فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۳(کتاب الطلاق ،ایمان، حدود وتعزیر )
107 - 175
مسئلہ۱۴۶: از پیلی بھیت پنجابی ٹولہ مرسلہ شیخ عبدالعزیز ۱۴/شوال ۱۳۲۱ھ
(شجرہ حاجی کفایت اﷲ متوفی)
(زوجہ اولٰی حیات نجم النساء)
(زوجہ ثانی متوفیہ حمید النساء)
حاجی کفایت اﷲ نے انتقال کیا اورانہوں نے اپنی ایک مادر جو سن خزافت کو پہنچ گئی ہیں اور ہوش وحواس ان کے قائم نہیں ہیں اور دو بہنیں اور ایک زوجہ اور اسی زوجہ حیات سے دو لڑکے اور چار لڑکیاں اور دوسری زوجہ متوفیہ سے تین لڑکے اور دولڑکیاں چھوڑیں، فریق اول یعنی زوجہ اولی کی اولاد سب بالغ ہے اور فریق ثانی زوجہ ثانیہ کی اولاد بعض بالغ اور بعض نابالغ ہیں۔ فریق اول چونکہ بالغ اورغالب تھے اور فریق ثانی نابالغ اور مغلوب، لہذا فریق اول کو ہمیشہ فریق ثانی کے ساتھ بوجہ سوتیلے پن کے قدرتی مخالفت ہے، چنانچہ ان نابالغان کے سوتیلے بہن بھائی بہ اتفاق نجم النساء سوتیلی ماں کی والدہ نابالغان کے مخالف اور درپے تخریب وایذارسانی و دل آزاری رہی اور شرکت شادی وغمی اور ملنا جلنا تاحیات متوفیہ حمیدالنساء والدہ نابالغان قطعی ترک رہا مگر حین حیات حاجی کفایت اﷲ ان کی عداوت کا کوئی اثر پورے طور پر ظاہر نہیں ہو پایا لیکن بعد وفات حاجی کفایت اﷲ فریق اول کی عداوت فریق ثانی کے ساتھ بخوبی ظاہر ہوگئی چنانچہ اس کی وجوہات یہ ہیں:
(۱) یہ کہ بعد وفات حاجی کفایت اﷲ ان میں سے نابالغوں کو جو سب سے چھوٹے اور ان کے اختیار میں تھے ایک خادمہ کے سپرد کرکے گڑھی مانکپور کو جو جائے سکونت سے ایک مسافت بعید پر واقع ہے باقی اعزاواقارب سے جدا کرکے روانہ کردیا چھ ماہ تک ان کو لاوارث حیثیت سے چھوڑ رکھا جس کی وجہ سے ان کو طرح طرح کی خورد ونوش وغیرہ کی تکلیف اور اذیتیں پہنچیں۔
(۲) یہ کہ جملہ آمدنی ان کے حصص واقعہ میں سے اپنے صرف میں لاچکے ہیں اور ان کے مصارف کی کوئی خبر گیری نہیں کرتے۔
(۳) یہ کہ بہت سے اشیاءِ منقولہ زرِ نقد و زیورات و اشیاء خانگی جو نابالغان سے تعلق رکھتے ہیں ان لوگوں نے مخفی کرلیں اور ظاہر نہیں کیں اور دیون مورث کے وصول کرکے تصرف ذاتی اپنے میں لائے۔
(۴) یہ کہ طریقہ زندگی سوتیلے بھائیوں ان نابالغان کا ناشائستہ اورغیر مہذّب بدچلنی کے ساتھ ہے۔
سوال
حاجی محمد کفایت اﷲ متوفی نے انتقال کرکے اس شجرہ مذکورہ بالا کے مطابق ورثاء چھوڑے اب ان اولاد نابالغان زوجہ ثانی متوفیہ، فضل حق، ضیاء الحق، ریاض الحق واحمدی بیگم کا حق ولایت جان ومال ازروئے شرع شریف ان اولیاء میں سے بمقابلہ وجوہات بالا کے کس کو پہنچتا ہے:
اخ لاب۔ اخ لاب۔ اخت لاب۔ اخت لاب۔ اخت لاب۔ اخت لاب۔ اخت الاب وام۔ جدہ صحیحہ۔ عمہ۔ عمہ۔
عبدالحق۔ احسان الحق۔ عجائب النساء۔ لطیف النساء۔ حبیب النساء۔جمیل النساء۔ کریم النساء۔ اﷲ جلائی۔ نجم النساء۔ صاحب النساء۔
الجواب
حق حضانت لڑکے میں سات اور دختر میں نو برس کی عمر تک رہتا ہے اس کے بعد عصبہ کے پاس رہے گی جو عصوبت میں مقدم ہے یہاں بھی مقدم ہے بشرطیکہ فاسق بدچلن نہ ہو اس سے صغیر پر اندیشہ نہ ہو اور دختر کے لئے اس کا محرم ہونا بھی شرط۔ اور سات یا نو برس کی عمر تک جو حقِ حضانت میں عورات ذوات فروض مثل مادر و خواہر پھر ذوات رحم مثل خالہ وعمہ عصبات پر مقدم ہیں ان میں شرط یہ ہے کہ صغیر کے نامحرم کے نکاح میں نہ ہوں ورنہ بچے ماں کو بھی سپرد نہ کئے جائیں گے جہاں شرائط حضانت کی جامعہ کوئی عورت نہ ہوگی، حضانت عصبات پھر ذوی الارحام ذکور کی طرف انتقال کرے گی اور دختر کے لئے وہی محرمیت ضرور ہوگی پھر اگر کوئی ذی رحم ان بچوں کے حق میں قابل اعتماد نہ ہوتو ذی علم دیندار خداترس مسلمانانِ شہر کہ کوئی بدعت کفریہ مثل نیچریت ورفض وغیرہما نہ رکھتے ہوں نہ مکذبان باری عزّوجل یامنکرانِ ختم نبوتِ نبی صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم کو مسلمان جانتے ہوں جمع ہوکر کسی ایسے ہی متدیّن لائق کو بچوں کی حفاظت کےلئے تجویز کریں اور لڑکیاں بالخصوص کسی ایسی ہی عورت عاقلہ امینہ قادرہ کو سپرد کی جائیں جو نامحرم کے نکاح میں نہ ہو نہ ایسوں کے یہاں رہتی ہو جن سے بچوں پر مضرت واذیت کا اندیشہ ہوا ور یہ شرط عدمِ نیچریت ورفض وغیرہ بدعات کفریہ کہ ہم نے ان رائے و ہندوں کے لئے ذکر کی مطلقاًہر عورت و مرد میں ضرور ہے جسے حضانت یا حفاظت جان یا مال دی جائے بچوں کے مال کو ولایت باپ کے بعد باپ کے وصی کو ہے یعنی جسے وہ کہہ کر مرا ہو کہ میری اولاد کی غور پر داخت کرنا یا کہا ہو میری جائداد کی نگہداشت کرنا، وصی نہ ہو تو وصی کاوصی، وہ بھی نہ ہو تو دادا، پھر دادا کاوصی، پھر اس کے وصی کاوصی، اور ان میں کوئی نہ ہوتو پھر وہی حکم ہے کہ ذی علم متدین مسلمان نہایت غائر نظر سے مشورہ کرکے کسی ایسے ہی مسلمان کو محافط مقرر کریں جو یتیم کے مال کو آگ جانتا ہو، اور جس شہر میں کوئی عالم دین معتمد سنّی المذہب فقیہ متدین موجود ہوتو ان امور میں رائے اسی کی معتبر ہے، اور جہاں ایسے چند عالم ہوں وہاں جو ان سب میں زیادہ علم والا ہواس پر نظر ہے ، جب کوئی مستحقِ حضانت وولایت مال نہ ہوتو وہ عالم شہر اپنی رائے سے بلحاظ امور مذکورہ بچوں کی سپردگی جان و مال کے لئے رجال ونساء باوصافِ مذکورہ تجویز کرے، شریعت کی ایسی باتوں میںجہاں قاضی اسلامِ نہ ہواس عالمِ شہر کی رائے رائے قاضی اسلام کی مثل ہے، اور مسلمانوں پر اس کا اتباع لازم ہے، گونمنٹ نے معاملات مثل نکاح و طلاق وحضانت وولایت ووراثت ووصایت میں مسلمانوں کو آزادی دی ہے وہ ہرگز مجبور نہیں کرتی کہ تم ان امور کو اپنی شرع کے مطابق باہم فیصلہ نہ کر لوبلکہ وہ خود ان امور میں شریعت و فتوٰی کی طرف رجوع کرتی ہے، جہاں تک میرا خیال ہے یہ اموراسی قبیل سے ہیں، اوراگر فی الواقع ایسانہیں بلکہ آزادی کسی حد تک محدود کی گئی ہے تو جہاں تک آزادی ہے اس پر کارروائی لازم ہے واﷲ الموفق،
درمختار میں ہے:
الحاضنۃاحق بالغلام حتی یستغنی عن النساء وقدربسبع وبہ یفتی واحق بھا حتی تشتھی وقدر بتسع وبہ یفتی۱؎۔
لڑکے پر پرورش کرنے والی کا حق اس وقت تک ہے جب تک وہ عورتوں کی نگرانی سے مستغنی نہیں ہوجاتا جس کا اندازہ سات سال عمر ہے اور اسی پر فتوٰی دیا جائے گا اور لڑکی پر اس کا حق لڑکی کے مشتہاۃ ہونے تک ہے جس کا اندازہ نو سال کی عمر ہے اور اسی پر فتوٰی دیاجائیگا(ت)
(۱؎ درمختار باب الحضانۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۲۶۵)
ردالمحتار میں ہے:
فی حاشیۃ البحر للرملی فی المنہاج والخلاصۃ و التاتارخانیۃ ان لم یکن للصبی اب وانقضت الحضانۃ فمن سواہ من العصبۃ اولی الاقرب فالاقرب غیران الانثی لاتدفع الاالی محرم۲؎۔
بحر پر رملی کے حاشیہ میں ہے کہ منہاج،خلاصہ اورتاتارخانیہ میں مذکور ہے کہ اگربچے کا والد نہ ہو اور بچے کی مدت پرورش ختم ہوجائے تو قریب ترین مرد عصبہ کے سپرد کیا جائیگا، مگر بچی ہو تو وہ غیر محرم عصبہ کے سپرد نہ کی جائے گی(ت)
(۲؎ ردالمحتار باب الحضانۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۶۴۳)
تنویر الابصار میں ہے:
الحضانۃ تثبت للام الاان تکون مرتدۃ او غیرما مونۃ او متزوجۃ بغیر محرم ثم ام الام ثم ام الاب ثم الاخت لاب وام ثم لام ثم لاب ثم الخالات ثم العمات کذٰلک۱؎۔
پرورش کا حق والدہ کو ہوگابشرطیکہ وہ مرتدہ، غیر محتاط اور بچے کے غیر محرم کی منکوحہ نہ ہو، والدہ کے بعد نانی، پھر دادی، پھر حقیقی بہن، پھر ماں کی طرف سے سگی بہن، پھر والد کی طرف سے سگی بہن، پھر خالات اور پھر پھوپھیاں اسی ترتیب سے۔(ت)
بدائع میں مذکور ہے اگر بھائی اور چچے،لڑکی اور اس کے مال کی حفاظت میں غیر محتاط ہوں تو لڑکی ان کے سپرد نہ کیا جائے گی اور قاضی لڑکی کے بالغ ہونے تک کسی قابلِ اعتماد عادہ دیانتدار عورت کے سپرد کردے گا۔(ت)
(۳؎ ردالمحتار باب الحضانۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۶۳۸)
درمختار میں ہے:
الحاضنۃ یسقط حقھا بنکاح غیرمحرمہ ای الصغیروکذابسکنٰھا عندالمبغضین لہ۴؎۔
پرورش کرنے والی بچے کے غیر محرم کی منکوحہ ہونے یا بچے کے مخالفین کے ہاں رہائش پذیر ہونے کی بناء پر پرورش صغیر کی حقدار نہ رہے گی۔(ت)
(۴؎ درمختار باب الحضانۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۲۶۵)
اسی میں ہے:
ولیہ فی المال ابوہ ثم وصیہ ثم وصی وصیہ ثم جدہ الصحیح ثم وصیہ ثم وصی وصیہ ثم القاضی۱؎۔
بچے کے مال کے متعلق والی والد ہوگا پھر والد کا وصی پھر وصی کا وصی پھر حقیقی جد صحیح (جو کسی عورت کے واسطہ کے بغیر ہو) پھر دادے کا وصی پھر اس کے وصی کا وصی اور پھر قاضی ہوگا۔(ت)
(۱؎ درمختار کتاب المأذون مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۰۳)
حدیقہ ندیہ میں ہے:
فی العتابی اذااخلاالزمان من سلطان ذی کفایۃ فالامور کلۃ الی العلماء ویلزم الامۃ الرجوع الیھم فاذا عسر جمعہم علی واحد استقل کل قطر باتباع علمائہ فان کثروا فالمتبع اعلمھم۲؎۔
عتابی میں مذکور ہے کہ جس وقت بااختیار حاکم شرعی نہ پایاجائے تو پھر معاملات علماء کے سپرد قرار پائینگے تو امت پرلازم ہے کہ وہ علماء کی طرف اپنے معاملات میں رجوع کرے، پھر جب سب کا ایک عالم کی طرف رجوع کرنا مشکل ہوتو پھر ہر علاقہ والے اپنے اپنے علاقہ کے علماء کی طرف راجع ہوں، اور اگر علاقہ میں علماء کی کثرت ہوتو پھر سب سے بڑے عالم کی اتباع کریں۔(ت)
(۲؎ الحدیقۃ الندیۃ شرح الطریقۃ المحمدیۃ النوع الثالث مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۱ /۳۵۱)
جب یہ مسائل معلوم ہولئے اب صورت مستفسرہ کی طرف چلئے،فضل حق و ضیاء الحق تو حدِ حضانت سے نکل چکے ہیں کہ ان کی عمریں سات سال سے زائد ہیں، انہیں چاہئے تھا کہ عصبات کے سپرد ہوں، عصبہ یہاں سوتیلے بھائی ہیں جنہیں سائل بدچلن بتاتا ہے اور نابالغوں کا بدخواہ و دشمن بھی، اورفی الواقع سوتیلوں میں خصوصاًجہاں جائداد کا قدم درمیان ہو بدخواہی نہ ہونا ہی تعجب ہے، تو لازم ہے کہ ان دونوں بچوں کےلئے کوئی اور عصبہ دیندار معتمد بشرائط مذکورہ تلاش کیاجائے، سائل نے زبانی احمدی بیگم کو ریاض الحق سے بھی چھوٹی بتایا تو یہ دونوں ابھی حضانت طلب ہیں، اﷲجلائی کو سائل مختل الحواس بتاتا ہے اور کریم النساء، حقیقی بہن بچوں کے نامحرم کے نکاح میں ہے یونہی سوتیلی بہنیں بھی، اور ان کا نا معتمد ہونا علاوہ، بچوں کی کوئی خالہ بیان میں نہ آئی، پھوپھیوں کی نسبت بھی مسموع ہوا کہ نامحرموں کے نکاح میں ہیں، اس تقدیر ان کی حضانت بھی بھائیوں کی طرف آتی ہے مگر ان میں وہی موانع ہیں تو اس کےلئے بھی کوئی عصبہ اوروہ نہ ہوتو ذوم رحم تلاش کرنا چاہئے اور احمدی بیگم کے واسطے اس کا محرم بھی درکار، یہ حفاظتِ جان تھی، رہی سپردگی مال اس کے لئے لازم کہ باپ کا وصی یا وصی وصی یا دادا یعنی پدرِ پدر کا وصی وصی کی تحقیق کریں، مثلاً حاجی کفایت اﷲ نے اگر کریم النساء یا اپنی بہن نجم النساء یا صاحب النساء یا جس کسی شخص کوان بچوں یا اپنی جائداد کی نگہداشت کی وصیت کی ہو نا بالغوں کے مال اسی کو سپرد کئے جائیں گے، یہ تین مقام تلاش و تحقیق کے ہیں،ان میں سے جس میں بعد تلاش بھی کوئی شخص ان شرائط کا نہ ملے تو عالم شہر کی رائے لی جائے گی۔ یہ مسئلہ پیلی بھیت کا ہے اور وہاں ان صفاتِ مذکورہ کا کوئی عالم نہیں سوا مولٰنا وصی احمد صاحب محدّث سورتی دامت فیوضہم کے، تو ان کی طرف رجوع لازم اور ان پر واجب کے بعد غور تمام وتحیقاتِ تام جملہ مسائل مذکورہ ومصالح نابالغین و مالہم و ماعلیہم پر نظرع غائر فرماکر جزم واحتیاط کامل سے کام لیں اور ذی رائے دیندار اہلسنت عمائد شہر کو رائے و شوری میں شریک کریں،وباﷲ العصمۃ والتوفیق(اور اﷲ تعالٰی کی امداد سے ہی عصمت اور توفیق ہے۔ت) واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔