| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۲(کتاب النکاح والطلاق) |
مسئلہ ۲۲۲: از کوٹہ راجپوتانہ محلہ روذ پورہ فراش پاٹن مرسلہ عبدالشکور خاں صاحب ۱۶جمادی الآخرہ ۱۳۳۸ھ زید کی شادی ہندہ سے ہوئی بعد عرصہ دراز ہندہ نے زید پر اس مضمون سے نالش زرِ مہر دائر کی کہ زید نے یہ کہہ کر کہ مجھ کو میری والدہ یہ وصیّت کرکے مری ہے کہ اگر تُو اپنی زوجہ کو پانی زوجیت میں رکھے گا تو میں قیامت میں دامنگیر ہوں گی گھر سے نکال دیا زید نے زرمہر اپنے ذمّہ واجب سمجھ کر دعوٰی زرمہر سے اقبال کیا اور ہندہ کواپنی زوجہ قبول کرکے سپردگی خواہش کی کچہری نے زر مہر کی ڈگری دے دی ہندہ نے ایک سال دس۱۰ماہ بعد نالش زرمہر کو طلاق کی بنا پر ظاہر کرکے یعنی وصیّت والفاظ مذکورہ بالا کی بنا پر نالش نان ونفقہ ایّام عدّت دائر کی، زید اس بیانِ ہندہ سے قطعی انکاری ہے بلکہ کچہری میں نالش سپردگی زوجہ دائر کی ہے تو کیا ایسی صورت میں ایسے الفاظ سے طلاق ہوسکتی ہے اور کیا نالش زرمہر کی بنا پر تصوّر ہوسکتی ہے اور کیا زید اپنی زوجہ کو اپنی زوجیت میں رکھ سکتا ہے اور کیا ہندہ ایسی حالت میں نان ونفقہ ایامِ عدّت پاسکتی ہے؟ الجواب محض بیانِ ہندہ سے کہ زید نے اپنی ماں کی یہ وصیّت بیان کرکے اسے نکال دیا طلاق ثابت نہیں ہوسکتی جبکہ زید اُس بیانِ ہندہ کو تسلیم نہیں کرتا بلکہ اگر اتنے الفاظ خود بیانِ زید سے ثابت ہوں جب بھی مثبت طلاق نہ تھے،ماں کی وصیّت بیان کرنا طلاق نہیں ، عورت کو گھر سے نکال دینا طالق نہیں جب تک زبان سے بہ نیتِ طالق نہ کہے کہ ''نکل جا''، اور نیتِ طلاق کا حل اس کے اقرار سے ثابت ہوگا وُہ کہے میں نےت طلاق نہ کہا اور قسم کھالے معتبر ہوگی۔ وذٰلک لان اخرجی یحتمل ردافیتوقف علی النیۃ لکل حال ویکفی تحلیفھا فی منزلۃ۱؎کما فی الدرالمختار۔ یہ اسلئے کہ''نکل جا'' میں جواب کا احتمال ہے لہذا ہر صورت میں اس سے طلاق مراد لینا نیت پر موقوف ہوگا، اورنیت کے لئے خاوند سے گھر میں قسم لے لینا کافی ہے جیسا کہ درمختار میں ہے(ت)
(۱؎ درمختار باب الکنایات مطبع مجتبائی دہلی ۱v/۲۲۴)
بالجملہ صورتِ مسئولہ میں طالق ثابت نہیں زدی اُسے اپنی زوجیت میں رکھ سکتا ہے، ہندہ کی نالش باطل ہے، اور جب طلاق نہیں عدت کہا کہ اس کا نفقہ ہو، نفقہ زوجیت کا ہوگا اگر شوہر کے یہاں رہے گی۔ واﷲتعالٰی اعلم۔ مسئلہ۲۲۳: از شہر کہنہ بریلی محلہ شاہدانہ صاحب رحمۃ اﷲتعالٰی علیہ مسئولہ نصر اﷲصاحب ۱۴ذی الحجہ ۱۳۳۸ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے حالتِ غصّہ میں اپنی زوجہ کو مارنے گیا اور کہا کہ اگر تُولڑنے اورمنہ زوری کرنے سے نہ مانے گی تو میں تجھ کو طلاق دے دُوں گا،وہ نہ مانی، شوہر نے کہا کہ ''تجھ کو طلاق دی میں نے، جاتجھ کو طلاق د ی میں نے''۔ اس کا نتیجہ یہ ہے جا فقط، اب زید رجوع کرنا چاہتا ہے، بموجب شرع کے کیا حکم ہے؟ الجواب تین طلاقیں ہوگئیں بغیر حلالہ اس کے نکاح میں نہیں آسکتی،
لان(جا) وان کان یحتمل رداو غایتہ تقدم الطلاق ان الحال صال حال المذاکرۃ لکن مایحتمل الردینوی فیہ مطلقا غیران ایقاعہ الطلاق یرد ارادۃ فیہ مطلقا غیران ایقاعہ الطلاق یردارادۃ الردوکذا قولہ(اس کا نتیجہ یہ ہے)فان الناتج من نشوزھا تطلیقھا لاردہ فکان خلاف الظاہر فلایصدق فیہ قضاء، والقرینۃ کالقاضی۱؎ کما فی الفتح والبحر قال فی الدرالمختار ذھبی وتزوجی تقع واحدۃ بلانیۃ۲؎ قال الشامی لان تزوجی قرینۃ فان نوی الثلاث فثلاث بزازیۃ۳؎ ثم نازعہ بان تزوجی ایضاکنایۃ فکیف یکون قرینۃ وان القرینۃ لابدلھا من التقدم وھو ھٰھنا متاخر۱؎اھ محصلہ، ولاوردلشئی منھما فیما نحن فیہ لتقدم الصریح۔ واﷲتعالٰی اعلم۔
اس لئے کہ''جا'' کا لفظ اگر چہ جواب بننے کا احتمال رکھتا ہے اور اگر پہلے طلاق دی ہوتو اس کی غایت بننے کا بھی احتمال رکھتا ہ، چونکہ حال مذاکرہ طلاق ہے لیکن جواب کے احتمال والے لفظ میں طلاق کےلئے نیت ضروری ہے، مگر یہاں خاوند کا طلاق کو واقع کرناجواب کے احتمال کو رَد کردیتا ہے اور یُوں ہی خاوند کا کہنا'' اس کا نتیجہ یہ ہے'' بھی جواب کے احتمال کو ختم کرتا ہے کیونکہ بیوی کی نافرمانی کا نتیجہ طلاق کو قرار دیاگیا جواب کو نہیں ، لہذا جواب کا احتمال خلافِ ظاہر ہے اس لئے قضاءً بھی اس کی تصدیق نہ ہوگی، اور قرینہ قاضی کی طرح فیصل ہوتا ہے جیسا کہ فتح اور بحر میں ہے، درمختار میں کہا کہ خاوند نے کہا ''تو چلی جا اور نکاح کرلے'' تو اس کی بیوی کوایک طلاق بغیرنیت بھی ہوجائے گی۔ علّامہ شامی نے فرمایا: یہ اس لئے کہ''نکاح کرلے'' کا لفظ قرینہ ہے اور مذکورہ صورت میں تین کی نیّت کی توتین طلاقیں ہوں گی، بزازیہ اھ۔ پھر علاّمہ شامی نے اس پرسوال اٹھا یا کہ ''نکاح کرلے'' خود کنایہ ہے تو یہ کیسے قرینہ ہوگا، نیز قرینہ پہلے ہوتا ہے جبکہ ''نکاح کرلے''''تو چلی جا'' کے بعد ہے، اھ، محصلہ، جبکہ ہمارے زید بحث مسئلہ میں یہ دونوں اعتراض نہیں ہیں کیونکہ یہاں صریح طلاق پہلے ہے اور ''جا'' کا لفظ بعدمیں ہے۔واﷲتعالٰی اعلم۔(ت)
(۱؎ بحرالرائق کتاب الطلاق ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۳ /۲۵۷) (۲؎ درمختار باب الکنایات مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۲۲۶) (۳؎ ردالمحتار باب الکنایات داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۴۷۴) (۴؎ ردالمحتار باب الکنایات داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۴۷۴)
مسئلہ ۲۲۴: از بڑودہ محلہ فتح پورہ پانی گرہ مکان رحمٰن مہاوت مرسلہ زینب بی بی بنت پیر خاں ۱۷ذ ی الحجہ۱۳۱۱ھ علمائے شریعت محمدی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم مطابق میرے سوال کے جواب میں کیا ارشاد فرماتے ہیں ، میرے شوہر نے رُوبرو چارگواہ کے عرصہ دو۲ برس کا ہوا طلاق بائن دیا نکاح باطل ہوگیا یانہیں ؟اس اس کا اجر اﷲجل شانہ، دے گا۔ الجواب طلاق بائن دیتے ہی عورت فوراً نکاح سے نکل جاتی ہے مرد کو اس پر کچھ اختیار نہیں رہتا۔ عالمگیری میں ہے: اما حکمہ فوقوع الفرقۃ بانقضاء العدۃ فی الرجعی وبدونہ فی البائن کذافی فتح القدیر۲؎۔ واﷲتعالٰی اعلم۔ طلاق کا حکم یہ ہے کہ رجعی طلاق میں عدّت گزرتے ہی بیوی اور خاوند میں جُدائی ہوگی اور بائنہ طلاق میں طلاق کے بعد ہی فُرقت ہوجائے گی عدّت گزرنے کا انتظار نہیں ہوگاکذافی فتح القدیرواﷲ تعالٰی اعلم۔(ت)
(۲ فتاوٰی ہندیہ کتاب الطلاق الباب الاوّل نورانی کتب خانہ پشاور ۱ /۳۴۸)
مسئلہ۲۲۵: ازبمبئ محلہ کماٹی پورہ دوسری گلی مرسلہ محمد عثمان صاحب حنفی سُنّی قادری ۱۴جمادی الآخرہ۱۳۳۸ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین ، زید نے اپنی زوجہ ہندہ کو ایک شخص کے سامنے کہا''میں تجھے طلاق دیتا ہوں '' بعینہٖ یہی زید کی زوجہ اور خواشد امن کا کہنا ہے، بعدہ، ایک طلاق نامہ تحریر کیا گیا جس میں یہ عبارت درج تھی کہ اپنی بی بی زہرہ کو تلاخ کہہ دیا اور زید کا والد حلفاً کہتا ہے کہ میرے لڑکے نے ''طلاق دیتا ہوں '' کہا تھا اور اس کے والد کی نسبت دو۲ آدمیوں نے کہا کہ یہ شخص جھوٹ نہیں کہاتا اور زید کے والد نے یہ بھی کہا کہ یہ شخص یعنی زید جولڑکا ہے میرا زہرہ بی بی کے والد کا نام نہ لیا جو بھولٹی تھا بلکہ زہرہ لعل محمد کو طلاق دیتا ہُوں ۔ اور طلاق نامہ پانچ آدمیوں کے رُوبرو تحریر کیا گیا اُن میں ایک آدمی یہ کہتا تھا کہ زیدسے جب کہا گیا کہ طلاق دے تو زید نے کہا''ہُوں دیتا ہُوں '' اس صورت میں طلاق بائنہ ہوئی یا رجعی یا ں نہیں ؟ الجواب سائل نے کچھ نہ لکھا کہ زید اب طلاق دینے کا اقرار کرتا ہے یا منکر ہے، اگر اقرار کرتا ہے تو جیسی طلاق کو وُہ مقر ہے ویسی ہوگئی رجعی یا بائن یا مغلظہ، اور اگر منکر ہے تو ان بیانوں سے جو سوال میں لکھے گئے اگر واقع میں ایسے ہی میں اصلاً کوئی طلاق ثابت نہیں ، اُس کا یہ لفظ کہ ''میں تجھ کو طلاق دیتاہوں '' اس کا گواہ صرف ایک مرد ایک عورت اور وُہ بھی اس کی عورت کی ماں ،اور طلاق نامہ کے یہ لفظ سوال میں ہیں کہ''اپنی بی بی زہرہ کو تلاخ کو دیا'' اس سے طلاق نہیں ہوتی، اس کا تو اتنا حاصل ہے کہ اسے طلاق دینے کےلئے کسی کو سپرد اور کیا اور اس باپ کا جو بیان ہے وُہ بھی مثبت طلاق نہیں کہ پہلے مرد کے ساتھ مل کر نصاب کامل ہوجائے، جب عورت کی طرف اشارہ نہیں بلکہ نام لیا اور لعل محمد کی بیٹی کہا اور وہ لعل محمد کی بیٹی نہیں تو اس کو طلاق نہیں ۔ پچھلے بیان میں اس کی طرف اضافت نہ سوال میں ہے نہ جواب میں ، اور طلاق نامہ لکھتے وقت کا یہ بیان ہے تومعنی ارادہ پر حمل واضح ہے، غایت یہ کہ اگر وُہ پہلا اور یہ پچھلا شخص ثقہ عادل ہوں تو زید سے حلف لیا جائے، اگر حلفاً کہہ دے کہ میرا ارادہ طلاق کانہ تھا تو ہرگز طلاق ثابت نہیں ، ہاں اگر نقل طلاق نامہ میں دوسرا لفظ ''کو'' قلمِ سائل سے زائد نکل گیا ہے اور اس میں یہ لکھا ہے کہ ''زہرہ کو تلاخ دیا'' اور اس طلاق نامہ کے لکھنے کا وہ مقر ہو یا دو۲گواہ عادل شرعی باقاعدہ شہادت دیں تو ایک طلاق رجعی ثابت ہوگی۔واﷲتعالٰی اعلم۔