| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۳(کتاب الطلاق ،ایمان، حدود وتعزیر ) |
مسئلہ۱۳۷: ۲۰ربیع الآخر شریف۱۳۱۰ھ کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے والدین اور ایک زوجہ اور ایک شیر خوار لڑکا چھوڑکر انتقال کیا، لڑکے کی نانی پہلے فوت ہوچکی ہے، اس صوت میں اگر لڑکے کی ماں کسی اجنبی سے نکاح کرے تو لڑکا کس کے پاس رہے گا؟بینواتوجروا
الجواب اگر ماں کسی ایسے شخص سے نکاح کرلے جو لڑکے کا محرم نسبی مثل چچا وغیرہ کے نہ ہوتو لڑکا ماں سے لے لیا جائے گا اور جبکہ نانی نہیں ہے تو سات۷ برس کی عمر تک دادی کے پاس رہے گا پھر دادا رکھے گا۔
فی الدرثم بعد الام بان ماتت اولم تقبلاو اسقطت حقھا او تزوجت باجنبی ام الام وان علت عند عدم اھلیۃ القربی، ثم ام الاب وان علت بالشرط المذکور۱؎الخ وفیہ والحاضنۃ اما او غیرھا احق بہ ای بالغلام حتی یستغنی عن النساء وقدربسبع،وبہ یفتی۲؎اھ
درمختار میں ہے کہ مان فوت ہوجائے یا بچے کو قبول نہ کرے یا اپناحق حضانت ساقط کردے یا بچے کے کسی اجنبی سے نکاح کرلے تو پھر ماں کے بعد نانی کو پرورش کا حق ہے اگرچہ اوپر تک جب کوئی قریبی عورت پرورش کا حق نہ رکھتی ہو پھر دادی کو اوپر تک بشرطیکہ اس سے کوئی قریبی عورت نہ ہو الخ، اسی میں ہے پرورش کرنے والی ماں ہو یا کوئی اور، تو ان کو لڑکے کے متعلق یہ حق اس وقت تک ہے جب تک لڑکا عورتوں کی نگرانی سے مستغنی نہ ہوجائے، جس کی مدت کا اندازہ سات سال کی عمر ہے، اور اسی پر فتوٰی دیا جائے گا اھ،
(۱؎ درمختار باب الحضانۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۲۶۴) (۲؎ درمختار باب الحضانۃ مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۶۵)
وفی ردالمحتار عن شرح المجمع و اذا استغنی الغلام عن الخدمۃ اجبر الاب اوالوصی اوالولی علی اخذہ لانہ اقدر علی تادیبہ وتعلیمہ اھ وفی الخلاصۃ وغیرہا واذا استغنی الغلام فالعصبۃ اولی یقدم الاقرب فالاقرب۳؎اھ ملخصاً۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
اس پر ردالمحتار میں شرح المجمع سے منقول ہے کہ جب لڑکا عورتوں کی خدمت سے مستغنی ہوجائے تو باپ یا اس کے وصی یا ولی کو مجبور کی جائے گا کہ وہ لڑکے حاصل کرے کیونکہ اس کے بعد یہ لوگ عورتوں کی بنسبت لڑکے کی تعلیم و تربیت زیادہ بہتر جانتے ہیں اھ خلاصہ وغیرہ میں ہے کہ جب لڑکا مستغنی ہوجائے تو اس کے عصبہ مرد قرابت کے لحاظ سے درجہ بدرجہ اس کے حقدار ہوں گے اھ ملخصاً، واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
(۳؎ ردالمحتار باب الحضانۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۶۴۰)
مسئلہ۱۳۸: ۲۷شعبان ۱۳۱۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ حق حضانت اور پرورش اطفال صغیر سن کابعد وفات ماں کے کس کو ہے؟ اور ماموں چچامیں کس کو ترجیح ہے؟ اور وہ حق کس عمر تک رہتا ہے؟بینواتوجروا۔
الجواب
سائل مظہر کہ یہ اطفال لڑکیاں ہیں، ان کے باپ، بھائی، بھتیجا، بہنیں، نانی، ماموں، چچا حقیقی ہیں، ایک لڑکی نوبرس کی ہے ایک گیارہ کی، پس صورتِ مستفسرہ میں نانی ماموں کو ان کے رکھنے کا کچھ اختیار نہیں، لڑکیاں اپنے چچا کے پاس رہیں گی کہ جب نوبرس کی ہوجائے تو ماں بھی اسے نہیں رکھی سکتی چچاکو دلادی جائے گی، نانی وغیرہا تو دوسرا درجہ ہے۔
درمختار میں ہے:
الام والجدۃ لام اولاب احق بالصغیرۃ حتی تحیض وغیرہما احق بہا حتی تشتھی وقدر بتسع وبہ یفتی وعن محمد ان الحکم فی الام والجدۃ کذٰلک وبہ یفتی۱؎اھ ملخصاً واﷲ تعالٰی اعلم۔
ماں نانی اور دادی لڑکی کی حقدار اس کو حیض آنے تک ہیں اور دوسری عورتین لڑکی مشتہاۃ ہونے کت حقدار ہیں، اور مشہتاۃ کا اندازہ ۹ سال کی عمر لگایا گیا ہے، اسی پر فتوٰی دیا جائے گا، اور امام محمد رحمہ اﷲ تعالٰی سے مروی ہے کہ ماں نانی اور دادی کا بھی یہی حکم ہے اھ ملخصاً۔ واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
(۱؎ درمختار باب الحضانۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۲۶۵)