Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۳(کتاب الطلاق ،ایمان، حدود وتعزیر )
117 - 175
مسئلہ۱۶۵: ۱۲ذی الحجہ ۱۳۱۴ھ
ماقولکم رحمکم اﷲ تعالٰی چہ می فرمایند علمائے دین اندریں مسئلہ کہ ہرگاہ بازید، پدر ہندہ گفت دخترم را شادی بکن زید گفت من فی الحال شادی نتوانستم چرا کہ طالب علم ہستم و حصول علم را مدتے معلوم نیست کہ بچند سال بدست آیدوقدرت نان و نفقہ اندریں مدت ندارم و پدر ہندہ دریں حالتِ اضطراری اوبہ پیش چند مرد ماں ایں ہمہ شرا ئط مذکورہ برذمہ خود قبول کردہ وراضی شدہ دخترِ او بازید نکاح کنانیدہ برائے تحصیل علوم اجازت داد،پس بعد از چند سال قبل از تحصیل علوم ازونان ونفقہ طلب کردوبریں تقدیر نان ونفقہ وغیرہ دادن بروے واجب خواہد شد یانہ واز ہندہ اگر بامرد اجنبی ازیں مدت حرام کاری وغیرہ صادر گردد در نکاح زید ثابت ماند یا نہ وبرہندہ شرعاً چہ حکم دادہ شود و شوہر ہندہ ازبدفعلی او بری کردد یانہ واگر ہندہ مہر خود عندالرضا ساقط گردد بعد ازاں عندالنزاع می گوید کہ مہرم رازوساقط نکردہ ام دعوے مہر اوبرزید شرعاً ثابت گردد یا نہ۔بینواتوجروا۔
علمائے کرام(رحمکم اﷲ تعالٰی) آپ کی کیارائے ہے، کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ  ہندہ کے باپ نے زید کو کہا کہ میری بیٹی سے شادی کرلو، زید نے کہا کہ میں فی الحال شادی نہیں کرسکتا کیونکہ میں طالبعلم ہوں اور حصول علم میں نہ معلوم کتنی مدت صرف ہو، مجھے اس مدت میں بیوی کے نان ونفقہ پر قدرت نہ ہوگی، تو اس پر ہندہ کے والد نے چند لوگوں کی موجودگی میں زید کی اس مجبوری کے حالت کی تمام ذمہ داری اپنے ذمہ لے لی اور رضامندی کے ساتھ زید سے اپنی لڑکی کانکاح کردیا اور زید کو تحصیل علم کے لئے اجازت دے دی، اور اس کے چند سال بعد زید کی طلب علمی کے دوران تحصیل علم سے پہلے، ہندہ کے والد نے زید سے نان ونفقہ کامطالبہ کردیا، تو کیا اس صورت میں زید کو بیوی کانان و نفقہ دینا واجب ہوگا یانہیں،ا ور اس دوران اگر ہندہ کسی غیر مرد سے بدکاری کرے تو کیا وہ زید کے نکاح میں باقی رہے گی یانہیں اور ہندہ پر کیا حکم شرعی ہوگا اور زید اپنی بیوی کی اس بدفعلی سے بری قرار پائے گا یانہیں، اور اگر ہندہ رضامندی سے اپنا مہر معاف کردے اور بعد مخالفت ہوجانے پر کہے کہ میں نے اس کو مہر معاف نہیں کیا تو کیا اب زید پر شرعاً مہر کا دعوی کرسکتی ہے یانہیں؟بینواتوجروا۔
الجواب

درصورت مستفسرہ اگر از جانب زن تسلیم نفس واقع شد وخویشتن رااز شوہر بناواجبی باز نداشت نفقہ اوبرذمہ شوہر لازم شد وآں کہ پدر زن پیش از نکاح آں شرائط برذمہ خود قبول کرداگرمعنیش اینست کہ اوبنا دادن نفقہ راضی شد و پیمان داد کہ تامدت تحصیل علم زن از تو نان و نفقہ نخواہد ایں رضاوپیمان خود چیزے نیست اگرچہ حسبِ اجازت زن بالغہ شدہ باشد زیرا کہ اسقاط  دین پیش از وجوب معنی ندارد خاصۃً نفقہ کہ روزانہ شیأفشیأ واجب می شود
فی الدرالمختار الابراء قبل الفرض باطل و بعدہ یصح مما مضی ومن شھر مستقبل حتی لوشرط فی العقد ان النفقۃ تکون من غیر تقدیر والکسوۃ کسوۃ الشتاء والصیف لم یلزم فلھا بعد ذٰلک طلب التقدیر فیھما ۱؎الخ، وفی ردالمحتار عن الفتح فھو اسقاط للشیئی قبل وجوبہ فلایجوز۲؎
مسئولہ صورت میں اگر بیوی نے اپنے آپ کو زید کے سپرد کردیا اور بلاوجہ رکاوٹ نہ کی ہوتو خاوند کے ذمہ اس کا نفقہ واجب ہوگا اور بیوی کے والد کا نکاح سے پہلے اس کی ذمہ داریوں کو اپنے ذمہ لینا اگر اس کا مطلب یہ تھا کہ اس دوران نفقہ نہ دینے پر راضی ہے اور عہد کرتا ہے کہ تحصیل علم کے دوران بیوی تجھ سے نان ونفقہ طلب نہ کرے گی تو والد کا یہ عہد و پیمان اور رضامندی کوئی حیثیت نہیں رکھتی اگرچہ بالغ بیوی کی رضامندی سے یہ معاہدہ کیا ہو کیونکہ واجب ہونے سے پہلے دین کو ساقط کرنے کا کوئی مطلب نہیں ہے خصوصاً نفقہ کا معاملہ جو کہ روزانہ تھوڑاتھوڑا واجب ہوتا ہے۔ درمختار میں ہے کہ، مقرر ہونے سے قبل بری(ساقط) کرنا باطل ہے جبکہ مقرر ہوجانے کے بعد گزشتہ یا آئندہ ماہ کے نفقہ کو ساقط کرنا صحیح ہے، حتی کہ اگر نکاح میں یہ شرط رکھی کہ نفقہ کا تقرر نہ ہوگا اور لباس سردی اور گرمی میں ایک ہوگا تو اس شرط کا کوئی اعتبار نہ ہوگا لہذابیوی نکاح  کے بعد نفقہ اور لباس کے تقرر کا مطالبہ کرسکے گی الخ۔ اور ردالمحتار میں فتح سے منقول ہے کیونکہ یہ وجوب سے قبل کسی چیز کو ساقط کرنا ہے لہذا جائزنہ ہوگا،
 (۱؎ درمختار     باب النفقۃ     مطبع مجتبائی دہلی     ۱ /۲۶۸)

(۲؎ ردالمحتار    باب النفقۃ    داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۶۵۳)
واگر مراد آنست کہ از جانب شوہر ایں دین را کفیل شدہ برذمہ خود گرفت اگرمقصود برأت شوہر ست کما ھو ظاہر الکلام ایں حوالت باشد فان الکفالۃ بشرط برائۃ الاصیل حوالہ وحوالہ نقل دین ست کمافی التنویر وھوالصحیح کمافی الھندیۃ عن النھرآنچناں کہ دین خود معدوم ست نقل راچہ معنی فی الدرالمختار تصح فی الدین المعلوم۱؎الخ
اور اگر والد کے اس عہد ورضا کا مطلب یہ تھا کہ بیوی کے نان ونفقہ کا خاوند کی بجائے میں خود کفیل ہوں گا اور میں ذمہ دارہوں گا تو اس سے مقصد خاوند کو ذمہ سے بری کرناہے جیسا کہ ظاہر ہے تو یہ عقد حوالہ ہو گا کیونکہ اصل کوبری کرنے کی شرط سے کفالت تبدیل ہو کر حوالہ بن جاتی ہے جبکہ حوالہ کا معنی یہ ہے کہ کسی کو قرض سے بری کرکے اپنے ذمے لے لینا، جیسا کہ تنویرالابصار میں ہے، اس کو ہندیہ میں نہر سے نقل کرتے ہوئے صحیح قرار دیا ہے، تو اس صورت میں ابھی قرض معدوم ہے تو اس کو نقل کرکے دوسرے کے ذمہ کیسے کیا جاسکتا ہے،
 (۱؎ درمختار     کتاب الحوالۃ     مطبع مجتبائی دہلی     ۲ /۶۹)
فی ردالمحتار الشر ط کون الدین للمحتال علی المحیل۲؎الخ وفیہ لاتصح ھذہ الحوالۃ مع جہالۃالمال ۳؂الخ وفیہ لاتصح ھذہ الحوالۃ لان کلامن الغازی والمستحق لم یثبت لہ دین فی ذمۃ الامام والناظر۴؎الخ
درمختار میں ہے کہ،حوالہ، معلوم قرض میں صحیح ہوتا ہے الخ، ردالمحتار میں ہے کہ، حوالہ میں یہ شرط ہے کہ قرضخواہ کا اصیل پر قرض ثابت ہو الخ، اور اس میں یہ بھی کہے، کہ، مال مجہول ہونے پر حوالہ صحیح نہ ہوگا،الخ، اور اس میں یہ بھی مذکور ہے کہ، غازی اور دیگر مستحق شخص کے وظیفہ کا حوالہ صحیح نہ ہوگا کیونکہ یہ وظیفہ حاکم اور نگران کے ذمہ ان کے لئے ثابت شدہ نہیں ہے الخ،
 (۲؎ ردالمحتار    کتاب الحوالۃ        داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ /۲۹۰)

 (۳؎ ردالمحتار    کتاب الحوالۃ        داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ /۲۹۰)

(۴؎ ردالمحتار    کتاب الحوالۃ        داراحیاء التراث العربی بیروت   ۴ /۲۹۱)
واگر براءت شوہر منظور نیست کفالت اگرچہ صحیح شد
کما فی الھندیۃ من فصل النکاح ضمان المھر من صحۃ الضمان بالمھر، عندالخطبۃ قبل النکاح فراجعھا ان شئت وھوالموافق للمفتٰی بہ من قول الامام ابی یوسف رحمہ اﷲ تعالٰی ان الکفالۃ بالنفقۃ المستقبلۃ تصح وان لم تجب بعد کما او ضحہ فی ردالمحتار۱؎
اور اگر والد کے اس عہد ورضا سے خاوند کو نفقہ سے بری قرار دینا نہیں تھا تو یہ کفالت صحیح ہوگی(اور خاوند بری الذمّہ نہ ہوگا) کیونکہ ہندیہ میں ہے''مہر کی ضمانت پر نکاح کی فصل'' میں ہے کہ، نکاح سے قبل مہر کی ضمانت صحیح ہے، اگر آپ چاہیں تو ہندیہ کی طرف رجوع کریں، اور یہ ہندیہ کابیان امام ابویوسف رحمہ اﷲ تعالٰی کے مفتیٰ بہ قول کے موافق ہے کہ مستقبل کے نفقہ کی کفالت صحیح ہے اگرچہ یہ نفقہ ابھی واجب نہیں ہوا، جیسا کہ اس بات کو ردالمحتار میں واضح کیا ہے،
 (۱؎ ردالمحتار     کتاب الکفالہ     داراحیاء التراث العربی بیرت     ۴ /۲۶۳)
اماکفالت موجب براءت ذمہ شوہر نباشد، پس بہر حال نفقہ برشوہر بشرائطہالازم ست، آرے اگر بتراضی یا قضائے قاضی نفقہ رافرضے و تقدیرے میان نیامد مثلاً ماہانہ ایں قدر زریا ایں مقدار طعام و پارچہ آں گاہ ہر قدر مدت کے بے ادائے نفقہ گزشت نفقہ اوساقط گشت مطالبہ اش نتواں کرد آئندہ راطلب فرض وتقدیر کند تا دین شود وبرمطالبہ دست یا بد
فی الدرالمختار النفقۃ لاتصیردینا الابالقضاء اوالرضاء ای اصطلاحھما علی قدر معین اصنافا اودراھم فقبل ذٰلک لایلزمہ شیئ، وبعدہ ترجع بما انفقت ولو من مال نفسھا بلا امر قاض۲؎،
 (لہذا والد کی کفالت خاوند (زید) کی نفقہ سے براءت کو واجب نہیں کرتی) پس ہر حال میں خاوند پر نفقہ اپنی شرائط کے مطابق واجب ہوگا۔ ہاں اگر باہمی رضامندی یا قاضی کے فیصلہ سے ابھی نفقہ کی مقدار متعین نہیں ہوئی تھی، مثلاً ماہانہ اس قدر نقد یا خوراک کی یہ مقدار اور فلاں وقت پر لباس طے نہیں ہواتھا اور کچھ مدت نفقہ دئے بغیر گزرگئی ہوتو گزشتہ مدت کا نفقہ ساقط ہوجائے گا بیوی کو اس کے مطالبہ کا حق نہ ہوگا، اور آئندہ کےلئے مقدار متعین کرانے کا اس کو حق ہوگا تاکہ خاوند کے ذمہ قرض بن سکے اور مطالبہ پر اسے حاصل کرسکے درمختار میں ہے کہ، نفقہ خاوند کے ذمہ قرض نہیں بنتا تاوقتیکہ قاضی نے یا باہمی رضامندی سے طے نہ کرلیا گیا ہو، مثلاً یوں کہ اتنی مقدار جنس یا نقد مقرر کرلیا گیا ہوتو اس فیصلہ سے قبل کا نفقہ واجب الادا نہ ہوگا اور اس کے بعد والے نفقہ میں جو بیوی نے قرض لے کر یا خود اپنے مال سے قاضی کے حکم کے بغیر جو خرچ کیا ہوتو وہ خاوند سے وصول کرسکتی ہے الخ،
 (۲؎ درمختار     باب النفقۃ    مطبع مجتبائی دہلی  ۱ /۲۷۰)
وفی ردالمحتار لایلزمہ عما مضی قبل الفرض بالقضاء اوالرضاء ولا عما یستقبل لانہ لم یجب بعد۳؎،
ردالمحتار میں ہے:   قاضی یا باہمی رضامندی سے قبل کا گزشتہ نفقہ خاوند پر واجب الادانہ ہوگا (البتہ طے کرنے کے بعد کا واجب الادا ہوگا) اورآئندہ مستقبل کا نفقہ بھی واجب الادا نہ ہوگا کیونکہ وہ ابھی واجب نہیں ہوا،
 (۳؎ ردالمحتار     باب النفقۃ        داراحیاء التراث العر بی بیروت     ۲ /۶۵۸)
زن اگر شوئے خودرا از مہر ابرائے شرعی بلا اکراہ کرد مہر از ذمہ شوہر ساقط شد اگرچہ ایں معنی در خلوت محضہ روئے داد فامانزد قاضی بے اقرار زن یا بینہ عادلہ رنگ ثبوت نیابد اگر خدا ناترسی کردہ بعد ابرأبد عوے پر داز قاضی بر ذمہ شوہر ثابت سازد و معاملہ باطنی ایشاں بمحکمہ قاضی حقیقی عالم الغیب  والشہادۃ جل جلالہ پردہ از روئے حقیقت اندازد
فالقاضی انما یقضی بالظاھر واﷲ سبحانہ یتولی السرائرآرے جائیکہ تعجیل و تأجیل مہر بہ بیان نیامدہ باشد چناں کہ غالب مہورِ ایں دیار ہمچناں مے باشد آنجا بنائے کاربر عرف دیارست وعرف عام وشائع ایں بلادبلکہ د یگر ممالک ھم ہمین ست کہ  بہمچو صورت مہر نزد افتراق بموت یاطلاق حال مے شود پس پیش ازاں مطالبہ زن مسموعی ندارد کما بیناہ فی فتاوٰنا مرارا،
بیوی نے اگر شرعی طور پر اپنی رضامندی سے بلا جبر واکراہ خاوند کو مہر سے بری کردیا ہوتو وہ مہر خاوندسے ساقط ہوجائے گا اگرچہ بیوی نے اپنی خلوت میں معاف کیا ہو، لیکن قاضی کے ہاں بیوی کے اقرار یا شہادت کے بغیربراءت ثابت نہ ہوگی، اگر بیوی خداترسی نہ کرتے ہوئے معاف کرنے کے بعد قاضی کے ہاں مہر کا دعوی کردے تو قاضی خاوند کے ذمہ مہر کی ادائیگی لازم کردے گا۔ تاہم دونوں کا یہ باطنی معاملہ، اﷲتعالٰی جو کہ حقیقی قاضی عالم الغیب والشہادۃہے کے دربار میں پیش ہوگا اورحقیقی فیصلہ پائے گا، قاضی تو ظاہر پر فیصلہ دیتا ہے باطنی امور تو اﷲ تعالٰی کے سپرد ہیں، ہاں اگر مہر کے معجل ہونے یا مؤجل کا فیصلہ نہ ہواہو جیسا کہ عام طور پر اس علاقے میں ہوتا ہے تو ایسی صورت میں معاملہ علاقہ کے عرف پر ہوگا، جبکہ اس علاقے بلکہ دیگر ممالک میں بھی یہی ہے کہ میاں یا بیوی کی موت یا طلاق کے وقت جو بھی مہر ہو وہ ادا کیا جاتا ہے اور اس سے قبل عورت کے مطالبہ کو قابل توجہ نہیں سمجھا جاتا، جیسا کہ ہم نے کئی مرتبہ اپنے فتاوٰی میں بیان کیاہے،
زنائےزناں موجب بطلان نکاح آناں نیست قال تعالٰی
بیدہ عقدۃ النکاح۱؎
تاآنکہ اگر باپدر یا پسر شوہر ایں چنیں وقاحت روئے دہد ہم نکاح باطل نشود اگرچہ زن حرام ابدی گردد و متارکہ فی الفور فرض شود،
بیوی کے زنا سے نکاح باطل نہیں ہوتا، اﷲ تعالٰی نے فرمایا: بیدہ عقدۃ النکاح(نکاح کی گرہ صرف خاوند کے ہاتھ میں ہے)
 (۱؎ القرآن الکریم۲ /۲۳۷)
یہی وجہ ہے کہ اگر بیوی اپنے خاوند کے باپ یا بیٹے سے بدفعلی کرے تو بھی نکاح باطل نہیں ہوتا اگرچہ بیوی ہمیشہ کے لئے خاوند پر حرام ہوجاتی ہے، اور فوری طور پر دونوں میں متارکہ فرض ہوجا تاہے۔
فی الدرالمختار بحرمۃ المصاھرۃ لایرتفع النکاح حتی لایحل لھا التزوج باٰخر الا بعد المتارکۃ وانقضاء العدۃ والوطی بھا لایکون زنا۱؎،
بہر حال زن بقدر جرم خودش مستحق حد یا تعزیر شود شوئے اگر در حفظ ومنعش از قدر واجب تقصیر نہ کرد وبریں کار راضی نشد ہیچ وبال برونیست
لاتزرو وازرۃ وزرااخریٰ،
واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔
درمختارمیں ہے کہ، حرمتِ مصاہرہ کے ساتھ نکاح باطل نہیں ہوتا حتی کہ دوسرے شخص سے اس بیوی کا نکاح حلال نہیں ہوگا تاوقتیکہ متارکہ کے بعد عدت نہ گزرجائے، اور متارکہ سے قبل اگر خاوند وطی کرلے تو زنا کا حکم نہ لگے گا، بہر حال بیوی اپنے جُرم کی خود ذمہ دار ہے اس پر حد لگے گی یا تعزیر ہوگی، خاوند نے اگر حفاظت و نگرانی میں کوتاہی نہ کی ہو اور وہ اس کے اس فعل سے راضی نہ ہو تو اس پر کوئی وبال نہیں ہوگا، اﷲ تعالٰی نے فرمایا: ایک کا بوجھ دوسرے پر نہ ہوگا۔ واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔(ت)
 ( ۱؎ درمختار    فصل فی المحرمات     مطبع مجتبائی دہلی     ۱ /۱۸۸)
Flag Counter