| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۳(کتاب الطلاق ،ایمان، حدود وتعزیر ) |
مسئلہ ۱۶۹: از پنچاب مرسلہ مولوی فاضل صاحب ۲۰صفر۱۳۱۸ھ کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کی دو ہمشیریں حالتِ جوانی میں بیوہ ہوگئیں اور انہوں نے عقدِ ثانی نہیں کیا اور دونوں کے پاس دو مکان پیدا کردہ شوہر کے ہیں لیکن ترکہ پدری کچھ بھی نہیں ہے کہ جس سے ان بیوگان کی گزرہوسکے، اور زید بھی کم مقدرت ہے اور اہل وعیال رکھتا ہے مگر اپنے اوپر تکلیف اٹھا کر ہمیشروں کی خبرگیری بھی کرتا ہے، پس اس صورت میں زید کا بہنوں کے ساتھ یہ برتاؤ از قسم سلوک ہے یا از قسم واجب، اور بہنوں کا نان ونفقہ بھائیوں پر واجب ہے یا تورع واحسان، اور اگر واجب ہے تو کس صورت میں؟بینواتوجروا۔
الجواب صورت مستفسرہ میں بہنوں کا نان ونفقہ بھائی پر واجب ہے دوشرط سے:
اول : زید ان کی اعانت پر قادر ہو یعنی اپنی حاجت اصلیہ سے فاضل چھپن روپے کا مالک ہو یا ایسا مال نہیں رکھتا بلکہ پیشہ ورہے تو اپنے اور اپنے بیوی بچوں کے نفقہ سے پس انداز ہوتا ہو جس سے بہنوں کی اعانت کرسکے۔
دوم : بہنیں زیور وغیرہ کوئی مال ذاتی نہ رکھتی ہوں جوان کی حاجت اصلیہ سے زائد چھپن روپے کا ہو، نہ کھانے کے لئے اناج پہننے کےلئے کپڑا یا دام موجود ہو کہ یہ جب تک رہے گا اس قدر نفقہ دوسرے پر واجب نہ ہوگا اگرچہ چھپن روپیہ سے کم کا ہو، نہ مکان اس قابل ہو کہ اس کا ایک حصہ بیچ کر باقی میں گزر کرسکیں، ایسا ہوگا تو بیچ کر خود اپنے نفقہ میں اٹھانا لازم ہوگا جب نہ رہے گا بھائی پر نفقہ آئے گا، نہ وہ عورتیں دستکاری مثل سلائی وغیرہ کے ایسا کررہی ہوں جوان کے نفقہ کو کافی ہو، اگر ایسا ہے تو اپنا نفقہ خود انہیں پر ہے بھائی پر نہیں، ہاں اگر وہ دستکاری نہیں کرتیں، نہ اپنے کسی مال سے اپنی بسر کرسکتی ہےں تو بھائی پر نفقہ واجب ہوگا اور وہ یہ نہ کہہ سکے گا کہ تم سلائی وغیرہ کوئی کام مزدوری کا کرکے اپنا پیٹ پالو، یہ دوشرطیں متحقق ہوں تو نفقہ بھائی پر ہے تنہا اس پر جب کہ ان عورتوں کاوارث صرف وہی ہو ورنہ بقدر میراث جبکہ اس کے سوا ان کا اور کوئی وارث ذی مقدور مثل دوسرے بھائی یا بہن یا دختر کے ہو۔
درمختارمیں ہے:
تجب(علی موسریسار الفطرۃ) علی الاجع ورجع الزیلعی والکمال انفاق فاضل کسبہ (النفقۃ لکل ذی رحم محرم صغیر او انثی) مطلقا(ولو بالغۃ صحیحۃ او) کان الذکر(بالغا عاجزا) عن الکسب (فقیرا) حال من المجموع بحیث تحل لہ الصدقۃ ولو لہ منزل وخادم علی الصواب بدائع (بقدر الارث) ۱؎اھ ملتقطا۔
(فطرانہ کے وجوب والی استعداد والے پر) زیادہ راجح قول کے مطابق نفقہ واجب ہے ،جبکہ زیلعی اور کمال نے ضروری آمدن سے زائد کسب والے پر وجوب کو ترجیح دی ہے(نفقہ دینا ہر ذی رحم محرم نابالغ یا عورت کو) مطلقا (اگرچہ عورت بالغہ صحت مندہو) یالڑکا (بالغ عاجز ہو) محنت سے(جبکہ یہ فقیر ہوں) لازم ہے تو فقیر ہونا تمام کا حال ہے یوں کہ اس کو صدقہ حلال ہو اگرچہ اس کا اپنا مکان اور خادم ہو، درست قول کے مطابق یہی حکم ہے، بدائع(یہ نفقہ ہرایک کو بقدر وراثت دینا لازم ہے)اھ ملتقطا(ت)
(۱؎ درمختار باب النفقۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۲۷۴تا ۲۷۶)
ردالمحتار میں ہے:
قولہ مطلقا قید للانثی ای سواء کانت بالغۃ اوصحیحۃ قادرۃ علی الکسب لکن لوکانت مکتسبۃ بالفعل کالقابلۃ والمغسلۃ لانفقۃ لھا، قولہ بحیث تحل لہ الصدقۃ بان لایملک نصابانامیا اوغیرنام زائداعن حوائجہ الاصلیۃ والظاہر ان المراد ماکان من غیر جنس النفقۃ اذلوکان یملک دون نصاب من طعام او نقود تحل لہ الصدقۃ ولاتجب لہ النفقۃ فیما یظھر لانھا معللۃ بالکفایۃ ومادام عندہ مایکفیہ من ذٰلک لایلزم غیرہ کفایتہ، قولہ ولولہ منزلہ منزل وخادم ای وھو محتاج الیھماوفی الذخیرۃ لوکان یکفیہ بعض المنزل امر ببیع بعضہ وانفاقہ علی نفسہ وکذالو کانت لہ دابۃ نفیسۃ یومر بشراء الادنی وانفاق الفضل اھ ومثلہ فی شرح ادب القاضی ۱؎اھ مختصرا واﷲ تعالٰی اعلم۔
ماتن کا قول''مطلقاً'' یہ لفظِ''انثیٰ'' کی قید ہے یعنی خواہ بالغہ ہو یا تندرست ہو محنت پر قادر ہو،لیکن اگر وہ عملاً محنت کررہی ہو مثلاً دایہ یا غسل دینے والی ہو، تو اس کے لئے نفقہ واجب نہ ہوگا، اور ماتن کا قول ''بحیث تحل لہ الصدقۃ'' (اس کے لئے صدقہ حلال ہو) یعنی وہ نامی نصاب یا غیر نامی جو اصلی حاجت سے زائد ، کا مالک نہ ہو، اس میں ظاہر یہ ہے کہ جس مال کاوہ مالک ہو وہ نفقہ کی جنس سے نہ ہو، کیونکہ اگروہ نصاب سے کم غلہ یا نقد کا مالک ہو تو اگرچہ اس کے لئے صدقہ حلال ہے لیکن اس کے لئے نفقہ ظاہراً واجب نہیں، کیونکہ نفقہ کے وجوب کی علت ضرورت کی کفایت ہے اور جب تک اس کے پاس نفقہ کی کفایت والامال موجود ہے تو دوسرے پر اس کا نفقہ نہ ہوگا۔ اور ماتن کا قول'' لو لہ منزل وخادم''(اگرچہ اس کا مکان اورخادم ہو) یعنی جبکہ وہ ان کا حاجتمند ہو ۔اور ذخیرہ میں ہے کہ اگر اس کی حاجت مکان کے کچھ حصے میں پوری ہوجاتی ہے تو ا س کو مکان کے باقی حصہ کو فروخت کرکے اپنے نفقہ میں خرچ کرنے کو کہا جائے گا، اور یونہی اگر اس کے پاس اعلیٰ قسم کی سواری ہے تو اس کو فروخت کرکے ادنیٰ قسم کی سواری خریدنے کے لئے کہا جائے گا تاکہ زائد رقم کو اپنے نفقہ میں خرچ کرے اھ اور شرح ادب القاضی میں اس کی مثل بیان ہے، اھ، مختصراً۔(ت)
(۱؎ ردالمحتار باب النفقۃ دار احیاء التراث العربی بیروت ۲ /۸۲۔۶۸۱)
مسئلہ۱۷۰تا۱۷۱: ازبھونافارکیٹ کراچی بندر مرسلہ پیر سید ابراہیم گیلانی قادری بغدادی ۱۵رجب۱۳۳۷ھ کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ:
(۱) جو شخص العمر باپ کو اصلی وطن میں مفلسی اور محتاجی کی حالت میں چھوڑدے اور اس کو رنج و مصیبت میں ایسے ڈال دے کہ وہ ضعیف العمر اس کے پیچھے دربدر شہر بہ شہر پھرے شریف خاندان ایسے شخص عاق الوالدین اور نافرمانی عقوق الوالدین میں داخل ہے یانہیں، اس کے پیچھے نماز جائز ہے:
(۲) جو شخص اپنی منکوحہ بی بی کو مع دو جوان بالغ لڑکیاں جو کہ اس کے نطفہ سے ہوں بلانان و نفقہ چھوڑرکھا ہو اور ان کی خبر نہ لیتا ہو اور لوگوں کی تحریر سے معلوم ہوا کہ نہایت سختی و کمال ذلت سے اوقاتِ بسر کررہے ہیں ایسے شخص کے بارے میں شریعت کا کیا حکم ہے؟
الجواب (۱) اگر باپ ضعیف و محتاج ہے اور یہ اس کی خدمت واعانت کرسکتا ہے اور نہ کرے اور اس سے باز رہے اوراس کے فقر و فاقے کی پروانہ رکھے تو بیشک عاق ہے اور مستحقِ جہنم ، ایسا شخص قابلِ امامت نہیں، اس کے پیچھے نماز سخت مکروہ ہوگی۔
(۲) ایساشخس گنہگار اور حقوق العباد میں گرفتار اور مستحقِ عذاب نار ہے۔
حدیث میں فرمایا:
کفی بالمرء اثماان یضیع من یقوت۱؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
کسی شخص کو یہ گناہ کافی ہے کہ جس کا نفقہ اس کے ذمہ ہواسے ادا نہ کرے۔واﷲ تعالٰی اعلم۔(ت)
(۱؎ المستدرک علی الصحیحین کتاب الزکوٰۃ دارالفکر بیروت ۱/ ۴۱۵)