Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۲(کتاب النکاح والطلاق)
94 - 155
مسئلہ ۲۱۵: از بڑوودہ ملک گجرات موتی باغ ببریا مرسلہ سیّد غلام سرور صاحب ۲۴ربیع الآخر شریف ۱۳۱۲ھ 

شرع محمد صلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم کے عالم اس مسئلہ میں کیا ارشاد فرماتے ہیں ، ایک شخص نے اجمیر شریف سے جاکر اپنی عورت کو بڑودہ میں بذریعہ کط ایک طلاق بنام جماعت لکھ کر روانہ کیا میری عورت کو کہہ دینا میں نے ایک طلاق اپنی عورت کو دی، جماعت نے عورت کو خط سُنادیا، دو۲ مہینے کے بعد بڑودہ میں آیا، عورت نکاح میں رہی یانکل گئی؟ سوال کے جواب عطا فرمائےے ثواب آپ کو خداوند تعالٰی  عطا فرمائے گا۔

الجواب

اگر واقع میں اس شخص نے یہ خط آپ کو لکھا یا دوسرے کو عبارۃ مذکورہ بتاکر لکھوایا کہ میری عورت کی نسبت یہ الفاظ لکھ دے تو جس وقت اس کے قلم یازبان سے یہ لفظ نکلے اسی وقت سے عورت ایک طلاق پڑگئی اور اسی وقت سے عدّت کا شمار ہوگا اگرچہ یہ خط بڑودہ نہ پہنچتا یا وہ خود ہی لکھ کر نہ بھیجتا یا مکتوب الہیم عورت کو نہ سُناتے کہ جو الفاظ طلاق لکھے یا بتائے جب ان میںکوئی شرط نہیں کہ یہ خط جب پہنچے یا سنایاجائے اس وقت طلاق ہوتو ان کا لکھنا یا بتانا ہی طلاق کا موجب ہوگیا بھیجنے پہنچنے سنانے پر توقف نہ رہامگر ازانجا کہ طلاق رجعی ہے عورت نکاح سے نہ نکلے گی جب تک عدّت نہ گزرجائے۔ ایامِ عدت میں بے تجدید نکاح عورت سے رجعت کرسکتا ہے مثلازبان سے کہہ دے میں نے اسے اپنے نکاح میں پھر لیا، بدستور اس کی زوجیت میں باقی رہےگی جس میں عورت کی رضامندی بھی ضرور نہیں، اوراگر عدّت گزرگئی تو برضائے عورت اس سے ازسرنو نکاح کرسکتا ہے کچھ حلالہ کی حاجت نہیں جبکہ اس سے پہلے دو۲ طلاقیں نہ دے چکا ہو۔ اور اگر واقع میں یہ اس شخص کا کام نہیں بلکہ کسی اور نے بطورِ خود اس کے نام سے لکھ بھیجاہے تو طلاق نہ واقع ہوئی کہ دوسرے کے نزدیک طلاق اسی وقت ثابت ہوگی جبکہ اسے اس خط کا اقرار ہویاانکار کرے تو گواہان عادل شرعی گواہی دیں کہ اس نے ہمارے سامنے یہ کاروائی کی،بغیر اس کے صرف اتنی بات کہ خط اس کے ہاتھ کا لکھا معلوم ہوتا ہے بکار آمد نہیں، ہاں اگرواقع میں یہ کاروائی اسکی تھی اور منکر ہوگیا اور گواہ نہیں تو اس کاوبال اسی پر ہے، عورت پر گناہ نہیں۔ (۱)مبسوط امام محمد و(۲) خلاصہ و(۳) بزازیہ و(۴) اشباہ و (۵)شافی  و(۶)کفایہ و(۷)ردالمحتار میں ہے :
ان کتب علی وجہ الرسالۃ مصدرا معنوناوثبت ذٰلک باقرارہ او بالبینۃ فکالخطاب۱؎۔
اگر طلاق نامہ تحریر کیا ہوتو باقاعدہ سرنامہ کے ساتھ بھیجنے کے انداز میں لکھا گیا ہواور لکھنے والے کے اقرار سے یا گواہوں سے اس کا ثبوت ہوتو وُہ زبانی طلاق کی طرح نافذ العمل ہوگا۔(ت)
 (۱؎ ردالمحتار         باب کتاب القاضی الی القاضی     داراحیاء التراث العر بی بیروت     ۴ /۳۵۳)
فتاوٰی  قاضی خاں وعالمگیری میں ہے :
ان ارسل الطلاق فکما کتب یقع وتلزمھا العدۃ من وقت الکتاببۃ وان علق بمجیئ الکتاب فمالم یجیئ الیھا لا۲؎اھ ملخصاً۔
اگر تحریری طلاق بھیجی ہوتو جو کچھ اس میں لکھا ہے اتنی طلاقیں واقع ہوجائیں گی، اور تحریر کے وقت سے عدّت شمار ہوجائے گی اور اگر طلاق کو خط ملنے پر معلّق کیا ہوتو آنے سے پہلے طلاق نہ ہوگی اھ ملخصاً۔(ت)
 (۲؎ فتاوٰی ہندیہ     الفصل السادس فی الطلاق بالکتابۃ     نورانی کتب خانہ پشاور         ۱ /۳۷۸)

(فتاوٰی  قاضی خاں    فصل فی الطلاق بالکتابۃ         نولکشور لکھنؤ             ۲ /۲۱۸)
خانیہ میں ہے :
رجل قال لغیرہ اخبر امرأتی بطالقھا اوقل لھا انھا طالق طلقت للحال کما لوقال اکتب الٰی امرأتی انھا طالق۳؎ اھ ملخصاً۔
ایک شخص نے دوسرے کو کہا کہ میری بیوی کو طلاق کی اطلاع دے دو، یا کہا کہ میری بیوی کو کہو کہ وہ طلاق والی ہے،تو اسی وقت سے طلاق ہوگی، جیسے کسی نے کہا تُومیری بیوی کو لکھ کر وُہ طلاق والی ہے، تواسی وقت طلاق ہوجائے گی اھ ملخصاً(ت)
 (۳؎ فتاوٰی  قاضی خاں     کتاب الطلاق الفصل الاول فی صریح الطلاق  نولکشور لکھنؤ        ۲ /۲۱۰)
ہدایہ میں ہے :
لان الکتاب یشبہ الکتاب فلایثبت۴؎۔
تحریر، تحریر کے مشابہ ہوتی ہے لہذا معتبر نہ ہوگی۔(ت)اس مسئلہ کی باقی تحقیق ہمارے فتاوٰی  میں ہے۔واﷲتعالٰی  اعلم
 (۴؎ ہدایہ         کتاب القاضی الی لقاضی         مطبع یوسفی لکھنؤ         ۳ /۱۳۹)
Flag Counter