فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۳(کتاب الطلاق ،ایمان، حدود وتعزیر )
111 - 175
بابُ النفقۃ
(نفقہ کا بیان)
مسئلہ۱۵۳: ۹ ربیع الاول شریف۱۳۰۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنی عورت کو تین طلاقیں دیں اور عدت گزرچکی اب عورت کانفقہ زید پر واجب ہے یانہیں؟بینواتوجروا(بیان کیجئے اجر پائیے۔ت)
الجواب
اگر فی الواقع عدت گزرچکی(یعنی حاملہ تھی تو وضع حمل ہوگیا ورنہ طلاق کے بعد تین حیض شروع ہوکر ختم ہولئے) تواب نفقہ واجب نہیں کہ مطلقہ کا نفقہ عدت تک ہے بعد عدت کوئی علاقہ باقی نہیں جس کے سبب نفقہ لازم ہو،
فی ردالمحتار النفقۃ تابعۃ للعدّۃ۱؎
(ردالمحتار میں ہے: عورت کا نفقہ عدت کے تابع ہے۔ت) واﷲ تعالٰی اعلم۔
(۱؎ ردالمحتار باب النفقۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۶۶۹)
مسئلہ۱۵۴:از ٹونک محلہ قافلہ مرسلہ مولوی سید ولی اﷲ صاحب ۲۱شوال۱۳۰۹ھ
بعدعالی جناب فیض مآب حضرت مولٰنا وبالفضل اولانا قبلہ وکعبہ ام مولٰنا احمد رضاخاں صاحب ادام اﷲ فیضہ، پس از تسلیم نیاز معروض می دارد۔ نقل اقرار نامہ بذریعہ ہذا خدمت شریف میں ابلاغ ہے بروئے اس کے مدعیہ مسماۃ رقیہ بیگم کو اختیار حاصل ہے کہ بصورت ہونے تکلیف کے اپنے والدین کے مکان پر جاکر ہمیشہ رہے یا نہیں، اور جواز اس کا شرع سے ہے یانہیں؟
اوّل یہ تکلیف ہے نان نفقہ جو پہلے دیتا تھا نہیں دیتا باوجود مقدوری کے۔
دوسرے سخت و سست بولتا ہے۔
تیسرے بد عہدی کرتا ہے کہ حقِ زوجہ ادا نہیں کرتا ہے۔
چوتھے والدین کے مکان پر حسبِ اقرار جانے نہیں دیتا۔
پانچویں وعدہ تھا کہ مہر معجل دوں گا، اور ڈگری بھی شریعت سے ہوگئی یکمشت دلانے کی، آج تک نہیں دیا، برخلاف اس کے (ماعہ۸/) دئے ہیں باقی ہنوز بے وصول ہیں، اور یہ بھی مسمّاۃ کہتی ہے اگر مکان مسکونہ جو متصل والدین کے ہے ا س میں تکلیف ہے دیگر محلہ میں رہے تو نہیں رہنے دیتا، یہ درخواست بھی قابل لحاظ ہے یانہیں؟ مہر شریعت ناظم شریعت
نقل اقرار نامہ
میں کہ سید احمد علی بن سید اکبر علی مرحوم ساکن کالی پلٹن ام جو کہ مسماۃ رقیہ بیگم زوجہ مظہر نے نسبت میرے دعویات تکلیفات قسم قسم و زرِ مہر وغیرہ دائر عدالت شرع شریف کئے ہیں بناء براں فی الحال اقرارکرتا ہوں و لکھے دیتا ہوں کہ آئندہ کسی قسم کی تکلیف مسماۃ مذکور کو نہ دوں گا اور حسنِ سلوک خود سے سب طرح رضا مند رکھا کروں گا اگر خلاف شرع کے کوئی بات نسبت مسماۃ مذکور کروں اور زوجہ میری مجھ سے ناراض ہوتو بدل اس بدعہدی کااس صورت میں حسب تحریر معاہدہ ہذا کے مدعیہ اختیار کھتی ہے کہ اپنے والدین کے مکان پر جارہے میں مزاحمت نہیں کروں گا اور مسافرت کو نہیں جانے پائے گی، لہذا یہ چند کلمہ بطریق اقرار نامہ لکھ دئے کہ سند ہو فقط، المرقوم ۱۷ذی قعدہ ۱۳۰۸ہجریہ
العبد
سید احمد علی
گواہ شد گواہ شد
منشی عبداﷲ وکیل بقلم خود نصرت یا رخاں(دستخط ہندی)
امید کہ براہ عنایت بزرگانہ اس کا جواب تحریر فرماکر تابعدار کو سرفراز فرمایا جائے۔ عریضہ ادب: محمد ولی اﷲ عفا عنہ مولاہ برادر حقیقی مولوی سید ظہور ا ﷲ صاحب از ریاست ٹونک
الجواب
یہ اقرار نامہ کوئی چیز نہیں، نہ اس کے سبب رقیہ بیگم اپنے شوہر کا وہ حق جو شرع اس کے لئے ثابت کرے، بعد ثابت ہونے کے ساقط و باطل کرسکتی ہے، شرع مطہر نے شوہر کو حق حبس دیا ہے کہ عورت کو اپنے پاس رکھے، مگر یہاں بات یہ ہے کہ جب سید احمد علی نے ابھی رقیہ بیگم کا مہر معجل ہی پورا ادا نہ کیا ہنوز سید مذکور کو رقیہ بیگم کے حبس کرنے اور اپنے پاس رکھنے کا سرے سے اختیار ہی حاصل نہ ہوا کہ شوہر کو یہ اختیار بعد ادائے مہر معجل حاصل ہوتا ہے بلکہ ہمارے امام اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے مذہب میں تو اس کے وصول سے پہلے برضائے زوجہ وطی واقع ہونا بھی عورت کو حبس پر مجبور نہیں کرتا،
ھذاھو مذہب الامام وعلیہ المتون فعلیہ التعویل کماحققناہ فی کتاب النکاح من فتاوٰنا بتوفیق اﷲ تعالٰی۔
امام اعظم رحمہ اﷲ تعالٰی کا یہی مذہب اور اس پر متون وارد اسی پر اعتماد ہے جیسا کہ ہم نے اﷲ تعالٰی کی توفیق سے اپنے فتاوٰی کے کتاب النکاح میں اس کی تحقیق کی ہے۔(ت)
درمختار میں ہے:
لھامنعہ من الوطی ودواعیہ، شرح مجمع، والسفر بھا ولو بعد وطی وخلوۃ رضیتھمالان کل وطأۃ معقود علیھا فتسلیم البعض لایوجب تسلیم الباقی۱؎۔
بیوی کو حق حاصل ہوگا کہ وہ خاوند کو جماع اور اس کے دواعی سے روک دے، شرح مجمع۔ اور سفر پر ہمراہ لے جانے سے بھی روک سکتی ہے اگرچہ وطی اور خلوت برضا کے بعد چاہے تو بھی روک سکتی ہے، کیونکہ ہر بار کا جماع عقد کا بد ل ہے بعض کو سونپنا کل بدل کا سونپ دینا نہیں بنتا۔(ت)
قولہ سفر پر لے جانا، یہ باہر لے جانے کی تعبیر سے بہتر ہے جیسا کہ کنز میں تعبیر کیا گیا ہے کیونکہ باہر لے جانا تو گھر باہر ہمراہ کرنے کوبھی شامل ہے جیسا کہ کنز کے شارحین نے کہا ہے ط۔(ت)
(۲؎ ردالمحتار باب المہر داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۳۵۸)
تو صورتِ مستفسرہ میں جب تک باقی مہر معجل ادا نہ ہوجائے رقیہ بیگم کو اختیار ہے کہ شوہر گھر نہ جائے اسے اپنے پاس آنے نہ دے، نہ اپنے بدن کو ہاتھ لگانے دے، ہاں جب وہ مہر معجل تمام و کمال ادا کرلے اس وقت رقیہ بیگم بے اذن شوہر اپنے گھر نہیں رہ سکتی، نہ اس اقرار نامہ کی بنا پر شوہر سے مواخذہ کرسکتی ہے کہ بالفعل شوہر کو حق حبس حاصل نہ ہونا جس طرح ابھی رقیہ بیگم کو تاادائے مہر معجل آزادی دے رہا ہے یونہی اقرار نامہ کو بھی باطل محض و بے اثر کررہا ہے کہ اس کا حاصل اگر ہے تو یہی کہ شوہردر صورت بد عہدی اپنے حقِ حبس کو ساقط کرتا ہے وہ حق اسے ہنوز حاصل ہی نہیں تو ساقط کس چیز کو کرے گا، اسقاط کےلئے پہلے ثبو ت درکار، جو شئی ہنوز ثابت نہیں ساقط کیا ہوگی، تو احمد علی کی یہ تحریر محض مہمل و بیکار ہوئی جس سے رقیہ بیگم کو کسی وقت استناد کا محل نہیں، امام علامہ زیلعی تبیین الحقائق شرح کنز الدقائق میں فرماتے ہیںــ:
لھا ان ترجع ان وھبت قسمھا للاخری، لانھا اسقطت حقالم یجب بعدفلا یسقط، وھذالان الاسقاط انما یتحقق فی القائم ۱؎ الخ۔
بیوی نے اگر اپنی باری کا حق دوسری بیوی کو دیا ہو تو وہ واپس اپنا حق لے سکتی ہے کیونکہ اس نے اپنے حق کو ساقط کیا جو ابھی تک خود اس کے لئے واجب وثابت نہ ہوا تھا لہذا وہ ساقط نہ ہوا، یہ اس لئے کہ اسقاط تب قرار پاتا ہے جب وہ خود ثابت ہوجائے(ت)
( ۱؎ تبیین الحقائق باب القسم المطبعۃ الکبریٰ الامیریہ ببولاق مصر ۲ /۱۸۱)
پھر اس تقریر کی بھی حاجت کہ نفس عبارت دستاویز کو خلل سے سالم مان لیا جائے ورنہ نظر فقہی تو (قطع نظر اس سے کہ مہر معجل ہنوز ادا ہوا یانہیں اور وطی برضائے رقیہ بیگم واقع ہوئی یانہیں) خود اس نفس تحریر کو مہمل و مختل بتاتی ہے کہ اس نے اسقاط حبس کو معلق کیا اور یہ اسقاط سرے سے قابلیتِ تعلیق نہیں رکھتا،
کیونکہ یہ وہ چیز ہے جس کا حلف(کسی شے سے مشروط کرنا) نہیں دیا جاسکتا جیسا کہ مخفی نہیں ہے،ا ور ہرا س چیز کا اسقاط جوقابل حلف نہ ہوتو اس کی تعلیق (شرط سے مشروط کرنا) صحیح نہیں۔(ت)
جس چیز کوکسی شرط سے مشروط کیا جاسکتا ہے وہ صرف اسقاطات محضہ ہیں جن کا حلف دیا جاسکتا ہے جیسا کہ طلاق و عتاق ہے، اوروہ التزامات ہیں جن کا حلف دیا جاسکتا جیسا کہ حج و نماز ہے اور وہ معاملات کی ذمہ داریاں ہیں، جیسا کہ قضاء اور امارت ہے، عینی اور زیلعی۔(ت)
(۱؎ درمختار کتاب البیوع مایبطل بالشرط الفاسد الخ مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۵۴)
ردالمحتار میں خلاصہ سے ہے:
انمایحتمل التعلیق بالشرط مایجوز ان یحلف بہ۲؎۔
کسی شرط کے ساتھ وہی چیزیں معلق ہونے کا احتمال رکھتی ہیں جن کا حلف دیا جاسکے۔(ت)
(۲؎ ردالمحتار کتاب البیوع مایبطل بالشرط الفاسد الخ داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ /۲۲۵)
اسی میں عینی سے ہے:
انہ لیس مما یحلف بہ فلایصح تعلیقہ بالشرط۳؎۔(تلخیصاً)
وہ چونکہ ایسی چیز ہے جس کا حلف نہیں دیاجاسکتا لہذا اس کی کسی شرط سے تعلیق جائز نہیں تلخیصاً(ت)
(۳؎ ردالمحتار کتاب البیوع مایبطل بالشرط الفاسد الخ داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ /۲۲۶)
اسی میں ہے:
اعلم ان قولہ لایصح تعلیقہ لیس المراد بہ بطلان نفس التعلیق مع صحۃ المعلق بل المراد انہ لایقبل التعلیق بمعنی انہ یفسد بہ۴؎۔
واضح کہ ماتن کے قول''لایصح تعلیقہ'' سے مراد یہ نہیں کہ معلق شدہ چیز کی صحت کے باوجود محض معلق کرنا (نفس تعلیق) باطل ہے، بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ وہ چیز تعلیق کو قبول نہیں کرتی لہذا وہ تعلیق کے قابل نہ ہونے کی وجہ سے تعلیق سے فاسد ہوجاتی ہے(ت)
(۴؎ ردالمحتار کتاب البیوع مایبطل بالشرط الفاسد الخ داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ /۲۲۲)
بہر حال حکم یہی ہے کہ دستاویز مذکور مہمل و باطل اور رقیہ بیگم کو تاادائے مہر معجل اپنے ماں باپ کے گھر رہنے اور شوہر کو ہاتھ نہ لگانے دینے کا خود ہی اختیار حاصل اور بعد ایفائے تمام مہر معجل رقیہ بیگم کایہ اختیار یک لخت زائل، ہاں والدین کے یہاں آٹھویں دن بے اجازتِ شوہر بھی جاسکتی ہے کہ دن کے دن رہے اور رات کو چلی آئے۔
ردالمحتار میں ہے:
فی البحر الصحیح المفتی بہ انھا تخرج للوالدین فی کل جمعۃ باذنہ وبدونہ وللمحارم فی کل سنۃ مرۃ باذنہ وبدونہ۱؎۔
بحر میں ہے: صحیح مفتیٰ بہ یہ ہے کہ بیوی ہر ہفتہ میں (شرعی اصطلاح جمعہ میں) خاوند کی اجازت ہو یا نہ ہو والدین کی ملاقات کے لئے گھر سے باہر جاسکتی ہے اور اپنے باقی محارم کی ملاقات کے لئے سال میں ایک مرتبہ جاسکتی ہے خاوند کی اجازت ہو یانہ ہو۔(ت)
(۱؎ ردالمحتار باب النفقۃ داراحیاء الترا ث العربی بیروت ۲ /۶۶۴)
اور دوسرے محلہ میں رہنے کی درخواست سے اگر رقیہ بیگم کی یہ مراد ہے کہ شوہر سے جدا رہے اور شوہر اس کے پاس نہ آنے پائے تو اس کا جواب تو ہوچکا کہ قبل ادائے مہر معجل اسے شوہر سے جدائی کا اختیار ہے اور بعد ادا ہر گز نہیں، اور اگر یہ مقصود ہے کہ یہاں شوہر اسے ایذائیں پہنچاتا تکلیفیں دیتا ہے اور کوئی اسے روکنے والا نہیں ہوتا لہذا چاہتی ہے کہ شوہر اسے ایسی جگہ اپنے پاس رکھے جہاں اس کا دستِ تعدی کوتاہ رہے تو بیشک یہ درخواست اس کی ضرور قابل لحاظ ہے حاکم شرع اس معاملہ میں غور فرمائے گا اگر رقیہ بیگم کا یہ بیان صحیح جانے گا اور شوہر کو زجرو منع سے کام چلتا نہ دیکھے گا نہ وہاں ہمسایوں میں کوئی اس قابل پائے گا جو شوہر کو دبائے اور ایذائے زوجہ سے مانع آئے تو ضرور ایسی ہی کوئی امن کی جگہ تجویز کرکے احمد علی کو حکم دے گا کہ رقیہ بیگم کو وہاں رکھے،
عالمگیری میں ہے:
ان اسکنھا فی منزل لیس معھا احد فشکت الی القاضی ان الزوج یضربھا ویؤذیھا و سألت القاضی ان یأمرہ ان یسکنھا بین قوم صالحین یعرفون احسانہ واساء تہ فان علم القاضی ان الامر کما قالت زجرہ عن ذٰلک و منعہ عن التعدی وان لم یعلم ینظر ان کان جیران ھذہ الدار قوما صالحین اقرھا ھناک ولکن یسأل الجیران عن صنعہ فان ذکر وامثل الذی ذکرت زجرہ عن ذٰلک ومنعہ عن التعدی فی حقھا وان ذکر وا انہ لایؤذیہا فالقاضی یترکھا ثمہ وان لم یکن فی جوارہ من یوثق بہ اوکانوایمیلون الی الزوج فالقاضی یا مرالزوج ان یسکنھا فی قوم صالحین ویسأل عن ذٰلک ویبنی الامر علی خبرھم کذافی المحیط۱؎، واﷲ تعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
اگرخاوند نے بیوی کو ایسے مکان میں رہائش دی جہاں عورت اکیلی ہے تو عورت نے قاضی سے شکایت کی کہ خاوند اسے پیٹتا اور اذیت دیتا ہے، اور قاضی سے درخواست کرتی ہے کہ وہ خاوند کو حکم دے کہ وہ ایسی جگہ اس کو رہائش دے جہاں ارد گرد نیگ لوگ ہوں جو خاوند کی نیکی وبدی معلوم کرسکیں تو اگر قاضی کومعلوم ہو عورت کی شکایت درست ہے تو وہ خاوندکو ڈانٹ کر اس کو زیادتی سے منع کرے اگر قاضی کو معلوم نہ ہوتو وہ معلوم کرے کہ اگر ارد گرد والے نیک لوگ ہیں تو عورت کو وہاں رہنے پر پابند کرے لیکن ساتھ ہی قاضی پڑوسیوں سے خاوند کے سلوک کے متعلق معلومات حاصل کرے اگر پڑوسی، عورت کی شکایت کی تائید کریں تو قاضی خاوند کو ڈانٹے اور زیادتی سے منع کرے، اور اگر پڑوسی لوگ کہیں کہ خاوند کوئی زیادتی اور اذیت نہیں دیتا تو قاضی عورت کو اسی مکان میں رہنے کا پابند کرے اور اگر عورت کے پڑوس میں کوئی قابلِ اعتماد شخص نہ ہو یا پڑوسی خاوند کے طرفدار ہوں تو پھر قاضی خاوند کو حکم دے گا کہ عورت کو نیک لوگوں کے پڑوس میں رہائش دے اور پھر قاضی اس معاملہ کے متعلق معلومات حاصل کرے اور پڑوسیوں کے بیان کو کارروائی کی بنیاد بنائے، محیط میں یوں ہی بیان کیا ہے، واﷲ تعالٰی اعلم، اوراﷲ جل مجدہ کا علم کامل اور محکم ہے(ت)