| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۳(کتاب الطلاق ،ایمان، حدود وتعزیر ) |
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کی زید نے ہندہ کو طلاق دی اور ایک پسر شیر خوار جو زید کو نطفے سے ہے واسطے پرورش کے ہندہ کے پاس چھوڑا اور اس کی پرورش کے واسطے ماہانہ مقرر کردیا اب وہ لڑکا بعمر تین برس کچھ ماہ کے ہواہندہ نے نکاح ایک شخص سے کرلیا اب وہ لڑکا زید کو مل سکتا ہے یانہیں، اور اگر مل سکتا ہے تو کس عمرمیں؟اور ہندہ کو اپنے ماں باپ کے پاس چھوڑ کر شوہر کے یہاں چلی گئی وہ عورت ہندہ کی مادر حقیقی نہیں ہے تو زید کے مقابلہ میں ہندہ کے ماں باپ کو استحقاق پرورش پسر مذکور حاصل ہے یانہیں؟بینواتوجروا
الجواب
سائل مظہر کہ ہندہ نے جس شخص سے نکاح کیا وہ لڑکے کا محرم نہیں بلکہ اجنبی شخص ہے اور ہندہ کی ماں اور نانی مرگئیں، باپ اورسوتیلی ماں، اور ہندہ کی سگی دادی خود کی سگی دادی زندہ ہیں،پس صورت مذکورہ میں ہندہ کے باپ یا سوتیلی ماں کو لڑکے کے رکھنے کا کوئی حق نہیں بلکہ سات برس کی عمر تک اپنی دادی کے پاس رہے گا بعدہ باپ لے لے گا ماں کی دادی بھی لڑکے کی دادی کے ہوتے نہیں رکھ سکتی۔
فی الدرالمختار ثم بعد الام بان ماتت اوتزوجت بالجنبی ام الام ووان علت عند عدم اھلیۃ القربی، ثم ام الاب وان علت بالشرط المذکورواما ام اب الام فتؤخر عن ام لاب بل عن الخالۃ ایضابحر، والام احق بالغلام حتی یستغنی عن النساء وقدر بسبع وبہ یفتی۲؎اھ ملتقطا،
درمختار میں ہے کہ ماں فوت ہوجائے یا بچے کے اجنبی غیر محرم سے نکاح کرلے تو ماں کے بعد نانی خواہ اوپر والی ہو جبکہ کوئی قریبی عورت پرورش کا حق نہ رکھتی، پھر دادی خواہ اوپر والی ہو مذکورلہ شرط کے ساتھ، لیکن ماں کی دادی تو وہ بچے کی دادی بلکہ اس کی خالہ سے بھی مؤخڑ ہے، بحر۔ ماں لڑکے کی حقدار ہے جب تک لڑکا عورتوں کی نگرانی سے مستغنی نہ ہوجائے جس کا اندازہ سات سال کی عمر ہے اور اسی پر فتوٰی دیاجائیگا،
(۲؎ درمختار باب الحضانۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۲۶۴)
وفی ردالمحتار عن الفتح یجبر الاب علی اخذ الولد بعد استغنائہ عن الام۱؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
اھ ملتقطا، اور ردالمحتار میں فتح سے منقول ہے کہ والد کو مجبور کیا جائے گا کہ وہ بچے کوماں کی نگرانی سے مستغنی ہوجانے کے بعد اپنی تحویل میں لے لے۔ واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
(۱؎ ردالمحتار باب الحضانۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۶۴۰)
مسئلہ۱۴۳: کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے ہندہ کو طلاق دے دی جس کو عرصہ پانچ سال کا ہوا اور اس کا ایک لڑکا تھا وہ بھی تقریباً پانچ سال کاہوا، اب ہندہ نے نکاح ثانی کرلیا ہے، اور اس لڑکے کی نانی سوتیلی ہے اور خالہ نابالغ ہے اور اس کی دادی اور پر دادی اوردادا اور باپ موجود ہیں اس حالت میں لڑکا مذکور کس کے پاس رہنا چاہئے؟بان کیجئے۔ بینواتوجروا
الجواب سائل نے بیان کیا کہ عورت نے اجنبی شخص سے نکاح کیا جو اس لڑکے کا کوئی نہیں اور نانی سوتیلی ہے، اور سگی نانی کی ماں بھی نہیں اور دادی حقیقی ہے، پس اس صورت میں ماں کو اس لڑکے کے رکھنے کا کوئی حق نہ رہا، اور سوتیلی نانی کوئی چیز نہیں، لڑکا سات برس کی عمر تک دادی یعنی اپنے باپ کی ماں کے پاس رہے گا پھر باپ لے لے گا۔
درمختار میں ہے:
الحاضنۃ یسقط حقھا بنکاح غیر محرم الصغیر۔۲؎
پرورش کرنے والی کا حق ساقط ہوجاتا ہے جب وہ بچے کے غیرمحرم سے نکاح کرلے۔(ت)
(۲؎ درمختار باب الحضانۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۲۶۵)
اسی میں ہے:
ثم بعد الام ان ماتت اوتزوجت باجنبی ام الام وان علت ثم ام الاب۳؎اھ مختصرا واﷲ تعالٰی اعلم۔
ماں فوت ہوجائے یا بچے کے اجنبی سے نکاح کرلے تو پھر نانی کو حق ہے خواہ اوپر والی ہو، پھر دادی کو حق ہے اھ مختصراً۔واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
(۳؎ درمختار باب الحضانۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۲۶۴)