| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۲(کتاب النکاح والطلاق) |
مسئلہ ۲۱۸: از ہاشی ضلع حصار ڈاک خانہ خاص مسئولہ محمد ظہیرالدّین ومحمد نظیرالدین عطاران ۳ربیعالاول ۱۳۳۹ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین واربابِ باتمکین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنی منکوحہ مسمّاۃ ہندہ کو کھانے پینے کی تکلیف دیتا تھا پس مسمّاۃ ہندہ کے والد نے بوجہ اپنی لڑکی کی تکلیف دفع کرنے کے پنچایت کو جمع کرکے فیصلہ چاہا حالانکہ زید پنچایت کے جمع کرنے پر راضی نہ تھا، پنچایت نے یہ فیصلہ کیا کہ مسمّی زید اپنی بیوی مسمّاۃ ہندہ کو مبلغ معہ۸/دیا کرے جس کا ایک کاغذ بھی لکھا گیا بایں مضمون کہ ''اگر زید مذکور اپنی بیوی مسماۃ ہندہ مذکورہ کو رقم مجوزہ نہ دے گاتو ہندہ کو طلاق واقع ہوجاوے گی'' جو بغرض دھمکی پنچایت نے لکھوایاتھا نہ کہ طلاق کی نیّت سے زید نے نہ کاغذ لکھنے کو کہا اپنی زبان سے اورنہ اپنے قلم سے کاغذ مذکورلکھا بلکہ ایک دوسرے شخص نے کاغذ لکھا بوجودیکہ خود شخص زید خواندہ شخص ہے اور کاغذ پر دستخط زید نے برادری کے خوف سے کئے ہیں راضی نہ تھا بعد فیصلہ پنچایت مسماۃ ہندہ کو اس کا والد اپنے مکان پر لے گیا اور ہندہ مذکورہ بعد دو۲ماہ کے زید کے مکان میں آئی تو زید برابر اس کونان نفقہ دیتا رہا مذکورہ بالا صورت میں جبکہ زید نے وُہ رقم مجوزہ پنچایت نہیں دی ہندہ کو طلاق ہوگئی یابمصداق الاعمال بالنیات (اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔ت) نہیں ہوئی کیونکہ نہ اس کی طلاق دینے کی نیت تھی اور نہ پنچایت طلاق دلانا چاہتی تھی بلکہ محض دھمکی تھی بینواتوجروامع عبارۃ الکتب وبحوالہ الفصل والباب (عبارت کتب اور فصل اور باب کے حوالہ کے ساتھ بیان کیجئے اور اجر پائے۔ت) فقط۔ الجواب صریح الفاظ میں نیت کی حاجت نہیں ہوتی، اور خود لکھنا اور دوسرے کے لکھے ہوئے کو سُن کر اس پر دستخط کرنا یکساں ہے اور خوفِ برادری کہ حدِ اکراہ تک نہ ہو کوئی عذر نہیں ،اگر تحریر میں یہ تھا کہ آج سے اس قدر ماہوار یعنی ماہ بماہ دیا کرے، اور مہینہ گزرگیا کہ اس نے نہ دیا توایک طلاق رجعی ہوگی عدّت کے اندر اُسے رجوع کااختیار ہے اگر پہلے کبھی دو۲طلاقیں نہ دے چکا ہو ورنہ تین طلاقیں ہوگئیں اور بے حلالہ نکاح نہ ہوسکے گا۔ واﷲتعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۱۹: از موضع بھر تول ضلع بریلی مسئولہ نظام علی صاحب ۴ ربیع الآخر ۱۳۳۹ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسمی بدلو کا نکاح مسماۃ کامنی سے عرصہ تین برس کا ہُوا تھا کوئی اولاد پیدا نہیں ہوئی، عرصہ ڈھائی سال کا ہوا کہ بدلو ملازم ہوکر ڈیرہ اسمٰعیل خاں چلاگیا،خبر گیری نان نفقہ کی چھوڑدی، جب اُس کی بیوی کے ورثانے یعنی والدہ اور خالو نے خط بنابرخبر گیری نان نفقہ کے روانہ کئے تو اُس نے اُس کے جواب میں خط روانہ کیاکہ میں نے مسمّی کو طلاق دی اوراُسے زوجیت سے چھوڑدیا، چنانچہ مزیداحتیاط والدہ خالو مسماۃ کامنی نے تھانے میں رپٹ لکھالی اور خط دکھلادیا اور ایک تار معرفت تھانہ دارروانہ کیا، تار کا جواب بذریعہ خط بیرنگ کے دیا کہ میں نے مسماۃ کو طلاق دے دی، پھر تیسرا خط آیا اس میں بھی یہی لفظ تحریر ہیں کہ ہم نے مسماۃ کامنی کو طلاق دے دی، اب یہ طلاق شرعی ہُوئی یانہیں ؟ تیسرے خط میں ہی لفظ تحریر ہیں کہ میری طرف سے تین دفعہ طلاق ہے اب ہمارے پاس خط نہ بھیجنا'اب تار پھر دیا تب بھی جواب طلاق کادیا۔ الجواب اگر کامنی کو واقعی صحیح اطمینان ہے کہ یہ خطوط بدلو ہی کے لکھے ہوئے ہیں تو وُہ اپنے آپ کو تین طلاقوں سے مطلّقہ سمجھے اور بعد عدّت نکاح کرسکتی ہے لیکن اگر وُہ آیا اور اُن خطوط کے لکھنے سے منکر ہوا تو بغیر شہادت گواہانِ عادل طلاق ثابت نہ ہوگی اور نکاحِ ثانی رَد کردیا جائے گا۔ واﷲتعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۲۰: از رنگپور مسئولہ محمد یونس ۱۱رمضان شریف ۱۳۳۹ھ (۱) اگر زوجین میں طلاق کی بابت اختلاف ہوخاوند منکر اور بی بی طلاق کا ثبوت دینا چاہتی ہو تو ثبوت کا کیا طریقہ؟ (۲) جانبین میں شاہدین موجود ہوں مطلّقہ کے شاہد کی گواہی دیں اور خاوند کے اس بات پر کہ مطلّقہ نے بعد طلاق اُن سے کہا ہے کہ خاوند نے طلاق دینا چاہا تھا مگر نہ دی تو اب کون سی بات قابلِ سماعت ہے؟ بینواتوجروا الجواب بحالتِ اختلاف طلاق کا ثبوت گواہوں سے ہوگا اور دو۲ گواہ عادل شرعی شہادت بروجہ شرعی اداکریں کہ اس شخص نے اپنی زوجہ کو طلاق دی طلاق ثابت ہوجائے گی، پھر اگر شوہر نفی کے گواہ دے گا یا اس بات کے کہ مطلّقہ بعد طلاق اس سے بولی کچھ اصلاً مسموع نہ ہوگا، ہاں اگر عورت گواہ بروجہ شرعی نہ دے سکے تو شوہر پر حلف رکھا جائے گا اگر حلف سے کہہ دے گا کہ اُس نے طلاق نہ دی طلاق ثابت نہ ہوگی اور اگر حاکم شرعی کے سامنے حلف سے انکار کرے گا تو طلاق ثابت مانی جائے گی۔ واﷲتعالٰی اعلم۔