Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۳(کتاب الطلاق ،ایمان، حدود وتعزیر )
104 - 175
مسئلہ۱۴۱: کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایک عورت مسماۃ ہندہ فوت ہوئی اور مادر اس کی، اور طفل شیر خوار اس نے چھوڑا اور شوہر بھی اس کا باقی رہا لیکن کوئی شخص ماں یا بہن یا پھوپھی وغیرہ شوہر ہندہ کا نہیں رہا ہے کہ پرورش اس طفل شیر خوار گی کی کرے، نانی اس طفل مذکور کی پرورش کرتی ہے اور باپ اس طفل کا نہیں چاہتا ہے کہ نانی کے پاس وہ لڑکا رہے، تو اس حالت میں وہ لڑکا باپ کو عندالشرع دلایا جائے گا یا نانی کے پاس رہے گا؟ اور اسباب و ظروف وغیرہ کہ ہندہ متوفیہ کا جہیز ہندہ نے پایا تھا وہ بھی شوہر اس کے نے اپنے تصرف میں کرلیا تو وہ مال واسباب متصرفہ شوہر ہندہ ملک اس پسر صغیرہ کی ہوگا یا اس کے باپ کے قبضہ میں رہے گا اور مصارف نان ونفقہ ایامِ رضاعت  کا کس کے ذمہ چاہئے،بینواتوجروا
الجواب

صورت مسئولہ میں سات برس کی عمر تک پسر کی پرورش ان کی نانی کا حق ہے، باپ بلاوجہ شرعی اس کا مزاحم نہیں ہوسکتا،
فی الدرالمختار الحضانۃ تثبت للام ثم ام الام والحاضنۃ امااو غیرھا احق بہ ای بالغلام حتی یستغنی عن النساء وقدر بسبع وبہ یفتی اھ ۱؎ ملتقطا۔
درمختار میں ہے: پرورش کا حق ماں کو پھر نانی کو ہے، اور پرورش کرنے والی عورت لڑکے کی اس وقت تک حقدار ہے جب تک وہ عورتوں کی نگرانی سے مستغنی نہیں ہوجاتا جس کی مدت اندازاً سات سال کی عمر ہے اور اسی پر فتوٰی دیا جائے گا، اھ ملتقطا(ت)
 (۱؎ درمختار     باب الحضانۃ     مطبع مجتبائی دہلی     ۱ /۲۶۴)
اور ہندہ نے جو کچھ اسباب اپنےجہیز میں پایاتھا سب اسی کی ملک تھا اور بعد اس کی مرگ کے فرائض اﷲ پر تقسیم پائے گا،
فی العقود الدریۃ کل احد یعلم ان الجھاز ملک البنت لاحق لاحد فیھا۔
عقود الدریہ میں ہے کہ ہر ایک جانتا ہے کہ جہیز لڑکی کی ملکیت ہوتا ہے اس میں کسی اور کاحق نہیں ہوتا۔(ت)
البتہ جس قدر مال حصہ نابالغ قرار پائے گا اس پر قبضہ اس کے باپ ہی کا ہوگا مگر نہ مالکانہ از راہِ ولایت کہ باپ کے ہوتے ہوئے دوسرا شخص بچہ کا ولی اور اس کے مال کا محافظ نہیں
کما فی الدرالمختار وعامۃ الاسفار
 (جیسا کہ درمختار اور عامہ کتب میں ہے۔ت)رہایہ بچے کا نان و نفقہ اور اجرت رضاعت وغیرہ مصارف کثیرہ ہیں تو اس کا حکم یہ ہے کہ اگر بچہ نے اپنی ماں کے ترکہ یا کسی اور وجہ سے اتنا مال پایا ہے جس کے سبب اسے شرعاً غنی کہا جائے اورزکوٰۃ دیناناروا ہو تو یہ سب صرف خاص اسی کے مال سے ہوں گے باپ پر واجب نہیں کہ اپنے پاس سے صرف کرے، ہاں ان مصارف کی کار پر دازی بحکم ولایت باپ کے ذمہ ہوگی، اور اگربچہ کے پاس اتنا مال نہیں تو بیشک یہ صرف باپ کے ذمہ ہیں،
فی ردالمحتار عن الخیر الرملی ان الحضانۃ کالرضاع فلھا الاجرۃ من مال الصغیران کان لہ مال والافمن مال ابیہ ۲؎ اھ ملخصا،
ردالمحتار میں خیرالدین رملی سے منقول ہے کہ پرورش کا حکم رضاعت والاہے لہذا پرورش کرنیوالی کو اجرت کا استحقاق ہے، اگر بچے کا اپنا مال ہوتو اس میں سے ورنہ بچے کے والد کے مال میں سے اجرت دی جائے گی اھ ملخصاً۔
 (۲؎ درمختار     باب الحضانۃ    داراحیاء التراث العربی بیروت     ۲ /۶۳۷)
وفی الدرالمختار وتجب النفقۃ لطفہ الفقیر فان نفقۃ الغنی فی مالہ الحاضر وتجب ایضا لکل ذی رحم محرم فقیرابحیث تحل لہ الصدقۃ ولولہ منزل وخادم علی الصواب بدائع ۳؎اھ بالالتقاط .
اور درمختار میں ہے کہ بچے کا نفقہ اگروہ فقیر ہوتو باپ پر ہے کیونکہ اگر وہ فقیر نہ ہوتو غنی ہونے کی وجہ سے نفقہ اس کے اپنے موجود مال سے کیا جائےگا، اور یونہی جو ذی محرم فقیر ہو اس کے لئے صدقہ حلال ہو تو اس کےلئے بھی نفقہ ضروری ہے اگرچہ اس کا مکان اور خادم بھی ہو یہ حکم درست قو ل کے مطابق ہے بدائع، اھ ملتقطا۔
 (۳؎ درمختار     باب النفقۃ     مطبع مجتبائی دہلی     ۱ /۲۷۳ و ۲۷۶)
فی ردالمحتار قولہ ولولہ منزل وخادم وھو محتاج الیہما ۔وھذاعام فی الوالدین والمولودین وذوی الارحام کما صرح فی الذخیرۃ۱؎ اھ،
واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم
اس پر ردالمحتار میں ہے ماتن کا قول کہ ''اگرچہ اس کا مکان اور خادم ہو'' یعنی جبکہ اس کو ان کی احتیاجی ہو۔ یہ حکم والدین، اولاد اور ذوالارحام سب کو شامل ہے جیسا کہ ذخیرہ میں اس کی تصریح کی گئی ہے اھ، واﷲ سبحانہ، وتعالٰی اعلم (ت)
 ( ۱؎ ردالمحتار     باب النفقۃ     داراحیاء التراث العربی بیروت    ۲/۶۸۲)
Flag Counter