Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۳(کتاب الطلاق ،ایمان، حدود وتعزیر )
113 - 175
مسئلہ۱۵۷: از لبکن ضلع بریلی مرسلہ شیخ احمد حسین۲۱رجب ۱۳۰۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ جو ایک قلیل حقیت کی زمیندار تھی بلارضا مندی و اجازت زید اپنے شوہر کے بطور بدکاری عمرو کے ساتھ فرار ہوگئی اور مدت دراز تک عمرو کے ساتھ رہی، پھر واپس آئی، اب زید پر دعوی مہر اور دلا پانے نان نفقہ کا کرتی ہے اس صورت میں وہ مہر و نفقہ پائے گی یانہیں؟اور زید محض نادار ہے مگر زید کا باپ متمول ہے تو دعوٰی ہندہ کا پدرِ زید پر کچھ اثر ہوگا یا نہیں؟اور ہندہ بحالت فراری زید کا حمل رکھتی تھی، بعد وضع حمل اس نابالغ کی پرورش کا زید ذمہ دار ہوگایا نہیں؟ بینواتوجروا
الجواب

جتنی مدت عورت فرار رہی اس مدت کا نفقہ تو زید پراصلاً نہیں، ہاں اب کہ واپس آئی آئندہ نفقہ کی مستحق ہے زید سے نفقہ طلب کرے، اگر دے فبہا، ورنہ قاضی کے یہاں نالش کرکے اپنا نفقہ مقرر کرالے اگر زید نادار ہے قاضی حکم دے گا کہ تو قرض لے کر صرف کر، اور جب زید کو استطاعت ہو اس سے مجرالے،
فی الدرالمختار لانفقۃ لخارجۃ من بیتہ بغیر حق وھی الناشزۃ حتی تعود ولو بعد سفرہ۱؎۔
بیوی اگر خاوند کے گھر سے باہر بلاوجہ رہائش پذیر ہو تو وہ واپس خاوند کے پاس آنے تک نافرمان قرار پائے گی اگرچہ خاوند کے سفر پر جانے کے بعد ہی ایسا کرے لہذا اس کے لئے نفقہ لازم نہیں ہوگا۔(ت)
 (۱؎ درمختار     باب النفقۃ     مطبع مجتبائی دہلی     ۱ /۲۶۷)
ردالمحتار میں ہے:
ای فتستحق النفقۃ فتکتب الیہ لینفق علیھا اوترفع امرھا الی القاضی لیقرض لھا علیہ نفقۃ۲؎۔
یعنی خاوند سفر میں ہواور بیوی نفقہ کی مستحق ہوتووہ خاوند کو خط لکھ کر مطالبہ کرے کہ میرا نفقہ ادا کیا جائے،یا بیوی قاضی کے ہاں درخواست کرے تاکہ قاضی خاوند کے نام قرض لے کر خرچ کرنے کا حکم دے۔(ت)
 (۲؎ ردالمحتار    باب النفقۃ    داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۶۴۶)
درمختار میں ہے:
لایفرق بینھما بعجزہ عنھا وبعد الفرض یامرہ القاضی بالاستدانۃ لتحیل علیہ ۳؎۔
خاوند اگر نفقہ کی ادائیگی سے عاجز ہوتو دونوں میں تفریق نہ کی جائے گی اور نفقہ مقرر کردیا ہوتو قاضی خاوند کے نام قرض لے کر خرچ کرنے کا حکم دے گا۔(ت)
(۳؎ درمختار     باب النفقۃ    مطبع مجتبائی دہلی     ۱ /۲۶۹)
اور زید کے باپ پر دعوٰی کا اصلاً اثر نہیں ہوسکتا کہ جوان بیٹے غیراپاہج کی زوجہ کا نفقہ باپ پر کہیں لازم نہیں،
درمختار میں ہے:
فی الملتقی نفقۃ زوجۃ الابن علی ابیہ ان کان صغیرافقیرا اوزمنا۱؎۔
ملتقی میں مذکور ہے کہ اگر خاوند نابالغ فقیر یا اپاہج ہوتو اسکی بیوی کا نفقہ نابالغ کے والد کے ذمہ ہے۔(ت)
 (۱؎ درمختار     باب النفقۃ     مطبع مجتبائی دہلی     ۱ /۲۷۳)
ردالمحتار میں ہے:
وقد علمت ان المذھب عدم وجوب النفقۃ لزوجۃ الابن ولوصغیرافقیرا۲؎۔
آپ کو معلوم ہوگیا ہے کہ نابالغ کی بیوی کا نفقہ والد کے ذمہ نہ ہونا ہی مذہب ہے اگرچہ وہ فقیر ہو۔(ت)
 (۲؎ ردالمحتار     باب النفقۃ    داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۶۷۴)
رہا مہر سائل مظہر کہ اس میں کوئی شرطِ تعجیل و تاجیل نہ تھی اورلبکن میں بھی یہی رواج ہے جو یہاں عامہ بلاد میں ہے کہ قبل از افتراق بموت یا طلاق ادا نہیں ہوتا  تو ہندہ کا مطالبہ مہر بیجا ہے جب تک زید اسے طلاق نہ دے یا دونوں میں کوئی مر نہ جائے۔
نقایہ میں ہے:
المعجل والمؤجل ان بینافذاک والافالمتعارف۳؎۔
مہر معجل یا مؤجل اگر بیان کردیا ہوتو وہی واجب ہے ورنہ عرف میں جو رواج ہو وہ واجب ہوگا۔(ت)
 (۳؎ المختصر الوقایۃ فی مسائل الھدایۃ کتاب النکاح     نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی     ص۵۶۱)
اور ا س بچے نابالغ کی پرورش بیشک ذمہ زید لازم ہے، رہے گا سات برس کی عمر تک ماں کے پاس بشرطیکہ وہ اپنی بدکاری سے بازآئے اور آوارگی چھوڑچکی ہو اور نفقہ پائے گا باپ سے بشرطیکہ اپنا کوئی مال نہ رکھتا ہو اس عمر تک اجرت یا حرفت سے اپنے کھانے پہننے کے قابل کماسکے اس کی خبر گیری باپ پر واجب ہے،
درمختار میں ہے:
تجب النفقۃ لطفلہ الفقیر۴؎۔
چھوٹے فقیر بچے کا نفقہ والد پر لازم ہے۔(ت)
(۴؎ درمختار     باب النفقۃ    مطبع مجتبائی دہلی   ۱ /۲۷۳)
ردالمحتار میں ہے:
ای ان لم یبلغ حدالکسب فان بلغہ کان للاب ان یوجرہ او یدفعہ فی حرفۃ لیکتسب وینفق علیہ من کسبہ لوکان ذکرا۵؎الخ، واﷲ تعالٰی اعلم۔
بشرطیکہ وہ نابالغ بچہ محنت کی عمر کو نہ پہنچا ہو، اور اگر وہ اس عمر کو پہنچ گیا ہوتو والد اس کوملازمت دلائے  یا کسی کارخانہ میں مزدوری پر لگائے تاکہ اس کی کمائی کو اس پر خرچ کرے بشرطیکہ لڑکا ہوالخ، واﷲتعالٰی اعلم۔(ت)
 (۵؎ ردالمحتار     باب النفقۃ   داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۶۷۰ و ۶۷۱)
Flag Counter