| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۲(کتاب النکاح والطلاق) |
مسئلہ۲۲۶: ازشہر بریلی محلہ باغ احمد علی خاں ۳ ۰ربیع الاوّل شریف ۱۳۱۷ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے ہندہ کو غصّہ کی حالت میں طلاق کے لفظ بولایعنی کہا حرامزادی تجھ کو میں نے طلاق دیا تو میرے گھر سے نکل جامیں تجھ کو نہیں رکھوں گا۔ تو اب زید کہتا ہے ہندہ کو میں نے بیشک طلاق دیا لیکن دوطلاق دی یاتین طلاق دیا اس وقت میری یاد نہیں ہے مگر اس جگہ میں اُس وقت دوعورت تھی ایک زید کی میادوسری بہن یہ دونوں عورتیں کہتی ہیں زید نے اپنی بی بی کو ایک طلاق دیا اور حرامزادی میرے گھر سے نکل جا میں تجھ کو نہیں رکھوں گا اور ہندہ زید کی بیوی بھی یہی کہتی ہے۔ شرع شریف میں کیا حکم ہے طلاق واقع ہوا یا نہیں تو رجعی یا بائن یا طلاق مغلظہ؟ بینواتوجروا زیادہ والسلام فقط۔ الجواب جب طلاق میں شک ہو کہ دو۲ تھی یا تین، تو دو سمجھی جائیں گی جب تک گواہان شرعی سے زیادہ کا ثبوت نہ ہو، فی الاشباہ والدرالمختار والعقود الدریۃ وغیرھا لوشک اطلق واحدۃ او اکثر بنی علی الاقل۱؎۔ اشباہ، درمختار، عقودریہ وغیرہا میں ہے کہ ایک طلاق یا زیادہ میں شک ہوتو کم عدد والی یقینی ہوگی۔(ت)
(۱؎ درمختار باب الصریح مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۲۲۲)
زید نے اس لفظ سے کہ''تُو میرے گھر سے نکل جا'' اگر طلاق کی نیت کی تھی تو دو۲طلاقیں بائن پڑیں فان البائن یلحق الصریح والرجعی یصیر بائنا بلحوق البائن(بائن طلاق، رجعی طلاق کو لاحق ہوسکتی ہے تو بائنہ کے لاحق پررجعی بھی بائنہ ہوجاتی ہے۔ت) ورنہ ایک طلاق رجعی پڑی،
لان اخرجی ممایحتمل ردا فلایقع بہ بلانیۃ وان کانت الحال حال المذاکرۃ لتقدم التطلیق یقع کما نصواعلیہ۔
کیونکہ''نکل جا'' یہ لفظ رَد کا احتمال رکھتا ہے لہذا نیت کے بغیر اس سے طلاق نہ ہوگی ،اور اگر مذاکرہ طلاق کا حال جیسے پہلے طلاق دے دی ہو تو ''نکل جا'' سے طلاق واقع ہوگی، جیسا کہ فقہاء نے اس پرتصریح کی ہے۔(ت) ہاں اگر یہ سارا جملہ کہ''میں نے تجھ کو طلاق دی، میرے گھر سے نکل جا''دوبارہ کہا اُن میں ایک بار بھی''میرے گھر سے نکل جا'' سے نیّت طلاق کی کی تو تین طلاقیں ہوگئیں ۔ واﷲتعالٰی اعلم بالصواب۔ مسئلہ ۲۲۷: محمد حسن از مدرسہ منظر اسلام بریلی کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ ذیک میں کہ زید اپنی بی بی سے بولنا اور بوسہ لینا اور جماع کرنا اور مباشرت کرنا حرام سمجھتا ہے، آیا طلاق واقع ہوگی یانہیں ؟ اور زید یہ بھی کہتا ہے کہ تمام عمر تُومجھ پر حرام ہے طلاق واقع ہُوئی یانہیں ؟ الجواب نِرے سمجھنے سے کُچھ نہیں ہوتا جب تک زبان سے نہ کہے اور اس کہنے سے کہ تُومجھ پر حرام ہے طلاق بائن ہوگی عورت نکاح سے کل گئی بعد عدّت اختیار ہے جس سے چاہے نکاح کرے، اور اگر اُس شوہر سے نکاح چاہے تو عدّت میں بھی ہوسکتا ہے اور بعد بھی۔
فی ردالمحتار تحت قولہ خلیۃ، بریۃ حرام بائن الخ قولہ حرام سیأتی وقوع حرام بائن بہ بلانیۃ فی زماننا للتعارف سواء قال علیّ اولا۱؎الخ وتمام تحقیقۃ فیما علقناہ علیہ۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
ردالمحتار میں ماتن کے ''تُواکیلی ہے، توبری ہے، تو حرام ہے طلاق بائن'' کے تحت لکھا ہے کہ ماتن کا قول ''حرام ہے'' عنقریب بیان آئے گا کہ اس ہمارے زمانے میں بغیر نیّت بھی بائنہ طلاق واقع ہوگی کیونکہ طلاق کےلئے یہ لفظ عرف بن چکا ہے حرام کے ساتھ عَلَیَّ(مجھ پر) کہے یا نہ کہے الخ، اسکی مکمل تحقیق اس پر ہمارے حاشیہ میں ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
(۱؎ ردالمحتار باب الکنایات داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۴۶۴)
مسئلہ ۲۲۸تا۲۲۹ :از ڈاک خانہ سنواہ قادریہ ضلع چاٹگام جونیر مدرسہ مرسلہ مولوی جمال الدین صاحب ۷رمضان ۱۳۳۸ھ (۱) اگر کسے زنے خودرادویا یک طلاق بائن دہد بعد ازاں تجدید عقد نما ید پش ثانیاً مالک سہ طلاق گرددیانہ؟ (۱) اگر کسی نے اپنی بیوی کو ایک یا دو بائنہ طلاقیں دی ہوں اور دوبارہ نکاح کرلیا ہوتو کیا وُہ دوبارہ تین طلاقون کامالک قرار پائے گا یانہیں (۲ ) درآن واحد سہ طالق معادادن وایقاعش نمودن از کدامی آیت وحدیث ثابت نگرددحضرت عمر رضی اﷲتعالٰی عنہ ایں حکم از کجا آوردند واجماع بروئے چرانمودند واگر خلافش کند وحکم یک طالق دہد مواخذہ خواہد شد یانہ چرا؟ (۲) ایک لفظ سے تین طلاقیں یا ایک وقت میں تین طلاقیں دینا کسی آیت یا حدیث سے ثابت نہیں تو حضرت عمر رضی اﷲتعالٰی عنہ کہاں سے یہ حکم لائے اور اس پراجماع کیوں ہُو، اگر کوئی ان مذکورہ تین کو ایک طلاق قرار دے تو مواخذہ ہوگا یانہیں تو کیوں ؟ الجواب (۱) مالک سہ طلاق نہ شود ہر چہ باقی ماندہ است ہموں بدست اوست۔ واﷲتعالٰی اعلم ۔ (۱) تین طلاقوں کا مالک نہ ہوگا بلکہ باقیماندہ طالق کامالک رہے گا۔ واﷲتعالٰی اعلم۔
(۲) خلافش نہ کند مگر مخالف سواداعظم وحکمِ عمر حکمِ خداست قال اﷲتعالٰی ما اٰتاکم الرسول فخذوہ ومانھٰکم عنہ فانتھوا۱؎، وقال صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم علیکم بسنتی وسنۃالخفاء الراشدین وعضواعلیھا بالنواجذ۲؎،وقال صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم اقتدوا بالذین من بعدی ابی بکر وعمرامّا آنکہ از کنا آور د ا از انجا آوردہ کہ حق سبحٰنہ ہم در حق عمر فرمودہ لعلمہ الذین یستبطونہ منکم۴؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
(۲) حضرت عمر رضی اﷲتعالٰی عنہ کے فیصلہ اور اس پر اجماع کی مخالفت صرف سواد اعظم کی مخالف ہی کرے گا، کیونکہ عمررضی اﷲتعالٰی عنہ کے فیصلہ اور اس پر اجماع کی مخالفت صرف سواد اعظم کا مخالف ہی کرے گا، کیونکہ عمر فاروق کا حکم اﷲ تعالٰی کی ترجمانی ہے اﷲتعالٰی نے فرمایا: ''جو کچھ سنّت اور خلفائے راشدین کی سنّت کو لازم پکڑو اور اس پر مضبوطی سے قائم رہو۔'' اور حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام نے فرمایا: میرے بعد ابوبکر اور عمر رضی اﷲتعالٰی عنہماکی پیروی کرو۔'' لیکن یہ کہ عمر فاروق حکم کہاں سے لائے،تو وہاں سے لائے جہاں اﷲتعالٰی نے عمر فاروق رضی اﷲتعالٰی عنہ کے متعلق فرمایا ہے حکم کو معلوم کرلیں گے وُہ لوگ جو استنباط کریں تم سے۔ واﷲتعالٰی اعلم(ت)
(۱؎ القرآن الکریم ۵۹/۷) (۲؎ سُنن ابن ماجہ باب اتباعِ سنت الخفاء الراشدین المہدیین ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۵) (۳؎ مسند احمد بن حنبل حدیث حذیفہ بن الیمان عن النبی صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم بیروت ۵ /۳۸۲) (۴؎ القرآن ۴ /۸۳)