فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۳(کتاب الطلاق ،ایمان، حدود وتعزیر )
106 - 175
مسئلہ۱۴۴: کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک مسماۃ نے انتقال کیا اور ایک لڑکا بعمر چھ سات ماہ کا شیرخوار چھوڑا، اور شوہر اور مسماۃ متوفیہ کی پھوپھی یعنی اس کے باپ کی حقیقی بہن اور مسماۃ بہن اور مسماۃ متوفیہ کا ماموں موجود ہیں، ان سب میں کس کو ولایتِ پرورش پہنچ سکتی ہے؟ اور بحالت انکار اول حقدار کے دویم درجہ میں کس کو پہنچے گی؟
الجواب :
جبکہ اس لڑکے کی نہ نانی ہے نہ کوئی جوان بہن ہے، نہ بھانجی نہ خالہ، نہ پھوپھی نہ ماں کی خالہ، نہ باپ کی خالہ، صرف ماں کی پھوپھی ہے اور وہ بیوہ ہے۔ جیسا کہ سائلوں نے بیان کیا تو اس صورت میں لڑکا سات برس کی عمر تک ماں کی پھوپھی کے پاس رہے گا اس کے ہوتے ہوئے باپ کو بھی اختیار نہیں ماں کا ماموں تو بہت بعید ہے اور جبکہ لڑکے کے باپ کی پھوپھی بھی حسبِ بیان سائلان نہیں، غرض ماں کی پھوپھی کے سوا کوئی عورت جسے حقِ حضانت ہو موجود نہیں تو ماں کی پھوپھی کو اس سے انکار کا اختیار نہیں البتہ اس پرورش کی اجرت لینی چاہے تو باپ کو دینی ہوگی۔
تنویر الابصار میں ہے:
الحضانۃ تثبت للام، ثم ام الام، ثم ام الاب وان علت، ثم الاخت لاب وام، ثم لام، ثم لاب، ثم بنت الاخت لابوین، ثم لام، ثم الخالات، ثم العمات، ثم خالۃ الام، ثم خالۃ الاب، ثم عمات الامھات والاٰباء، بھذا الترتیب ثم العصبات بترتیب الارث۔۱؎
پرورش کا حق ماں کو ہے پھر نانی پھر دادی کو اگرچہ اوپر والی ہوں، پھر حقیقی بہن کو پھر ماں کی طرف سے سگی بہن کو پھر باپ کی طرف سے سگی بہن کو پھر حقیقی بہن کی بیٹی کو پھر ماں کی طرف سے بہن کی بیٹی کو پھر خالات کو پھر پھوپھیوں کو پھر ماں کی خالہ پھر باپ کی خالہ کو پھر ماں اور باپ کی پھوپھیوں کو، اسی ترتیب سے پھر، عصبہ مردوں کو وراثت کی ترتیب پر۔(ت)
(۱؎ درمختار شرح تنویر الابصار باب الحضانۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۲۶۴)
انہیں میں ہے:
ولاتقدر الحاضنۃ علی ابطال حق الصغیر وان لم یوجد غیرھا اجبرت بلاخلاف وتستحق اجرۃ الحضانۃ وھی غیراجرۃ ارضاعہ ونفقتہ بحر عن السراجیۃ ۱؎اھ ملخصین، واﷲ تعالٰی اعلم۔
پرورش کرنے والی حقِ صغیرکو باطل نہیں کرسکتی، اگر ماں کے علاوہ کوئی پرورش کرنےوالی نہ ہو تو ماں کو بچے کی پرورش پر مجبور کیاجائے گا، اس میں اختلاف نہیں، وہ البتہ پرورش کی اجرت کی مستحق ہوگی جو کہ دودھ پلانے کی اجرت اور نفقہ ولد کے علاوہ ہوگی بحر نے اسے سراجیہ سے نقل کیا ہے اھ ملخصاً واﷲتعالٰی اعلم (ت)
(۱؎ درمختار شرح تنویر الابصار باب الحضانۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۲۶۴ )
مسئلہ۱۴۵: از ریاست رامپور محلہ چاہ شور مرسلہ مناخاں ۲۲جمادی الاولی ٰ ۱۳۲۱ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نے وقت وفات اپنی ایک زوجہ منکوحہ اور ایک پسر نابالغ اور دو لڑکیاں نابالغہ ہیں، وراثت مع الحصر چھوڑکر وفات پائی، اور بعدوفات مذکور کے اس کی منکوحہ وارثہ نے بقضاءِ الٰہی وفات پائی، اب ایک لڑکا نابالغ اور دو لڑکیا ں نابالغہ بطن مسماۃ متوفیہ سے باقی رہی، مسماۃ متوفیہ مذکورہ کا دادھیال اور نانھیال میں سے کوئی ذکور اور اناث میں سے نہیں ہے اور زید مرحوم مذکور کے دو چچا زاد بھائی ہیں اور ایک عورت حسینی کہ متوفیہ مرحومہ کو بطور فرزندی پرورش کیا تھا دعویدار ہیں کہ ولایت ان ہرسہ نابالغ صغیرہ کی ہم کو پہنچی ہے پس ولایت صغیر ان مذکوربرادرانِ زید متوفی جو چچا زاد بھائی زید کے ہیں اور وہ عورت جس نے منکوحہ کو فرزندانہ پرورش کیا تھا ان دونوں میں کس کو حسبِ شرع شریف حقِ ولایتِ نابالغان حاصل ہے؟بینواتوجروا۔
الجواب
سائل مظہر کہ پسر کی عمر گیارہ سال ہے اورایک دختر کی دس سال اور دوسرے کی تین سال،پس صورت مستفسرہ میں لڑکا جوان ہونے تک زید کے چچا زاد بھائی کے پاس رہے گا اور لڑکے اورلڑکیوں کے نکاح کرنے کی ولایت بھی بھائیوں کو ہے مگر لڑکیاں ان میں سے کسی کو سپرد نہ کی جائیں گی قاضیِ شرع پر فرض ہے کہ ان کے رکھنے کےلئے کوئی عورت صالحہ متدینہ امینہ تجویز کرے کہ تابلوغ یا جب تک شادی نہ ہو لڑکیاں اس کی حفاظت میں رہیں اور ان تینوں نابالغوں نابالغوں کا جو مال ہے اگر ان کے باپ یا دادا کا کوئی وصی موجود ہے یعنی جسے وہ اپنے مال یا اولاد کی حفاظت و نگہداشت کی وصیت کرگئے ہوں یا وہ نہ ہوتو ایسے وصی کا جو وصی ہواس کی حفاظت میں سپرد کیا جائے ورنہ اس کے لئے بھی قاضی شرع پر فرض ہے کہ امین صالح دیندار قادر نیک مسلمان تجویز کرے جو قرآن پر سچا ایمان رکھے یتیم کے مال کو آگ جانے اور ا ﷲ ان سب حسب لینے والا ہے، رہی وہ عورت جس نے ان کی ماں کو پالا تھا ا س کا اصلاً کوئی حق نہیں، ہاں لڑکیوں کی حفاظت کےلئے اگر قاضی شرع کی رائے میں وہ عورت ہی انسب ہوتو اسے دے دے مگر نکاح یا حفاظت مال میں اس کا کوئی اختیار نہ ہوگا۔
منہاج و خلاصہ و تاتارخانیہ و حاشیہ الخیر الرملی وردالمحتار میں ہے:
ان لم یکن للصبی اب وانقضت الحضانۃ فمن سواہ من العصبۃ اولی الاقرب فالاقرب غیران الاثنٰی لا تدفع الاالی محرم۱؎۔
جب بچے کی پرورش کی مدت ختم ہوجائے اور باپ نہ ہو تو باپ کے بعد والے عصبہ مردوں میں سے جو قریب تر ہو اس کی تحویل میں دے دیا جا ئے گا لیکن اگر لڑکی ہو تو اسے غیر محرم کی تحویل میں نہ دیا جائے گا۔(ت)
(۱؎ ردالمحتار باب الحضانۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۶۴۲)
تحفۃ الفقہاء، وبحرالرائق وردالمحتار میں ہے:
ان لم یکن للجاریۃ غیرابن العم فالاختیار للقاضی ان راٰہ اصلح الیہ والاتوضع علی یدامینۃ اھ(قال الشامی) مافی التحفۃ عللہ فی شرحھا البدائع بقولہ لان الولایۃ فی ھذہ الحالۃ الیہ فیراعی الاصلح اھ وھو ظاہر فی انہ لاحق لابن العم فی الجاریۃ مطلقاالخ۔
اگر لڑکی کا چچا زاد کے بغیر کوئی عصبہ نہ ہوتو قاضی کو اختیار ہے کہ اگر وہ چچا زاد کو نیک وصالح سمجھتا ہے تو لڑکی اس کی تحویل میں دے دے ورنہ کسی امین صالح عورت کے سپرد کرے اھ، علامہ شامی نے فرمایا کہ تحفہ میں جو بیان ہے اس کی وجہ اور علت کو اس کی شرح بدائع میں یوں بیان کیا ہے، چونکہ ایسی صورت میں قاضی کو ولایت حاصل ہوتی ہے لہذا وہ بہتری کی تدبیر کرے اھ،یہ بات ظاہر ہے کیونکہ چچا زاد کو لڑکی پر حق مطلقاً نہیں ہے الخ۔(ت)
(۲؎ ردالمحتار باب الحضانۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۶۳۹)
تنویرالابصار میں ہے:
ولیہ ابوہ ثم وصیہ (بعد موتہ) ثم وصی وصیہ ثم جدہ ثم وصیہ ثم وصی وصیہ ثم القاضی ۳؎اھ مزید ا من الدرالمختار، واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔
بچے کا ولی اس کا باپ پھر باپ کے فوت ہونے پر باپ کا وصی اور پھر وصی کاوصی، پھر دادا، پھر اس کاوصی، پھر اس کے وصی کا وصی، اور پھر قاضی ہے اھ، درمختارسے کچھ زیادتی شامل کرتے ہوئے، واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم(ت)
(۳؎ درمختار شرح تنویر الابصار مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۰۳)