Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۳(کتاب الطلاق ،ایمان، حدود وتعزیر )
121 - 175
مسئلہ۱۷۲:ازکانپور محلہ فیل خانہ بازار کہنہ مکان سید اشرف صاحب وکیل مرسلہ سید محمد آصف صاحب ۱۳ذی الحجہ ۱۳۱۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگر زوجہ کے نان و نفقہ وغیرہ اخراجات کابار  زوج کا والد یا کوئی عزیز اٹھاتا ہو اور وہ عورت کو والدین کے یہاں جانے کی اجازت دے تو خاوند زوجہ کو جانے سے روک سکتا ہے اور عورت بلااجازت خاوند کے جانے سے گنہگار ہوگی یا زوج کو روکنا جائز نہیں اور زوجہ جانے سے گنہگار نہ ہوگی؟بینواتوجروا۔
الجواب

اگر مہر معجل نہ تھا یا جس قدر معجل تھا ادا ہوگیا تو چند مواضع حاجت شرعیہ جن کا استثناء فرمادیا گیا مثلاً والدین کے یہاں آٹھویں دن دیگر محارم کے یہاں سال پیچھے دن کے دن کو جانا اور شب شوہر ہی کے یہاں کرنا وغیر ذلک ان کے سوا کسی جگہ عورت کو بے اذن شوہر جانے کی اجازت نہیں، اگر جائے گی گنہگار ہوگی ، شوہر روکنے کا اختیار رکھتا ہے اگرچہ نفقہ کا بار دوسرا شخص اٹھاتا اور وہ دوسرا عورت کو جانے کی اجازت دیتا ہو اس کی اجازت مہمل ہوگی اور شوہر کی ممانعت واجب العمل۔ علماء تصریح فرماتے ہیں کہ بعدادائے مہر معجل عورت مطلقاً پابند شوہر ہے اس میں کوئی قید و تخصیص ادائے نفقہ و تکفل حوائج کی نہیں فرماتے۔
درمختار میں ہے:
لھا الخروج من بیت زوجھا للحاجۃ ولھا زیارۃ اھلھا بلا اذنہ مالم تقبض المعجل فلا تخرج الالحق لھا او علیھا، اوزیارۃ ابویھا کل جمعۃ مرۃ او المحارم کل سنۃ اولکونھا قابلۃ او غاسلۃ لافیما عدا ذٰلک۱؎۔(ملخصاً)
بیوی کو حاجت کے وقت خاوند کے گھر سے نکلنا جائز ہے اور اپنے گھر والوں (والدین) کی زیارت کے لئے خاوند کی اجازت کے بغیر نکلنا جائز جب تک اس نے مہر معجل وصول نہ کیا ہو، لہذا وہ اپنے حق کی وصولی یا اپنے ذمہ حق کی ادائیگی یا والدین کی زیارت ہفتہ میں ایک مرتبہ، اور ذی محرم کی زیارت سال میں ایک مرتبہ، دایہ گیری یا غسل دینے کے بغیر کسی اور وجہ کےلئے باہر نہ نکلے۔(ت)
 (۱؎ درمختار     باب المہر    مطبع مجتبائی دہلی    ۱ /۲۰۲)
ردالمحتار میں ہے:
قولہ فلاتخرج جواب شرط مقدر ای فان قبضتہ فلاتخرج۲؎الخ۔
ماتن کا قول
''فلاتخرج''
(تو باہر بہ نکلے) یہ مقدر شرط کا جواب ہے، یعنی اگر اس نے مہر معجل وصول کرلیاہوتو نہ نکلے الخ(ت)
(۲؎ ردالمحتار     باب المہر    داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۳۵۹)
والد کا متکفل نفقہ پسر وزنِ پسر ہونا تو ہمارے بلاد میں معمول ہے اور دیگر بعض اعزّہ بھی تبرعاً تکفل کریں تو یہ ضرور نہیں کہ شوہر نفقہ دینے سے منکر ہوعلمائے کرام تو اس صورت میں کہ شوہر نے ظلماً انفاق سے دست کشی کی یہاں تک کہ عورت محتاج نالش ہوئی تا آنکہ شوہر کو نفقہ دینے پر مجبور کرنے کے لئے حبس کی درخواست دی اور حاکم نے شوہر کا تعنت دیکھ کر اسے قید کردیا اس صورت میں تصریح فرماتے ہیں کہ عورت شوہر ہی کے گھر رہے بلکہ عورت پر واقعی اندیشہ فساد ہوتو شوہر قید خانہ میں اپنے پاس رکھنے کی درخواست کرسکتا ہے اور محبس میں مکان تنہا ہوتو حاکم عورت کو حکم گے گا کہ وہیں اس کے پاس رہے۔
ہندیہ میں ہے:
لوفرض الحاکم النفقۃ علی الزوج فامتنع من دفعھا وھو موسر وطلبت المرأۃ حبسہ لہ ان یحبسہ کذافی البدائع، واذاحبسہ لاتسقط عنہ النفقۃ وتؤمر بالاستدانۃ حتی ترجع علی الزوج فان قال الزوج للقاضی احبسھا معی فان لی موضعا فی الحبس خالیا فالقاضی لایحبسھا معہ ولکنھا تصبر فی منزل الزوج ویحبس الزوج کذافی المحیط۱؎۔
اگر حاکم نے خاوند پر بیوی کا نفقہ مقررکردیا ہو اور خاوند استطاعت کے باوجود نفقہ نہ دے اور بیوی خاوند کو قید کرنے کا مطالبہ کرے تو قاضی اس کو قید کرسکتا ہے،جیسا کہ بدائع میں ہے، اور جب قید کردیا ہوتب بھی نفقہ اس کے ذمہ سے ساقط نہ ہوگا، اور بیوی کو کہا جائے گا کہ وہ قرض لے کر خرچ کرے تاکہ بعد میں خاوند سے اس کو وصول کرسکے ، اگر خاوند قید میں قاضی سے یہ مطالبہ کرے کہ بیوی کو قید میں میرے ساتھ رکھا جائے کیونکہ یہاں میرے پاس خالی جگہ ہے تو قاضی بیوی کو اس کے ساتھ قیدمیں نہ دے گا تاہم بیوی خاوند کے گھر میں صبر سے رہے گی اور خاوند قید ہوگا، جیسا کہ محیط میں ہے(ت)
 (۱؎ فتاوی ہندیہ     الفصل الاول فی نفقۃ الزوجۃ     نورانی کتب خانہ پشاور     ۱ /۵۵۲)
درمختار میں ہے:
وفی البحر عن ماٰل الفتاوی ولو خیف علیھا الفساد تحبس معہ عند المتاخرین۲؎۔
بحر میں مآل الفتاوی سے منقول ہے: اور اگر بیوی کو تنہائی میں فساد کا خطرہ ہوتو متاخرین فقہاء کے نزدیک بیوی کو خاوند کے پاس قید میں رکھا جائے گا۔(ت)
(۲؎ درمختار   باب النفقۃ   مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۲۶۷)
تو جب صریح نفقہ نہ دینے پر بھی عورت پابندِ شوہر رہی تو صورت سوال میں کیونکر خود مختار ہوسکتی ہے نفقہ نہ دینا رافع پابندی ہوتو نفقہ نہ دینا مسقط نفقہ ہوجائے اور عورت کو ہرگز دعوٰی نفقہ کا اختیار نہ رہے کہ نفقہ جزائے پابندی ہے جب پابندی نہیں نفقہ کس بات کا ہے۔
درمختارمیں ہے:
النفقۃ جزاء الاحتباس وکل محبوس لمنفعۃ غیرہ یلزمہ نفقتہ کمفت وقاض ووصی زیلعی۳؎الخ۔ اقول وایاک ان تتوھم ان النفقۃ اذاکانت جزاء الحبس فاذا عدمت عدم وذلک لان وجوبھا متفرع  عنہ فوجوب الاحتباس علیھا متقدم علی وجوب النفقۃ علیہ لا ان الاحتباس متفرع علی الانفاق فان عدم عدم، وبالجملۃ ان کان اللازم فوجوب الانفاق لاوقوعہ فبرفع الوقوع لایرتفع الملزوم۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
نفقہ بیوی کو پابند کرنے کا بدل ہے جو کسی غیر کے فائدہ کےلئے پابند ہو اس کا نفقہ پابند کرنے والے پر ہوتا ہے جیسا کہ مفتی اور وصی، زیلعی الخ اقول(میں کہتا ہوں) تجھے یہ وہم نہ ہو کہ جب نفقہ پابندی کی جزا ہے تو نفقہ معدوم ہوجانے پر پابندی بھی معدوم ہوجائے گی، یہ وہم اس لئے درست نہیں کہ نفقہ پابندی پر متفرع ہوتا ہے تو بیوی پر پابندی پہلے لازم ہوگی اسکے بعد شوہر پر نفقہ لازم ہوگا نہ یہ کہ پابندی نفقہ پر متفرع ہے کہ نفقہ معدوم ہوجائے تو حبس بھی معدوم ہوجائے تاہم اگرنفقہ کو پابندی پرلازم قرار دیا جائے تو نفقہ کا وجوب لازم اس کی ادائیگی لازم نہ ہوگی کہ ادائیگی ختم ہوجانے پرپابندی ختم ہوجائے۔ واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
 (۳؎ درمختار  باب النفقۃ     مطبع مجتبائی دہلی     ۱ /۲۶۶)
مسئلہ۱۷۳ :۳۰محرم الحرام ۱۳۱۹ھ

اگر کوئی شخص اپنے نکاح کے بعد یہ ظاہر کرے کہ میری زوجہ کی مادر کے ساتھ قبل نکاح سے میری آشنائی یعنی سابقہ زناکاری تھی اس واسطے میرا نکاح باطل ہوا میری زوجہ کا اس سبب سے مجھ پر کچھ حق نہیں ہے اور یہ معاملہ پندرہ پیس برس کے بعد ظاہر کرے کہ اولاد بھی زوجہ مذکور سے موجود تھی تو ایسے شخص کے واسطے علمائے دین کیا فرماتے ہیں علمائے دین کیافرماتے ہیں یعنی زوجہ اس کی دین مہر ونان ونفقہ کی مستحق ہے یا نہیں جس کے علم میں اپنے شوہر کی یہ حرکت نہ تھی۔بینواتوجروا۔
الجواب

شوہر کے اس بیان سے نکاح کے فساد کا فوراً بحکم ہوگیا،
فی الدرالمختار عن الخلاصۃ قیل لہ مافعلت بام امرأتک فقال جامعتھا تثبت الحرمۃ ولایصدق انہ کذب ولوھازلا۱؎۔
درمختار میں خلاصہ سے منقول ہے کہ خاوند سے پوچھا گیا کہ تو نے اپنی بیوی کی ماں (ساس) سے کیا کار روائی کی ہے توجواب میں اس نے کہ میں نے اس سے جماع کیا ہے تو اسکے بیان واقرار پر بیوی اس پر حرام ہوجائے گی، اس کے بعد اس کا یہ کہنا کہ میں نے مذاق میں جھوٹ بولا قابل قبول نہ ہوگا۔(ت)
 (۱؎ درمختار     فصل فی المحرمات     مطبع مجتبائی دہلی     ۱ /۱۸۸)
اس پر لازم ہوگیا کہ عورت کو فوراً جدا کردے اور عورت پر روز متارکہ سے عدت لازم ہے، جب تک عدت میں رہے گی اسکا نان و نفقہ شوہر پرلازم رہے گا، شوہر کا کہنا کہ اس کا کوئی حق مجھ پر نہیں محض جھوٹ ہے۔
فی ردالمحتار عن البحر الحاصل ان الفرقۃ امامن قبلہ اومن قبلھا فلو من قبلہ فلھا النفقۃ مطلقا سواء کان بمعصیۃ اولا، طلاقا او فسخا،وان کانت من قبلھا فان کانت بمعصیۃ فلا نفقۃ لھا ولھا السکنی فی جمیع الصور۱؎۔
ردالمحتار میں بحر سے منقول ہے کہ خاوند بیوی میں فرقت خاوند کی کاروائی کی وجہ سے ہوگی یا بیوی کی کاروائی سے ہوگی اگر خاوند کی طرف سے ہوتو بیوی کو ہر حال میں نفقہ دینا ہوگا خاوند کی کاروائی گناہ ہویا نہ ہو،طلاق ہو یافسخ ہو، اور اگر بیوی کی طرف سے فرقت کی کاروائی ہوئی ہو فسخ واجب ہوا تو اگر اسکی کاروائی جرم تھی تو اس کو نفقہ نہیں، تاہم اس کو رہائش تمام صورتوں میں ملے گی۔(ت)
 (۱؎ ردالمحتار     باب النفقۃ     دارحیاء التراث العربی بیروت     ۲ /۶۶۹)
رہا مہر اگر تسلیم کرے کہ شوہر نے اس کی ماں سے پیش از نکاح زنا کیا تھا تو اس صورت میں جو مہر مثلا اس عورت کا ہو اور جو مقرر ہو اہو ان دونوں میں جو کم ہے وہ دینا آئے گا مثلاً مہر مثل ہزارروپے ہے اور دو ہزار بندھے تھے تو ہزاردینے آئیں گے اور مہر مثل دو ہزار ہے اورہزار بندھے تھے توبھی ہزار ہی ہوں گے،
فی التنویر یجب مہر المثل فی نکاح فاسد بالوطئ لابغیرہ ولم یزد علی السمی۲؎۔
تنویر میں ہے: فاسد نکاح میں وطئ کے بغیر مہر مثل واجب نہ ہوگا اور یہ مہر مثل، مقررہ مہر سے زائد نہ ہوگا۔(ت)
 (۲؎ درمختار     باب المہر     مطبع مجتبائی دہلی     ۱ /۲۰۱)
اور اگر تکذیب کرے تو جو مہر بندھا تھا کامل پائے گی
وھی مسئلۃ مااذا کذبتہ فی الاسناد
 (یہ مسئلہ اس صورت میں ہے جب بیوی خاوند کو جھوٹا قراردے۔ت)واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم۔
Flag Counter