| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۲(کتاب النکاح والطلاق) |
مسئلہ ۲۱۲: از شہر بریلی ذخیرہ مرسلہ کرامت حسین ماقولکم ایھاالعلماء رحمکم اﷲتعالٰی (اے علماء کرام، اﷲتعالٰی آپ پر رحم فرمائے، آپ کا کیا ارشاد ہے۔ت) زید کہتا ہے کہ میں نے دو۲ طلاق اپنی زوجہ کودی ہیں، اور زوجہ کہتی ہے کہ مجھے علم طلاق دینے کا نہیں ہے، اور گواہ کہتے ہیں کہ زید نے اپنی زوجہ کوتین طلاق دی ہیں۔ آیا قول زید کا معتبر ہوگا یاگواہوں کا؟مع تصحیح نقل بیان فرمائیے فقط۔ الجواب اگر دو۲ مرد یا ایک مرد دو۲ عورتیں نماز پرہیز گار ثقہ عادل قابل قبول شرع گواہی شرعی دیں گے تو تین طلاقیں ثابت ہوجائیں گی، زید کا انکار نہ سُنا جائے گا، اوراگر ایسے گواہ نہیں تو زید سے قسم لی جائے گی، اگر اس نے قسم کھانے سے انکار ردیا جب بھی تین طلاقیں ثابت ہوجائیں گے،اور اگر قسم کھالے گاکہ میں نے صرف دو۲ ہی طلاقیں دی ہیں تیسری طلاق نہ دی تو دو ہی ثابت ہوں گی، پر اگر جھوٹی قسم کھالی تو اس کا وبال زید پر ہوگا عورت الزام نہیں، گواہ شرعی نہ ہوں تو قسم لینے کے لئے عورت کا گھر میں اس سے قسم لے لینا کافی ہوگا۔
والمسائل کلھا منصوص علیھا فی کتب المذہب کالدرالمختار وغیرہا ۔ واﷲسبحٰنہ تعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
یہ تمام مسائل مذہب کی تمام کتب میں واضح مذکور ہیں، جیسا کہ درمختار وغیرہا میں ۔ واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم(ت)
مسئلہ ۲۱۳: محمد ارشاد علی صاحب معلّم درجہ اوّل عربی مدرسہ عالیہ ریاست رام پور کیا فرما تے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص نے لوگوں کے رُوبرو صرف یہ کہا کہ فلاں و طلاق۔زوجہ وغیرہ کس کا نام نہیں لیا پھر کہا''عزیزالرحمٰن کے باپ کی بیٹی فلاں کو طلاق'' بلا ذکر نام زوجہ کے اوراس کے اور اس شخص کے،علاوہ مطلق کی بی بی کے اور بھی کئی بیٹیاں ہیں، بعد کو جب ایک شخص نے کہا یہ فلاں فلاں کیا کہتا ہے، تب کہا''آمنہ خاتون کو طلاق''،اور اس کی بیوی کا نام آمنہ خاتون ہے، غرض پہلے جو طلاق مطلق اور مبہم تھی اس کو اقرار ِثالث میں بالکل متعین کرکے بیان کیا ہے تو اس صورت میں اسکی بی بی پر کتنی طلاقیں واقع ہوگئیں؟جواب مدلّل کتبِ فقہ سے مرحمت ہو۔ الجواب صورتِ مذکورہ میں تین طلاقیں واقع ہوگئیں وقد فسر المبھم فنصّہ بعض السوال(اس نے مبہم کی تفسیر اپنے سوال کے ایک حصّہ میں کردی ہے۔ت) واﷲتعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۱۴: از شاہ جہان پور محمد خلیل مرسلہ مولوی ریاست علی خاں صاحب شاہ جہان پوری ۱۳ذی القعدہ ۱۳۱۷ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ کا شوہر کسی دوسرے شہر میں ہے اور اس نے طلاق تحریر کرکے اور رجسٹری بھی حسبِ قانون انگریزی اس پر کراکے بذریعہ ڈاک کے پاس اولیائے ہندہ کے ارسال کی، تو اب سوال یہ ہے کہ تحریری طلاق حالانکہ اس کا غذ پر شہادر بھی گواہوں کی لکھی، یہ شرعاًمعتبر ہے یا نہیں؟ اوربحالتِ عدمِ اعتبار ہندہ کونکاح ثانی اپنا دوسرے شخص سے کرنا یا ولی ہندہ کو ہندہ کا نکاح کسی شخص ثانی سے کرادینا جائز ہے یانہیں؟بیّنواتوجروا۔ الجواب ایسی مرسوم معہودہ تحریر مطلقاً معتبر وموجب وقوعِ طلاق ہے جبکہ بلااکراہ ہونص علٰی ذلک فی الاشباہ والبحر والدروالخانیۃ والھندیۃ وسائروالہندیۃ وسائرالاسفار الغر(اشباہ،بحر، دُر، خانیہ، ہندیہ اور باقی مشہور کتب میں اس کو واضح طور پر بیان کردیا ہے۔ت) تو واقع میں اگر یہ تحریر شوہر بندہ نے برضائے خودلکھی دیانۃًضرور طلاق واقع ہوگئی۔ رہا یہ کہ زن واولیائے زن اس پرکہا تک کاربند ہوسکتے ہیں، اسکی تین صورتیں ہیں: اگر شوہر اس تحریر کا اقرار کرتا ہے تو ثبوتِ طلاق ظاہر، اور اگر منکر ہے تو ہرگز معتبر نہیں جب تک حجّت شرعیہ قائم نہ ہو۔
فان الخط یشبہ الخط فلایعتبر والقاضی انّما یقضی بالحجۃ لابمجرد الخط وقد حققناہ فی کتاب الصوم من فتاوٰنا واکثر نا فیہ من النقول عن الائمۃ الفحول۔
خط، خط کے مشابہ ہوتاہ لہذا معتبر نہ ہوگا، اور قاضی دلیل کی بناء پر فیصلہ کرتا ہے صرف خط کی بناء پر فیصلہ نہیں کرے گا، اس کی تحقیق ہم اپنے فتاوٰی کی کتاب الصوم میں کرچکے ہیں اور وہاں ہم نے جلیل القدر ائمہ کرام کے اقوال خوب نقل کئے ہیں (ت) اور اگراقرار انکار کچھ معلوم نہیں مثلاً ہنوز اس شہر سے واپس نہ آیا اس صورت میں اکبر رائے وغلبہ ظن ان کےلئے حجت کاربندی ہے، اگر اس خط کی صحت میں شبہہ ہوتو ہندہ کو ہر گز حلال نہیں کہ اپنے آپ کو مطلقہ عمل کرسکتے ہیں، شرعاً کافی لرخصّۃ العمل ومغنی حاجت الاثبات میںفرق زمین وآسمان کا ہے، ولہذا اگر شوہر انکار واعتراض سے پیش آئے ان کی اکبر رائے کام نہ دے گی اور پھر ثبوت بہ حجت شرعیہ کی حاجت پڑے گی،
خانیہ میں ہے :
لوان امرأۃ غاب عنھازوجھا فاخبرھا مسلم ثقہ ان زوجہا طلاقھا ثلثا اومات عنھا اوکان غیرثقۃ فاتاھابکتاب من زوجھا بالطلاق وھی لاتدری ان الکتاب کتاب زوجہا ام لا'ان اکبر رأیھا انہ حق لاباس بان تعتدو تتزوج۱؎۔
اگر کسی عورت کاخاوند غائب ہوچکا ہے تو ایک ثقہ مسلمان نے آکر کہاکہ اس کے خاوند نے اس کو تین طلاقیں دے دی ہیں، یا کہا اس کا خاوند فوت ہوگیا ہے، یا کوئی غیر ثقہ مسلمان آکر اس عورت کے خاوند کا طلاق نامہ دکھادے، عورت کو معلوم نہیں کہ یہ اس کے خاوند کا خط ہے یا نہیں، لیکن عورت کا غالب گمان یہ ہے کہ حق ودرست ہے تو عورت کو عدّت گزار کر نکاح کرلینا میں کوئی حرج نہیں۔(ت)
(۱؎ فتاوٰی قاضی خاں کتاب الخطر والاباحۃ نولکشور لکھنؤ ۴ /۷۹۱)
ہندیہ میں ہے:
ذکر فی کتاب قضیۃ انکتب الخلیفۃ الی قضاتہ'اذاکان الکتاب فی الحکم بشہادۃ شاہدین شہد عندہ بمنزلۃ کتاب القاضی الی القاضی لایقبل الابالشرائط التی ذکرناھا واماکتابہ انہ ولی فلانا اوعزل فلانا فیقبل عنہ بدون تلک الشرائط ویعمل بہ المکتوب الیہ اذوقع قلبہ انہ حق ویمضی علیہ وھو نظیر کتاب ساء الرعایابشیئ من لامعاملات فانہ یقبل بدون تلک الشرائط ویعمل بہ المکتوب الیہ وقع فی قلبہ انہ حق کذاھنا۲؎اھ۔واﷲتعالٰی اعلم۔
انہوں نے کتاب الاقضیہ میںذکر کیا کہ ااگر خلیفہ نے قاضیوں کے جام کوئی حکم نامہ بذریعہ خط جاری کیا ہو اور دو۲ گواہوں کی موجودگی میں خلیفہ نے فیصلہ اور حکم دیا، تو خلیفہ کا یہ حکم نامہ کتاب القاضی الی القاضی کی طرح ہوگا لہذا خلیفہ کاوُہ خط ان شرائط کے بغیر قابل قبول نہ ہوگا جن کو ہم نے کتاب القاضی میں ذکر کیا ہے، لیکن اگرخلیفہ کا وُہ خط کسی کی تقرری یا معزولی کے بارے میں ہوتو ان مذکورہ شرائط کے بغیر بھی قبول کرلیا جائے گا اور مکتوب الیہ اس پر عمل کرے گا بشرطیکہ مکتوب الیہ اس پر عمل کرے گا کو دلی اطمینان ہوکہ یہ درست ہے لہذا وہ عمل پیرا ہوگا، اور یہ خط، عام رعایا کی آپس کے معاملات میں خط وکتابت کی طرح ہوگا کہ مکتوب الیہ کو دلی اطمینان پر عمل جائز ہے، یہ بھی ایسے ہی ہوگا اھ۔ واﷲتعالٰی اعلم(ت)
(۲؎ فتاوٰی ہندیۃ کتاب القضاء الباب الثالث والعشرون نورانی کتب خانہ پشاور ۳ /۳۹۶)