Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۳(کتاب الطلاق ،ایمان، حدود وتعزیر )
12 - 175
 (۵) دائن نے مدیون سے حلف لیا کہ تیرے بے اذن باہر نہ جاؤں گا،یہ حلف بقائے دین تک رہے گا بعد ادا یا ابراء اذن کی حاجت نہیں،
تنویر ودر میں ہے:
لو حلف رب الدین غریمہ او الکفیل بامر المکفول عنہ ان لایخرج من البلد الاباذنہ تقید بالخروج حال قیام الدین بالکفالۃ۱؎۔
 قرض خواہ نے مقروض یا مقروض کے بنائے ہوئے ضامن سے حلف لیا کہ تو میری اجازت کے بغیر شہرسے باہر نہ جائے گا، تو یہ حلف قرض اور ضمانت کی بقاء تک مقید قرار پائے گا، قرض یا ضمانت ختم ہوجانے کے بعد حالف کو اجازت کی ضرورت نہ رہے گی(ت)
 ( ۱؎ درمختار     باب الیمین فی الضرب والقتل الخ        مطبع مجتبائی دہلی     ۱ /۳۱۳)
 (۶) قسم کھائی عوت بے میرے اذن کے باہر نہ جائے گی، یہ قیام زوجیت تک محدود ہے۔ تنویر ودر میں ہے:
لو حلف لاتخرج امرأتہ الّا باذنہ تقید بحال قیام الزوجیۃ۲؎۔
خاوند نے قسم اٹھائی کہ بیوی اجازت کے بغیر باہر نہ جائیگی، تو یہ حلف بھی زوجیت کے قیام تک محدود ہوگا۔(ت)
 ( ۲؎ درمختار     باب الیمین فی الضرب والقتل الخ        مطبع مجتبائی دہلی     ۱ /۳۱۳)
 (۷) وہی مسئلہ کہ دس کو نہ بیچوں گا اور گیارہ کو بیچا حانث نہ ہوا اگر چہ گیارہ میں دس موجود ہیں کہ مراد خاص قسم کے دس یعنی تنہا بلازیادت تھے۔ یہ سب تقییدیں اور عام کی تخصیص صرف بنظر اغراض متعارفہ ہوئی ہیں کہ یمین کی بناہی عرف پر ہے ولہذا امام ہمام بن الہمام نے عبارت مذکورہ ہدایہ کی شرح میں (جہاں ارشاد ہواتھا کہ عدم بے سلب کلی متحقق نہ ہوگا) فرمایا:
کما قولہ فی ان لم اٰت البصرۃ اعطاء نظیر والمراد ان کل شرط بأن منفی حکمہ کذٰلک، وھو ان لایقع الطلاق او العتاق اذاعلق بہ الابالموت لما ذکرنا، وزاد قیداحسنا فی المبتغی بالغین المعجمۃ قال اذاقال لامرأتہ ان لم تخبرینی بکذا فانت طالق ثلاثا فھو علی الابد اذالم یکن ثم مایدل علی الفورانتہی، ومن ثمہ قالو الو اراد ان یجامع امرأتہ فلم تطاوعہ فقال ان لم تدخلی معی فانت طالق فدخلت بعد ماسکنت شھوتہ طلقت، لان مقصودہ من الدخول کان قضاء الشہوۃ وقد فات۳؎۔
اس کا قول، جیسا کہ، اگر میں بصرہ میں نہ آؤں تو،یہ نظیر ہے، جس سے مراد یہ ہے جو شرط بھی لفظ اِن کے ساتھ ذکر کی جائے تو اس کا حکم یونہی منفی رہے گا یعنی اس کے ساتھ طلاق یا عتاق کو معلق کیاگیا ہو تو شرط کے منفی ہونے پر موت سے پہلے قسم نہ ٹوٹے گی، جیسا کہ ہم نے ذکر کیا ہے اور پھر اس پر ایک اچھی قید بڑھائی کہ مبتغی (غین کے ساتھ) میں کہا کہ خاوند نے بیوی سے کہا کہ تو اگر مجھے فلاں خبر نہ د ے تو تجھے تین طلاقیں ہوں گی، تو اگر فور پر کوئی قرینہ نہ ہو تو یہ قسم ابدی ہوگی اھ، اور اسی قبیل سے یہ ہے کہ خاوند نے بیوی کو جماع کےلئے طلب کیا تو بیوی نے اطاعت نہ کی تو کہا اگر تو میرے پاس کمرے میں نہ آئی تو تجھے طلاق، اگر بیوی فوراً نہ آئے بلکہ خاوند کی شہوت اور خواہش ختم ہونے کے بعد آئی طلاق ہوجائے گی کیونکہ طلب مقصد اپنی شہوت کو پورا کرنا تھا جواَب ختم ہوگئی ہے(ت)
 (۳؎ فتح القدیر  فصل فی اضافۃ الطلاق الی الزمان    مکبتہ نوریہ رضویہ سکھر     ۳ /۳۷۳)
اور شک نہیں کہ ہمارے مسئلہ دائرہ میں بھی اس حلف سے شوہر کی یہ غرض نہیں کہ عورت اپنی مدۃ العمر میں کبھی کسی وقت کسی طرح دوسجدے کرلے اور بری ہوجائے بلکہ یقینا بحکم دلالت حال اس سے پابندی نماز مقصود ہے تو جس طرح عوت کا باہر جانا مطلق تھا لفظ شوہر میں کوئی قید نہ تھی کہ اس وقت ہویا کب ہو مگر بدلالۃحال خاص اس وقت کا خروج معتبر ہوا جس طرح کلام عمرو میں کھانامطلق تھا کہ آج ہو یا کل یہ کھانا ہو یا اور، مگر بحکم عرف خاص اس وقت یہ کھانا زید کے ساتھ کھانا ملحوظ رہا، جس طرح عورت کا کوٹھری میں شوہر کے پاس آنا عام تھا کہ اس شہوت موجودہ کی بقا میں ہویا عمر میں کبھی کسی حالت میں ہواور عدم متحقق نہ ہوگا مگراخیر جزء حیات شوہر یا زن میں اور جبکہ کوٹھری میں شوہر کے پاس آئی اگر چہ زوال شہوت کے بعد تو عدم صادق  نہ آیا اور بنظر مفاد لغوی لفظ لازم تھا کہ طلاق واقع نہ ہو لیکن بدلالت حال خاص وہ آنا مقصود رہا جو اس شہوت کی قضا کے لئے مطلوب تھا اور اسی کی انتقا پر شرط متحقق اور طلاق واقع مانی گئی،وقس علی ھذا، اسی طرح یہاں بھی اگرچہ عشرہ مفردہ مقرونہ کی مانند نماز پڑھنا بھی دو قسم ہے، ایک ملتزم کہ پابندی کے ساتھ ہو دوسرا اس کا غیر یا دو قسم ہے، ایک مبرئ ذمہ جس میں فرض نماز کا مطالبہ ذمے پر نہ رہے، دوسرا اس کے خلاف اور فعل بعینہ
ان لم تدخلی
(اگر تومیرے پاس نہ آئی۔ت)
مذکور کی طرح حکم نکرہ میں ہے اور نکرہ حیز نفی میں عام ہوجاتا ہے اور عموم سلب بوجہ ایجاب جزئی کہ صبح کی نماز پڑھی صادق نہ رہا مگر بحالت دلالتِ حال واجب ہے کہ قسم اول یعنی صلاۃ ملتزمہ مبرئـہ مراد ہو اور اس کا انتفا ایک وقت کی نماز فرض عمداً بلاعذر شرعی چھوڑنے سے صادق آجاتا ہے تو لازم ہو ا کہ جب عورت نے اس حلف کے بعد نماز عشاء نہ پڑھی صبح صادق طالع ہوتے ہی اس پر دو طلاقیں پڑگئیں جیسے وہاں سکون شہوت ہوتے ہی عورت مطلقہ ہوگئی تھی بلکہ اگر شوہر نے یہ لفظ اس وقت کہے تھے کہ ہنوز وقتِ مغرب باقی تھا اور عورت ادا پر قادر تھی تو شفق ڈوبتے ہی دو۲طلاقیں ہوگئیں، ہمارے علماء نے تصریح فرمائی ہے کہ اگر عورت سے کہاتو نماز ترک کرے تو تجھے طلاق، عورت نے ایک نماز قصداً قضا کی طلاق ہوجائے گی اگرچہ اس قضا کو ادا بھی کرلے، 

درمختار میں ہے:
قال ان ترکت الصلوۃ فطالق فصلتھا قضا طلقت علی الاظہر، ظہیریۃ۱؎۔
بیوی کو کہا اگر تو نے نماز ترک کی تو تجھے طلاق ہے، اب اگر عورت نے نماز قضاکی تو زیادہ واضح قول یہی ہے کہ طلاق ہوجائیگی، ظہیریہ۔(ت)
 ( ۱؎ درمختار        باب الیمین فی البیع والشراء الخ    مطبع مجتبائی دہلی     ۱ /۳۱۰)
یہ حکم اس لفظ میں ہے جہاں الصلوۃ معرف باللام ہے جس میں کلام ہوگا کہ عرفاً تارک الصلوۃ کسے کہتے ہیں اور ہمارا مسئلہ دائرہ تو بحکم تحقیق مذکور ان ترکت صلٰوۃ(اگر تو نماز چھوڑے۔ت) بلالام کے مثل ہے یعنی اگر تو ایک نماز چھوڑے تو طلاق ہے، یہاں قضا کرنے سے وقوعِ طلاق میں کیا شک ہوسکتا ہے صاف بتادیا کہ اس کی مراد وہی صلاۃ خاصہ ملتزمہ تھی اس پر دلیل واضح اس کا وقتِ صبح رجعت کرنا ہے، اگر وہ معنی مراد ہوتے جو فریقِ اول نے زعم کئے تو پیش از وقوع رجعت کے کیا معنی تھے اور امثال مقام میں نیت شوہر اگرچہ دلالت حال کے خلاف بھی ہو وہی معبتر رہتی ہے۔
امام محقق علی الاطلاق وغیرہ علماء کا ارشاد گزرا کہ:
ھذا اذالم یکن لہ نیۃ فان نوی شیأ عمل بہ۱؎۔
یہ جب ہے کہ اس نے نیت نہ کی ہوا گر اس نے کوئی نیت کی ہو تو اس پر عمل ہوگا۔(ت)
 (۱؎ردالمحتار     باب الیمین فی الدخول والخروج الخ     داراحیاء التراث العربی بیروت     ۲ /۸۴)
تو جہاں دلالت حال ونیت دونوں متوافق ہیں نہ اس دلالت کو مانئے نہ شوہر کی سنئے اور اپنی طرف سے ایک معنی تراش کر اس پر عمل کیجئے کس قدر فقہ سے بعید بلکہ قابلیت التفات سے دور ہے، اور اوپر واضح ہوچکا کہ یہ دونوں طلاقیں رجعی تھیں، لاجرم عورت بعد رجعت بدستور ملک نکاح میں باقی اور  آئندہ طلاق کی محل رہی ،اب کہ شوہر نے چند سال بعد دو طلاقیں اور دیں ایک تو لغو ہوگئی کہ حد شرع سے متجاوز تھی اور ایک ان پہلی دو کے ساتھ مل کر تین طلاقیں مغلظہ ہوگئیں جن سے عورت حرام ابدی تو نہیں ہوسکتی ہاں بے حلالہ اب اس شخص کے نکاح میں آنے کے قابل نہ رہی،ھذاماظہر لی والعلم بالحق عند ربی(یہ وہ ہے جو مجھے معلوم ہوا، حق تو میرے رب کے ہاں ہے۔ت) واﷲ تعالٰی اعلم۔
Flag Counter