| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۳(کتاب الطلاق ،ایمان، حدود وتعزیر ) |
مسئلہ۱۶۶:۲۲ربیع الاول شریف ۱۳۱۵ھ کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید صاحبِ جائداد ہے اس نے عرصہ بیس سال سے اپنی زوجہ ہندہ کو بسبب ڈال لینے دوسرے عورت کے تکرار کے بلا قصور شرعی گھر سے نکال دیا وہ اپنے باپ خالد کے مکان پرچلی آئی اس کا باپ متکفل رہا اس وجہ سے اس کو نان و نفقہ حاصل کرنے کی ضرورت نہ ہوئی چونکہ اب خالد کا انتقال ہوگیا لہذا اس کو نان ونفقہ حاصل کرنے کی ضرورت ہے، اس مدت بیس سال میں زید ہندہ کو اتفاقِ یکجائی نہ ہوا یہ امرمانع نان ونفقہ تونہ ہوگا۔بینواتوجروا۔
الجواب بیس سال گزشتہ کا نفقہ تو ہر طرح ساقط ہی ہوگیا، آئندہ کے لئے جبکہ اس کا نکلنا اپنی خوشی سے نہ تھا بلکہ شوہر نے نکال دیا یہ دیکھا جائے گا کہ عورت کا اپنے باپ کے گھر رہنا شوہر ہی کے جبر سے ہے کہ وہ بلائے تو اسے جانے سے انکار نہ ہو تو وہ خود ہی نہیں بلاتا اس کا آنا نہیں چاہتا جب تو نفقہ کی مستحق ہے اور اگر یہی جانا نہیں چاہتی ، وہ بلاتا ہے اور یہ نہیں جاتی تو استحقاق نہیں،
فی الدرالمختار تجب للزوجۃ ولو ھی فی بیت ابیھا اذالم یطالبھا الزوج بالنقلۃ وبہ یفتی،وکذااذاطالبھا ولم تمتنع او مرضت وفی منزلھا بقیت ولنفسھا ما منعت وعلیہ الفتوی۱؎اھ ملتقطا،
درمختار میں ہے: بیوی اگر اپنے والد کے گھر ہواور خاوند اپنے گھر منتقل ہونے کا مطالبہ نہ کرے تو بیوی کے لئے نفقہ واجب ہوگا، اسی پر فتوی دیا جائیگا،اور یونہی اگر وہ منتقل ہونے کا مطالبہ کرے اور بیوی انکار نہ کرے یا بیوی اس وقت بیمار ہو اور اپنے گھر میں اور اپنے آپ کو خاوند کے سپرد کرنے سے مانع نہ ہو تو بیوی کا نفقہ واجب ہے، اسی پر فتوی ہے اھ ملتقطاً۔
(۱؎ درمختار باب النفقۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۲۶۶)
وفی الھندیۃ عن البدائع لھا النفقۃ بعد النقلۃ وقبلھا ایضا اذا طلبت النفقۃ فلم ینقلھا الزوج وھی لاتمنع من النقلۃ لوطالبھا الزوج وانکانت تمنع فلانفقۃ لھا کالصحیحۃ۲؎ قلت والشرط عدم منعھا لاوجود طلبھا کما حققنافیما علقناہ علی ردالمحتار وھو المصرح فی الفتح عن الخلاصۃ عن الجامع الکبیر والیہ اخرکلام البدائع ایضا یشیر۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
اور ہندیہ میں بدائع سے منقول ہے بیوی کیلئے نفقہ واجب ہوگا جب وہ خاوند کے ہاں منتقل ہوجائے، یا قبل منتقل ہونے کے جب عورت نفقہ کا مطالبہ کرے تو خاوند اسے منتقل نہ کرے حالانکہ بیوی منتقل ہونے سے انکاری ،نہ اگر خاوند اسے منتقل کرنا چاہے، اور اگر وہ منتقل ہونے سے انکار کرے تو پھر اس کےلئے نفقہ نہیں جیسا کہ صحت مند ہونے کے باوجود منع کرنے پر نفقہ نہیں ہے، قلت(میں کہتا ہوں)شرط یہ ہے کہ عورت انکاری نہ ہو، خاوند کا مطالبہ کرنا شرط نہیں، جیسا کہ ہم نے ردالمحتار کے حاشیہ میں اس کی تحقیق کی ہے اور یہی فتح میں خلاصہ سے بحوالہ جامع کبیر منقول ہے، اور بدائع کا آخری کلام بھی یہی اشارہ دیتا ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
(۲؎ فتاوی ہندیہ الفصل الاول فی نفقۃ الزوجۃ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ /۵۴۶)
مسئلہ۱۶۷: ازمنڈی ہلدوانی ضلع نینی تال سر رشتہ ڈپٹی کمشنری مرسلہ منشی علی الدین احمد ۲۵رمضان المبارک ۱۳۱۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کی عورت ہندہ زید سے سخت دشمنی رکھتی ہے، ایک دفعہ زید کے غیبت میں اناج بیچا، زید نے بہت تھوڑا سامارا کنویں میں کود پڑی، غیرمردوں نے نکالا، باریک کپڑے جوان عمر، پانی میں بھیگ کر بے ستری ہوئی، کنویں سے نکل کر بولی بازار اور سراء میں بیٹھوں گی مگر زید کے گھر نہ جاؤں گی، اس پر وہ غیر آدمی اپنے گھر لے گئے جب زید نوکری سے آیا وہاں سے سوار ہوکر ہندہ کے ماں باپ کے یہاں بھیج دیا، وہاں سے پھر آئی اور یہ عادت رکھی کہ ذراسی تکرار پر دن دوپہر کو سر بازار پیادہ پا آدھ آدھ میل تک کسی کے مکان زیدکو زک دینے اور بدنام کرنے کے لئے چلی جاتی ہے، زید کے لڑکے بالغ ہوگئے ہیں وہ ہر طرح اپنی ماں کے ساتھ ہیں اس سے مل کر زید کا مقابلہ کرتے ہیں کاٹنے اور داڑی پکڑنے تک نوبت پہنچ گئی ہےاور کہتے ہیں تمہارے پاس مسالہ ہی کیا ہے جس پر مزاج دکھاتے ہو تم سے زائد تو اب ہمارے پاس ہے، ہندہ کو اپنے شوہر کے پاس آنے سے بھی عذر اور حیلہ اور انکار ہمیشہ رکھتی ہے، ایک قاعدہ یہ بھی مقرر کیا ہے کہ بغیر اطلاع زید کے کسی لڑکے کو ساتھ لے کر زید کے یہاں آجاتی ہے اور چار پانچ مہینے رہ کر کل نقد و جنس اپنے قبضے میں کر کے جب زید اپنی نوکری پر الہ آباد جاتا ہے ہندہ اور لڑکا اپنے ماں کے یہاں لکھنؤ چلے آتے ہیں اس مال کاپھر کبھی پتہ نہیں چلتا اس صورت میں لڑکوں کے حق حقوق اور ہندہ کے نان ونفقہ اور مہر کی نسبت از روئے شرع شریف کیا حکم فرماتے ہیں؟بینواتوجروا۔
الجواب
لڑکے جبکہ جوان اور خودمالدار ہیں تو ان کا کوئی حق ذمہ زید باقی نہیں خصوصاً ایسی حالت میں کہ وہ اس قدر موذی وعاق ہیں والعیاذ باﷲ رب العٰلمین ایسے لڑکوں اور عورت کےلئے دنیا میں رسوائی اور آخرت میں عذاب شدید وغضب عظیم کا استحقاق ہے، عورت جبکہ اس کے یہاں آنے سے ہمیشہ عذر وانکار رکھتی ہے اور جب کبھی آناہوتا ہے وہ اس لئے نہیں کہ شوہر کی قیدی بن کر رہے بلکہ خودمختارا نہ بالجبر آنا اس غرض فاسدسے ہوتا ہے کہ اندوختہ لوٹ کر لے جائے جیسا کہ تقریر سوال سے ظاہر تو ایسی صورت میں یہ عورت صریح ناشزہ ہے اس کانان و نفقہ اصلاً زید کے ذمہ نہیں،
درمختار میں ہے:
النفقۃ جزاء الاجتناس وکل محبوس لمنفعۃ غیرہ تلزمہ نفقتہ۱؎۔
نفقہ بیوی کے پابند ہونے کا معاوضہ ہے اور جو دوسرے کے حق میں محبوس ہوتو اس کا نفقہ پر لازم ہوتا ہے۔(ت)
(۱؎ درمختار باب النفقۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۲۶۶)
البتہ مہران حرکات سے ساقط نہیں ہوتا اور اس کی کوئی میعاد ادا مقرر نہ ہوئی تھی تو حسبِ عرف بلاد بعد موت یا طلاق ادا کرنا واجب ہوگا۔واﷲ تعالٰی اعلم۔