فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۳(کتاب الطلاق ،ایمان، حدود وتعزیر )
112 - 175
مسئلہ۱۵۵: از ڈاکخانہ سجولی ضلع بہرائچ مرسلہ شیخ عبدالعزیز صاحب ۷رمضان ۱۳۱۰ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایامِ عدت کا نفقہ اور سکونت کا مکان دینا بذمہ زید واجب تھا لیکن زید نے بعد طلاق ہندہ کو اپنے مکان سے نکال دیا اور نفقہ بھی نہیں دیا اس شکل میں ایام عدت کا نفقہ اور مکانِ سکونت کا معاوضہ ہندہ زید سے پاسکتی ہے یانہیں؟بینواتوجروا۔
الجواب
عدت طلاق کا نفقہ وسکنٰی اگرچہ بذمہ زید واجب تھا اور وہ عورت کو نکال دینے سے گنہگار ہوا مگر جبکہ عدت گزر گئی اور نفقہ مفروض ومقدور نہ ہوچکا تھا تو اس کا کوئی معاوضہ ہندہ کو نہ ملے گا۔
فی الھندیۃ المعتدۃ اذالم تخاصم نفقتھا ولم یفرض القاضی شیأ حتی انقضت العدۃ فلانفقۃ لھا کذافی المحیط۲؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
ہندیہ میں ہے کہ جب عدت والی عورت اپنے نفقہ کے متعلق خاوند کے خلاف دعوٰی نہ کرے اور نہ ہی قاضی نے ابھی اس کے لئے کوئی نفقہ مقرر کیا ہوحتی کہ عدت ختم ہوجائے تو اب عورت کے لئے نفقہ کا استحقاق نہیں ہے، محیط میں یونہی مذکور ہے۔(ت)واﷲ تعالٰی اعلم
(۲؎فتاوٰی ہندیۃ الفصل الثالث فی نفقۃ المعتدۃ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ /۵۵۸)
مسئلہ ۱۵۶: از پیلی بھیت ۲۱شوال ۱۳۰۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص نے اپنے دو نکاح کئے اور ایک زوجہ کے نان ونفقہ میں کم کمی کی اس زوجہ نے بوجہ تکلیف ضروریات بقدر ضرورت قرض لے کر خرچ کیا اس صورت میں ادائے قرضہ ذمہ زوج ہوگایا زوجہ اور مستحق و طالب اپنے مہر کی بغیرطلاق ہر وقت ہے یانہیں ا ور در صورت نہ وہونے طلاق خواہان مکان سکونت و نیز ہوسکتی ہے یانہیں اور برتقدیر ثبوت وطلب زوج کی آمدنی سے کس قدر لے سکتی ہے؟بینوتواجروا۔
الجواب
زوجہ کو بلاوجہ تکلیف دینا ایک گناہ اور دوسری زوجہ سے کم رکھنا دوسرا گناہ شدید جس کی تحریم پر قرآن و حدیث ناطق مگر جب تک نفقہ باہمی تراضی اور قضائے قاضی سے مقرر نہ ہوجائے عورت جو کچھ بطور خود اپنے مصارف کے لئے قرض لے کراُٹھائے گی وہ قرض عورت ہی پر ہوگا شوہر سے مجرانہ پاسکے گی اگر خورد و نوش وغیرہما مصارف ضروریہ ہی کے لئے بقدر ضرورت و بحال ضرور ت ہی لے اگرچہ زوج محض ظلماً اسے نفقہ نہ دے۔
عالمگیری میں ہے:
استدانت علی الزوج قبل الفرض والتراضی فانفقت انھا لاترجع بذٰلک علی زوجھا بل تکون متطوعۃ بالانفاق سواء کان الزوج غائبااوحاضرا۱؎۔
عدت والی نے خاوند کے نام پر قرض لیا جبکہ ابھی تک قاضی نے کوئی مقرر نہ کیا ہو اور نہ ہی ابھی آپس میں رضامندی سے نفقہ ہوا جبکہ عورت اس قرض کو خرچ کرچکی ہو، تو اب عورت اس قرض کے متعلق خاوند سے مطالبہ نہیں کرسکتی بلکہ یہ کارروائی اس کی رضا کارانہ قرار دی جائے گی، خاوند موجود ہو یا غائب دونوں صورتوں میں حکم یکساں ہے۔(ت)
ہاں اگر حکم قاضی یا باہمی تراضی سے قرار پاگیا تھا کہ مثلاً روپے روز یا بیس روپے ماہانہ خواہ اس قدر غلّہ ولباس سالانہ اس عورت کا نفقہ ہے کہ روزانہ یا ماہ بماہ یا سالانہ شوہر ادا کرے گا اور اس قرار داد کے بعد نہ دیا اور عورت نے قرض لیا خواہ اپنے ذاتی مال سے صرف کیا تو بیشک شوہر سے بقرار داد مجرا لے سکتی ہے
وان کان الدین علیھا نفسھا اذا لم تکن الاستدانۃ بامرالقاضی۔
اگر عورت نے قرض لیا ہوتو وہ خود ذمہ دار جب وہ قرض قاضی کے فیصلہ کے بغیر لیا ہو۔(ت)
عالمگیری میں ہے:
ولوانقضت من مالھا بعد الفرض او التراضی لھا ان ترجع علی الزوج وکذا اذا استدانت علی الزوج سواء کانت استد انتھا باذن القاضی او بغیر اذنہ غیر انھا ان کانت بغیر اذن القاضی کانت المطالبۃ علیھا خاصۃ ولم یکن للغریم ان یطالب الزوج بمااستدانت وان کانت باذن القاضی لھا ان تحیل الغریم علی الزوج فیطالبہ بالدین ھکذا فی البدائع۱؎۔
اگر عورت نے اپنے مال میں سے صرف کیا جبکہ قاضی نے اس کا نفقہ مقرر کردیا ہو یا آپس میں عورت اور خاوند نے طے کرلیا ہوتو پھر عورت وہ صرف شدہ مال خاوند سے وصول کرسکتی ہے اور یونہی اپنے مال کی بجائے اگر اس نے خاوند کے نام پر قرض لیا ہو تو اگر قاضی کے حکم واجازت پر لیا ہو توخاوند سے وصول کرے گی اور اگر قاضی کےحکم واجازت کے بغیر لیا ہوتو قرض کا مطالبہ صرف عورت سے ہوگا قرض خواہ کو عورت کی بجائے خاوند سے مطالبہ کا حق نہ ہوگا، اور جب قاضی کے حکم اور اجازت سے عورت نے قرض لیا تو عورت کو جائز ہوگا کہ وہ اس قرض کے مطالبہ کو خاوند کے ذمہ کر دے تاکہ قرض خواہ اب خاوند سے مطالبہ کرے، بدائع میں یوں ہی بیان ہے۔(ت)
النفقۃ لاتصیر دینا الابا لقضاء اوالرضاء ای اصطلاحھما علی قدر معین اصنافاو دراہم فقبل ذٰلک لایلزمہ شیئ و بعدہ ترجع بما انفقت ولو من مال نفسھا بلا امر قاض۲؎۔
عورت کا لیا ہوا قرض خاوند کے ذمہ صرف اس وقت ہوگا جب عورت نے وہ قرض قاضی کے حکم پر یا خود خاوند کے ساتھ مصالحت میں طے کرلیا ہو کہ فلاں جنس یا نقد اتنی مقدار ہوگی، اس سے قبل لیا ہوا قرض خاوند کے ذمہ نہ ہوگا، اور بعد میں عورت کا لیا ہواقرض، خواہ اپنے مال سے ہی قاضی کے حکم کے بغیر اس نے صرف کیا ہو تو خاوند سے وصول کرسکتی ہے(ت)
(۲؎ درمختار باب النفقۃ مطبع مجتبا ئی دہلی ۱ /۲۷۰)
ردالمحتار میں بحرالرائق سے ہے:
لاترجع بما استقرضت بل بالمفروض فقط۳؎۔
عورت نے نفقہ کے لئے قرض لیا تو خاوند سے اس کا مطالبہ نہیں ہوگا بلکہ خاوند سے صرف اسی صورت میں مطالبہ کرسکے گی جب قاضی کی طرف سے یا آپس میں طے کرلیا ہو۔(ت)
(۳؎ ردالمحتار باب النفقۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۶۵۹)
اورمہر میں جبکہ تعجیل و تاجیل کچھ بیان میں نہ آئی یہ نہ شرط کی جائے کہ کل اس قدر پیشگی لیا جائے گا نہ کوئی میعاد قرار پائے کہ فلاں وقت معلوم یا اتنی مدت کے بعدادا ہوگا تو اس وقت عرف ورواجِ بلد پر چھوڑا جائے گا۔
نقایہ میں ہے:
المعجل والمؤجل ان بُیِّنَا فذٰلک والا فالمتعارف۱؎۔
مہر معجل یا مؤجل اگر بیان کردیا ہوتو وہی ورنہ عرف کے مطابق ہوگا۔(ت)
(۱؎ مختصر الوقایۃ فی مسائل الھدایۃ فصل اقل المہر عشرۃ دراہم نور محمد کار خانہ تجارت کتب کراچی ص۵۶)
سائل زبانی مظہر کے یہاں صورت واقعہ یونہی تھی یعنی تعجیل و تاجیل کچھ مشروط نہ ہوئی اور واقعی ہمارے بلاد میں عامہ مہور ایسے ہی بندھتے ہیں تو بحکم عرف شائع و ذائع(کہ ہرگز نہ کسی قدر مہر پیشگی دینا معہود ہے، نہ اسکے لئے کوئی میعاد معلوم متعارف بلکہ عامہ بیوت میں موت یا طلاق تک مؤخر رہتا ہے) یہاں کی عورتیں جب تک مرگ یا طلاق سے افتراق نہ واقع ہوہرگز مطالبہ مہر کا استحقاق نہیں رکھتیں، نہ قاضی کو اختیار کہ ایسی صورت میں پیش از فراق ادائے مہر پر جبر کرے،
خانیہ میں ہے:
ان کان الاجل معلوما صح التاجیل وان لم یکن لایصح، ولایجبرہ القاضی علی تسلیم الباقی ولایحبسہ۲؎۔
اگر مہر کی مدت مقرر ہے تو مؤخر صحیح ہے ورنہ صحیح نہیں اور قاضی باقی مہر کی ادائیگی کےلئے خاوند پر جبر نہیں کرسکتا اور نہ ہی اس کو قید کرسکتا ہے۔(ت)
لان حق طلبہ انما ثبت لھا بعد الموت اوالطلاق لامن وقت النکاح۳؎۔
کیونکہ بیوی کو مہر کے مطالبے کا حق خاوند کی موت یا طلاق کے بعد ہوگا، نکاح کرتے ہی مطالبے کا حق نہیں ہوگا۔(ت)
(۳؎ ردالمحتار فصل فی الحبس داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ /۳۴۳)
اور جب تک کوئی امر مانع نفقہ مثلاً عورت کا شوہر کے گھر سے ناحق نکل جانا یا اس کے یہاں آنے سے ناحق انکار کرنا نہ پایا جائے بلاشبہہ وہ مستحقِ نفقہ وسکنی رہے گی، اسی طرح جب یہ موانع زائل ہوجائیں گے مثلاً عورت شوہر کے یہاں واپس آئے گی تو پھر بدستور مستحق نفقہ ہوجائے گی،
درمختارمیں ہے:
النفقۃ تجب للزوجۃ علی زوجھا ولوھی فی بیت ابیھا اذالم یطالبھا الزوج بالنقلۃ بہ یفتی وکذا اذا طالبھا ولم تمتنع او امتنعت للمھر، لاخارجۃ من بیتہ بغیر حق وھی الناشزۃ حتی تعود۱؎اھ ملخصاً۔
اگر بیوی اپنے والد کے گھر ہو تو خاوند اس کو اپنےگھر منتقل کرنے کا مطالبہ نہ کرے تو تب بھی خاوند پر نفقہ زوجہ واجب ہوگا، اور یوں ہی جب وہ خاوند کے مطالبہ پر اس کے گھر منتقل ہونے سے انکار نہ کرتی ہو یا وہ اپنے مہر کے مطالبہ کی وجہ سے منتقل ہونے سے انکار کر رہی ہوتو بھی خاوند پر اس کا نفقہ واجب ہوگا جبکہ خاوند کے گھرسے باہر بلاوجہ رہ رہی ہوتو نفقہ واجب نہ ہوگا کیونکہ اس صورت میں وہ خاوند کے گھر واپس نہ آنے تک نافرمان قرار پائے گی اھ ملخصاً(ت)
( ۱؎ درمختار باب النفقۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۲۶۶)
رہا مطالبہ اگر نفقہ قضایا رضا سے مقرر ہولیا ہے تو جتنے دن بعد قرار داد بے نفقہ گزر گئے ان کا بھی مطالبہ کرسکتی ہےکمااسلفنا(جیسا کہ ہم نے پہلے بیان کردیا ہے۔ت) اور آئندہ کے لئے بھی جو میعاد تکرار نفقہ کے لئے قرار پائی ہے اس کے شروع کے بعد اسی قدر کا مطالبہ کرسکتی ہے مثلاً نفقہ ماہ بماہ دینا ٹھہرا ہوتو ہر مہینے کے شروع پر اس مہینے اور سال بسال مقرر ہوا ہوتو ہر سال کے آغاز پر اس سال کا نفقہ مانگ سکتی ہے اس سے زیادہ مثلاً چاند دیکھے یا سال پلٹے آئندہ کے دو مہینے یا دوبرس خواہ اس ماہ یا سال کا ہنوز آغاز نہ ہوا نفقہ نہیں مانگ سکتی،
ردالمحتار میں ہے:
النفقۃ تفرض لمعنی الحاجۃ المتجددۃ فاذا فرضت کل شھر کذاصارت الحاجۃ متجددۃ بتجدد کل شھر فقبل تجددہ لایتجدد الفرض فلم تجب النفقۃ قبلہ انہ لو فرض کل سنۃ کذاصح الابراء عن سنۃ دخلت، لاعن اکثر ولاعن سنۃ لم تدخل۲؎اھ ملخصاً۔
آئندہ کا نفقہ آئندہ نئی حاجت کی وجہ سے فرض ہوتا ہے تو جب ماہانہ خرچہ مقرر ہولے تو نئے ماہ پر گویا عورت کو حاجت بھی نئی ہوئی تو نئی حاجت سے قبل نیا نفقہ مقرر نہ ہوگا لہذاادائیگی بھی پہلے واجب نہ ہوگی، اور اگر خرچہ سالانہ طے شدہ ہوتو صرف شروع ہونے والے سال کا نفقہ لازم ہوگا، سال شروع ہونے سے پہلے کا اور سال سے زیادہ کا بھی لازم نہ ہوگااھ ملخصاً(ت)
(۲؎ ردالمحتار باب النفقۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۶۵۳)
سال کے پہلے مہینہ میں دیا ہوا خرچہ مدت کے اختتام تک کی ادائیگی ہوتی ہے اس کے بعد اضافت ہوتی ہے اس لئے مہینہ شروع ہونے پر ہی ادائیگی ہوگی، یوں ہی جاری رہے گا۔(ت)
(۱؎ بحرالرائق باب النفقۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۴ /۱۸۸)
اور اگر ہنوز نفقہ کے لئے کوئی تقرر وتعین نہ قضاءً ہوا نہ رضاءً تو عورت نہ ایامِ ماضیہ کا مطالبہ کرسکتی ہے نہ آئندہ کا۔
ردالمحتار میں ہے:
لایلزمہ عما مضی قبل الفرض بالقضاء او الرضاء ولاعما یستقبل لانہ لم یجب بعد۲؎۔
قاضی کی طرف سے مقرر کئے یا آپس میں مصالحت سے طے کئے بغیر سابقہ مدت کا خرچہ خاوند پر لازم نہ ہوگا اور یونہی پیشگی ادا کرنا بھی لازم نہ ہوگا کیونکہ نفقہ ابھی خاوند کے ذمہ واجب نہیں ہوا۔(ت)
(۲؎ ردالمحتار باب النفقۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۶۵۸)
ہاں قبل از قرار داد عورت یہ اختیار رکھتی ہے کہ شوہر برضا مندی نفقہ مقرر نہ کرے تو حاکمِ شرع کے حضور قرار داد کرنے کی نالش کرے جب بحکم قاضی کوئی ماہانہ سالانہ یا روزانہ یا فصلانہ مقرر ہوجائے تو اس کے بعد اسے بہ تفصیل مذکور مطالبہ و دعوٰی پہلے گا۔
تنویر الابصار میں ہے:
یقدرھا ان طلبتہ ۳؎اھ ملخصاً
(اگر عورت مطالبہ کرے تو قاضی نفقہ مقررکردے اھ ملخصاً۔ت)
(۳؎ درمختار باب النفقۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۲۶۸)
اور نفقہ مردوزن دونوں کی حیثیت دیکھ کر مقرر کیا جائے گا اسی قدر آمدنی زوج سے لے سکتی ہے، اگر دونوں غنی ہیں تو اغنیاء کے لائق، اور دونوں فقیر تو فقراء کے قابل، اور ایک غنی اور ایک فقیر تو متوسط یعنی نفقہ اغنیاء سے کم اور نفقہ فقراء سے زائد، مثلاً عورت کی حیثیت اطلس و زر بفت و مشجر پہننے اور بریانی و مزعفر وگوشت مرغ کھانے کی ہے اور مرد کی مقدرت چھینٹ چار خانے دال ماش نان جو کھانے کے قابل یا بالعکس تو عورت کےلئے تنزیب و گلبدن و مشروع کا لباس اور گوشت گو سپند و نان گندم مقرر کریں گے، جتنا بالفعل دے سکتا ہے دے باقی اس کے ذمے دین رہے گا یہاں تک کہ اللہ عزّوجل استطاعت بخشے۔
خاوندپر دونوں کی حیثیت کے لحاظ سے نفقہ واجب ہوگا، اسی پر فتوٰی دیا جائے گا، اور خاوند اپنی وسعت کے مطابق ادائیگی کا مکلف ہوگا اور باقی رہ جائے تو وہ اس کے ذمہ قرض ہوگا جس کو اپنی سہولت سے ادا کریگااھ ملخصاً(ت)
(۴؎درمختار باب النفقۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۲۶۶)
ردالمحتار میں ہے:
فی البحر اتفقوا علی وجوب نفقۃ الموسرین اذاکانا موسرین وعلی نفقۃ المعسرین اذاکانا معسرین وانما الاختلاف فیما اذاکان احدھما موسرا او الاخر معسرا فعلی المفتی بہ تجب نفقۃ الوسط وھو فوق نفقۃ المعسرۃ ودون نفقۃ الموسرۃ۱؎اھ ملخصاً۔
بحر میں ہے: سب کا اتفاق ہے کہ اگر دونوں خوشحال ہیں تو ان کے حال کے مطابق خاوند پر نفقہ واجب ہوگا اور اگر دونوں تنگ دست ہیں تو ان کے حال کے مطابق خاوند پر واجب ہوگا، اور اختلاف صرف اس صورت میں ہے جب دونوں میں سے ایک امیراور دوسرا غریب ہے تو مفتیٰ بہ قول یہ ہے کہ دونوں کے حال کی رعایت پر درمیانہ نفقہ واجب ہوگا، اور وہ یہ کہ خوشحالی سے کم اور تنگ دستی سے زائد ہو، اھ ملخصاً۔(ت)
(۱؎ ردالمحتار باب النفقۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۶۴۵)
اگر خاوند انتہائی خوشحال ہونے کی بناء پر صاف باریک آٹا، مرغ کا گوشت کھاتا ہے اور بیوی انتہائی تنگ دستی کی بناء پر اپنے گھر والوں کے ہاں جو کی روٹی کھاتی ہو تو خاوند اس کو گندم کی روٹی اوربکرے کا گوشت نفقہ کے طور پرکھانے کو دے گا۔ واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم جل مجدہ اتم واحکم۔(ت)
(۲؎ ردالمحتار باب النفقۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۶۴۵)