| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۳(کتاب الطلاق ،ایمان، حدود وتعزیر ) |
مسئلہ۱۴۷: ایک عورت کا خاوند فوت ہوگیا، بعد انتقال دوماہ اس عورت کے لڑکا پیدا ہوا اور بعد چندے زمانہ عدت گزرنے پر عورت نے نکاح ثانی کرلیا، پرورش اس بچے کی اب تک کہ قریب تین سال کےہوئے وہ عورت کرتی ہے اس بچہ کے دادا نے اس درمیان میں یہ چاہا تھا کہ اس بچہ کی پرورش میں کروں لیکن اس عورت نے نہیں دیا اور کہا کہ بعد ہوشیار ہوجانے کے لے لینا، اب صورتِ مسئولہ یہ ہے کہ اس بچہ کی پرورش اس کی والدہ کب تک کرنے کی مستحق ہے، اگر دادا بچہ کا اس بچہ کو اپنے پاس رکھنے کو لے تو اس کی ماں کو بطریقہ شرعی کچھ خوراک یا نفقہ معین کرنا یا معاوضہ میں دینا چاہئے یانہیں، اور اس زیور میں اس لڑکے کا کچھ حق ہے یانہیں جو اس کی ماں کے پاس ہے، اگر ہے تو کس قدر ہے؟بینواتوجروا۔
الجواب عورت نے اگر پسر کے محرم مثلاً حقیقی چچا سے نکاح کیا ہے تو لڑکا سات برس کی عمر تک ماں ہی کے پاس رہے گا اور اس مدت تک عورت اسی کے پالنے پر ماہانہ پائے گی جس کا وجوب لڑکے کے مال میں ہوگا اور لڑکے کا مال نہ رہے تو اس کے دادا پر ہوگا۔
فی الدرالمختار تستحق الحاضنۃ اجرۃ الحضانۃ وھی غیراجرۃ ارضاعہ ونفقتہ کما فی البحر عن السراجیۃ وفی کتب الشافعیۃ مؤنۃ الحضانۃ، فی مال المحضون لولہ مال والافعلی من تلزمہ نفقتہ قال شیخنا وقواعدنا تقتضیہ فیفتی بہ۱؎اھ مختصرا
درمختار میں ہے کہ پرورش کرنے والی اجرت کی مستحق ہوگی جو بچے کو دودھ پلانے کی اجرت اور نفقہ ولد کے علاوہ ہوگی، جیسا کہ بحر نے سراجیہ سے نقل کیا ہے اور شافعی حضرات کی کتب میں ہے کہ پرورش کا خرچہ پرورش پانے والے بچے کے مال سے ادا ہوگا اگر بچے کا اپنا مال ہو، اگر بچے کا اپنا مال نہ ہوتو پھر یہ اسی شخص پر ہوگا جس پر بچے کا نفقہ واجب، ہمارے شیخ نے فرمایا ہمارے قواعد بھی یہی تقاضا کرتے ہیں لہذا اس پر فتوٰی دیاجائے گا اھ مختصراً۔
(۱؎ درمختار باب الحضانۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۲۶۴)
وفی ردالمحتار عن الشامی عن البرجندی تجبرالام علی الحضانۃ اذالم یکن لھا زوج والنفقۃ علی الاب، وقال الفقیہ ابوجعفر تجبر وینفق علیھا من مال الصغیرۃ وبہ اخذ الفقیہ ابواللیث۲؎اھ مختصرا۔
ردالمحتار میں شامی نے برجندی سے نقل کیا ہے کہ جب خاوند نہ ہو تو ماں کو پرورش پر مجبور کیا جائے گا اور پرورش کا خرچہ بچے کے والد پرہوگا، اور ابوجعفر فقیہ نے فرمایاکہ بچے کی پرورش کے لئے ماں کو مجبور کیا جائے گا اور خرچہ خود بچے کے مال سے ادا کیا جائے گا، اسی کو فقیہ ابواللیث سمر قندی نے لیا ہے اھ مختصراً(ت)
(۲؎ ردالمحتار باب الحضانۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۶۳۶)
ہاں اگر لڑکے کی کوئی قریب رشتہ دار عورت لائق حضانۃ مثلاً خالہ یا پھوپھی بلا اجرت حضانت پر راضی ہو تو اس صورت میں کہ لڑکا مال رکھتا ہے اور اس کا مال بچانے کو لڑکے کی ماں سے کہا جائے گا یا تو تو مفت اپنے پاس رکھ یا اس دوسرے کو دے دے کہ مفت پرورش کرے،
فی ردالمحتار ان کان المتبرع غیراجنبی، والصغیرلہ مال یقال للام اما ان تمسکیہ مجانا او تدفعیہ للعمۃ مثلا المتبرعۃ صونا لما لہ لولہ مال۳؎۔(ملخصاً)
ردالمحتار میں ہے: اگر مفت میں پرورش کرنے والی غیر اجنبی عورت (محرم) ہو اور بچے کا اپنا مال ہوتو ماں کو کہا جائے گا کہ توبچے کی مفت میں پرورش کر یا پھر مفت پرورش کرنے والی محرمہ مثلاً پھوپھی کو سونپ دے، یہ اس لئے کہ بچے کا مال محفوظ رہے،(ملخصاً)۔(ت)
(۳؎ ردالمحتار باب الحضانۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۶۳۸)
اور جس سے عورت نے نکاح کیا لڑکے کا محرم نہیں تو عورت کا حقِ حضانت ساقط ہوگیا لڑکا اس سے فوراً لے لیا جائے اور نانی وہ نہ ہوتو دادی پھر بہن پھر خالہ پھر پھوپھی جوان میں قابل حضانت ہو کہ لڑکے کے اجنبی کے نکاح میں نہ ہو اسی کے سات سال کی عمر تک رکھا جائے اور عورتوں میں کوئی ایسی نہ تو دادا لے لے، جو زیور اس کے باپ نے اس کی ماں کو ہبہ کردیا ہو اس میں لڑکے کا حق نہیں ورنہ بعد فرض اصحاب فرائض باقی لڑکے کا ہے مثلاً اس کے باپ کا سوازوجہ و پدر وپسر کے کوئی وارث نہ ہوتو بعد دین ووصیت ۲۴حصے ہوکر ۳حصے زوجہ اور ۴ والد ۱۷پسر کو ملیں گے۔واﷲ تعالٰی اعلم۔