:
یسوی بین الجدیدۃ والقدیمۃ والبکر والثیت والصحیحۃ والمریضۃ والرتقاء والمجنونۃ التی لایخاف منھا والحائض والنفساء والحامل والحائل والصغیرۃ التنی یمکن وطؤھا کذافی التبیین۲؎۔وھو تعالٰی اعلم۔
نئی ،پرانی، باکرہ، ثیبہ، تندرست، بیمار، شرمگاہ کی تنگی والی، مجنونہ جس سے ضرر کاخوف نہ ہو، حیض ونفاس والی، حاملہ وغیرہ اور نابالغہ جس سے وطی کی جاسکتی ہو، تمام بیویوں کا حق برابر اس پر ہوگا، جیسا کہ تبیین الحقائق میں ہے۔وھو تعالٰی اعلم(ت)
(۲؎ فتاوی ہندیہ باب القسم نورانی کتب خانہ     ۱ /۳۴۰)
مسئلہ۱۸۰: از علی گڑھ مدرسۃ العلوم مولوی عبداﷲ صاحب ناظمِ دینیات و نصرت شیر خاں محرر دینیات ۱۹ربیع الاول ۱۳۳۷ھ
زید کو عرصہ تئیس سال سے پچھتر روپے ماہوار بذیعہ ملازمت کے ملتا ہے اور بجز اس ماہواری تنخواہ کے ااور کسی قسم کی زید کو آمدنی نہیں ہے اور زید کی یہ عادت مستمرہ ہے کہ جو روپیہ ماہواری ملتا ہے وہ سب کا سب اپنی اہلیہ کو دے دیتا ہے، اور زید نے اپنی اہلیہ سے یہ کہہ رکھا ہے کہ جو مقدار شرعی طور سے تمہارے نان نفقہ میں یا میرے ذاتی اخراجات یا میری زوجہ اولیٰ کی اولاد پر اس میں سے خرچ ہوکر جو کچھ پس انداز ہو اس رقم کو تم اپنے مہرمیں محسوب کرتی رہو تاکہ آٹھ دس برس میں تمہارے مہر سے مجھ کو سبکدوش حاصل ہو، اور اس معاملہ پر زید نے اپنے اور اپنی اہلیہ کے اقربا کو گواہ بھی کرلیا ہے اور زید کی زوجہ کو بھی اس معاہدہ اور معاملہ سے انکار نہیں ہے بلکہ اس وقت تک اقرار ہے لیکن نان نفقہ کی مقدار رقم میں زید اور اس کی زوجہ کا اختلا ف ہے، زید تویہ کہتا ہے کہ میرے پاس بجزاس ملازمت کی آمدنی کے اور کسی قسم کی آمدنی نہیں او میں پانچ ہزار روپے کا قرضدار ہوں جو مہر کا ہے جس کے ادا کرنے کا میں نے ڈول ڈالا ہے، اس صورت میں نان نفقہ کی مقدار رقم ماہواری معسر یعنی تنگدست کی شرعاً ہونی چاہئے، اور زید کی زوجہ رائقہ یہ کہتی ہے کہ تمہارا مشاہرہ بڑامشاہرہ ہے نان و نفقہ کی رقم ماہواری کی مقدار موسر یعنی مالدار کی حیثیت سے مقرر ہونی چاہئے، اب علمائے اسلام عالی مقام سے یہ سوال ہے کہ شرعاً زید کا کہنا مقبول ہے یا زید کی زوجہ رائقہ کا قول شرعاً مقبول ہے؟ اور معسر شخص کو کتنے روپے ماہوار آٹھ سال سابق سے دینے چاہئے؟ اور اس زمانہ میں جو گرانی ہے کَے روپیہ نان و نفقہ کے لگائے جائیں؟ اور یہ بھی عرض کردینا ضرور ہے کہ باہر کے کام مثلاً غلہ یا دال یا پان وغیرہ منگانے کا زید اپنی وجاہت سے کسی نہ کسی سے کرادیتا ہے اور گھر کے کھانا پکانے کا کام جب سے نکاح ہو ازید کی زوجہ یا اس کی والدہ نے اپنے متعلق کررکھا ہے جیسے کہ عموماً شرفاء کے گھروں میں عرفاً مروّج معمول بہ ہورہاہے، بینواتوجروا۔
الجواب

یہاں متعداد امور ملحوظ ہوتے ہیں:
(۱) مقدار دخل۔

(۲) گرانی وارزانی ۔

(۳) حال مقام، مثلاً زیادہ سرد ممالک جاڑے کا سامان درکار ہوتا ہے معتدل میں کم، اور بلحاظ، آب و ہوا غذا میں بھی تفاوت ہوتا ہے۔

(۴) زمانہ موجودہ میں عادتِ بلد جہاں جیسی خوراک وپوشاک معتاد و معہود ہو مثلاً اب عرب خصوصاً مدینہ طیّبہ 

میں عموماً خوش خوراکی وخوش پوشاکی معمول ہے حالانکہ یہی عرب ایک وقت کمال سادگی وتقلل سے موصوف تھا اعتبار عام عوائد کا ہوگا نہ خاص کسی بخیل یامسرف کا بعض بلاد مثلاً شاہجہانپور میں عام طورپر تیل کھاتے ہیں، پلاؤ قورمہ پر اٹھے کے ہوتے ہیں، ہمارے بلاد میں یہ طبعاً مکروہ اور عرفاً معیوب، تووہاں گھی کا مطالبہ نہ ہوگا یہاں ہوگا وقس علیہ، متعارف طور پر ان سب باتوں کے لحاظ کے بعد کہہ سکتے ہیں کہ اتنی آمدنی اتنے مصارف والا ایسے وقت ایسے مقام میں موسر مرفہ الحال یا معسر تنگدست یا متوسط۔
تنویر الابصار میں ہے:
یقدرھا بقدر الغلاء والرخص۱؎۔
نفقہ مہنگائی اور ارزانی کی اعتبار سے ہوگا۔(ت)
 (۱؎ درمختار شرح تنویر الابصار     باب النفقۃ    مطبع مجتبائی دہلی     ۱ /۲۶۸)
نیز اسی میں اور بحوالہ اختیار درمختار میں ہے:
یختلف ذٰلک یساراواعسار اوحالا اوبلدا۲؎۔
نفقہ خوشحالی، تنگدستی، علاقے اور صورت حال کے لحاظ سے مختلف ہوگا۔(ت)
 (۲؎ درمختار شرح تنویر الابصار     باب النفقۃ    مطبع مجتبائی دہلی     ۱ /۲۶۸)
ردالمحتار میں ہے:
لو قال ووقتا لکان اولٰی ۳؎۔
اگر ماتن یہاں وقت کو بھی ذکر کرتے تو بہتر ہوتا(ت)
(۳؎ ردالمحتار باب النفقۃ   داراحیاء التراث العربی بیروت     ۲ /۶۵۲)
اسی میں ہے:
یراعی کل وقت اومکان بماینا سبہ۴؎۔
وقت اور جگہ کا اعتبار کرتے ہوئے نفقہ مناسب مقرر ہوگا۔(ت)
 (۴؎ ردالمحتار     باب النفقۃ   داراحیاء التراث العربی بیروت    ۲ /۶۵۱ )
اسی میں ذخیرہ سے ہے:
ماذکرہ محمد علی عادتھم وذلک یختلف باختلاف الاماکن حرا وبردا و العادات فعلی القاضی اعتبار الکفالۃ بالمعروف فی کل وقت مکان۵؎۔
امام محمد رحمہ اﷲ تعالٰی نے لوگوں کی عادت کے اعتبار کو ذکر کیا ہے، تو نفقہ جگہوں کے گرم سرد اور وہاں کی عادات کے اختلاف سے مختلف ہوگا، تو قاضی کو ہر مقام اور وقت کے لحاظ سے عرف میں کفایت کااعتبار کرنا ہوگا۔(ت)
 (۵؎ ردالمحتار     باب النفقۃ   داراحیاء التراث العربی بیروت    ۲ /۶۵۲)
Flag Counter