Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۳(کتاب الطلاق ،ایمان، حدود وتعزیر )
103 - 175
مسئلہ۱۴۰: کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے ایک زوجہ اور لڑکا اور ایک لڑکی نابالغ اور ایک بیٹی بالغہ منکوحہ اور ایک بھائی چھوڑ کر انتقال کیا زوجہ نے کہ ان بچوں کی ماں ہے ایک اجنبی آدمی سے نکاح کرلیا، لڑکا چار برس کا ہے اورلڑکی آٹھ کی، اس کی ماں اس کا نکاح ایک جگہ کیا چاہتی ہے، چچا وہاں راضی نہیں بلکہ اپنے بھیتیجے سے نکاح کرنا چاہتا ہے، اس صورت میں ان نابالغوں کے نکاح کا اختیار ماں کو یا چچاکو ہے، اور ان کو رکھنے کا اختیار کسے ہے، نابالغوں کی دادی کوئی نہیں، خالہ اور دو پھوپھیاں ہیں، اور پھوپھیاں انہیں اپنے پاس رکھنے پر راضی نہیں، اور نابالغوں کا کچھ مال نہیں، تو ان کا کھلانا بلانا کس کے ذمہ ہے؟بینواتوجروا
الجواب
صورت مستفسرہ میں نابالغوں کے نکاح کا اختیار ان کے چچا کے سوا کسی کو نہیں، اسکے ہوتے ہوئے ماں کا نکاح میں کچھ دخل نہیں، اور جبکہ وہ ایک اجنبی شخص سے نکاح کرچکی تو اسے بچوں کے رکھنے کا بھی اختیار نہیں، بلکہ لڑکا سات برس کی عمر تک اور لڑکی جوانی تک اپنی بہن کے پاس رہیں، اور وہ نہ رکھے تو خالہ کے پاس، اور وہ بھی قبول نہ کرے تو پھوپھیوں کے پاس،
فی الدرالمختار الحضانۃ للام الا ان تکون فاجرۃ او متزوجۃ بغیر محرم الصغیرثم بعد الام بان ماتت اولم تقبل اوتزوجت باجنبی ام الام، ثم ام الاب ،ثم الاخت ثم الخالات ثم العمات اھ۱؎ملخصا۔
درمختار میں ہے: ماں اگر فاجر ہ یا بچے کے غیر محرم سے نکاح والی نہ توو ہی پرورش کا حق  رکھتی ہے، پھر ماں اگر فوت ہوجائے یا بچے کو قبول نہ کرے یابچے کے اجنبی سے نکاح کرلے تو اس کے بعد نانی پھر دادی پھر بہن  پھر ،خالات ،پھر پھوپھیوں کو حق حضانت ہے اھ ملخصاً(ت)
( ۱؎ درمختار     باب الحضانۃ     مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۲۶۴)
ردالمحتار میں ہے:
الحاضنۃ لاتجبر اذا لم تتعین لھا لان المحضون حِ لایضیع حقہ لوجود من یحضنہ غیرہا وتجبراذاتعینت لعدم من یحضنہ غیرھا۱؎اھ ملتقطا وتمام تحقیقہ فیہ وھذاحاصل ما وفق بہ بین نقلین مختلفین۔
پرورش کرنے والی صرف ایک ہونے کی وجہ سے متعین نہ ہوتو اس کو پرورش پر مجبور نہ کیا جائے گا کیونکہ دوسری پرورش کرنے والی موجود ہونے کی وجہ سے بچے کی پرورش ضائع نہ ہوگی اور اگر وہ ایک ہی متعین ہوتو اس کو مجبور کی اجائے گا کیونکہ کوئی دوسرا نہیں ہے اھ ملتقطا اور اس کی مکمل تحقیق ردالمحتار میں ہے یہ دو مختلف روایات میں تطبیق و توفیق کا ماحاصل ہے۔(ت)
(۱؎ ردالمحتار    باب الحضانۃ     داراحیاء التراث العربی بیروت     ۲ /۶۳۶)
اور جبکہ ان یتیم نابالغوں کا کچھ مال نہیں تو ان کا کھانا کپڑا ان کے ان قابلانِ وراثت پر ہے جن کے پاس اپنے ااور اپنے بال بچوں کے کھانے پہننے وغیرہ ضروری مصارف کے بعد پس انداز ہوتا ہو جس سے اپنے ان عزیزوں کی امداد کرسکیں یہاں ماں بہن چچا پھوپھی خالہ اگرچہ سب محارم ہیں مگر خالہ پھوپھی ان تین کے سامنے وارث نہیں لہذا ان میں اگر کوئی ویسا مرفہ الحال ہوتو خالہ پھوپھی پر نفقہ دینا واجب نہیں۔
فی الدرالمختار ویجب ایضا لکل ذی محرم رحم محرم صغیر  او انثی مطلقا ولو کانت الانثی بالغۃ صحیحۃ اوکان الذکر بالغا لکن عاجزا عن الکسب نحو زمانۃ کعمی وعتہ وفلج اولایحسن الکسب فقیرا، بحیث تحل لہ الصدقۃ ولولہ منزل وخادم علی الصواب بدائع اھ ۲؎ملخصا۔
درمختار میں ہے کہ ہر ذی محرم(خواہ نابالغ ہو یا عورت ہو) کانفقہ واجب ہے، اگرچہ عورت بالغہ اور صحتمند ہویا مرد بالغ ہو لیکن عاجز ہو محنت نہ کرسکتا ہو مثلاً اپاہج، نابینا،بے عقل یا فالج زدہ ہو، یا محنت کی مہارت نہ رکھنے والا محتاج ہو جس کو صدقہ حلال ہواگرچہ اس کا مکان اور خادم ہو، درست قول کے مطابق یہی حکم ہے، بدائع، ملخصاً(ت)
 (۲؎ درمختار     باب النفقۃ     مطبع مجتبائی دہلی         ۱ /۲۷۶)
عالمگیریہ میں ہے:
لوکان لہ عم وعمۃ وخالۃ فالنفقۃ علی العم فان کان العم معسرا فالنفقۃ علیھما۳؎۔
اگرچچا،پھوپھی اور خالہ ہوتونفقہ چچے پر لازم ہوگا، اور اگر چچا تنگدست ہوتو پھر پھوپھی اور خالہ دونوں پرلازم ہوگا۔(ت)
(۳؎ فتاوٰی ہندیہ الفصل الخامس فی النفقۃ ذوی الارحام نورانی کتب خانہ پشاور     ۱ /۵۶۶)
اب یہ دیکھنا رہا کہ ان تین وارثوں میں اس طرح کا مالدار کون ہے جس کا ہم نے بیان کیا، اور یہ یاد رکھنا چاہئے کہ عورت اگراپنا کچھ نہ رکھتی ہوتو وہ مرفہ الحال نہ گنی جائے گی اور اس سے نفقہ نہ لیا جائے گا اگرچہ اس کا شوہر ہزاروں کا آدمی ہو
والا لزم ایجاب النفقۃ علی الاجنبی کمالایخفی
 (ورنہ اجنبی پر نفقہ واجب کرنا لازم آئے گا جیسا کہ مخفی نہیں۔ت)
پس اگر صورت مستفسرہ میں ان تینوں وارثوں سے صرف ایک ایسا مرفہ الحال ہی باقی ہے تو ان دونوں بچوں کا نفقہ صرف اس ایک پر واجب ہوگا خواہ ماں ہو یا بہن یا چچا، اور اگر صرف دو ماں اور بہن مالدار ہیں چچا نہیں تو جس قدر ان بچوں کے کھانے پہننے میں صرف ہونا سمجھا جائے اس کے پانچ حصے کریں دو۲ حصے ماں سے لئے جائیں اور تین حصے بہن سے، مثلاً سوار وپے مہینے کا خرچ سمجھیں تو ۸/ماں دے اور ۱۲/بہن، اور اگر چچا مالدار ہیں بہن نہیں تو تین حصے کریں دو تہائی ماں سے لیں ایک تہائی چچا سے، اور اگر بہن، چچا مالدار ہیں ماں نہیں تو چار سہام کریں ایک چوتھائی چچا دے تین حصے بہن، اور اگر تینوں مالدار تو چھ سہام کریں دو حصے ماں دے، تین حصے بہن، ایک حصہ چچا،
وذٰلک لما عرفت ان النفقۃ بقدر الارث وقد قال فی الھندیۃ الاصل فی ھذا ان کل من کان یحرز جمیع المیراث وھو معسر یجعل کالمیت واذا جعل کالمیت کانت النفقۃ علی الباقیین علی قدر مواریثھم وکل من کان یحرز بعض المیراث لایجعل کالمیت فکانت النفقۃ علی قدر مواریث من کان یرث معہ۱؎الخ ومثلہ فی الدرالمختار وغیرہ وقد علمت انہ لیس ھٰھنا احد من الثلثۃ یحجب الباقیین ویحرز کل المیراث فان کان احدھم معسرا لایجعل کالمیت ویعتبر فی التقسیم ثم یخرج من البین کما یفعل فی الخارج وحِ یتضح لک ماذکرنابتوفیق اﷲ سبحٰنہ وتعالٰی، واﷲتعالٰی اعلم۔
یہ اس لئے کہ جس کو آپ نے جان لیا کہ نفقہ بقدر وراثت لازم ہوتا ہے، اور ہندہ میں کہا ہے اس میں ضابطہ یہ ہے کہ جو شخص تمام وراثت حاصل کرنے کا حق رکھتا ہو جب وہ تنگدست ہو تو اس کو مردہ (کالعدم) قرار دیا جاتا ہے اور جب وہ کالعدم قرار پائے گا تو پھر نفقہ باقی ورثاء پر بقدر وراثت واجب ہوگا اور وہ وارث یہ تمام وراثت کو حاصل نہیں کرتا بلکہ وراثت کا کچھ حصہ پاتا ہے تو اس کو تنگدستی پر مردہ (کالعدم) نہیں قرار دیا جاتا لہذا اس کی موجودگی میں اس کے ساتھ جو لوگ وراثت میں حصہ دار ہوتے ہوں ان پر حصہ کے مطابق نفقہ لازم ہوگا الخ، اور اسی طرح درمختار وغیرہ میں مذکور ہے، اور آپ معلوم کرچکے ہیں کہ یہاں تینوں میں سے کوئی بھی ایسا نہیں جو دوسرے ورثاء کو محروم کرکے تمام وراثت کو حاصل کرسکے تو ان میں سے اگر کوئی تنگدست ہوجائے تو اس کو مردہ (کالعدم) نہیں قرار دیا جائے گا بلکہ اس کو تقسیم میں باقی اور شامل تصور کرکے درمیان سے الگ کردیا جائے گا، جیسا کہ وراثت کی تقسیم میں کسی کو الگ کردیا جاتا ہے، تو اب وہ بات واضح ہوگئی جو ہم نے ذکر کی ہے اﷲسبحٰنہ کی توفیق سے، واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
(۱؎ فتاوی ہندیۃ     الفصل الخامس فی نفقۃ ذوی الارحام     نورانی کتب خانہ پشاور     ۱ /۵۶۶)
Flag Counter