| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۳(کتاب الطلاق ،ایمان، حدود وتعزیر ) |
مسئلہ ۱۵۰ : از رنگون سورتی بازار دکان۲۶۸ مرسلہ شیخ عبدالستار بن اسمٰعیل صاحب ۲۶ذیقعدہ ۱۳۳۶۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ عمر کی دو لڑکیاں زبیدہ اور ہندہ تھیں، زبیدہ کا نکاح خالد سے ہوا اور ہندہ کا نکاح بکر کے لڑکے دلید سے۔ولید سے ہندہ کو ایک لڑکا زید تولد ہوا، بعد کو ولید انتقال کرگیا، کچھ عرصہ بعد زبیدہ جو کہ خالد کے نکاح میں تھی گزرگئی، اس کے بھی چند اولاد ہیں، بعد ایک عرصہ کے عمرو نے سنت رسول اﷲ صلی تعالٰی علیہ وسلم سمجھ کر بیوہ ہندہ کا نکاح اپنی مرحولم لڑکی زبیدہ کے خاوند سے کردیا، یہ بات ہندہ کے اگلے شوہر ولید کے باپ بکر کو ناگوار گزری اور ولید کے لڑکے زید کو اپنے قبضے میں لے لیا اور اس لڑکے کو اس کی والدہ سے اور والدہ کے رشتہ داروں سے ملنے جلنے نہ پائے اس کا سخت بدوبست کیا اس طرف اب زید کی والدہ جو نکاح ثانی کرچکی ہے لڑکے فراق میں سخت بے چین ہے روز و شب لڑکے کو یاد کرتی ہے اس بچے سے کسی طرح بھی ملنا چاہتی ہے حتی کہ ہندہ کی صحت بھی بگڑھ چکی ہے اس سبب سے ہندہ کے والد عمرو بھی بے چین ہیں اوربہت ذریعے سے بکر سے عرض کرچکے ہیں حتی کہ ایک جلسے جماعت مسلمین میں بھی یہ طے پایا کہ بکر کو جماعت کی طرف سے عرض کیا جائے کہ زید کو اس کی والدہ ہندہ کے پاس وقتاً فوقتاً کچھ دیر ملاقات کے لئے بھیجا کرے، مگر پھر بھی نتیجہ کچھ حاصل نہ ہوا، اب سوال یہ ہے کہ فعل بکر کا جائز ہے یانہیں؟ کس طرح کے حقوق اس وقت ایک دوسرے پر ہیں، کیا بکر پر فرض نہیں کہ زید کو اس کی والدہ کے پاس صرف ملاقات کے لئے بھیجا کرے، کیا ایسے افعال اور جبر سے نکاح ثانی جو کہ نہایت ضروری سنّت شریف ہے کہ کرنے میں رکاوٹیں پیدا نہ ہوں گی خصوصاً ایسی حالت میں جبکہ ہند میں اکثریہ مذموم رسم جاری ہے کہ نکاح ثانی نہیں کرتے، کیا والدہ بیچاری جس کی محبت بچے کے ساتھ اظہر من الشمس ہے خصوصاً بچہ جبکہ سات، آٹھ، نوسال ہی کا ہو اتنا بھی حق نہیں رکھتی کہ ایک آدھ مرتبہ بچے کی صورت دیکھ لے۔
الجواب اگر ماں دوسرا نکاح نہ بھی کرے تو لڑکا سات برس کی عمر کے بعد اس کے پاس نہ رکھا جائے گا دادا سے لے لے گا اور اگر سات برس سے کم عمر ہواور ماں دوسرا نکاح نہ کرے یا کرے تو لڑکے کے محرم یعنی چچا سے، تو لڑکا سات سال کی عمر ہیونے تک ماں کے پس رہے گا دادا نہیں لے سکتا، لیکن جب لڑکے کے نامحرم مثلاً خالو سے نکاح کر لے جیسے یہاں ہوا تو اس نکاح کرنے کو جو برا کہے گا سخت گنہگار ہوگا لیکن شوہر دوم نامحرم پسر ہونے کے سبب لڑکا ماں سے لے لیاجائے گا، یہ سب مسائل درمختار وغیرہ عامہ کتب میں مصرح ہیں مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ بچہ ماں سے بالکل تڑا لیا جائے اس سے ملنے تک نہ دیں، یہ حرام اور سخت حرام ہے۔ سنن ابن ماجہ میں ابو موسٰی اشعری رضی اﷲ عنہ سے ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لعنہ اﷲ من فرق بین الوالدۃ ولدھا۱؎۔
اﷲ کی لعنت ہے اس پر جو ماں اور اس کے بچے میں جدائی ڈالے۔
(۱؎ سنن ابن ماجہ باب النہی عن التفریق بین الصبی ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۶۳)
بکر پرلازم ہے کہ اس حرکت سے توبہ کرے اور بچے کو اس کی ماں سے ملنے دے اور بلاوجہ ایذائے مسلمان کا شدید وبال اپنے سر نہ لے۔ صحیح حدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من اٰذٰی مسلماً اٰذانی ومن اٰذانی فقد اٰذی اﷲ۲؎۔ رواہ الطبرانی فی الاوسط عن انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ بسند حسن۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
جس نے کسی مسلمان کو ناحق ایذادی اس نے مجھے ایذا دی اور جس نے مجھے ایذادی اس نے اﷲ عزّوجل کو ایذادی۔ (اس کو طبرانی نے اوسط میں حضرت انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے سندِ حسن کے ساتھ روایت کیا ہے۔ت)واﷲ تعالٰی اعلم۔
(۲؎ المعجم الاوسط حدیث۳۶۳۲ مکتبۃ المعارف الریاض ۴ /۳۷۳)
مسئلہ۱۵۱: از حسن پور ضلع سارن مسئولہ شاہ حمیدہ احمد۲۸رمضان ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے باپ، بی بی اور دس سالہ لڑکی نابالغہ چھوڑکرانتقال کیا، زید کی بی بی نے بعد ایامِ عدت زید کے ایک ایسے بھائی سے عقد ثانی کرلیا جو بعد وفات پدر زید کے اس کے ترکہ وہی وارث جائز ہے اور مکان بھی اس کا بالکل زید کے مکان سے متصل ہے اور زید کے ہرجزوجائداد میں حصہ دار بھی ہے اور لڑکی زید کی آج تک پرورش اور پر داخت میں اپنی ماں کے ہے، ایسی صورت میں حق پرورش و پرداخت وولایت نکاح کا لڑکی کی ماں کو حاصل ہے یا دادا کو باوجود لڑکی ہنوز پرورش وپرداخت میں اپنی ماں کی ہے، بینواتوجروا۔
الجواب لڑکی کے نکاح یا اس کے مال کی نگہداشت کا حق تو باپ کے بعد دادا کے سواکسی کو نہ تھا، پاس رکھنے کا حق ماں کو تھا، جب لڑکی نوبرس کی ہوئی وہ بھی ختم ہوگیا اب دادا اسے لے لے گا، ماں یا چچا کسی کو تعرض کا اختیار نہیں۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ۱۵۲: از ریاست جاورہ سڑک رتلام دروازہ مرسلہ چھوٹے خاں معرفت سید حسن انسپکٹر ۲۲جماد ی الآخرہ ۱۳۳۸ھ کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین اس مسئلہ میں کہ حامد لاولد کو زید صاحبِ اولاد نے اپنی ایک دختر بسبب محبت ویگانگت و ہمدردی ا سلامی لوجہ اﷲ دے کر یہ اختیار دے دیا کہ اب یہ لڑکی تمہاری ہے ہمارا کسی قسم کا اس پر دعوٰی جھگڑا نہیں ہے اس کو بطور اولاد کے تم پرورش کرو اور جہاں چاہو اس کی شادی وغیرہ کردینا ہمیں کوئی تعلق نہیں، چنانچہ حامد نے دس گیارہ سال تک اس دختر کو بطور اولاد خود اپنے پاس رکھ کر اپنے صرفہ سے پرورش کیا اور اب جبکہ دختر ہوشیار ہوئی تو زید نے بباعث طمع یا جو کچھ ہو اپنی طرف اس کو لوٹانا چاہا اور حامد اس کے دینے سے انکاری ہے توایسی صورت میں عندالشرع دختر مذکورہ اس کے والدین کو دلائی جاسکتی ہے یانہیں؟ اور اگر دلائی جاسکتی ہے تو کیا بلاادائے صرفہ پرورش دختر؟
الجواب دختر کا ہبہ کردینا باطل ہے نہ وہ باپ کی ملک تھی نہ حامد کی ملک ہوگئی، اور اب کہ بالغہ ہوئی یا قریب بلوغ پہنچی جب تک شادی نہ ہو ضرور اس کو باپ کے پاس رہنا چاہئے یہاں تک کہ نوبرس کی عمرکے بعد سگی ماں سے لڑکی لے لی جائے گی اور باپ کے پاس رہے گی نہ کہ اجنبی جس کے پاس رہنا کسی طرح جائز ہی نہیں، بیٹی کرکے پانے سے بیٹی نہیں ہوجاتی، اس نے جو خرچ کیا اپنی اولاد بنا کر کیا نہ کہ بطور قرض، لہذاواپسی کابھی مستحق نہیں۔واﷲ تعالٰی اعلم۔