مسئلہ ۲۱۶: از ملک چھتیس گڈھ شہر رائپور محلہ بیجناتھ باڑہ مکان منشی رحیم بخش عرضی نویس مرسلہ منشی محمد اسحٰق صاحب ۱۰رجب ۱۳۱۲ھ
بخدمت سراپا برکت جناب فیض مآب علوم سبحانی ومعدن یزدانی جامع فروع واصول مولٰنا صاحب سلّمـہ اﷲتعالٰی بعد ازآداب کے بندہ محمد اسحٰق عرض رساں ہے کہ حضور پُر نور کا فتوٰی پہنچا کمال درجہ کی خوشی حاصل ہوئی، اﷲتعالٰی آپ کو اجرِ عظیم بفحوائے خیر الناس من ینفع الناس(لوگوں میں سے بہتر ہو جو لوگوں کونفع پہنچائے۔ت) عطا فرمائے گا، التماس خدمتِ بابرکت میں یہ ہے کہ طالعور خاں اقرار کرتا ہے ایک مرتبہ نہیں ہزار مرتبہ اقرار کرچکا ہے فقط اس کا مقولہ یہ ہے کہ بیشک یہ خط تو میں نے تحریر کیا ہے اب اس کے موافق مجھے شرع سے کیا حکم ہوتا ہے اور جب یہ خط آیا تو سرمست خاں صاحب نے طالعور خاں کی زوجہ عمدہ اور اس کے والد نجم خاں کوحرف بحرف پڑھ کر سُنا بھی دیا، اس صورت میں یہ معلوم کرنا منظور ہ کہ ازروئے شرع عمدہ کے حق میں کیا حکم ہے، طالعور خاں اس پر اپنے ساتھ نکاح کرلینے کا جبر کرسکتا ہے یانہیں اور عمدہ کو بوجہ اس کے کہ عدت گزرچکی جس سے چاہے نکاح کرلینے کا اختیار ہے یا نہیں اور حکم وقوع طلاق میںکیا صرف پہلے خط کو دخل ہے یا اوروں کو بھی؟بینو اتوجروا۔
الجواب
جبکہ طالعور خاں اسی خط کے لکھنے کامقر ہ اور سرمست خاں نے حسبِ درخواست طالعورخاں یہ خط اُن دونوں کو حرف بحرف سُنا بھی جیسا کہ سوال میں مذکور ہے تو مستفسرہ میں عمدہ کے حق میں حکم شرع یہ ہے کہ اس پر دو۲ طاقیں بائن ہوگئیں ایک تو اسی وت جبکہ طالعور خاں نے یہ لفظ لکھے تھے کہ آپ کو اجازت دیتا ہون کہ اس کا نکاح کسی دوسرے شخص کے ساتھ کردو کہ دوسرے سے نکاحِ ِزن اجازت دیتا ہوں کہ اُس کا نکاح کسی دوسرے شخص کے ساتھ کردو کہ دوسرے سے نکاحِ زن کی اجازت دینی بیشک کنایاتِ طلاق سے ہے اور اس خط کی عبارت اوّل تا آخر نیت ازالہ نکاح میںظاہرکما لایخفی علی کل ماہر وقد بیناہ فی ماسبق(جیسا کہ کسی ماہر پر مخفی نہیںہے اور ہم نے اس کو پہلے بیان کردیا ہے۔ت) او ان کنایوں سے طلاق بائن ہی پڑتی ہے۔
کنزالدقائق میں ہے : فی غیرھا بائنۃ وھی بائن، حرام، ابتغی الازواج۱؎اھ ملخصاً۔
مذکورہ الفاظ ثلثہ کے غیر میں طلاق بائنہ ہوگی اورطلاق بائنہ کے الفاظ یہ ہیں: بائن، حرامِ،تُوشوہر تلاش کر اھ ملخصا ً (ت) (۱؎ کنز الدقائق باب لکنایات ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۱۶)
تو بغور تحریر خط طلاق ہوگئی اور اسی وقت سے عدت کا شمار لیا جائے۔ فتاوٰی قاضی خاں میں ہے :
ان ارسل الطلاق فکما کتب وتلزمھاالعدۃ من وقت الکتابۃ الخ۱؎(ملخصاً)
اگر طلاق لکھ کر بھیجی تو جو لکھا وہ طلاق واقع ہوگی، اور بیوی کو لکھائی کے وقت سے عدت لازم ہوگی الخ(ملخصاً)۔(ت)