Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۳(کتاب الطلاق ،ایمان، حدود وتعزیر )
115 - 175
مسئلہ۱۵۹: کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کا ایک لڑکا بالغ جس کی عمر تیس برس کے قریب ہے اور کمائی پر خوب قدرت رکھتا ہے اور پیشہ حجامی وغیرہ طرق سے تحصیل رزق کرسکتا ہے زید پر اپنے کھانے پہننے وغیرہ مصارف کابار ڈالتا ہے اور اسے اپنے مال میں تصرف سے مانع آتا ہے، آیا اس صورت میں زید پر روٹی کپڑا اس کا واجب اور  زید اپنے مال میں تصرف سے ممنوع ہے یا نہیں؟بینواتوجروا۔
الجواب

جبکہ وہ لڑکا بالغ اور کسب پر ہرطرح قادر تو اس کا روٹی کپڑا یاکوئی صرفہ زید پر واجب نہیں زید کو اختیار ہے اسے کچھ نہ دے اور زید اس لڑکے کے منع کرنے سے اپنی جائداد میں تصرف سے ممنوع نہیں ہوسکتا،
فی الدرالمختار وکذاتجب لولدہ الکبیر العاجز عن الکسب کأنثی مطلقا و زمن ومن یلحقہ العار بالتکسب وطالب علم لایتفرغ لذٰلک کذافی الزیلعی والعینی۳؎۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
درمختار میں ہے کہ یوں ہی بڑے بالغ بیٹے کا نفقہ لازم ہوگا جو کسب و محنت سے عاجز ہو جیسا کہ بیٹی کے لئے مطلقاً اور اپاہج بیٹے کے لئے اور اولاد کے لئے جن کو محنت مزدوری کرنے میں عار ہو، اور اس طالبعلم کےلئے جو مزدوری فراغت نہ پائے، زیلعی اور عینی میں یوں مذکور ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔(ت)
 (۳؎ درمختار     باب النفقۃ     مطبع مجتبائی دہلی  ۱ /۲۷۳)
مسئلہ۱۶۰: کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے ہندہ سے نکاح کیا اور اس کے بطن سے ایک لڑکی اب سات برس کی ہے اور ایک لڑکاکہ ابھی پانچ چھ مہینے کا ہے پیدا ہوئے، اب زید نے اپنا اور نکاح کرلیا اور ہندہ کو جبراً نکال دیا کہ وہ مع دونوں بچوں کے اپنے باپ کے یہاں چلی آئی، اب زید نہ اسے بلاتا ہے نہ اس کے بچوں کے کھانے پہننے کی خبر گیری کرتا ہے، اس صورت میں ہندہ ودختر و پسر کا نان ونفقہ زید پر لازم ہے یانہیں؟بینواتوجروا
الجواب

بیشک ہندہ کا نان نفقہ زید پر لازم ہے اور بچوں کا اپنا کوئی ذاتی مال نہ ہوتو ان کی خبرگیری بھی زید پر واجب ہے اگر شوہر نہ دے عورت حاکم کے یہاں رجوع کرکے اپنا اوراپنے بچوں کا نفقہ مقرر کراسکتی ہے،
فی الدرالمختار النفقۃ تجب للزوجۃ علی زوجھا ولوھی فی بیت ابیھا اذالم یطالبھا الزوج بالنقلۃ بہ یفتی وکذاان طالبھا ولم تمنع ملخصاً۱؎۔
درمختار میں ہے:بیوی اگرچہ اپنے والد کے گھر ہو اور خاوند وہاں سے اپنے گھر منتقل ہونے کا مطالبہ نہ کرتا ہو یا مطالبہ کرتا ہو اور بیوی انکاری نہیں ہے تو خاوند پر نفقہ واجب ہوگا، اسی پر فتوٰی دیا جائیگا، ملخصاً۔(ت)
 (۱؎ درمختار     باب النفقۃ     مطبع مجتبائی دہلی     ۱ /۲۶۶)
اسی میں ہے:
تجب النفقۃ بانواعھالطفلہ الانثیٰ و الجمع الفقیرفان نفقۃ الغنی فی مالہ ولو خاصمتہ الام فی نفقتھم فرضھا القاضی وامرہ بدفعھا للام مالم تثبت خیانتھا فیدفع لھا صباحا ومساء اویأمرمن ینفق علیھم۲؎۔انتھتا ملخصین۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
 بیٹی اور فقیر عاجز لڑکوں کے لئے نفقہ واجب ہے کیونکہ غنی اولاد کا نفقہ اس کے اپنے ذاتی مال سے ہے، اور اگر مذکورہ بچوں کے لئے ان کی ماں قاضی کی طرف سے مقرر کردہ نفقہ کو وصول کرنے میں اصرار کرے تو قاضی نفقہ مقرر کرکے خاوند کو ادائیگی کا حکم دیگا بشرطیکہ بچوں پر صرف کرنے میں ماں کی خیانت ثابت نہ ہو تو خاوند صبح و شام ماں کو ان کا خرچہ ادا کرے گا یا وہ کسی کو ان پر خرچ کرنے کےلئے کہے گا، دونوں عبارتیں ختم ہوئیں ملخص طور پر، واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
 ( ۲؎ درمختار    باب النفقۃ     مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۲۷۳)
مسئلہ۱۶۱:کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ اپنے دیور کے ساتھ متہم ہوئی اس کے شوہرزیداور زید کے باپ نے اسے اپنے یہاں سے نکال دیا، ہندہ اب دو برس سے اپنے باپ کے یہاں ہے نہ تو زید اسے بلاتا ہے اور نہ روٹی کپڑا پہنچاتا ہے نہ طلاق دیتا ہے، اس میں ہندہ کا روٹی کپڑا ذمہ زید کے واجب ہے یا نہیں؟اور زید اس صور ت میں گناہ گار ہے یانہیں؟
الجواب

جبکہ ہندہ کا اپنے باپ کے یہاں رہنا اس بناء پر ہوکہ اسے زید اور زید کے باپ  نے نکال دیا اور زید بلاتا بھی نہیں اور بلائے تو اسے جانے میں انکار بھی نہیں تو بیشک اس کا روٹی کپڑا زید کے ذمہ واجب ہے،
فی الدرالمختار النفقۃ تجب للزوجۃ ولو ھی فی بیت ابیہا اذالم یطالبھا الزوج بالنقلۃ بہ یفتی وکذااذاطالبھا ولم تمنع۱؎اھ ملخصاً۔
درمختار میں ہے: اگرچہ بیوی اپنے والد کے گھر ہو جب خاوند اپنے گھر منتقل ہونے کا مطالبہ نہ کرے تو خاوند پر اس کا نفقہ واجب ہوگا، اسی پر فتوی ہے، اوریونہی اگر خاوند مطالبہ کرے لیکن بیوی انکار نہ کرے تو بھی واجب ہوگا، اھ، ملخصاً(ت)
 ( ۱؎ درمختار     باب النفقۃ   مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۲۶۶)
اور اس تہمت کی وجہ سے اگرچہ وہ واقع میں صحیح ہی ہو نکاح زائل نہیں ہوتا،
ففی الحدیث ان رجلا قال للنبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ان امرأتی لاتردیدلامس قال ففارقھا قال انی احبھا قال فامسکھا۲؎۔ اوکما قال صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم .
حدیث شریف میں ہے :ایک شخص نے حضور علیہ والصلوٰہ والسلام سے عرض کی کہ میری بیوی چھونے والے کے ہاتھ کو رد نہیں کرتی، توآپ نے فرمایا اس کو علیحدہ کردے۔ تواس شخص نے عرض کی مجھے اس سے محبت ہے، تو آپ نے فرمایا: پھر اسے پاس رکھ یا جیسے آپ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کا ارشاد ہے،
 (۲؎ سنن ابی داؤد کتاب النکاح     آفتاب عالم پریس لاہور    ۱ /۲۸۰)

(سنن النسائی     کتاب النکاح تزویج الزانیۃ نورمحمدکارخانہ تجارت کتب کراچی     ۲ /۷۱)

(سنن النسائی کتاب الطلاق باب ماجاء فی الخلع نورمحمدکارخانہ تجارت کتب کراچی ۲ /۱۰۷)

(ردالمحتار     فصل فی المحرمات     داراحیاء التراث العربی بیروت    ۲ /۲۹۲)
وفی الدرالمختار وغیرہ لایجب علی الزوج تطلیق الفاجرۃ ۳؎اھ فکان ذٰلک نصافی بقاء النکاح۔
اور درمختار وغیرہ میں ہے کہ خاوند پر فاجرہ بیوی کو طلاق دینا لازم نہیں ہے اھ، تو یہ عبارت نکاح کے باقی رہنے میں نص ہے(ت)
 ( ۳؎ درمختار      فصل فی المحرمات   مطبع مجتبائی دہلی     ۱ /۱۹۰)
جاہلوں میں جو یہ مشہور ہے کہ عورت اگر معاذاﷲ بدوصفی کرے تو نکاح جاتا رہتا ہے محض غلط بات ہے، اور جب نکاح باقی ہے تو اس صورت میں زید پر فرض ہے کہ یا تو اسے طلاق دے دے یا اس کے نان نفقہ کی خبر گیری کرے ورنہ یوں معلق رکھنے میں زید بیشک گنہگار ہے اور صریح حکم قرآن کا خلاف کرنے والا،
فلاتمیلو اکل المیل فتذروھا کالمعلقۃ۱؎۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
اور کلی میلان نہ ہو کہ بیوی کو معلق کر چھوڑو، واﷲ تعالٰی اعلم۔(ت)
(۱؎ القرآن الکریم ۴ /۱۲۹)
Flag Counter