Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۲(کتاب النکاح والطلاق)
99 - 155
مسئلہ ۲۳۰: از قصبہ کوردرکوٹ ضلع اٹاوہ مسئولہ محی الدین احمدصاحب ۲۴شعبان ۱۳۳۸ھ 

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں  کہ ایک مسلمان نے اپنی زوجہ کو طلاق دی اور وُہ اس کے گھر سے باہر ایک ہفتہ رہی،اندر ایک ہفتہ کے پھر اس نے اُس کو اپنے گھر میں  رکھ لیا او وہ اس کے گھر میں  مثل زوجہ موجود ہے، اس کے واسطے شرعی کیا حکم ہے؟

الجواب

اگر عورت کو طلاق دے کرہفتہ کے بعد پھر رکھ لیا، اگر تین طلاقیں  دی تھی فاسق وزانی ہوا، یونہی اگر طلاق بائن دی تھی اور دوبارہ نکاح نہ کیا حرامکاری ہوا، اور اگرطلاق بائن تھی اور نکاح کرکے رکھایا طلاق رجعی تھی اور بلا نکاح واپس کرلیا تو گناہ نہیں ۔ واﷲتعالٰی  اعلم۔
مسئلہ ۲۳۱: ۸ رجب۱۳۱۲ھ 

کیا فرماتے ہیں  علمائے دین اس مسئلہ میں  کہ مسمّاۃ کے باپ اور بھائی اور ماں  اور دیگر ورثابہ نیّت اس امر کے طلاق مشہور کرتے ہیں  کہ جو کُچھ جائداد شوہر کی ہے اس کو چھین کراور شوہر سے زوجیت کوچھڑا کر بجائے دیگر اس کا عقد کریں  اور زر شوہر سےنفع اُٹھاویں ، بموجب شرع کے ایسے شخصوں  کے واسطے کیا حکم ہے؟بینواتوجروا

الجواب

اگر واقع میں اس نے طلاق نہ دی یہ لوگ دانستہ جُھوٹ باندہ کر طلاق مشہور کرتے ہیں  تاکہ عورت کو اس کے شوہر سے چُھڑالیں  تو سخت عذاب ولعنتِ الٰہی کے مستحق ہیں والعیاذباﷲ تعالٰی(اﷲ تعالٰی  کی پناہ۔ت)
قال اﷲتعالٰی :ویتعلمون منھما مایفرقون بہ بین المرء وزوجہ۱؎۔
اورسیکھتے ہیں  ان دونوں  سے وُہ جس سے مرد اور اسکی بیوی میں  جدائی کرسکیں ۔(ت)
(۱؎ القرآن الکریم ۲ /۱۰۲)
رسول اﷲصلی تعالٰی  علیہ وسلم فرماتے ہیں  :
لیس منّا من خبب امرأۃ علٰی زوجھا او عبداً علی سیّدہ۲؎۔ رواہ ابوداؤد والنسائی والحاکم بسند صحیح وابن حبان فی صحیحہ عن ابی ھریرۃ رضی اﷲتعالٰی عنہ وھو عند احمد بسند صحیح والحاکم وقال صحیح واقرہ والبزاروابن حبان عن بریدۃ  وعن الطبرانی فی الاوسط والصغیر عن ابن عمر وعند ابی یعلی والطبرانی فی الاوسط عن ابن عباس رضی اﷲتعالٰی عنہم۔
وُہ شخص ہم میں  سے نہیں  جوکسی کی بیوی کو اس کے خلاف بنائے، یا کسی غلام کو اپنے آقا کے خلاف کرے۔اس کو ابوداؤد، نسائی اور حاکم نے بسند صحیح اور ابن حبان نے اپنی صحیح میں  ابوہریرہ رضی اﷲتعالٰی  عنہ سے روایت کیا، اور یہ امام احمد کے ہاں  صحیح سند اور امام حاکم نے کہا صحیح ہے اور اس کو انہوں  نے ثابت قرار دیا،اور بزار اورابن حبان نے بریدہ رضی اﷲتعالٰی  عنہ سے اورطبرانی نے اوسط اور صغیرمیں  ابن عمر رضی اﷲتعالٰی  عنہ سے اور ابویعلی کے ہاں  اور طبرانی نے اوسط میں  ابن عباس رضی اﷲتعالٰی  عنہم سے روایت کیا۔ (ت)
 (۲؎ المستدرک للحاکم     باب لیس منّامن خبب امرأۃ علٰی  زوجہا الخ    دارافکر بیروت     ۲ /۱۹۶)

(سنن ابوداؤد         کتاب الطلاق        آفتاب عالم پریس لاہور    ۱ /۲۹۶)
مسئلہ ۲۳۲: ازبیجناتھ باڑہ ضلع رائے پور مرسلہ شیخ اکبر حسین صاحب متولی مسجد بیجناتھ باڑہ ۱۳ذیقعدہ ۱۳۱۲ھ 

کیا فرماتے ہیں  علمائے دین اس مسئلہ میں  کہ ضلع رائے پور میں ایک موروثی قاضی نے اپنی بی بی کو شرعی طور پر طلاق دی اور طلاق دینے میں کوئی دقیقہ باقی نہ رکھا حتی کہ اوس کے کپڑے وغیرہ بھی دے دئے اور اپنے یہاں  سے اُس کی ماں  کے گھر پہنچادیا بعض بعض باشندگان رائے پور نے بغرض تحقیق اس بات کے کہ طلاق دی یانہیں جلسہ کیا قاضی نے اس جلسہ میں  بھی مکرر سہ کرر ان الفاظ سے بیان کی کہ میں  اُنہوں  نے بھی اپنے طور پر بہت کچھ سمجھایا، تقریباً چار برس کے بعد عورت کے وارثوں  نے مہر کا دعوٰی  کیا جب نوبت وارنٹ کی پہنچی تو قاضی اوردوسرے لوگوں  نے جن کی یہ منشاتھی کہ کسی طرح سے بس اس میں  میل ہوجائے کسی دوسری عورت کے ذریعہ اس عورت مطلّقہ کو ملادیاکچہری کا جگھڑا تو عورت کے آنے پر طے ہُوا اب عدالت شرعی کیا حکم فرماتی ہے آیا طلاق ہُوئی یانہیں  درصورت طلاق ہونے کے یہ کس صورت میں  اپنے نکاح میں  لاسکتا ہے اور یہ شخص امامت اور قضاء ت کرسکتا ہے یانہیں ، اور دُوسرا شخص اس کے حکم سے نیابت کرسکتا ہے یانہیں ، اور جن اشخاص نے عورت کو راضی کرنے اور بلانے میں  مددکی اُن کے واسطے کیا حکم ہے؟بیّنواتوجروا

الجواب

جبکہ قاضی نے اپنی عورت کو طلاق دی طلاق ہوگئی، اس میں تو اصلاً شُبہہ نہیں ، پھر اگر طلاق بائن دی تھی یا عدّت گزرکر بائن ہوگئی تو بے نکاحِ جدید اُسی عورت سے مل جانا حرام قطعی تھا، اور اگر تین طلاقیں  دے چکا جب تو بے حلالہ نکاح جدید بھی ناممکن تھااور یہ خیال کہ غصّہ میں  مطلقاً طلاق نہیں  ہوتی محض جاہلانہ خیال ہے، طلاق اکثر غصّہ ہی میں ہوتی ہے رضامندی میں  کون چھوڑتا ہے، پس دو۲ صورت سابقہ میں اگر قاضی نے بے نکاح جدید اور صورت اخیرہ میں  بے حلالہ ونکاح اُس عورت سے میل کرلیا تو وُہ او اس کے ساتھی جتنے لوگ اس ملانے میں  شریک ومددگار تھے سب مرتکب حرام وفاسق ہُوئے، فاسق امام بنانے کے لائق نہیں  یہاں  تک کہ جو اُسےامامت پر باقی رکھے گا گنہگار ہوگاکما نص علیہ فی ردالمحتار عن الغنیۃ عن الحجۃ(جیسا کہ ردالمحتار میں  غنیـہ کے حوالے سے حجّہ سے صراحتاً نقل کیا۔ت) یُونہی وُہ عہدہ قضائے شرعی کا بھی مستحق نہیں (کرم خردوہونے کی وجہ سے عبارت ختم ہوگئی ہے۱۲)
فی الدرالمختار الفاسق لایقلد وجوبا ویأثم مقلدہ بہ یفتی اھ۱؎ملخصاً۔
دُرمختار میں  ہے ضروری ہے کہ فاسق کو قاضی کاعہدہ نہ سونپا جائے اس کو قاضی کرنیوالا گنہگار ہوتا ہے، اسی پر فتوٰی  ہے اھ ملخصاً(ت)
(۱؎ درمختار    کتاب القضاء     مطبع مجتبائی دہلی     ۲ /۷۱)
اور وُہ خود ان عہدوں  پر نہ رکہا جائے، دوسرے کونائب کیاکرے گا اور یہ قضائے عرف عینی نکاح خوانی جسے عہدہ قضابولتے ہیں  یہ بھی فاسق کو تفویض نہ کرنا چاہئے کہ نکاحِ خاص امردین ہے اور عمر بھر صدہا احکامِ دینیہ اُس پر متفرع ہوتے رہتے ہیں  اور فاسق کا امورِ دینیہ میں کچھ اعتبار نہیں ، نہ اس پر کسی بات میں  اطمینان، ولہذاقرآن عظیم میں  ارشاد ہوا :
یاایھاالذین اٰمنوا ان جاء کم فاسق بنبأ فتبیّنوا۱؎الاٰیۃ۔ واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
اے ایمان والو! اگرتمہارے پاس کوئی فاسق خبر لائے تواس کی خُوب چھان بین کرلے الآیۃ(ت)
 (۲؎ القرآن الکریم     ۴۹/۶)
Flag Counter