Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۳(کتاب الطلاق ،ایمان، حدود وتعزیر )
10 - 175
نیز علّامہ بحر کے اس رسالہ میں جس کا حوالہ ردالمحتار اور خود بحرالرائق میں گزرا یہاں وقوع بائن کی علت زیادۃ لفظ تملک بھا نفسھابیان فرمائی نہ یہ کہ نفس تعلیق موجب بینونت ہے رسالہ مذکورہ میں بعد بیان صورتِ واقعہ فرماتے ہیں:
وقع الطلاق ما ینبئی علی الزیادۃ وھو قولہ تملک بھا نفسھا فیکون بائنا وان کان صریحا، فی البدائع، البائن ان یکون بحروف الابانۃ او بحروف الطلاق لکن موصوفا بصفۃ تنبئی عن البینونۃ اھ ولاشک ان قولہ تملک بھا نفسھا یکون بالبائن لابالرجعی، فی فتح القدیر لاتملک نفسھا الابالبائن۱؎اھ مختصراً
یہاں طلاق کا وقوع، زائد الفاظ یعنی ''وہ اپنے نفس کی مالک ہوگی'' کے ساتھ ہوگا، لہذا یہ طلاق بائن ہوگی، اگرچہ صریح طلاق مذکور ہے، بدائع میں ہےکہ کسی جدائی والے لفظ یا لفظِ طلاق کو جدائی والے کسی لفظ سے موصوف کردیا جائے، تو یہ بائن طلاق ہوگی اھ، اور اس میں شک نہیں کہ عورت کو اپنے نفس کا اختیار بائن طلاق سے حاصل ہوتا ہے رجعی سے نہیں ہوتا۔ فتح القدیر میں ہے کہ رجعی طلاق میں عورت کو اپنے نفس کا اختیار حاصل نہیں ہوتا،اور بدائع میں ہے کہ عورت اپنے نفس کی مالک صرف بائن طلاق سے بنتی ہے اھ مختصراً(ت)
 (۱؎ الرسالۃ السابعۃ فی الطلاق المعلق علی الابراء ھل ھورجعی او بائن مع الاشباہ والنظائر۔ ادارۃ القرآن کراچی ۲/۲۶)
مطلقاً تعلیق سے بائن کا وقوع علاوہ  ان دلائل واضحہ کے کہ صدر کلام میں معروض ہولئے صدہا فروع منصوصہ فی المذہب سے باطل ہے۔ 

اسی درمختار میں ہے:
علق الثلث بالوطء حنث بالتقاء الختانین ولم یجب العقر باللبث بعد الایلاج ولم یصربہ مراجعافی الطلاق الرجعی الااذااخرج ثم اولج فیصیر مراجعا۲؎۔
خاوند نے اگر طلاق مغلظہ کو وطی سے معلق کیا تو وطی کے ابتدائی مرحلہ میں دونوں شرمگاہوں کےملنے پر ہی طلاق ہوجائے گی اور دخول کے بعد وقفہ پر بیوی کے لئے جوڑا(عقر) لازم نہ ہوگا اور نہ ہی اس کو طلاق رجعی میں رجوع قرار دیا جائے گا، ہاں اگر دخول کے بعد شرمگاہوں کے جداہونے کے بعد دوبارہ دخول کیا تو رجوع قرار پائے گا ۔
 (۲؎ درمختار         باب التعلیق         مطبع مجتبائی دہلی         ۱ /۲۳۲و ۲۳۳)
ردالمحتار میں ہے:
قولہ فی الطلاق الرجعی ای فیما اذاکان المعلق علی الوطی طلاقا رجعیا۱؎۔
ماتن کا قول کہ ''رجعی طلاق میں'' یہ وہ صورت ہے جس میں رجعی طلق کو وطی کے ساتھ معلق کیا ہو۔(ت)
 (۱؎ ردالمحتار         باب التعلیق         داراحیاء التراث العربی بیروت     ۱ /۵۰۸)
اسی طرح بحرالرائق وہدایہ وفتح القدیر وعامہ کتبِ مذہب میں ہے۔ خود رسالہ مذکورہ علامہ زین میں بعد بیان صورت واقعہ کہ زوج نے کہا تھا:
متی ابرأیتنی من مھرک فانت طالق الخ
تو مجھے مہر سے بری کردے تو تجھے طلاق ہے الخ(ت)

اور اثبات بینوت بوجہ زیادت صفت متقدمہ بیان فرمایا:
فان قلت لولم تجعلہ بائنا بسبب اشتراط الابراء من المھرفان الطلاق الموقع فی مقابلۃ الابراء یکون بائنا، وعللہ فی التجنیس بانہ یقع بعوض وھو لالہ اھ قلت فی مسئلتنا جعل الطلاق معلقا بالابراء شرطا لہ لاعوضا، فلذالم تجعلہ بائنا الاان یوجد نقل یدل علی ذٰلک اھ۲؎ملتقطا۔
اگر تو اعتراض کرے کہ مہر سے بری کرنے کی شرط پر طلاق کوتم نے بائنہ کیوں نہ بنایا، کیونکہ ابراء کے مقابلہ میں طلاق بائنہ ہوتی ہے نہ کہ شرط سے، تجنیس میں اس کی وجہ یہ بتائی کہ اس صورت میں یہ طلاق الیسے عوض کے مقابلہ میں ہے جو خاوند کے حق میں نہیں اھ میں کہتا ہوں کہ اس مسئلہ میں طلاق کو ابراء سے معلق کیا گیا ہے جس میں ابراء کو شرط بنایا ہے عوض نہیں بنایا، اسی لئے تو ہم نے اس کو بائن نہیں بنایا الایہ کہ کوئی نقل اس پر مل جائے جو ا س پر دلالت کرے اھ ملتقطا۔(ت)
 (۲؎ الرسالۃ السابعۃ فی الطلاق المعلق الخ مع الاشباہ والنظائر     ادارۃالقرآن کراچی     ۲ /۸۳۹)
نیز فتح القدیر میں زیر مسئلہ آتیۃ قریبا :
انت طالق ان لم اطلقک
 (اگر تجھے طلاق نہ دوں تو تجھے طلاق ہے۔ت) ارشاد فرمایا:
الطلاق یتحقق منہ الیاس بموتھا واذا حکمنا بوقوعہ قبل موتھالایرث منھا الزوج لانھا بانت قبل الموت فلم یبق بینھما زوجیۃ حال الموت وانما حکمنا بالبینونۃ وان کان المعلق صریحا لانتفاء العدۃ کغیرالمدخول بھا لان الفرج ان الوقوع فی اٰخرجزء لایتجزأ فلم ینلہ الالموت وبہ تبیین اھ۱؎
کہ طلاق سے مایوسی عورت کی موت سے ہی ہوسکتی اور جب ہم بیوی کی موت سے قبل وقوع طلاق کا حکم دیں تو خاوند اس بیوی کا وارث نہ ہوگا، کیونکہ موت سے طلاق بائنہ ہوتی ہے تو موت کے وقت زوجیت دونوں کی ختم ہوچکی ہوگی، اور بیشک ہم نے اس طلاق کو بائنہ قرار دیاہے اگر چہ لفظوں میں یہ صریح طلاق ہے، کیونکہ اس پر عدت نہیں ہوتی جیسا کہ قبل دخول طلاق کی صورت میں ہوتا ہے اس لئے کہ فرض یہ کیا ہوا ہے کہ موت سے قبل ایک ادنٰی جز جس میں موت کے سوا اور  کچھ نہیں ہوسکتا تھا اس میں طلاق واقع ہوئی اس سے وہ بائنہ بن گئی اھ۔(ت)
 (۱؎ فتح القدیر         فصل فی اضافۃ الطلاق الی الزمان     مکتبۃ نوریہ رضویہ سکھر    ۳ /۳۷۳)
بالجملہ امرواضح اور بشدت وضوح ایضاح سے مستغنی ہے۔ رہا فریق اول الفاظ کہ زبانِ زوج سے نکلے یعنی اگر تو نماز نہ پڑھے گی تو دو۲ طلاق ہے، اگر لغۃً ان کا مفاد دیکھا جائے تو واقعہ اسی قدر ہے جوا س فریق نے سمجھا اس لئے کہ یہاں معلق بہ عدم یعنی نماز نہ پڑھنا ہے اور عدم متحقق نہ ہوگا مگر عورت کے آخر جزء حیات میں اگر آج سے عمر بھر کبھی کوئی نماز نہ پڑھتی تو عدم مذکور صادق آتا اور عورت کی پچھلی سانس پر طلاق نازل ہوتی یہاں تک کہ اس نے صبح کی نماز پڑھی تو عدم معدوم اور اس کا نقیض موجود ہواتو چاہئے تھا کہ یہ دو طلاقیں اصلاً نہ پڑتیں۔
ہدایہ فصل اضافۃ الطلاق الی الزمان میں ہے:
العدم لایتحقق الابالیأس عن الحیاۃ وھو الشرط کما فی قولہ ان لم اٰت البصرۃ۲؎۔
عدم طلاق کا تحقق صرف زندگی سے مایوس ہوجانے پر ہوسکتا ہے جبکہ طلاق نہ دینا شرط ہے، جیسا کہ کوئی یوں کہے''اگر میں بصرہ نہ آؤں'' تو بصرہ میں نہ آنا زندگی بھر میں متوقع رہتاہے صرف موت سے ہی یہ توقع ختم ہوتی ہے۔(ت)
 (۲؎ الہدایۃ          فصل فی اضافۃ الطلاق الی الزمان    المکتبۃ العربیۃ کراچی     ۱ /۳۴۵)
فتح القدیر میں ہے:
ولوقال انت طالق ان لم اطلقک لم تطلق حتی یموت باتفاق الفقہاء لان الشرط ان لایطلقھا وذٰلک لایتحقق الابالیأس عن الحیاۃ لانہ متی طلقھا فی عمرہ لم یصدق انہ لم یطلقھا بل صدق نقیضہ وھو انہ طلقھا والیأس یکون فی اٰخرجزء من اجزاء حیاتہ۱؎۔
اگر خاوند نے کہا''اگر تجھے طلاق نہ دوں تو تجھے طلاق ہے'' کی صورت میں موت کے بغیر طلاق نہ ہوگی، اس پر تمام فقہاء کا اتفاق ہے، اس لئے کہ طلاق نہ دینے کی شرط ہے، اور یہ شرط تاحیات متحقق نہ ہوگی صرف زندگی سے مایوسی پر ہی متحقق ہوگی، کیونکہ زندگی میں جب طلاق دے گا تو طلاق نہ دینا صادق نہ آئے گا بلکہ اس کی نقیض صادق آئے گی، اور وہ یہ کہ اس نے طلاق دی ہے، اس لئے طلاق نہ دینا عمر کے آخری ادنٰی جزء میں معلوم ہوسکے گا اور وہی زندگی سے مایوسی کا وقت ہے۔(ت)
 ( ۱؎ فتح القدیر فصل فی اضافۃ الطلاق الی الزمان  مکتبۃ نوریہ رضویہ سکھر ۳ /۷۳۔۳۷۲)
مگر یہاں ایک نکتہ بدیعہ ہے جس سے غفلت اس فریق کے لئے باعث غلط ہوئی۔ الفاظ کا مفاد لغو ہمارے ائمہ کے نزدیک مبنائے یمین نہیں بلکہ معانی عرفیہ پر بنائے کا رہے۔ 

درمختار میں ہے:
الاصل ان الایمان مبنیۃ عند الشافعی رحمہ اﷲ تعالٰی علی الحقیقۃ اللغویۃ وعند مالک رحمہ اﷲ تعالٰی علی الاستعمال القراٰنی وعند احمد رحمہ اﷲ تعالٰی علی النیۃ وعندنا علی العرف مالم ینو مایتحملہ اللفظ۔ ۲؎
امام شافعی رحمہ اﷲ تعالی کے ہاں قسم میں حقیقی لغوی معنی کا لحاظ کیا جاتا ہے اور اما م مالک رحمہ اﷲکے ہاں قسم میں قرآن پاک میں استعمال شدہ الفاظ ومعانی کا لحاظ کیا جاتا ہے جبکہ امام احمد رحمہ اﷲ تعالٰی عنہ کے ہاں نیت کا لحاظ ہوتا ہے اور ہمارے احناف کے ہاں قسم میں عرفی معانی کا اعتبار ہوتا ہے بشرطیکہ قسم والے نے کسی احتمالی معنی کی نیت نہ کی ہو۔(ت)
 (۲؎ درمختار         باب الیمین فی الدخول والخروج والسکنی الخ    مطبع مجتبائی دہلی     ۱ /۲۹۶)
اور اغراض ومقاصد جس قدر مفاد لفظ سے زائد ہوں یعنی عموم واطلاق بھی انہیں متناول نہ ہو ملحوظ نہیں ہوتے۔
الایمان مبینۃ علی الالفاظ لاعلی الاغراض۳؎
 (قمسوں میں الفاظ کا لحاظ ہوتا ہے اغراض کا لحاظ نہیں ہوتا۔ت)
 (۳؎ درمختار شرح تنویر الابصار     باب الیمین فی الدخول والخروج والسکنی الخ    مطبع مجتبائی دہلی   ۱ /۲۹۶)
کہ تنویر وغیرہ عامہ کتب مذہب میں ارشاد ہے اس سے یہی مراد ہے کہ لفظ کی تناول عرفی سے اجنبی خارج وبیگانہ و زائد بات اگرچہ عرفاً مقصود حالف ہو منظور نہ ہوگی مگر اغراض مخصص ضرور ہوسکتی ہیں، دلالتِ لفظ کہ عموم پر تھی بنظر غرض خاص پر مقصود ہوجائے گی، یہ مدلول لفظ سے خروج نہیں بلکہ بعض مدلولات پر قصر ہے، یہ وہ تحقیق انیق ہے جس سےکلمات ائمہ مذہب میں توفیق ہے اور فروع متکاثرہ مذہب کی شہادت متواترہ سے اس کی توثیق ہے جس کا نفیس وروشن بیان علامہ شامی رحمہ اﷲ تعالٰی نے ردالمحتار میں افادہ فرمایا اور اس کے بیان میں ایک مستقل رسالہ رفع الانتقاض ودفع الاعتراض علٰی قولھم الایمان مبینۃ علی الالفاط لاعلی الاغراض تالیف کیا۔
تلخیص الجامع الکبیر للامام ابی عبد اﷲ صدرالدین محمد بن عباد میں ہے: وبالعرف یخص ولایزاد حتی خص الرأس بما یکبس ولم یرد الملک فی تعلیق طلاق الاجنبیۃ بالدخول۱؎۔
عرف سے تخصیص ہوسکے گی اور لفظ کے مفہوم پر زیادتی نہ ہوسکے گی چنانچہ سر بھونے جانے والی سری سے مختص ہوگا اور اجنبی عورت کی طلاق کو گھر میں داخل ہونے کی تعلیق میں ملکیت مراد نہیں ہوسکتی۔(ت)
 (۱؎ رفع الانتقاض الخ  رسالہ مجموعہ رسائل ابن عابدین  بحوالہ تلخیص الجامع الکبیر   سہیل اکیڈمی لاہور     ۱/۲۹۳)
Flag Counter