فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۳(کتاب الطلاق ،ایمان، حدود وتعزیر )
109 - 175
مسئلہ۱۴۸: ۷ شعبان۱۳۰۶ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے ایک زوجہ اور ایک لڑکا ایک لڑکی نابالغ اور ایک بیٹی بالغہ منکوحہ بیوہ اور ایک بھائی چھوڑکر انتقال کیا، زوجہ نے کہ اس بچے کی ماں ہے ایک اجنبی سے نکاح کرلیا جو ان بچوں کا رشتہ دار نہیں، لڑکا چار برس کا ہے اور لڑکی آٹھ برس کی، اس کی ماں ایک جگہ اس کا نکاح کیا چاہتی ہے، چچا وہاں راضی نہیں اپنے بھتیجے یعنی دوسرے بھائی کے پسر سے نکاح کرنا چاہتا ہے، اس صورت میں ان نابالغوں کے اختیار ماں کو ہے یا چچا کو؟ اور ان کے رکھنے کا اختیار کسے ہے؟ نابالغوں کی نانی دادی کوئی نہیں، خالہ اور دوپھوپھیاں انہیں اپنے پاس رکھنے پر راضی نہیں۔بینواتوجروا۔
الجواب
صورت مستفسرہ میں ان نابالغوں کے نکاح کا اختیار چچا کے سوا کسی کو نہیں، اس کے ہوتے ہوئے ماں نکاح میں کچھ دخل نہیں رکھتی۔
فی تنویر الابصار لم تکن عصبۃ فالولایۃ للام۱؎۔
تنویرالابصار میں ہے: اگر کوئی عصبہ ولی نہ ہوتو پھر ولایت ماں کو حاصل ہوگی۔(ت)
(۱؎ درمختار شرح تنویر الابصار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۱۹۳)
اور جبکہ وہ اپنا نکاح ایک اجنبی شخص سے کرچکی تو اسے ان بچوں کے رکھنے کا بھی اختیارنہیں،
درمختار میں ہے: پرورش کا حق ماں کو ہے مگر جب وہ فاجرہ ہو یا بچے کے غیرمحرم کی منکوحہ ہو تو پھر نہیں اھ مختصراً(ت)
(۲؎ درمختار شرح تنویر الابصار باب الحضانۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۲۶۴)
بلکہ لڑکا برس اور لڑکی نوبرس کی عمر تک اپنی بیوہ بہن کے پاس رہیں، اور و ہ نہ رکھے تو خالہ کے پاس، وہ بھی قبول نہ کرے تو پھوپھیوں کے پاس،
فی الدرالمختار ثم بعد الام بان ماتتاولم تقبل اوتزوجت باجنبی ام الام، ثم ام الاب، ثم الاخت، ثم الخالات، ثم العمات۱؎اھ مختصرا،
درمختار میں ہے: ماں فوت ہوجائے یا بچے کو قبول نہ کرے یا بچے کے غیرمحرم کی منکوحہ ہوتو پھر ماں کے بعدد نانی، پھر دادی، پھر بہن، پھر خالات، پھر پھوپھیاں ترتیب وار حقدار ہیں اھ مختصراً،
(۱؎ درمختار باب الحضانۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۲۶۴)
وفی ردالمحتار الحاضنۃ لاتجبراذالم تتعین لھا، لان المحضون حٍ لایضیع حقہ لوجودمن یحضنہ غیرھا وتجبر اذا تعنیت لعدم من یحضنہ غیرھا۲؎اھ ملتقطا وتمام تحقیقہ فیہ وھذا حاصل ماوفق بہ بین نقلین مختلفین،
اور ردالمحتار میں ہے کہ پرورش کرنے والی اگر واحد اکیلی نہ ہوتو اس کو مجبور نہ کیا جائے کیونکہ پرورش کرنے والی اگر واحد اکیلی نہ ہوتو اس کو مجبور نہ کیاجائے کیونکہ پرورش پانے والے بچے کا حق ضائع نہ ہوگا اس لئے کہ دوسری پرورش کرنے والی موجود ہے، ہاں اگر پرورش کرنے والی واحد اکیلی ہونے کی وجہ سے وہی متعین ہے تو اس کو مجبور کیا جائے گا، کیونکہ دوسری نہ ہونے کی وجہ سے بچے کا حق ضائع ہوگا اھ ملتقطا، اس بحث ک مکمل تحقیق اسی میں ہے، یہ دو مختلف نقول میں توفیق کا حاصل ہے،
(۲؎ ردالمحتار باب الحضانۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۶۳۶)
وفی الدرالمختار الحاضنۃ اما او غیرھااحق بالغلام حتی یستغنی عن النساء وقدد بسبع وبہ یفتی و بالصغیرۃ حتی تشتھی وقدر بتسع وبہ یفتی۳؎اھ بالالتقاط، واﷲ تعالٰی اعلم۔
درمختار میں ہے کہ پرورش کرنے والی ماں ہو یا کوئی اور وہ لڑکے کی حقدار ہیں جب تک لڑکا عورتوں کی نگرانی سے مستغنی نہیں ہوجاتا، جس کا اندازہ سات سال کی عمر ہے اور اسی پر فتوٰی دیا جائےگا، اور پرورش کرنے والی لڑکی کی حقدار ہیں جب تک لڑکی مشتہاۃ نہ ہوجائے جس کا اندازہ نَو سال کی عمر ہے اور اسی پر فتوٰی دیاجائے گا اھ ملتقطا۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔(ت)
(۳؎ درمختار باب الحضانۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۲۶۵)
مسئلہ۱۴۹: ۱۰جمادی الآخرہ۱۳۰۷ھ
زن وشوہر میں نااتفاقی ہے ان کی لڑکی کی عمر قریب چھ برس کے ہے شوہر نے جبر کرکے اس کو ماں کے پاس سے علیحدہ کرلیا ہے اور اس کو ماں کے پاس نہیں آنے دیتا ہے، پس اس صورت میں حکم شرع شریف استفسار ہے کہ لڑکی کس کے پاس رہے اور حق ماں کو لڑکی کے رکھنے کا کَے برس کی عمر تک ہے اور باپ لڑکی کا بحالت موجود ہونے لڑکی کی ماں کے مستطیع ہے اور اس کی تعلیم اچھی طرح کرسکتی ہے'' لڑکی کو اپنے پاس رکھ سکتا ہے یانہیں؟ اور باپ لڑکی کا غیر مستطیع ہے فقط بینواتوجروا
الجواب
لڑکی نوبرس کی عمر تک ماں کے پاس رہے گی بعدہ باپ کو دے دی جائے گی، اس سے پہلے جب تک ماں میں کوئی اور مسقط حضانت نہ ثابت ہوکسی کو بلاوجہ شرعی اس سے لینے کااختیارنہیں،
فی الدرالمختار الام والجدۃ احق بھا حتی تشتھی وبہ یفتی۱؎۔
درمختار میں ہے کہ ماں اور دادی لڑکی کے مشتہاۃ ہونے تک حقدار ہیں، اور اسی پر فتوٰی دیا جائے گا۔(ت)
(۱؎ درمختار باب الحضانۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۲۶۵)
اسی میں ہے:
وقدر بتسع وبہ یفتی۔۲؎واﷲ تعالٰی اعلم۔
مشتہاۃ اندازاً نو سال کی عمر ہے، اور اسی پرفتوٰی دیا جائیگا۔ واﷲ تعالٰی اعلم(ت)