فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۳(کتاب الطلاق ،ایمان، حدود وتعزیر )
122 - 175
مسئلہ۱۷۴: ۳۰رمضان المبارک ۱۳۲۰ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ عورت کو خاوند نے نکال دیا وہ تین برس تک محنت کرکے تن پر وری کرتی رہی بعدہ یہ تصفیہ ہواکہ اگر تومیرے کہنے پر الگ ایک مکان میں رہے جس طرح کہ رہتی ہے(اس لئے کہ اس شخص کے دوسری بی بی ہے) تو میں تجھ کو دس روپیہ ماہوار دیتا رہوں گا، بموجب اس تصفیہ کے خاوند نے دوسال اور کچھ دن تک ماہوار دیا با گیارہ ماہ کچھ دن سے نہ دیا عورت نے نوٹس دیا خاوند نے لے کر رکھ لیا اور کچھ دن بعد عورت کے مکان پر آکر بہت فساد مچایا بعدہ تین طلاقیں دے دیں، اب علمائے دین سے معلوم ہوناچاہئے کہ وہ جو اوس کے ذمے واجب الادا یعنی طلاق سے پیشتر کا نفقہ اس سے لینے کی عورت پر مجاز ہے یانہیں اور مہر بھی اس کے ذمہ واجب الادا ہے یانہیں؟
الجواب
طلاق سے مہر تمام وکمال واجب الادا ہوگیا اور بیان سوال سے ظاہر یہی ہوتا ہے کہ قصور مرد کا ہے یہی اسے نفقہ دینا نہیں چاہتا تو اس صورت میں نفقہ واجب ہے، درمختار وعلامہ طحطاوی وعلامہ شامی وعلمائے کبار کا فتوی موافق اعتماد وترجیح محقق صاحب بحرالرائق ومحقق شرنبلالی وتصحیح صریح صاحبِ خزانۃ المفتین رحمہم اﷲ تعالٰی جمیعا یہی ہے کہ جو ماہوار باہم دونوں میں رضامندی سے قرار پایا تھاجب تک کانہ ملا سب لینے کا عورت کو اختیار ہے ۔
درمختار میں ہے:
صحیح الشربنلالی فی شرحہ للوھبانیۃ مابحثہ فی البحر من عدم السقوط ولو بائنأ قال ھوالاصح وردما ذکرہ ابن الشحنۃ فیتأمل عندالفتوی۱؎۔
شرنبلالی نے وہبانیہ کی شرح میں بحر کی اس بحث کو، کہ اگرچہ بائنہ طلاق ہوتو بھی نفقہ ساقط نہ ہوگا، صحیح قرار دیا ہے، اور کہا کہ یہی اصح ہے اور ابن شحنہ نے جو ذکر کیا اس کا انہوں نے رد کیا ہے، تو فتوی دیتے وقت غور کرنا چاہئے ۔ (ت)
( ۱؎ درمختار باب النفقۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۲۷۰)
ردالمحتارمیں ہے:
بان ینظر فی حال الرجل ھل فعل ذلک تخلصا من النفقۃ اولسوء اخلاقھا مثلا فان کان الاول یلزم بھا وان کان الثانی لایلزم ھذا ماقالہ المقدسی وینبغی التعویل علیہ ۲؎ط۔
ایسی کارروائی میں قاضی کو غور کرنا چاہئے کہ کیا خاوند مثلاً یہ کاروائی نفقہ سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے کی ہے یا واقعتا بیوی بدفطرت ہے، اگر پہلی وجہ ہوتو قاضی بیوی کے لئے نفقہ کو لازم قرار دے اور اگر دوسری وجہ ہوتو پھر لازم نہ کرے، یہ مقدسی کا بیان ہے اوراسی پر اعتمادچاہئے۔ طحطاوی ۔(ت)
(۲؎ ردالمحتار باب النفقۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۶۵۹)
خزانۃ المفتین میں ہے:
المفروضۃ لاتسقط بالطلاق علی الاصح۳؎۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مقررہ نفقہ طلاق کی وجہ سے ساقط نہ ہوگا اصح قول پر ۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
(۳؎ خزانۃ المفتین فصل فی النفقۃ قلمی نسخہ ۱ /۱۰۲)
مسئلہ ۱۷۵: از سرولی ضلع بریلی مرسلہ جناب عشاق احمد صاحب مورخہ ۵ذی الحجہ ۱۳۳۸ھ
چہ می فرمایند علمائے دین و مفتیان شرع متین دریں مسئلہ
کہ ایک شخص کی عورت عرصہ دو سال سے اپنے ساس اور سسر سے ناراض ہوکر میکے چلی گئی خانگی جھگڑے پر، اور وہی عورت اپنے خاوند سے رضامند ہے لیکن خاوند اس کا پانے والدین کو چھوڑنا نہیں چاہتا اس وجہ سے وہ عورت اپنی سسرال میں نہیں آتی باوجود یکہ چند مرتبہ اس کے ساس اور سسر رخصت کے واسطے اس عورت کے مکان پر گئے لیکن نہیں آئی، اب لڑکے کے والدین دوسری شادی کرنا چاہتے ہیں اور اس کو طلاق دینا نہیں چاہتے اس صورت میں پہلی بیوی ازروئے شرع اپنے مہر کا مطالبہ بذریعہ نالش کرسکتی، اور اگر طلاق دے دی جائے تو مستحق مہر کی ہوگی یا نہیں کیونکہ اس کے والدین طلاق کو کہتے ہیں۔ بینواتوجروا۔
الجواب
اگر طلاق دی جائے گی عورت مطالبہ مہر کرسکے گی ورنہ جو مہر نہ معجل بندھا ہو نہ اس کی کوئی میعاد مقرر کی گئی ہو عورت قبل موت یا طلاق اس کا مطالبہ نہیں کرسکتی، جبکہ وہ ناراض ہوکر اپنے میکے چلی گئی اور بلانے سے نہیں آئی تو اس کا نان و نفقہ بھی شوہر پر سے ساقط ہے جب تک وہ شوہر کے یہاں واپس نہ آئے اور شوہر پر یہ بھی لازم نہیں اسے طلاق دے، جب کہ یہ بلانا چاہتا ہے اور وہ بلاوجہ شرعی نہیں آتی تو الزام عورت پر ہے شوہر پر نہیں۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ۱۷۶: از ریاست جاورہ ڈونکر دروازہ مرسلہ ہدایت نورخاں صاحب برادر نواب جاورہ ۲۴رمضان ۱۳۲۶ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ جو عورت اپنے زوج کی نافرمانی کرکے بلااجازت و بغیر حق مکان شوہر سے نکل کر علیحدہ بخانہ والدین کسی عزیز کے یہاں جرکر سکونت کرے جس کو اہل شرع ناشزہ کہتے ہیں، پس اس عورت کا نان ونفقہ کفیل پر دینا واجب ہوگا نہیں اور ایسی عورت میں کفیل کی کفالت وضمانت صحیح و معتبر رہی یانہیں۔بینواتوجروا۔
الجواب
زنان نشوز کانفقہ دینا نہ آئے گا یعنی جب تک وہ بے اجازت شوہر بروجہ ناحق جگہ رہے گی اتنی مدت کے نفقہ کا مطالبہ کفیل سے بھی نہیں کرسکتی کہ کفالت
ضم الذمۃ الی الذمۃ فی الدین
(ایک ذمہ دار کے ساتھ دوسری ذمہ دار کو قرضہ میں ملانا) یا
فی المطالبۃ وھو الاصح کما فی الھدایۃ
(مطالبہ میں ملانا،یہی اصح ہے جیساکہ ہدایہ میں ہے) اور ناشزہ کا نفقہ خود اصیل یعنی زوج ہی پر لازم نہیں تو کفیل سے اس کا مطالبہ کیونکر ممکن ۔ رہا یہ کہ اس صور ت میں کفالت نفقہ صحیح رہی یا نہیں، اگر کفالت ابتداءً بروجہ صحت واقع ہولی ہے اور وہ کسی مدت معینہ تک کے لئے نہ تھی کہ اس کی انتہا سے منتہی ہوجائے تو عورت کا ناشزہ ہونا اسے رفع نہ کرے گا، اگر عورت نشوز سے باز آکر پھر تسلیم نفس شوہر کو کردے گی تو جتنے نفقہ کی مستحق ہوگی کفیل سے اس کا مطالبہ کرسکے گی مذہب مفتی بہ میں کفالت نفقہ اگر مطلقہ ہو، ابد کے لئے ہے۔
درمختارمیں ہے:
ولوکفل لھا کل شھر کذا ابدا وقع علی الابد وکذالولم یقل ابداعندالثانی وبہ یفتی بحر۱؎وتحقیق المقام فی ردالمحتار۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
بیوی کے لئے ہر ماہ اتنا نفقہ دائمی ہوگا، کا کوئی شخص اگر ضامن بنے تو یہ دائماً اتنے کا ضامن ہوگا اور امام ابویوسف کے نزدیک اگر دائماً نہ کہے تو بھی دائمی ہوگا، اسی پر فتوی دیاجائے گا، بحر۔ اس مقام کی مکمل تحقیق ردالمحتار میں ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم۔(ت)