| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۳(کتاب الطلاق ،ایمان، حدود وتعزیر ) |
مسئلہ۱۵۸: از بڑودہ گجرات کلاں محلہ بھوتنی کا چھاپہ نظام پورہ مرسلہ امراؤ بائی بنت غلام حسین حالہ ۱۶رجب۱۳۱۱ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں(مسئلہ اولیٰ) ایک شخص نے اپنی حقیقی پھوپھی کی لڑکی سے نکاح کیا، چند روز بعد ایک آدمی اور ایک عورت کے ہمراہ کسی کام ضروری کے لئے کہیں بھیجا، بعد واپس آنے کے دو برس تک نان ونفقہ موقوف کردیا، کچہری گائیکواڑی میں یہ مقدمہ پیش ہے، کچہری کہتی ہے نان و نفقہ کیوں نہیں دیتا، خاوند کہتا ہے بغیر حکم میرے یہ کیوں گئی، عورت نے گواہ شاہد قوی اپنے حقیقی چچا اور چچی اور کئی آدمی کنبہ کو پیش کیا ہے سب نے یہی کہا کہ ہمارے روبرو اس کے خاوند نے اپنی عورت کو جانے کے لئے حکم دیا اور حلف بھی اٹھایا، اس صورت میں شریعت کا کیاحکم ہے؟
الجواب صورتِ مستفسرہ میں عورت کونان و نفقہ نہ دینا اس شخص کا محض ظلم ہے جس کے سبب وہ ظالم و گنہگار اور عورت کے حق میں گرفتار ہے،
ا ﷲتعالٰی فرماتا ہے:
وعلی المولود لہ رزقھن وکسوتھن بالمعروف۱؎۔
بیویوں کا نفقہ اور لباس بھلائی کے ساتھ اس کے ذمّہ ہے جس کےلئے اولاد ہے۔(ت)
(۱؎ القرآن ۲ /۲۳۳)
اوراس کا یہ بیہودہ عذر کہ''عورت بے میرے حکم کے کیوں گئی'' محض باطل و ناقابلِ سماعت ہے اگر وہ اس میں سچا بھی ہوتو عورت جب بے اجازت شوہر ناحق چلی جائے تو اس کا نان و نفقہ اسی مدت تک کالازم نہیں ہوتا جب تک وہ اس ناحق طور پر باہر رہے جب پھر شوہر کے گھر چلی آئے گی اسی وقت سے نان و نفقہ دینا شوہر پر فرض ہوجائے گا،
درمختارمیں ہے:
لانفقۃ لخارجۃ من بیتہ بغیر حق حتی تعود ولوبعدسفرہ۲؎۔
بلاوجہ خاوند کے گھرسے باہر رہنے والی کے لئے نفقہ نہیں تاوقتیکہ وہ واپس نہ آجائے اگرچہ خاوند کے سفر پر جانے کے بعد ہی باہر رہی ہو۔(ت)
(۲؎ درمختار باب النفقۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۲۶۷)
ردالمحتار میں ہے:
لوعادت الٰی بیت الزوج بعد ماسافرخرجت عن کونھا ناشزۃ بحر عن الخلاصۃ ای فتستحق النفقۃ۱؎۔
یعنی اگر خاوند کے سفر پر جانے کے بعد بیوی خاوند کے گھر لوٹ آئے تو اس کی نافرمانی ختم ہوجائے گی، یہ بحرمیں خلاصہ سے منقول ہے، یعنی اس وقت بیوی نفقہ کی حقدار ہوگی۔(ت)
(۱؎ ردالمحتار باب النفقۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۶۴۶)
تواس شخص نے کہ عورت کے واپس آنے کے بعد نان و نفقہ موقوف کردیا نراظلم کیا، تو اس پر فرض ہے کہ اسی وقت سے جاری کردے۔ رہا گزشتہ مدت کا نفقہ، اسکی دو صورتیں ہیں، اگر پہلے آپس کی رضامندی یا قاضی کے حکم سے مقدار نفقہ مقرر ہوچکی تھی کہ مثلاً مہینے میں اتنے روپے یا اس قدر اناج اور کپڑا دیا جائے گا اور اب بلاوجہ شرعی بند کردیا تو جب تک نہیں دیا ہے اس ساری مدت کا اسی قرار داد کے حساب سے عورت کو دلایا جائے گا، اور اگر عورت یونہی رہتی کھانا کھاتی کپڑا پہنتی تھی کچھ قرارداد باہمی یا بحکم قاضی نہ ہوا تھا کہ ماہواریا سالانہ یا ششماہی پر اتنا دیا جائے گا تو جتنے دنوں اس نے نہ دیا ظالم وگنہگار ہوا مگر عورت اس گزری مدت کا دعوی نہیں کرسکتی اب سے دعوی کرکے بحکم قاضی آئندہ کے لئے مقرر کرالے، اس کے بعد اگر وہ نہ دے گا تو یہ جبراً بذریعہ نالش وصول کرسکتی ہے،
درمختار میں ہے:
النفقۃ لاتصیر دینا الابا لقضاء اوالرضاء ای اصطلاحھما علی قدر معین اصنافاو دراہم فقبل ذٰلک لایلزمہ شیئ و بعدہ ترجع بما انفقت ولو من مال نفسھا بلا امر قاض۲؎۔
عورت کا لیا ہوا قرض خاوند کے ذمہ صرف اس وقت ہوگا جب عورت نے وہ قرض قاضی کے حکم پر یا خود خاوند کے ساتھ مصالحت میں طے کرلیا ہو کہ فلاں جنس یا نقد اتنی مقدار ہوگی، اس سے قبل لیا ہوا قرض خاوند کے ذمہ نہ ہوگا، اور بعد میں عورت کا لیا ہواقرض، خواہ اپنے مال سے ہی قاضی کے حکم کے بغیر اس نے صرف کیا ہو تو خاوند سے وصول کرسکتی ہے(ت)
(۲؎ درمختار باب النفقۃ مطبع مجتبا ئی دہلی ۱ /۲۷۰)
ردالمحتار میں ہے:
لاتصیردینا ای اذالم ینفق علیھا بان غاب عنھا اوکان حاضرا فامتنع فلایطالب بھا بل تسقط بمضی المدۃ۱؎۔
نفقہ قرض نہ بنے گا یعنی جب خاوند غائب رہا یا موجود رہا لیکن بیوی کو نفقہ نہ دیا ہو تو اس مدت کے نفقہ کا مطالبہ خاوند سے نہیں کیا جاسکتا بلکہ مدت گزرجانے کی بناپر ساقط ہوجائے گا۔(ت)
(۱؎ ردالمحتار باب النفقۃ داراحیاء التراث العر بی بیروت ۲ /۶۵۸ )
اسی میں ہے:
الابالقضاء بان یفرضھا القاضی علیہ اصنافااودراھم اودنانیرنھر۲؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
مگر یہ کہ جو نفقہ قاضی نے خاوند پر مقرر کیا ہو جنس، دراہم یا دنانیر تو وہ خاوند کے ذمہ واجب الادا ہوگا، نہر واﷲتعالٰی اعلم(ت)
(۲؎ ردالمحتار باب النفقۃ داراحیاء التراث العر بی بیروت ۲ /۶۵۸)