Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۳(کتاب الطلاق ،ایمان، حدود وتعزیر )
100 - 175
مسئلہ۱۳۶ : ۳۰ذیقعدہ ۱۳۰۹ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ عباد اﷲ ایک زوجہ اور ایک پسر نابالغ اور ایک چچازاد بھائی فیض اﷲ چھوڑ کر فوت ہوا، عورت نے ایک اجنبی شخص سے نکاح کرلیا جسے اس نابالغ سے کوئی علاقہ نہیں، اس بچے کی نہ نانی ہے نہ دادی ہے نہ کوئی بہن بلکہ سوتیلی خالہ اور سگی پھوپھی ہے، اس صورت میں یہ بچہ جس کی چار برس کی عمر ہے کس کے پاس رہے گاا ور اس کے مال کی ولایت فیض اﷲ کو ہے یانہیں ؟بینواتوجروا۔
الجواب
جبکہ نابالغ کی ماں نے ایک اجنبی سے نکاح کرلیا، اب اسے نابالغ کے رکھنے کا اختیار نہ رہا ایک سات برس کی عمر تک سوتیلی خالہ کے پاس رہے گا، اگر وہ نہ مانے گی تو پھوپھی کے پاس رکھا جائے گا اور اگر وہ بھی انکار کرے گے تو جبراً خالہ کے پاس رہے گا، یہ سب اس صورت میں ہے کہ خالہ اور پھوپھی دونوں میں کوئی مانع حضانت نہ ہو ورنہ اگر ایک میں مانع حضانت ہو تودوسرے کے پاس رہے گا، سات برس کے عمر بعد جوان ہونے تک فیض اﷲ کے پاس رہے گا،
فی الدر المختار الحضانۃ للام الاان تکون فاجرۃ او متزوجۃ بغیرمحرم الصغیر۱؎الخ۔
درمختار میں ہے بچے کی پرورش کا حق ماں کو حاصل ہے مگر یہ کہ وہ فاجرہ ہو یا بچے کے غیر محرم سے نکاح کرلے(ت)
 (۱؎ درمختار     باب الحضانۃ     مطبع مجتبائی دہلی     ۱ /۲۶۴)
اسی میں ہے:
ثم بعد الام بان ماتت اولم تقبل او تزوجت باجنبی ام الام ثم ام الاب ثم الاخت لاب وام ثم  لام ثم لاب ثم الخالات کذٰلک ثم العمات۱؎ الخ ۔
ماں فوت ہوجائے یا ماں قبول نہ کرے یا بچے کے اجنبی وسے نکاح کرلے توماں کے بعد نانی پھر دادی کو پھر حقیقی بہن کو پھر مادری بہن کو پھر پدری بہن کو پھر خالات کو اسی ترتیب سے پھر پھوپھیوں کو الخ۔(ت)
 (۱؎ درمختار     باب الحضانۃ     مطبع مجتبائی دہلی     ۱ /۲۶۴)
بحرالرائق میں ہے:
ظاہر کلامھم ان الام اذامتنعت وعرض علی من دونھا من الحاضنات فامتنعت اجبرت الام لامن دونھا۲؎
فقہاء کرام کا ظاہر کلام یہ ہے کہ جب ماں انکار کردے اور بچے کو دوسری پرورش کنندہ پر پیش کیا گیا ہوتو اس نے بھی انکار کردیا ہوتو ایسی صورت میں ماں کو پرورش پر مجبور کیا جائیگا، ماں کے سوا دوسری پرورش کنندہ کو مجبور نہیں جائے گا۔(ت)
(۲؎ بحرالرائق     باب الحضانۃ    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی     ۴ /۱۶۶)
خلاصہ وغیرہ میں ہے:ان لم یکن للصبی اب وانقضت الحضانۃ فمن وسواہ من العصبۃ اولی الاقرب فالاقرب۳؎۔

اگر بچے کا باپ نہ ہو اور پرورش کی مدت ختم ہوچکی ہوتو پھر دوسرے عصبات ولی ہوں گے، ان کو ولایت درجہ بدرجہ قرابت کے لحاظ سے ہوگی یعنی سب سے قریب تر کو پہلے حق ہوگا۔(ت)
 (۳؎ ردالمحتار بحوالہ خلاصہ وغیرہا     باب الحضانۃ   داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۶۴۳)
اور ولایتِ مال میں فیض اﷲ کا اصلاً حق نہیں بلکہ اسے ملے گی جسے نابالغ کا باپ کہہ کر مرا ہو کہ میری اولاد کی نگہداشت تو کرنا یا میرے ترکہ کی غور پر داخت تیرے متعلق ہے یا اس بچہ کو میں تیری سپردگی میں دیتا ہوں،ا سے وصی کہتے ہیں، اگر باپ کا کوئی وصی موجود نہ ہوتو باپ کے وصی نے جسے اپنا وصی کیا ہو وہ ولی مال ہوگا، وہ بھی نہ ہو تو دادا کا وصی، وہ بھی نہ ہوتو دادا کے وصی کا وصی۔
درمختار میں ہے:
ولیہ ابوہ ثم وصیہ ثم وصی وصیہ ثم جدہ الصحیح ثم وصیہ ثم وصی وصیہ۴؎الخ، واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم بالصواب والیہ المرجع والماٰب۔
بچے کا ولی باپ، پھر اس کا وصی، پر وصی کا وصی، پھر اس کا جد صحیح (یعنی جو عورت کے واسطہ کے بغیر جد ہو) پھر اس کاوصی، پھر اس کے وصی کاوصی الخ،
واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم بالصواب والیہ المرجع والمآب۔(ت)
 (۴؎ درمختار      کتاب المأذون     مطبع مجتبائی دہلی     ۲ /۲۰۳)
Flag Counter