Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۳(کتاب الطلاق ،ایمان، حدود وتعزیر )
102 - 175
مسئلہ۱۳۹: از میران پور کٹرہ کما ل زئی شاہجہان پور مرسلہ نادر خاں صاحب رئیس کٹرہ ۱۸ذیقعدہ۱۳۱۲ھ
کیافر ماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ صغیرو صغیرہ جن کی ماں انتقال کرگئی اور باپ نے دوسرا نکاح کرلیا نانا، ماموں، ممانی اور خالہ زاد اور پھوپھی زاد نانیاں اور نانیوں کی بیٹی بیٹیاں ہیں بچے نانا کے پاس ہیں باپ ان سے بالجبر لینا چاہتا ہے حالانکہ بوجہ نکاح ثانی اس کے پاس بچوں کی مضرت جان کا اندیشہ ہے، اس صورت میں حقِ پرورش اطفال کس کو ہے؟ پوری تفصیل درج ہو کہ حقِ حضانت ترتیب وار کس کو ہے اور پرورش کنندہ کے پاس کس عمر تک رہیں گے؟ بینواتوجروا
الجواب  :
حقِ حضانت ذی رحم محرم کے لئے ہے یعنی وہ نسبی رشتہ جس میں نکاح ہمیشہ کو حرام ہوتا ہے تو نانی کی خالہ زاد یا پھوپھی زاد بہنوں یا ان کی اولاد یا ممانی کےلئے کوئی حقِ حضانت نہیں جیسے خود صغیر صغیرہ کی خالہ زاد ماموں زاد پھوپھی زاد چچا زادبہنیں کہ یہ محارم سے خارج ہیں۔
درمختار میں ہے:
لاحق لولد عم وعمّۃ وخالۃ لعدم المحرمیۃ۱؎۔
چچازاد، پھوپھی زاداور خالہ زادکو بچے کا حق پرورش نہیں ہے کیونکہ یہ محارم نہیں ہیں(ت)
 (۱؎ درمختار     باب الحضانۃ     مطبع مجتبائی دہلی    ۱ /۲۶۵)
پھر محارم میں پہلے مستحق عورتیں ہیں بشرطیکہ معاذاﷲ مرتدہ یا بدکار یا بے اطمینان یا کسی ایسے شخص کے نکاح میں نہ ہوں جس اس بچہ کا محرم نہیں، بے اطمینانی کی یہ صورت کہ بچہ کوبے حفاظت چھوڑ کر باہر چلی جایا کرتی ہو، ایسی بے پرورائی ماں بھی کرے تو بچے اس سے بھی لے لئے جائیں گے،
درمختار میں ہے:
الحضانۃ للام الاان تکون مرتدۃ او فاجرۃ او غیرما مونۃ بان تخرج کل وقت و تترک الولد ضائعا او متزوجۃ بغیر محرم الصغیر۲؎ الخ ملخصاً۔
پرورش کا حق ماں کو ہے مگرجب ہو مرتدہ یا فاجرہ یاغیر محتاط ہو کہ ہر وقت بچے کو چھوڑ کر باہر چلی جاتی ہو یا اس نے بچے کے غیر محرم اجنبی سے نکاح کرلیا ہو الخ ملخصاً(ت)
 (۲؎ درمختار     باب الحضانۃ     مطبع مجتبائی دہلی       ۱ /۲۶۴)
عورتوں سب سے مقدم ماں ہے، پھر سگی نانی، پھر اس کی ماں، پھر سگی دادی، پھراس کی ماں، پھراس کی بہن، پھر مادری بہن(یعنی جو اس بچے سے ماں میں شریک اور باپ میں جدا ہو) پھر روایت متون میں سوتیلی بہن، پھر سگی بھانجی، پھر مادری،(یعنی مادری بہن کی) بیٹی، پھر سگی خالہ، پھر مادری خالہ، پھر سوتیلی خالہ، پھر سگی بھانجی، پھر سوتیلی بھانجی، پھر سگی بھتیجی،پھر سوتیلی،پھت سگی پھوپھی، پھر مادری ،پھر سوتیلی ،پھر ماں کی سگی خالہ ،پھر مادری ،پھر سوتیلی ، پھر باپ کی سگی خالہ،پھر مادری، پھر سوتیلی، پھر ماں کی سگی پھوپھی، پھر مادری، پھر سوتیلی، پھر باپ کی سگی پھوپھی، پھر مادری،پھر سوتیلی، یہ بتیس ۳۲ عورتیں ہیں جب ان سے کوئی نہ ہو یابوجوہ مذکورہ مستحق نہ رہے تو حقِ حضانت عصبات ذکور کی طرف منتقل ہوگا جن میں سب سے مقدم باپ ہے، پھر دادا، پھر سگا بھائی، پھر سوتیلا، پھر سگا بھتیجا، پھر سوتیلا، پھر سگا چچا، پھر سوتیلا،۔ ان میں سے کسی کے ہوتے نانا ماموں وغیرہما ذوی الارحام کو استحقاق نہیں تو خود باپ کے سامنے کب مستحق ہوسکتے ہیں،
درمختار میں ہے:
ثم بعد الام ام الام وان علت، ثم ام الاب وان  علت، ثم الاخت لاب وام، ثم لام، ثم لاب، ثم بنت الاخت لابوین، ثم لام، ثم لاب، ثم الخالات کذٰلک ای الابوین، ثم لام، ثم لاب، ثم بنت الاخت لاب، ثم بنات الاخ(لاب وام، اولام او لاب علی الترتیب) ثم العمات (لاب وام، ثم لام ثم لاب) ثم خالۃ الام کذٰلک، ثم خالۃ الاب کذٰلک، ثم عمات الامھات والاباء بھذا الترتیب، ثم العصبات بترتیب الارث فیقدم الاب، ثم الجد، ثم الاخ الشقیق، ثم لاب،ثم بنوہ کذٰلک، ثم العم، ثم بنوہ، ثم اذالم تکن عصبۃ فلذوی الارحام اھ۱؎ ملخصا منقحامزیدامن ردالمحتار۔
ماں کے بعد نانی اوپر تک، پھر دادی اوپر تک، پھر حقیقی بہن، پھر ماں کی طرف سے سگی بہن، پھر باپ کی طرف سے سگی بہن، پھر حقیقی بہن کی بیٹی، پھر ماں کی طرف سے بہن کی بیٹی، پھر باپ کی طرف سے سگی بہن کی بیٹی، پھر باپ کی طرف سے سگی بہن کی بیتی، پھر اس ترتیب پر حالات، پھر باپ کی طرف سے بہن کی بیٹی، پھر بھائی کی بیٹیاں اس ترتیب، پھر پھوپھیاں اس ترتیب پر، پھر ماں کی خالہ، پھر باپ کی خالہ اس ترتیب سے، پھر ماؤں کی پھوپھیاں، پھر آباء کی پھوپھیاں اسی ترتیب پر پھر عصبہ مرد حضرات وارث ہونے کی ترتیب پر یعنی پہلے باپ پھردادا، پھر حقیقی بھائی، پھر باپ کی طرف سے سگابھائی، پھر بھائی کے بیٹے اس ترتیب پر، پھر چچا، پھر اس کے بیٹے، اور پھر اگر عصبات نہ ہوں تو ذوالارحام حقدار ہوں گے اھ ملخصامنتحاً اس پر ردالمحتار سے بڑھاتے ہوئے۔(ت)
 ( ۱؎ درمختار     باب الحضانۃ     مطبع مجتبائی دہلی     ۱ /۶۵۔۲۶۴)
پس صورت مستفسرہ میں ان بتیس ۳۲ عورتوں سے اگر کوئی عورت بھی قابل حضانت موجود ہے جس نے بوجہ موانع مذکورہ اپنے حقِ حضانت کو ساقط نہ کیا تو صغیر صغیرہ نانا سے لے کر اس عورت کے پاس رکھے جائیں گے لڑکا سات برس کی عمراور لڑکی نوبرس کے سن تک بعد ازاں باپ کو دے دئے جائیں گے اور اگر زنانِ مذکورہ سے کوئی عورت مستحق باقی نہیں تو آج ہی سے بچے باپ کے پاس رہیں گے، نانا کہ اکتالیسویں درجہ میں ہے ان کا استحقاق نہیں رکھتا اور نکاح ثانی کے سبب باپ کے پاس مضرتِ جان اطفال کا اندیشہ گمان فاسد ہے،
فان العلماء لایعدون التزوج من مسقطات حضانۃ العصبات کیف والرجال قوامون علی النساء بخلاف المرأۃ فانھن عوان بین یدیکم۔
علمائے عصبہ مردوں کے حقِ حضانت کو ان  کے نکاح کرلینے کی وجہ سے ساقط نہیں کیا ان کا حق کیسے ساقط ہو جبکہ یہ مرد بیویوں پر غالب ہیں اسکے برخلاف عورت کا معاملہ ہے کیونکہ وہ خاوند کے کنٹرول میں ہے۔(ت) 

اور بالفرض اگر یہ امر باطل بثبوت کافی ثابت بھی ہوجائے تو غایت یہ کہ باپ سے لے کر اور نیچے کے عصبات بترتیب مذکور کودیں گے جب تک ان سے کوئی باقی ہے نانا کو استحقاق نہیں،ماموں تونانا سے بھی پانچویں درجہ میں ہے،
کما یظھر من الدرالمختار وردالمحتار، واﷲ تعالٰی اعلم۔
جیسا کہ درمختار اور ردالمحتار سے ظاہر ہورہاہے واﷲ تعالٰی اعلم۔(ت)
Flag Counter