Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۳(کتاب الطلاق ،ایمان، حدود وتعزیر )
11 - 175
علامہ علاءُ الدین ابوالحسن علی بن بلبان بن عبداﷲ فارسی اس کی شرح تحفۃ الحریص فی شرح التلخیص میں فرماتے ہیں:
رجلان تساوما ثوبا فحلف المشتری انہ لایشتریہ بعشرۃ فاشتراہ باحد عشرحنث فی یمینہ، ولوکان الحالف البائع لایبیعہ بعشرۃ فباعہ باحد عشرلم یحنث، وھذا لان البیع بالعشرۃ نوعان بیع بعشرۃ مفردۃ وبیع بعشرۃ مقرونۃ بالزیادۃ ففی المشتری مطلق لادلالۃ فیہ علی تعیین احد النوعین فکان مرادہ العشرۃ المطلقۃ، اماالبائع فمرادہ البیع بعشرۃ مفردۃ بدلالۃ الحال اذغرضہ ان یزیدہ المشتری علی العشرۃ ولم یوجد شرط حنثہ وھو البیع بعشرۃ مفردۃ فلایحنث، وھذا ھوالمتعارف بین الناس فیحمل الیمین علی ماتعارفوہ۱؎،
دو۲ حضرات نے کپڑے کا ایک سودا کرتے ہوئے، گفتگو میں خریدا ر نے قسم اٹھائی کہ میں اسے دس۱۰میں نہ خریدوں گا، اس کے بعد اس نے گیارہ کا خرید لیا تو اس کی قسم ٹوٹ جائے گی، اور اگر فروخت کرنے والا قسم اٹھا ئے کہ میں اسے دس۱۰ میں فروخت نہ کروں گا، اسکے بعد اس نے گیارہ کا فروخت کردیا تو بائع کی قسم نہ ٹوٹے گی، یہ اسلئے کہ دس سے فروخت کرنے کے دو۲ معنے ہیں، ایک یہ کہ صرف دس سے فروخت کرنا اور دوسرا معنی یہ کہ اس دہائی کے ساتھ کوئی اکائی بھی ہو، تو مشتری کے حلف میں مطلق دس ہے جس میں دونوں قسموں میں سے کسی ایک کے معین کرنے  پر کوئی قرینہ نہیں ہے، لہذا یہاں دس مطلق مراد ہوں گے یعنی صرف دس یا دس سے کچھ اکائی کے ساتھ زائد، دونوں معنی میں سے کوئی بھی ہو لیکن فروخت کرنے والے کی قسم میں صرف دس بغیر اکائی مراد ہیں جیسا کہ اس پر حال کی دلالت ہے کہ بائع کی غرض یہ کہ مشتری اسے زائد دے تو گیارہ میں فروخت کرنے پر شرط (یعنی صرف دس میں فروختگی) نہ پائی گئی لہذا قسم نہ ٹوٹی، لوگوں میں یہی متعارف ہے لہذا قسم کو لوگوں کے عرف پر محمول کیاجائیگا۔
 (۱؎ رفع الانتقاض الخ  رسالہ من مجموعہ رسائل ابن عابدین بحوالہ شرح تلخیص الجامع الکبیر       سہیل اکیڈمی لاہور ۱ /۹۴۔۲۹۳)
وقولہ فی المتن وبالعرف یخص ولایزاد جواب عن سوال مقدروھو ان یقال البائع بتسعۃ مفردۃ وجب ان یحنث لان المنع عن ازالۃ ملکہ بعشرۃ منع عن ازالتہ بتسعۃ عرفا، والجواب ان الحکم لایثبت بمجرد الغرض وانما یثبت باللفظ والذی تلفظ بہ البائع، ھو العشرۃ واسم العشرۃ لایحتمل التسعۃ لیتعین بغرضہ والزیادۃ علی اللفظ بالعرف لاتجوز بخلاف الشراء بتسعۃ لان  العشرۃ فی جانب المشتری تحتمل عشرۃ مفردۃ وعشرۃ مقرونۃ فتعین احدٰھما بغرضہ اذالعام  یجوز تخصیصہ وتقییدہ بالعرف اھ۲؎ ملتقطا۔
اور متن میں یہ قول کہ ''عرف سے تخصیص ہوتی ہے زیادتی  نہیں ہوتی "یہ ایک سوال کا جواب ہے ،سوال یہ  مقدر ہے کہ بائع اگر مذکورہ صورت میں نو۹ سے فروخت کردے تو قسم کا ٹوٹنا ضروری ہوگا کیونکہ جبکہ دس سے اپنی ملکیت نہیں چھوڑتا تو نو سے بطریقہ اولٰی نہ چھوڑنا ہوگا جیسا کہ عرف میں ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ محض غرض ہے جبکہ حکم محض غرض سے ثابت نہیں ہوتا بلکہ اس کے ساتھ اس لفظ کا بھی اعبتار ہوتا ہے جس سے تلفظ کیاہے اور بائع نے جو لفظ بولا ہے وہ دس۱۰ ہے، جبکہ اس کا اسم، نو کا احتمال نہیں رکھتا جس کو غرض کے طور پر متعین کیاجاسکے۔ دس۱۰ کا نام، نو۹ پر مراد لینا یہ لفظی زیادتی ہے جو کہ عرف سے ثابت نہیں ہوسکتی کیونکہ عرف صرف تخصیص کرتا ہے زیادتی نہیں کرسکتا، اس کے برخلاف جب مشتری کپڑے کو دس کی بجائے نوسے خرید لے تو عرف یہاں کارآمد ہوگا کیونکہ مشتری کی قسم میں دس کی مذکورہ دونوں قسموں کا احتمال ہے صرف دس یا بمع اکائی مراد ہو، تو یہاں جب دس کا لفظ عام ہے تو عرف اس کی ایک قسم کی تخصیص یا تقیید کرسکتا ہے اھ ملتقطاً۔(ت)
 (۲؎ رفع الانتقاض الخ  رسالہ من مجموعہ رسائل ابن عابدین بحوالہ شرح تلخیص الجامع الکبیر      سہیل اکیڈمی لاہور  ۱ /۹۸۔ ۲۹۷)
رفع الانتقاض میں ہے:
اعلم ان الغرض الذی یقصدہ المتکلم بکلامہ قدیکون معنی اللفظ الذی تکلم بہ حقیقۃ او مجاز او قد یکون امرا اٰخرخارجا عن اللفظ، فالاول کقولہ لااشتریہ بعشرۃ فغرض المشتری منع نفسہ من التزام العشرۃ فی ثمن ذٰلک المبیع سواء کانت عشرۃ مفردۃ او مقرونۃ بزیادۃ والعرف ارادۃ ذٰلک ایضا، فھنا اجتمع الغرض والعرف فی لفظ الحالف فاذا اشتری باحد عشر حنث لانہ ارادالعشرۃ المطلقۃ وھی موجودۃ فی الاحد عشر، والثانی کقولہ لاابیعہ بعشرۃ فباعہ بتسعۃ لایحنث لان اغراض البائع ان یبیعہ باکثر من عشرۃ، ولایرید بیعہ بتسعہ لکن التسعۃ لم تذکرفی کلامہ لان  العشرۃ لم توضع للتسعۃ لالغۃ ولاعرفا، فغرضہ الذی ھو قصدہ من ھذا الکلام خارج عن اللفظ، والعبرۃ فی الایمان للالفاظ لالمجرد الاغراض لان الاغراض یصلح مخصصا لامزیدا، والتخصیص من عوارض الالفاظ فاذا کان اللفظ عاما والغرض الخصوص اعبتر ماقصدہ کالراس فی لااٰکل رأسا، فان لفظہ عام والغرض منہ خاص کما مر و اعتبار ھذاا لغرض لایبطل اللفظ لانہ بعض ما وضع لہ اللفظ اھ۱؎ مختصرا
جاننا چاہئے کہ متکلم جب کوئی کلام کرتا ہے تو اس کی غرض اس کلام کا حقیقی معنی ہوتا ہے اور کبھی مجازی معنی ہوتا ہے اور کبھی لفظ سے خارج کوئی اور معنی غرض بنتا ہے۔ اوّل کی مثال، جیسے مشتری کا کہنا کہ میں دس سے نہ خریدوں گا تو یہاں مشتری کی غرض یہ ہے کہ دس درہم دینے سے باز رہنا ہے یہ محض دس ہوں یا بمع اکائی ہوں مبیع کے عوض نہ دے گا، اور عرف بھی یہی ہے تو یہاں حلف میں غرض اور عرف دونوں حقیقی معنٰی میں مجتمع ہیں، لہذایہاں اگر مشتری نے گیارہ میں خریدا تو قسم ٹوٹ جائے گی کیونکہ اس نے مطلق دس۱۰ مراد لئے تھے جبکہ یہ دس،گیارہ میں بھی موجود ہے۔ دوسرے کی مثال، جیسے بائع کہے کہ میں بھی دس درہم سے نہ فروخت کروں گا یہاں اگر اس نے نو میں فروخت کیا تو قسم نہ ٹوٹے گی،کیونکہ اس کلام سے بائع کی غرض یہ ہے کہ دس۱۰ سے زائد یعنی دس مع اکائی کے بدلے فروخت کرے گا، نو ا سکی مراد میں نہیں ہے کیونکہ اس کی کلام میں یہ مذکور نہیں ہے کہ دس۱۰ کا اسم لغت اور عرف میں نو۹ کیلئے وضع نہیں ہے تو دس بول کر نو۹مراد لینا لفظ سے خارج کسی اور معنی کو مراد لینا ہے جبکہ حلف میں محض غرض کا اعتبار نہیں ہوتا بلکہ لفظ کا اعتبار ضروری ہے، کیونکہ غرض مخصص تو بن سکتی ہے لیکن زیادتی پیدا نہیں کرسکتی جبکہ تخصیص لفظ کی صفت ہے لہذا لفظ کا اعتبار ضروری ہے محض غرض کا فی نہیں ہے توجب لفظ عام ہو اور غرض خاص ہو تو پھرخاص مقصد کا اعتبار ہوتا ہے جیسے کوئی کہے میں سر نہ کھاؤں گا، تو اس میں لفظِ سرعام ہے جو ماکول اور غیر ماکول دونوں کو شامل ہے جبکہ غرض خاص یعنی ماکول ہے جیسے گزرا تو یہ خاص غرض لفظ کے مدلول کے خلاف نہیں ہے، کیونکہ یہ لفظ کے معنی کا ایک خاص حصہ ہے، اھ مختصراً۔(ت)
 (۱؎ رفع الانتقاض الخ     رسالہ من مجموعہ رسائل ابن عابدین     سہیل اکیڈمی لاہور     ۱ /۰۱۔۳۰۰)
وتمامہ فیہ، یمین الفور جسے خاص فکر بلندثریا پیوند امام الائمہ مالک الازمہ کاشف الغمہ سراج الامہ سیدنا امام اعظم ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے استنباط فرمایا اور دیگر ائمہ کرام قدست اسرار ہم نے بحکم الفقھاء کلھم عیال لابی حنیفۃ (تمام فقہاء ابوحنیفہ کی عیال ہیں، کے حکم سے۔ت) اس جناب کا اتباع کیا اس کے مسائل اسی اصل جلیل تخصیص بالغرض پر مبنی ہیں متون وشروح وفتاوائے مذہب میں صدہا فروع اس پر مبنی ہیں مثلاً:
 (۱) عورت باہر جانے کوہوئی، شوہر نے کہا باہر جائے تو تجھ پر طلاق، عورت بیٹھ گئی اور دوسرے وقت باہر گئی، طلاق نہ ہوگی۔
تنویر ودر میں ہے:
شرط للحنث فی قولہ ان خرجت مثلا فانت طالق او ان ضربت عبدک فعبدی حر لمرید الخروج والضرب، فعلہ فورا لان قصدہ المنع عن ذلک الفعل عرفا، ومدار الایمان علیہ وھذہ تسمی یمین الفور تفردابوحنیفۃ رحمہ اﷲ تعالٰی باظہارھا ولم یخالفہ احد۔۲؎
جب بیوی باہر نکلنے یا غلام کو مارنے کے لئے تیار ہو اس وقت خاوند اگر کہے کہ تو نے مارا یا باہر نکلی تو تجھے طلاق ہے، تو مارنے اور باہر نکلنے سے وہی مراد ہے جس کے لئے وہ تیار کھڑی ہے صرف اسی مارنے پر یا اسی نکلنے پر طلاق ہوگی کیونکہ خاوند کا اس عمل سے روکنا مقصود ہے یہی عرف ہے جبکہ حلف کا مدار یہی عرف ہے، اس کا نام یمین فور ہے جس کے اظہار اور بیان میں امام ابوحنیفہ متفرد ہیں اور کسی نے ان کی مخالفت نہ کی۔(ت)
 (۲؎ درمختار         باب الیمین فی الدخول والخروج والسکنی     مطبع مجتبائی دہلی     ۱ /۲۹۸)
فتح القدیر وغنیہ ذوی الاحکام وردالمحتارمیں ہے:
تھیأت للخروج فحلف لاتخرج فاذاجلست ساعۃ ثم خرجت لایحنث، لان قصدہ منعھا من الخروج الذی تھیأت لہ، فکانہ قال ان خرجت الساعۃ، وھذااذالم یکن لہ نیۃ فان نوی شیأ عمل بہ۱؎۔
بیوی باہر نکلنے کو تیار تھی کہ خاوند نے حلف اٹھایا کہ اگر تو باہر نکلے تو تجھے طلاق ہے، تو بیوی بیٹھ گئی اور کچھ دیر بعد نکلی تو طلاق نہ ہوگی کیونکہ خاوند کا مقصد وہ نکلنا ہے جس کےلئے وہ تیار تھی اور اس نکلنے سے منع کرنا مقصود تھا، پس گویا خاوند نے یوں کہا کہ تو اب نکلے تو تجھے طلاق ہے، یہ حکم تب ہوگا جب خاوند نے کوئی نیت نہ کی ہو، اور اگر اس نے کوئی نیت کی ہو تو اس پر عمل ہوگا۔(ت)
 (۱؎ ردالمحتار         باب الیمین فی الدخول والخروج الخ        داراحیاء التراث العربی بیروت     ۳ /۸۴)
 (۲) زید نے عمرو سے کہا''میرے ساتھ کھا نا کھالو''۔ عمرو:''میں کھاؤں تو عورت مطلقہ ہو''۔ کل زید کے ساتھ کھانا کھایا طلاق نہ ہوگی۔ 

تنویر ودر:
وکذافی حلفہ ان تغدیت فکذابعد قول الطالب تعال تغد معی شرط الحنث تغدیہ معہ ذٰلک الطعام المدعو الیہ۔۲؎
یوں ہی اگر کھانے پر دعوت دینے والے کے جواب میں کوئی کہے''اگر میں کھانا کھاؤں تو بیوی کو طلاق ہے'' تو یہاں بھی طلاق ہونے کےلئے جس کھانے پر دعوت دی گئی اسی کو دعوت دینے والے کے ساتھ کھانا شرط ہے۔(ت)
 (۲؎ درمختار          باب الیمین فی الدخول والخروج الخ          مطبع مجتبائی دہلی         ۱ /۲۹۸)
 (۳) عورت کو جماع کےلئے بلایا اس نے انکار کیا، شوہر نے کہا''اگر میرے پاس اس کوٹھری میں نہ آئی تو تجھ پر طلاق'' عورت آئی مگر اس وقت مرد کی شہوت ساکن ہوچکی تھی، تو طلاق ہوگئی، 

اشباہ ودر:
ان للتراخی الابقرینۃ الفور، ومنہ طلب جماعھا فابت فقال ان لم تدخلی معی البیت فانت طالق فدخلت بعد سکون شہوتہ حنث۳؎۔
لفظ''ان'' تراخی کےلئے استعمال ہے مگر جہاں فور کا قرینہ پایا جائے تو تراخی مراد نہ ہوگی، اسی فور پر قرینہ کی مثال یہ ہے کہ خاوند نے بیوی کو جماع کیلئے طلب کیا تو بیوی کے انکار پر خاوند نے کہا تو میرے کمرے میں داخل نہ ہوئی تو طلاق ہے۔ تو فوراً داخل نہ ہوئی بلکہ خاوند کی شہوت وخواہش ختم ہونے کے بعد داخل ہوئی تو طلاق ہوجائے گی۔(ت)
 (۳؎ درمختار          باب الیمین فی الدخول والخروج الخ          مطبع مجتبائی دہلی      ۱ /۲۹۹)
 (۴) حاکم نے حلف کیا کہ اگر شہر میں بدمعاش آئے اور میں خبر نہ دوں تو عورت طلاق ہے، بد معاش آیا اور اس نے حاکم کو خبر نہ دی اس وقت کہا وہ معزول ہوگیا تھا طلاق ہوگئی۔ 

تنویر:
حلفہ وال لیعلمنہ بکل داعر دخل البلد، تقید بقیام ولایتہ۱؎۔
شہر کے حاکم نے ایک ملازم سے حلف لیا کہ شہرمیں داخل ہونے والے ہر بدقماش کی مجھے اطلاع دے گا، تو یہ حلف اس حاکم کی ولایت کے قائم رہنے تک مقید ہے(ت)
 (۱؎ درمختار         باب الیمین فی الضرب والقتل وغیرذلک        مطبع مجتبائی دہلی     ۱ /۳۱۳)
درمختار میں ہے:
بیان لکون الیمین المطلقۃ تصیرمقیدۃ بدلالۃ الحال وینبغی تقیید یمینہ بفورعلمہ۲؎۔
اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہ یہ مطلق حلف کو حال کی دلالت کی وجہ سے مقید ہونے کی مثال ہے اس میں یہ بھی قیدہوگی کہ وہ ملازم معلوم ہونے پر فوراً اطلاع دے گا۔(ت)
 (۲؎ درمختار         باب الیمین فی الضرب والقتل وغیرذلک        مطبع مجتبائی دہلی     ۱ /۳۱۳)
تبیین الحقائق میں ہے:
ثم ان الحالف لو علم الداعر ولم یعلمہ لم یحنث الااذامات ھو او المستحلف او عزل۳؎۔
اگر حلف اٹھانے والے کو بدمعاش کا علم ہوجائے اور وُہ حاکم کو مطلع نہ کرے تو قسم صرف حلف دینے یا حلف لینے والے کی موت یا حاکم کے معزول ہوجانے پر ٹوٹے گی(ت)
 (۳؎ تبیین الحقائق باب الیمین فی الضرب والقتل وغیرذلک     مطبعہ کبرٰیامیریہ بولاق مصر ۳ /۱۶۱)
فتح القدیر میں ہے:
ولو حکم بانعقاد ھذہ للفور لم یکن بعید ا نظرا الی المقصود وھو المبادرۃ لزجرہ ودفع شرہ۴؎۔
اگر اس حلف کو فوری ہونے کا حکم دیا جائے تو بعید نہ ہوگا کیونکہ حاکم کا مقصد بدقماش کو فوری سزادینا اور اس کے شرکادفاع کرنا ہے۔(ت)
 (۴؎ فتح القدیر         کتاب الایمان مسائل متفرقہ         مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر    ۴ /۴۶۸)
Flag Counter