فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۳(کتاب الطلاق ،ایمان، حدود وتعزیر )
116 - 175
مسئلہ ۱۶۲: از شاہجہان پور مرسلہ مہر بان علی صاحب ۱۹شعبان ۱۳۱۳ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ عورت بے اجازتِ شوہر زید کے اپنے بھائیوں کے گھر چلی گئی، جب زید اپنی نوکری سے آیا عورت کو نہ پایا، اس صورت میں نکاح و مہر باقی رہا یا نہیں؟ بعد ایک عرصہ کے زید حسبِ مصلحت اور پاس اپنی حرمت کے زید نے کچھ خرچ نان و نفقہ کا مسماۃ مذکورہ کا مقرر کردیا تھا کہ خواہ زوجہ میرے مکان میں رہے یااپنے بھائی کے پاس رہے دیا جائے گا، اب بموجب شرع شریف کے وہ نان ونفقہ حسبِ وجوہ مندرجہ بالاذمہ زید کے واجب الادا رہا یانہیں؟فقط۔
الجواب
نکاح ومہر بدستور قائم رہے، ہاں بے اجازتِ شوہر چلے جانے کے باعث نفقہ ساقط ہوگیا، سائل مظہر کہ زید بلاتا ہے اور وہ نہیں آتی تو اب تک وہ نان نفقہ کی اصلاً مستحق نہیں جب تک شوہر کے گھر میں نہ آئے،
درمختار میں ہے:
لانفقۃ لخارجۃ من بیتہ بغیر حق وھی الناشزۃ حتی تعودوتسقط بہ المفروضۃ۲؎(ملخصاً)۔
بلاوجہ خاوند کے گھر سے باہر رہنے والی نافرمان ہے تاوقتیکہ واپس اس کے گھر نہ آئے اس کے لئے نفقہ نہیں ہے خواہ نفقہ قاضی کی طرف سے ہی کیوں نہ مقرر ہو۔(ت)
(۲؎ درمختار باب النفقۃ مطبع مجتبائی ۱ /۲۶۷)
گھربیٹھے کا جو نفقہ زید نے مقرر کردیا اول تو وہ نفقہ واجب نہ تھا
فان النفقۃ جزاء الاحتباس
(کیونکہ نفقہ بیوی کے پابند ہونے کا صلہ ہے۔ت)
بلکہ صرف ایک احسانی وعدہ تھا اور وعدہ پر جبر نہیں
کمافی العالمگیریۃ وغیرہا
(جیسا کہ عالمگیریہ وغیرہ میں ہے۔ت)
معہذاجب اس نے بلایا اور وہ نہ آئی وہ بھی ساقط ہوگیا
کما من الدرالمختار
(جیسا کہ درمختار سے معلوم ہواہے۔ت)واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ۱۶۳: ۲۶محرم الحرام ۱۳۱۴ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید ہندہ سے نکاح کرکے قبل رخصت نوکری پر چلاگیا، بارہا والدین ہندہ نے رخصت کو کہا، چار برس کے بعد رخصت کراکراپنے گھر لے گیا، ہندہ بیمار تھی دو ایک دن کے بعد پھر والدین کے یہاں واپس آکر ایک ماہ بعد فوت ہوگئی، نفقہ اس چار سال کا اور جو خرچ دو اوعلاج وتجہیز و تکفین میں والدین نے کیا شوہر پر واجب ہے یانہیں؟جہیز شوہر کو ملے گا یا ماں باپ کو؟بینواتوجروا
الجواب
نفقہ وخرچ دواوعلاج کا مطالبہ شوہر سے نہیں ہوسکتا،
نفقہ خاوند کے ذمہ قرض نہیں بنتا تاوقتیکہ قاضی کا مقرر کردہ یا باہمی رضامندی سے طے کردہ نہ ہو، اور خاوند بیوی دونوں میں سے ایک کی موت یا طلاق سے نفقہ ساقط ہوجاتا ہے کیونکہ یہ صلہ کے طور پر لازم ہوتاہے، ہاں اگر قاضی کے حکم پر بیوی نے قرض لے رکھا ہو تو پھر خاوند کو اس کی ادائیگی لازم ہوگی۔(ت)
(۱؎ درمختار باب النفقۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۲۷۰)
ردالمحتار میں ہے:
علیہ ماتقطع بہ الصنان لاالدواء للمرض ولااجرۃ الطبیب ولاالفصاد ولاالحجام۲؎۔
خاوند پر بدن کی حفاظت والی چیز لازم ہے۔ مرض کیلئے دوا، طبیب کی اجرت، فصد یا سنگی لگانے کی اجرت لازم نہیں ہے۔(ت)
(۲؎ ردالمحتار باب النفقۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/ ۶۴۹)
یونہی خرچ تجہیز وتکفین بھی مجرا نہ ملے گا جبکہ والدین خواہ کسی نے بے اذن شوہر بطور خود کیا،
فی اواخر وصایا ردالمحتار عن حاشیۃ الفصولین للرملی، الزوجۃ اذاصرفہ من مالہ غیرالزوج بلااذانہ اواذن القاضی فھو متبرع کالاجنبی۳؎۔
ردالمحتار میں وصایا کی بحث کے آخر میں فصولین پر رملی کے حاشیہ سے منقول ہے کہ اگرکسی نے خاوند یا قاضی کی اجازت کے بغیر اس کی بیوی کو کفن دیا تو یہ خرچہ صرف کرنے والے کی طرف سے مفت ہوگا جیسا کہ کوئی اجنبی اپنی طرف سے مفت خرچ کردے(ت)
(۳؎ ردالمحتار فصل فی شہادۃ الاوصیاء داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/۴۵۹)
جہیز ملک و ترکہ ہندہ ہے برتقدیر عدم موانع ارث ووارث آخر و تقدیم دین ووصیت چھ سہام ہو کر تین سہم شوہر، دو سہم پدر، ایک مادر کوملے گا۔ اسی حساب سے مہر ہندہ اگر باقی ہوتقسیم ہوگا۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ۱۶۴: ۴جمادی الاولیٰ۱۳۱۴ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنی دختر کا نکاح عمرو سے کیا اور پیش از نکاح ایک اقرار نامہ زید نے عمرو سے لکھوایا کہ میں بے رضامندی زوجہ کے اسے کہیں نہیں لیجا سکتا ہوں اور خود میں وہیں یعنی زوجہ کے مکان پر رہوں گا اور درصورت وعدہ خلافی میں نان نفقہ دوں گا، بعدہ نکاح ہوا اور مہر ڈھائی سو روپے کا بندھا جس میں کوئی شرط پیشگی دینے یا کسی میعاد کے قرار نہ پائی، اب عمرو اپنے خسر کے یہاں شب کو رہنا چاہتا ہے تو اس کا خسر اور خود زوجہ اسے گوارہ نہیں کرتے، عمرو کا مکان اسی شہر میں ہے وہ چاہتا ہے کہ اپنی زوجہ کو اپنے مکان پر لے جائے، اس صورت میں اسے اس امر کا اختیار ہے یانہیں؟اور اگر زید نہ لے جانے دے اور ہندہ نہ جائے تومستحق نان نفقہ کی ہوگی یانہیں؟بینواتوجروا۔
الجواب
بیشک صورت مستفسرہ میں زید کواختیار ہے کہ اپنی زوجہ کو اپنے مکان پر لے جاکر رکھے، زوجہ اوراس کے باپ کا بلاوجہ شرعی روکنا محض ظلم ہے، اور زوجہ نہ جائے گی تونان نفقہ کی مستحق نہ ہوگی،
کیونکہ وہ نافرمان ہے اس لئے کہ وہ بلاوجہ مانع بنی ہوئی ہے جبکہ نفقہ خاوند کے حق میں پابند ہونے کا عوض ہے تو جہاں پابندی نہیں وہاں نفقہ نہیں ہوگا جیسا کہ سب نے اس کی تصریح کی ہے(ت)
عمرو کا اقرار نامہ لکھ دینا کہ در صورت وعدہ خلافی نان نفقۃ دوں گا کوئی چیز نہیں،
فان شرط اﷲ احق، ومن اشترط شرطا لیس فی کتاب اﷲ فلیس لہ، وان شرط مائۃ مرّۃ۱؎، کماقال النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فی الحدیث الصحیح، واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔
اﷲ تعالٰی کے حکم کے موافق شرط مقبول ہے اور جس نے اﷲ تعالٰی کے حکم کے خلاف کوئی شرط لگائی تو وہ ناحق ہے اگرچہ ہزار بار شرط لگائے، جیسا کہ صحیح حدیث میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ارشاد گرامی ہے۔ واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم(ت)
(۱؎ صحیح مسلم باب بیان ان الولاء لمن اعتق قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۴۹۴)