Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۳(کتاب الطلاق ،ایمان، حدود وتعزیر )
123 - 175
مسئلہ۱۷۷:از ساندھن ڈاکخانہ اچھنیرہ ضلع آگرہ مرسلہ محبوب احمد صاحب ۲۴ربیع الآخر۱۳۳۶ھ
زید نے زبیدہ کے وارثوں کو نوٹس او زبانی ذریعہ سے ولی بننے کو کہا اور زبیدہ کے وارثوں نے انکار کردیا، زید نے نوٹس کے ذریعہ ا طلاع دی کہ اگر اب تم ولی نہ بنوگے اور بعدمیں بننا چاہوگے تو تم سے زبیدہ کے خورد و نوش وغیرہ کا خرچ لے لیا جائے گا، اب اگر چند سال بعدزبیدہ کے وارث ولی بننا چاہیں تو کیا زبیدہ کے خورد نوش وغیرہ کا خرچ لے سکتا ہے ؟ بینواتوجروا۔
الجواب

یہ نوٹس کوئی عقد شرع نہیں اس کی بناء پر کوئی مطالبہ نہیں ہوسکتا۔ و اﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ۱۷۸: از حافظ اسمٰعیل خاں عقب کو توالی بریلی ۴رجب ۱۳۳۶ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ کو زید نے طلاق مغلظہ دے دی اور اس کی زید سے ایک دختر صغیرہ ہے چند سال بعد ہندہ مدعی ہوئی کہ وہ اتنی مدت سے اپنے میکے میں رہتی ہے میں نے اب تک قرض دام لے کر اپنی اور اپنی دختر کی حاجت پوری کی لہذا روز طلاق سے چار مہینے دس دن بعد تک میرا نفقہ اور آج تک کا دختر کا پچاس پچاس روپے ماہوار کے حساب سے مجھ کودلایا جائے حالانکہ نہ کوئی ماہوار وغیرہ تقرر نفقہ زید نے کیا نہ حاکم نے بلکہ ہندہ اس سے پہلے نفقہ کا دعوٰی فوجداری میں دائر کرچکی تھی جو خارج ہو ااس صورت میں ہندہ کا دعوٰی مسموع ہے یانہیں اور کل گزشتہ مدت کا نفقہ ہندہ یا دختر ہندہ کا زید پر واجب الاداہے یا نہیں اور عورت اور اولاد کے نفقہ میں اس بارے میں کوئی فرق ہے یانہیں؟بینواتوجروا۔
الجواب

صورت مذکورہ میں ہندہ کا دعوٰی محض باطل و نامسموع ہے گزشتہ ماہ کا ایک حبہ نہ عورت کے نفقہ کا زید پرلازم ہے نہ دختر کا، زن اور اولاد کے نفقہ میں یہ فرق کہے کہ عورت اگرچہ مالدار ہو اس کا نفقہ شوہر پر لازم ہوتا ہے جبکہ وہ اس کے یہاں رہے اور بلاوجہ شرعی میکے میں رہے تو اصلاً نفقہ کی مستحق نہیں اور اولاد کا نفقہ ان کی محتاجی کی حالت میں لازم ہوتا ہے، اگر مال رکھتے ہیں ان کا نفقہ باپ پر نہیں ورنہ ہےاگرچہ وہ اس کے یہاں نہ رہیں، پھر جو نفقہ نہ باہمی قرارداد سے مقرر ہوا ہو نہ حاکم کے حکم سے اسے اگر ایک مہینہ یا زیادہ کتنے ہی برس گزرجائیں اور اس مدت میں عورت اور اولاد قرض دام سے خواہ کسی طریقہ سے اپنی حاجت نکالتے رہیں یا عورت اپنے مال خواہ قرض یا گداگری سے اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ پالے تن ڈھکے تو ا س مدت کے کسی حبہ کا مطالبہ شوہر سے نہیں ہوسکتا، ہاں اگر بحکم حاکم یا تراضی باہمی قرار داد نفقہ ہولیا تھا کہ مثلاً اتنا ماہوار دینا ٹھہرااور مدتیں گزریں شوہر نے نہ اس کا نفقہ دیا نہ اولاد کا، تو عورت اپنے نفقہ مقرر شدہ کا مطالبہ کرسکتی ہے اور اولادکا نفقہ اگرچہ برضائے باہمی یا بحکم حاکم مقرر ہوا ہو جب وقت گزر گیا ساقط ہوگیا کہ وہ بوجہ حاجت تھا اور مدت گزشتہ کی حاجت نکل چکی اگرچہ کسی طرح نکلی یہاں تک کہ اگر حاکم نے صغیر بچہ کے لئے ماہوار اس کے باپ پر مقرر کیا اور ماں کو حکم دیا کہ اس سے نہ ملے توتو قرض لے کر بچہ پر خرچ کر تو اگر اس نے قرض لے کر خرچ کیا جب تو بوجہ حکم حاکم باپ سے واپس پائےگی اور اگر اپنے پاس سے خر چ کیا تو حبہ لینے کی مستحق نہ ہوگی کہ حاکم نے قرض لے کر خرچ کرنے کو کہا تھا ہو اس نے نہ کیا،
درمختارمیں ہے:
لانفقۃ لخارجۃ من بیتہ بغیر حق وھی الناشزۃ حتی تعود۱؎۔
خاوند کے گھر سے باہررہنے والی کے لئے نفقہ نہیں ہے وہ واپس آنے تک نافرمان قرار پائے گی۔(ت)
 (۱؎ درمختار     با ب النفقۃ         مطبع مجتبائی دہلی     ۱ /۲۶۷)
اسی میں ہے:
النفقۃ لاتصیردیناً الابالقضاء اوالرضاء ای اصطلاحھما علی قدر معین اضافاً اودراہم فقبل ذٰلک لایلزمہ شئی۲؎۔
نفقہ اس وقت تک خاوند کے ذمہ قرض نہ ہوگا جب تک قاضی نے یا باہمی رضامندی سے طے نہ کرلیا ہو، یعنی جب تک خاوند بیوی نے باہمی مصالحت سے نفقہ کی مقدارجنس یا نقد متعین نہ کردی ہو، تو اس سے قبل خاوند پر کچھ لازم نہیں ہوگا۔(ت)
(۲؎ درمختار     با ب النفقۃ   مطبع مجتبائی دہلی  ۱ /۲۷۰)
تنویر الابصارمیں ہے:
قضی بنفقۃ غیر الزوجۃ ومضت مدّۃ سقطت۳؎۔
اگر قاضی نے بیوی کے علاوہ غیر کا نفقہ لازم کیا ہو اور بغیر ادائیگی جو مدت گزرگئی اس مدت کانفقہ ساقط قرار پائے گا(ت)
(۳؎ درمختار شرح تنویرالابصار   با ب النفقۃ         مطبع مجتبائی دہلی       ۱ /۲۷۷)
ہدایہ میں ہے:
اذا القاضی للولد والوالدین وذوی الارحام بالنفقۃ فمضت مدہ سقطت الاان یاذن القاضی بالاستدانۃ علیہ۱؎
  جب قاضی اولاد، والدین یا ذوی الارحام کے لئے نفقہ کی ادائیگی کا فیصلہ دے تو گزری ہوئی مدت کا نفقہ ساقط ہوجائے گا الایہ کہ قاضی نے اس کے نام پر ان لوگوں کو قرض لے کر خرچ کرنے کا حکم دیا ہوتو ساقط نہ ہوگا۔(ت)
 (۱؎ ہدایہ      باب النفقۃ   المکتبۃ العربیۃ کراچی    ۱ /۲۹۔۴۲۸)
فتاوی بزازیہ میں ہے:
وان انفقت(ای الام) علیہ من مالھا اومن المسئلۃ من الناس لاترجع علی الاب۲؎۔
اگر ماں نے بچے پر اپنا مال خرچ کیا ہویا لوگوں سے مانگ کر خرچ کیا ہوتو اس خرچہ کو بچے کے والد سے وصول نہ کرسکے گی۔(ت)
(۲؎ فتاوی بزایزیۃ علی ھامش فتاوی ہندیہ      التاسع عشر النفقات     نورانی کتب خانہ پشاور    ۴ /۱۶۵)
ردالمحتار میں ہے:
امرت بالاستدانۃ فلم تستدن بل انفقت من مالھا فلا رجوع لھا، لانھا لم تفعل ماامرھا بہ القاضی۳؎۔(ملخصاً)
اگر قاضی نے عورت کو قرض لے کر خرچ کرنے کا فیصلہ دیاہو تو پھر عورت نے قرض کی بجائے اپنامال خرچ کیاتو اس کی وصولی کا حق اسے نہ ہوگا، کیونکہ اس نے قاضی کے فیصلہ پر عمل نہ کیا۔(ملخصاً)۔(ت)
 (۳؎ ردالمحتار     باب النفقۃ     داراحیاء التراث العربی بیروت     ۲ /۶۸۶)
اور عدت طلاق چار مہینے دس دن سمجھنا محض جہالت ہے اس کی مدت تین حیض ہے۔واﷲتعالٰی اعلم۔
Flag Counter