Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۳(کتاب الطلاق ،ایمان، حدود وتعزیر )
119 - 175
مسئلہ۱۶۸: ازریاست رام پور بزریا ملا ظریف گھیر عبدالرحمٰن خاں مرحوم مرسلہ عبدالرؤف خاں ۲۵محرم ۱۳۱۶ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص شرارت سے نہ تو اپنی زوجہ کو اپنے پاس بلاتا ہے نہ طلاق دیتا ہے بلکہ کہتا ہے کہ تجھ کو معلقہ رکھوں گا، اب اس صورت میں وہ بیچاری حاکم عدالت سے فریاد کرکے طلاق لے سکتی ہے یانہیں؟بینواتوجروا۔
الجواب
قال اﷲ سبحانہ وتعالٰی فامسکوھن بمعروف اوسرحوھن بمعروف۱؎۔
 (اﷲ سبحانہ وتعالٰی نے فرمایا:)عورتوں کویاتو اچھی طرح رکھو یا اچھی طرح چھوڑدو۔
 (۱؎ القرآن الکریم     ۲ /۲۳۱)
وقال تعالٰی فامساک بمعروف او تسریح باحسان۲؎۔
 (اور اﷲ تعالٰی نے فرمایا:)یا بھلائی کے ساتھ رکھنا یا نکوئی کے ساتھ چھوڑدینا۔
 ( ۲؎ القرآن الکریم    ۲ /۲۲۹)
وقال تعالٰی وعاشروھن بالمعروف۳؎۔
 (اور اﷲ تعالٰی نے فرمایا:)عورتوں سے اچھے برتاؤ کے ساتھ زندگانی کرو۔
 (۳؎ القرآن الکریم     ۴ /۱۹ )
وقال تعالٰی اسکنوھن من حیث سکنتم من وجد کم ولاتضاروھن لتضیقوا علیھن۴؎۔
 (اور اﷲ تعالٰی نے فرمایا:) جہاں آپ رہو وہاں عورتوں کو رکھواپنے مقدور کے قابل اور انہیں نقصان نہ پہنچاؤ کہ ان پر تنگی لاؤ۔
 (۴؎ القرآن الکریم     ۶۵ /۶)
وقال تعالٰی فلاتمیلوا کل المیل فتذروھا کالمعلقۃ۵؎۔
 (اور اﷲ تعالٰی نے فرمایا:) پورے ایک طرف نہ جھک جاؤ کہ عورتوں کو یوں چھوڑکر جیسی ادھر میں لٹکتی۔
 (۵؎ القرآن الکریم     ۴ /۱۲۹)
بالجملہ عورت کو نان ونفقہ بھی واجب اور رہنے کو مکان دینا بھی واجب اور گاہ گاہ اس سے جماع کرنا بھی واجب جس میں اسے پریشان نظری نہ پیدا ہو، اور اسے معلقہ کردینا حرام، اور بے اس کے اذن ورضا کے چار مہینے تک ترکِ جماع بلاعذر صحیح شرعی ناجائز، اور بعد نکاح ایک بار جماع تو بالاجماع بالاتفاق حقِ زن ہے کہ اسے بھی ادا نہ کرسکے تو عورت کے دعوی پر قاضی مرد کو سال بھر کی مہلت دے گا اگر اس میں بھی جماع نہ ہوتو بطلبِ زن تفریق کردے گا، مگر ایک بار کے بعد پھر جبری تفریق کا قاضی کو اختیار نہیں،نہ ہمارے نزدیک نفقہ نہ دینے پر تفریق ہوسکتی ہے، ہاں قاضی اعانت ضعفاء و مددِ مظلومین کے لئے مقرر ہوا ہے، تو اس پر لازم کہ جس طرح ممکن ہودفع ظلم کرے،
ردالمحتار میں ہے:
قال فی الفتح اعلم ان ترک جماعھامطلقا لایحل لہ صرح اصحابنا بان جماعھا احیانا واجب دیانۃ لکن لایدخل تحت القضاء والالزام الاالوطأۃ الاولٰی ولم یقدروافیہ مدۃ، ویجب ان لایبلغ بہ مدۃ الایلاء الا برضاھا وطیب نفسھا بہ اھ ویسقط حقھا بمرۃ فی القضاء ای لانہ لولم یصبھا مرۃ یؤجلہ القاضی سنۃ ثم یفسخ العقد امالواصابھا مرۃ واحدۃ لم یتعرض لہ لانہ علم انہ غیرعنین وقت العقد بل یأمرہ بالزیادۃ احیانا لو جوبھا علیہ الالعذرمرض او عنۃ عارضۃ او نحوذٰلک وسیأتی فی باب الظہار ان علی القاضی الزام المظاھر بالتکفیر دفعاللضرر عنھا بجس او ضرب الی ان یکفر اویطلق اھ۱؎مختصرا۔
فتح القدیر میں فرمایا: واضح ہوکہ بیوی سے جماع مطلقاًترک کردینا حلال نہیں، ہمارے اصحاب نے تصریح فرمائی ہے کہ دیانۃً گاہے گاہے بیوی سے جماع کرنا واجب ہے لیکن اس پر قاضی کو کاروائی کا حق نہیں کہ وہ خاوند پر لازم قرار دے تاہم نکاح کے بعد پہلا جماع خاوند پر قاضی لازم کرسکتا ہے اور فقہاء کرام نے اس جماع کے لئے مدت کا تعین نہیں کیا کہ کتنہ مدت کے اندر واجب ہے تاہم یہ ضروری ہے کہ یہ وقفہ ایلاء کی مدت (چار ماہ) تک نہ پہنچنے پائے الایہ کہ بیوی کی رضا مندی اور خو ش طبعی سے جتنا وقفہ ہو اھ ایک دفعہ جماع کرلینے سے قضاءً بیوی کا حق ساقط ہوجائےگا یعنی اگردوران نکاح ایک مرتبہ بھی جماع نہ کیا ہوتو بیوی کے مطالبے پر قاضی خاوند کو ایک سال کی مہلت دے گا اور اس مدت میں جماع نہ کرنے پر قاضی نکاح کو فسخ کردے گا، اور ایک مرتبہ جماع کرلیا ہو تو پھر قاضی مداخلت نہ کرے کیونکہ معلوم ہوچکا ہے کہ خاوند نکاح کے وقت نامرد نہ تھا تاہم قاضی خاوند کو مزید جماع کا مشور دے گا کیونکہ خاوند پر حقوقِ زوجیت واجب ہے لیکن مریض ہویا عارضی مردمی کمزوری یا کوئی اور وجہ ہوتو واجب نہیں اور ظہار کے باب میں بیان رہا ہے کہ قاضٰ پر ضروری ہے کہ وہ بیوی کی پریشانی دور کرنے کیلئے ظہار کرنے والے خاوند کو کفارہ ظہاردینے پر قید اورجسمانی سزا کے ساتھ مجبور کرے تاکہ وہ کفارہ دے یا طلاق دے ،اھ، مختصراً(ت)
 (۱؎ ردالمحتار     باب القسم     داراحیاء التراث العربی بیروت    ۲ /۳۹۸)
بحرالرائق میں ہے:
قالو وللمرأۃ ان تطالبہ بالوطأ  وعلیھا ان تمنعہ الاستمتاع حتی یکفر، وعلی القاضی ان یجبرہ علی التکفیردفعا للضرر عنھا بحبس فان ابی ضربہ ولا یضرب فی الدین ولو قال قد کفرت صدق مالم یعرف بالکذب وفی التتارخانیۃ اذا  ابی عن التکفیر عزرہ بالضرب والحبس الی ان یکفراویطلق۱؎۔
فقہاءِ کرام نے فرمایا ہے کہ عورت کو حق کہ خاوند سے جماع کا مطالبہ کرے، اور ساتھ ہی اس پر لازم ہے کہ کفارہ دینے تک خاوند کو جماع سے روکے، اورقاضی کو حق ہے کہ وہ بیوی کی پریشانی دور کرنے کیلئے خاوند کو قید کرکے کفارہ دینے پر مجبور کرے اور اگر خاوند انکار کرے تو اس کو جسمانی سزادے جبکہ قرض کے معاملہ میں قاضی جسمانی سزا نہیں دے سکتا، اور اگر خاوند بتائے کہ میں نے کفارہ دے دیا ہے تو قاضی اس کی تصدیق کرے جب تک اس کا جھوٹ واضح نہ ہو، اور تاتارخانیہ میں ہے کہ اگرکفارہ دینے سے انکار کرے تو قاضی خاوند کے کفارہ ادا کرنے یا طلاق دینے تک اسے جسمانی تعزیر اور قید کرسکتا ہے۔(ت)
 (۱؎ بحرالرائق     باب الظہار     ایچ ایم سعید کمپنی کراچی     ۴ /۹۷ ۔ ۹۶)
جب یہ اصول معلوم ہوگئے حکمِ مسئلہ واضح ہوگیا پاس نہ بلانا ترکِ جماع کو مستلزم اور نفقہ نہ دینے کو بھی محتمل، ترکِ جماع اگر رأسا ہے یعنی بعد نکاح اس کے پاس گیا ہی نہیں تو قاضیِ شرع اس پر جبر کرے گا کہ پاس جائے، اگر ظاہر ہوگا کہ اسے اس عورت سے مجامعت پر قدرت نہیں تو بعد دعوٰی عورت وہی مسائل عنین و مہلت یکسال و تفریق جبری بطلبِ زن جاری ہوںگے، اور اگر باوصفِ قدرت نہیں جاتا خواہ ابتداءً خواہ ترک مطلق کا ارادہ کرلیا ہے اور عورت کو اس سے ضرر ہے تو قاضی مجبور کرے گا کہ جماع کرے یا طلاق دے، اگر نہ مانے گا قید کرے گا اگر نہ مانے گا مارے گا یہاں تک دوباتوں سے ایک کرے،
وذٰلک رفعا للمعصیۃ ودفعا للضرر وقد نصواکمافی البحر والد وغیرھما ان کل مرتکب معصیۃ لاحد فیھاففیھا التعزیر۲؎
یہ تعزیر اس لئے ہے کہ خاوند گناہ ختم کرے اور بیوی کی پریشانی دور کرے، اور فقہاء کرام نے ذکر کیا ہے کہ وہ جرم جس پر حد نہیں ہے تو اس میں تعزیر ہوگی جیسا کہ بحر اور در وغیرہما میں مذکور ہے۔
 (۲؎ درمختار     باب التعزیر   مطبع مجتبائی دہلی   ۱ /۳۲۷)
وفی ردالمحتار قولہ وعلی القاضی الزامہ بہ، اعتراض بانہ لافائدۃ للاجبار علی التکفیر الاالوطئ والوطئ لایقضی بہ علیہ الامرۃ، قال الحموی و فرض المسئلۃ فیما اذالم یطأھا قبل الظہار  ابدا بعید، اوقد یقال فائدۃ الاجبار رفع المعصیۃ اھ ای ان الظہار معصیۃ حاملۃ لہ علی الامتناع من حقھا الواجب علیہ دیانۃ فیأمرہ برفعھا لتحل لہ کما یأمر المولی من امرأتہ بقربانھا فی المدۃ اویفرق بینھما لدفع الضرر عنھا اھ۱؎ مختصرا۔
اور ردالمحتار میں ہے کہ درمختار کا یہ بیان کہ قاضی پر لازم ہے الخ، یہ ایک اعتراض کا جواب ہے، اعتراض یہ ہے کہ خاوند کو کفارہ دینے پر مجبور کرنے کا مقصد صرف بیوی سے جماع ہے جبکہ جماع کے معاملے میں قاضی خاوند کو نکاح کے بعدف ایک سے زائد مرتبہ پر مجبور نہیں کرسکتا تو حموی نے کہا اور جواب کےلئے یہ فرض کرنا کہ ظہار سے قبل خاوند نے ایک مرتبہ بھی جماع نہ کیا ہوتو تب قاضی مجبور کرسکتا ہے، تویہ بعید سی بات ہے، یا جواب میں یوں کہا جائے گا کہ خاوند کو مجبور کرنے کا مقصد خاوند کے جرم کا ازالہ ہے اھ، یعنی ظہار کرنا جرام ہے جو خاوند کو بیوی کے اس حق کی ادائیگی سے روکتا ہے جو دیانۃً ہر خاوند پر واجب ہے تو اس لئے قاضی اس کو جرم کے ازالہ کا حکم دے گا تاکہ بیوی حلال ہوسکے، جیسے مولیٰ اپنے غلام کو ظہارکی مدت میں بیوی سے جماع کرنے یا طلاق دینے کاحکم کرسکتا ہے تاکہ بیوی کی پریشانی دور ہوسکے۔اھ مختصراً(ت)
 (۱؎ تنویرالابصار باب الظہار  داراحیاء التراث العربی بیروت    ۲ /۵۷۶)
اور نفقہ نہ دینے پر اگر ادائے نفقہ پر قادر ہے تو قاضی بقدر مناسب عورت کے لئے نفقہ مقرر کرے گا اور شوہر کو اس کے ادا کا حکم دے گا اگر نہ مانے گا قید کرے گا اور اس مدت میں اس سے نہ پانے کے سبب جو کچھ عورت قرض لے کر خواہ اپنے مال سے اپنے نفقہ میں صرف کرے گی سب شوہر پر دین ہوگا اور اس سے دلایاجائیگا مگر یہاں تفریق کردینے یا طلاق پر جبر کرنے کی صورت نہیں،
اقول : اور وجہ فرق ظاہر ہے جماع ونفقہ دونوں کی طرف عورت محتاج اور ان کے نہ ملنے میں اس کا ضرر ، اور دفعِ ضرر جس طرح ممکن ہوواجب ، اور طرقِ دفع میں آسان ترکالحاظ لازم کہ طرف ثانی کا بھی اضرار نہ ہو، جماع ایسی چیز ہے کہ غیر شوہر سے اس کا ملنا محال، تو طریق دفع اس میں منحصر کہ شوہر جما ع کرے یا طلاق دے کہ وہ دوسرے سے نکاح کرسکے بخلاف نفقہ کہ یہ حاجت اپنے مال سے خواہ دوسرے سے قرض لے کر بھی مندفع ہوسکتی ہے، عورت کا ضرر یوں دفع ہوگیا کہ حاجت رواہوئی اورجواٹھاوہ بعد فرضِ قاضی شوہر پر قرض رہا تو یہاں طلاق پر مجبور کرنے میں شوہر کا ضرر زائد ہے جس کی طرف عورت سے دفعِ ضرر میں حاجت نہیں۔
تنویر میں ہے:
لایفرق بینھما بعجزہ عنھا ولابعدم ایفائہ حقھا ولوموسرا ۲؎۔اھ مختصرا۔
نفقہ سے عاجز ہوجانے پر اور امیرہوتے ہوئے بھی بیوی کو پورا حق نہ دینے پر قاضی دونوں کی تفریق نہ کرے گا، اھ مختصراً۔(ت)
 ( ۲؎ درمختار          باب النفقۃ     مطبع مجتبائی  ۱ /۲۶۹)
ردالمحتار میں ہے: ۔
بل یفرض لھا النفقۃ علیہ ویأمرھا بالاستدانۃ۱؎
بلکہ قاضی خاوند کے ذمہ بویی کا نفقہ کردے گا اور بیوی کو خاوند کے نام قرض لے کر خرچ کرنے کا فیصلہ دے گا۔(ت)
 (۱؎ ردالمحتار     باب النفقۃ     داراحیاء التراث العربی بیروت    ۲ /۶۵۶)
درمختار میں ہے:
وبعدہ ترجع بما انفقت ولو من مال نفسھا بلاامرقاض۲؎۔
اس کے بعد بیوی خرچ کیلئے نفقہ کو خاوند سے وصول کرے گی جو بیوی نے خرچ کیا ہو خواہ اس نے پانے ہی مال سے قاضی کے حکم کے بغیر خرچ کیا ہو۔(ت)
(۲؎ درمختار     باب النفقہ    مطبع مجتبائی دہلی  ۱ /۲۷۰)
شامیہ میں بدائع سے ہے:
یحبس فی نفقۃ الاقارب کالزوجات۳؎۔
قریبیوں کے نفقہ میں قید کیا جاسکتا ہے جیسا کہ بیویوں کے نفقہ میں قید کیا جاسکتا ہے۔(ت)
 (۳؎ ردالمحتار بحوالہ البدائع  باب النفقۃ  ۲ /۶۸۷و فصل فی الحبس داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ /۳۲۲)
اور اگر شوہر فقیر ہے کہ نفقہ نہیں دے سکتاجب بھی حکم یہی ہے کہ تفریق نہیں اور محتانی معلوم ہوتو قید بھی نہیں بلکہ قاضی نفقہ مقرر کرکے عورت کو قرضاً صرف کرنے کا حکم دے جو کچھ حسب قرار داد قاضی خرچ ہوتا رہے ذمہ شوہر دین ہواکرے گا یہاں تک کہ زمانہ اس کو تونگری کی طرف پلٹالے، اس وقت سب وصول کرلیا جائے مگراگر قاضی دیکھے کہ عورت کواس امید پر قرض نہیں ملتا تو شوہر کو سمجھائے کہ طلاق دے دے، اگر نہ مانے تو قاضی جبکہ نائب مقرر کرنے کا اختیار ہو باختیار خود ورنہ بحکم والی مسلم مقدمہ کسی شافعی المذہب کے سپرد کردے کہ ان کے یہاں جب کہ شوہر کا نفقہ دینے سے عاجز ہو تفریق کرادیتے ہیں وہ فریقین کو بلا کر بعد سماع مقدمہ و ثبوت عجز تفریق کردے، یہ حکم جب قاضی حنفی کے حضور پیش ہواسے نافذ کردے کہ شوہر جب حاضر ہوتو حاکم شافعی کا ایسا حکم ہمارے نزدیک لائق تنفیذ مانا جاتا ہے، یوں عورت اس بلاسے خلاصی پاسکتی ہے۔
درمختار میں ہے:
جوزہ الشافعی باعسار الزوج، ولو قضی بہ حنفی لم ینفذ نعم لو امر شافعیافقضی بہ نفذ۴؎۔
خاوند کے تنگدست ہوجانے پر نفقہ کی وجہ سے تفریق کو امام شافعی نے جائز قرار دیا ہے، اور اگر حنفی قاضی یہ فیصلہ دے تونافذ نہ ہوگا، ہاں حنفی قاضی اگر شافعی قاضی کو فیصلہ دینا سپرد کردے پھر شافعی قاضی فیصلہ دے تو اس کا فیصلہ دے تو اس کافیصلہ نافذ ہوجائے گا۔(ت)
 (۴؎ درمختار     باب النفقۃ    مطبع مجتبائی دہلی     ۱ /۲۶۹)
ردالمحتار میں ہے:
قولہ نعم لوامر شافعیا، ای بشرط ان یکون ماذونا لہ بالاستنابۃ، خانیۃ، قال فی غررالاذکار ثم اعلم ان مشائخنااستحسنوا ان ینصب القاضی الحنفی نائبا ممن مذھبہ التفریق بینھما اذاکان الزوج حاضرا و ابی عن الطلاق لان دفع الحاجۃ الدائمۃ لایتیسر بالاستدانۃ اذالظاھر انھا لاتجد من یقرضھا وغنی الزوج ماٰلا امرمتوھم فالتفریق ضروری اذاطلبتہ وان کان غائبا لایفرق لان عجزہ غیرمعلوم حال غیبتہ وان قضی بالتفریق لاینفذ قضائہ لانہ لیس فی مجتہد فیہ لان العجزلم یثبت۱؎اھ وتمامہ فیہ، واﷲ تعالٰی اعلم۔
ماتن کا کہنا کہ''ہاں اگر شافعی کوکہے'' یعنی بشرطیکہ ہو حنفی قاضی دوسرے کو فیصلہ سپرد کرنے کا مجازہو،خانیہ غررالاذکار میں کہا ہے کہ واضح ہو کہ ہمارے مشائخ نے یہ پسند کیا ہے حنفی قاضی کسی ایسے شخص کو اپنا نائب قرار دے جس کا مذہب یہ ہو کہ خاوند اور بیوی میں نفقہ کی وجہ سے تفریق جائز ہے، توجب خاوند حاضر ہو اور طلاق دینے سے انکاری ہوتو وہ نائب بیوی کے مطالبہ پر تفریق کردے کیونکہ نفقہ کی دائمہ حاجت قرض لینے سے حل نہیں ہوتی جبکہ ظاہر یہی ہے کہ بیوی کسی قرض دینے والے کو نہیں پاتی اور خاوند کا بعدمیں کسی وقت امیر ہونا موہوم معاملہ ہے لہذا بیوی کے مطالبہ پر تفریق ضروری ہے، اور اگر خاوند غائب ہوتو پھر تفریق نہ کرے کیونکہ غیر موجود گی کی وجہ سے خاوند کا نفقہ سے عاجز ہونا معلوم نہیں ہے تو اس صورت میں اگر تفریق کی تو نافذ نہ ہوگی کیونکہ غائب ہونے کی صورت میں عجز ثابت نہ ہونے پر مسئلہ اجتہادی نہ رہے گا، مکمل بیان ردالمحتار میں ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔(ت)
(۱؎ ردالمحتار     باب النفقۃ     داراحیاء التراث العربی بیروت    ۲ /۶۵۶)
Flag Counter