Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۲(کتاب النکاح والطلاق)
92 - 155
مسئلہ۲۱۰: ازبھیکم پور کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنی زوجہ حرہ کو یہ ہدایت کی فلاں رشتہ دار میرا تیرا دشمن ہے لہذا تو اس سے مراسم اتحاد ترک کر، زوجہ نے نہ مانا ، زید نے بموجودگی چند اشخاص زوجہ کو طلاق دی اور عدت منقضی ہوچکی ہے، اب زید رجوع کیا چاہتا ہے اور کہتا ہے میں نے ایک یا دو۲ بار اس موقع پر جہاں طلاق واقع ہوئی تھی طلاق دی تھی تین مرتبہ نہیں کہا تھا، اشخاص موجود دین موقعوزوجہ مطلقہ بیانِ زد کی تصدیق کرتے ہیں مگر عمروہندہ وصفیہ کا بیان ہے کہ جب ہم سے ملا تھا اور ہم نے اس سے کیفیت واقعہ طلاق کو اپنے مکان پردریافت کیا تو زید نے ہمارے سامنے تین مرتبہ یہ کلمہ کہا کہ (میں طلاقی دیتا ہوں) زید بیان عمرو وغیرہ کے تصدیق نہیں کرتا بلکہ کہتا ہے عمرو وغیرہ میرے مخالف ہیں اور براہ مخالفت جو مجھ سے رکھتے ہیں یہ کہتے ہیں تاکہ میری عورت مغلظہ ہوجائے اور میں عورت سے رجوع نہ ہونے پاؤں ورنہ ظاہ رہے کہ موقع طلاق پر علیحدہ تین مرتبہ کہنے کی کوئی وجہ نہ تھی بلکہ عمرو وغیرہ نے مجھ سے کیفیت دریافت کی میں نے صورت واقعہ ظاہر کی، اس صورت میںزید بتجدید نکاح پانی زوجہ سے رجوع کرسکتا ہے یانہیں اور تحلیل کی ضرورت نہ ہوگی اور اگر موقع وقوع طلاق سے علیحدہ ہوکر دوسرے مقامپر عمرو وغیرہ کے سامنے تین مرتبہ جملہ مذکور کہنا تسلیم کیا جائے تو وُہ جملہ متصور ہوگا یا واقع کرن والا طلاق مغلظہ کا، مترصدکہ بحوالہ کتاب وحدیث سے ہدایت فرمائی جائے۔ بینواتوجروا۔
الجواب

صورتِ واقعہ اگر یُونہی ہے تو طلاق مغلظہ ہرگز ثابت نہیں، زید حرہ سے بے حاجت تحلیلِ نکاح کرسکتا ہے، عمرو وہندہ وصفیہ میں اگر ایک ہی شخص ثقہ عادل شرعی نہیں اگر چہ باقی دوبروجہ کمال عدالۃ شرعیہ رکھتے ہوں جب تو ظاہر ہے کہ نصاب شہادت کامل نہیں اور آج کل عدالۃ شرعیہ مردوں میں کم ہے نہ کہ زنان ناقصات العقل والدّین کہ اُن میں ثقہ شرعیہ ہندوستان میں شاید گنتی کی ہوں کما بیّنّاہ فی کتاب الشہادۃ من فتاوٰنا(جیساکہ ہم نے اسے اپنے فتاوٰی  کی کتاب الشہادت میں بیان کیا ہے۔ت) اسی طرح اگر اُن میں کوئی شخص زید سے عدالت ظاہرہ دنیویہ اس حد پر رکھتا ہے جس کے باعث باوصف عدالت اس کے حق میں متہم ہوجب بھی حسبِ فتوٰی  ائمہ متاخرین اس کی گواہی زید کے ضرر پر مقبول نہیں۔ 

درمختار میں ہے :
تقبل من عدوبسبب الدین لانھا من التدین بخلاف الدنیویۃ فانہ لایا من من التقول علیہ۱؎۔
دینی دشمن کی شہادت قبول کی جائے گی کیونکہ شہادت دینداری ہے بخلاف دنیوی دشمن کے کہ وُہ جُھوٹ بولنے سے پرہیز نہیں کرتا۔(ت)

اسی طرح اگر زیدنے مکانِ عمرو پر وُہ جملہ اس وقت کہا ہو کہ حرہ کی عدّت گزر چکی ہو،
 (۱؎ درمختار     کتاب الشہادات     باب القبول وعدمہ    مطبع مجتبائی دہلی     ۲ /۹۳)
فان انقضاء العدۃ یجعلھا اجنبیۃ خارجۃ عن محلیۃ الطلاق۔
کیونکہ عدّت کا گزرنا جانا بیوی اجنبی بنادیتا ہے اور اسکو طلاقِ کے محل سے خارج کردیتا ہے(ت)

اور اگر ان سب سے قطع نظر کیجئے بلکہ مان ہی لیجئے کہ زید نے جملہ مذکورہ ضرور کہا اور ایّامِ عدّت کے اندر ہی کہا اور اس قدر شک نہیں کہ یہ جملہ زمان حال بتاتا ہے، نہ زمان ماضی، تو حکایت طلاق سابق نہ ہوگابلکہ جبکہ لفظ اسی قدر ہیں کہ''میں طلاق دیتا ہوں'' اور اس میں کچھ نام وذکر نہیں کہ کسے دیتا ہوں نہ بیان کوئی قرینہ دالّہ ارادہ تطلیق حرہ کا قصد کیا تھا۔ 

خلاصہ وہندیہ میں ہے :
سکران ھربت منہ امرأتہ فتبعھا ولم یظفر بھا فقال بالفارسیۃ بسہ طلاق  ان قال اردت امرأتی یقع والا  لا۔۱؎
نشے والے کی بیوی بھاگی تو اس نے بیوی کا پیچھا کیا اور ناکام رہا تو اس نے کہا: تین طلاق سے، اگر اس پر خاوند نے کہا میں نے بیوی مراد لی ہے تو بیوی کو طلاق ہوجائے گی اور اگر کچھ بھی وضاحت نہ کی تو طلاق نہ ہوگی(ت)
 (۱؎ فتاوٰی  ہندیہ     الفصل السابع فی الطلاق بالفاظ الفارسیہ     نورانی کتب خانہ پشاور     ۱ /۳۸۲)
بزازیہ وانقرویہ میں ہے :
فرت ولم یظفر بھا فقال سہ طلاق ان قال اردت امرأتی یقع والا لا۲؎۔
عورت بھاگی تو شوہر پکڑنے میں کامیا نہ ہوا، تو کہا تین طلاق،اگر وصاحت کی اور کہا بیوی کو دی ہے تو طلاق ہوجائے گی ورنہ نہیں۔ (ت)
 (۲؎ فتاوٰی انقرویہ     الفصل مایقع بہ الطلاق ومالایقع بہ     دارالاشاعت قندھار افغانستان ۱ /۷۴)
بحرالرائق میں ہے :
لوقال طالق فقیل من عنیت فقال امرأتی طلاقت امرأترہ اھ۳؎ فقد علق الوقوع علی اقرارہ انہ عنی امرأتہ۔
اگر کہا طلاق والی، تو پُوچھا گیا کس کو طلاق کہا ہے، تو خاوند نے کہا اپنی بیوی کو،تو اس کی بیوی طلاق ہوجائے گی۔ تو انہوں نے وقوعِ طلاق کو خاوند کے اس اقرارپر معلق رکھا کہ اس سے اس نے اپنی بیوی مراد لی ہے۔(ت)
 (۳؎ بحرالرائق         باب الطلاق الصریح         ایچ ایم سعید کمپنی کراچی     ۳ /۲۵۳)
اور اگر بالفرض وجود قرینہ بھی تسلیم کرلیں تاہم جب کلام میں عورت کی طرف اصلاً اضافت نہیں تو زید کاقول کہ میں نے طلاق حرہ کی نیّت نہ کی قسم کے ساتھ مان لیا جائے گا اور طلاق مغلّظ کا حکم نہ ہوگا۔ 

محیط وخانیہ وہندیہ میں ہے  :
سئل شیخ الاسلام الفقیہ ابونصر عن سکران قال لامرأتہ اتریدون ان اطلقک قالت تعم فقال اگرزن منی یک طلاق دوطلاق سہ طلاق قومی اخرجی من عندی وھو یرعم انہ لم یرد بہ الطلاق فالقول قولہ۔۱؎
شیخ الاسلام فقیہ ابونصر سے سوال کیا گیا کہ ایک نشے والے نے اپنی بیوی سے کہا کیا تُو چاہتی ہے کہ میں تجھے طلاق دوں، تو بیوی نے کہا ہاں۔ اس پر خاوند نے کہا تُو میری بیوی ہے ایک طلاق دو طلاق تین طلاق، اُٹھ میرے پاس سے دُور ہوجا۔ اس کے بعد خاوند نے کہا کہ میں نے بیوی کو طلاق کی نیّت سے نہیں کہا، تو اس کی بات مان لی جائیگی(ت)
 (۱؎ فتاوٰی  ہندیہ     الفصل السابع فی الطلاق بالالفاظ لافاسیۃ     نورانی کتب خانہ پشاور     ۱ /۳۸۳)
نیز عالمگیری میں ہے :
فی الفتاوی رجل قال لامرأتہ اگر زن منی سہ طلاق مع حذف الیاء لایقع اذا قال لم انو الطلاق لانہ لما حذف فلم یکن مضیفا الیھا۲؎۔
فتاوٰی  میں مذکور ہے کہ اگر کسی شخص نے اپنی بیوی کو کہ اگر تُو میری بیوی ہے تین طلاق، اضافت کی یاء کو حذف کرکے کہا' تو اگر وضاحت کرتے ہوئے خاوند نے کہ میں نے بیوی کی طلاق کی نیت سے نہیں کہا، تو طلاق نہ ہوگی کیونکہ یائے اضافت کو حذف کرنے پر بیوی کی طرف نسبت نہ ہوئی۔(ت)
 (۲فتاوٰی  ہندیہ     الفصل السابع فی الطلاق بالالفاظ لافاسیۃ     نورانی کتب خانہ پشاور   ۱ /۳۸۲)
درمختارمیں ہے :
لوقال ان خرجت یقع الطلاق اولا تخرجی الاباذنی فانی حلفت بالطلاق فخرجت لم یقع لترکہ الاضافۃ الیھا۳؎۔
اگر خاوند نے کہا !گو تو نکے گی تو طلاق واقع ہوگی یا یوں کہا میری اجازت کے بغیر باہر نہ جانا کیونکہ میں نے طلاق کی قسم کھارکھی ہے،بیوی نکل گئی، تو طلاق نہ ہوگی کیونکہ اس نے قسم میں بیوی کی طلاق کو ذکر نہیں کیا۔(ت)
 (۳؎ درمختار         باب الصریح             مطبع مجتبائی دہلی     ۱ /۲۱۸)
بزازیہ وخانیہ میں ہے :
لایقع لعدم ذکر حلفہ بطلاقھا ویحتمل الحلف بطلاق غیرھا فالقول قولہ۱؎۔
مذکور ہ صورت میں طلاق اس لئے نہ ہوگی کہ اس نے قسم میں بیوی کی طلاق کا ذکر نہیں کیا تو احتمال ہوسکتا ہے کہ غیر عورت کی طلاق کی قسم ہو، لہذاخاوند کی وضاحت قابلِ قبول ہوگی۔(ت)
 (۱؎ فتاوٰی بزازیۃ علی ہامش الفتاوٰی الہندیۃ     کتاب الایمان     نورانی کتب خانہ پشاور     ۴ /۲۷۰)
بالجملہ صورتِ مستفسرہ میں اگر عمرووہندہ وصفیہ کا بیان صحیح بھی ماناجائے تاہم کسی طرح تین طلاقیں ہونا ثابت نہیں البتّہ اگر واقع میں زید نے ایّامِ عدّت کے اندر انشائے طلاق حرہ کی نیّت سے دوبار بھی جملہ مذکورہ کہا یا اگر پہلے دوطلاقیں دی تھیں توایک ہی بار بہ نیتِ ایقاع طلاق کہا ہوتو عنداﷲحرہ پر طلاق مغلظ ہوگئی اگر زید غلط انکارکرے گا مفتی کا فتوٰی  نفع نہ دے گا اﷲسے ڈرے اور جو امر واقع ہو اس پر عمل کرے۔ واﷲسبحٰنہ وتعالٰی  اعلم۔

مسئلہ ۲۱۱: از صدر بریلی   ۱۵ محرم الحرام ۱۳۲۴ھ 

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زوج کہتا ہے کہ میں نے طلاق نہیں دی، اور بیوی کہتی ہے کہ دی، اور دونوں قسم کھاتے ہیں،اور زوجہ ایک کاغذپیش کرتی ہے کہ جس میں طلاق لکھی ہوئی ہے آیا اس صورت میں طلاق واقع ہوگی یانہیں؟بینواتوجروا۔

الجواب

مرد کی قسم معتبر  ہے، عورت کی قسم فضول جب گواہ نہیں مرد کو اقرار نہیں اس کاغذ کو وُہ اپنا لکھا مانتا نہیں، توطلاق ہرگز ثابت نہ ہوگی، ہاں اگر واقع میں طلاق دے دی ہے اور جُھوٹ انکار کرتا ہے تو اس کا وبال اور سخت عذاب اس پر ہے، عورت خوب جانتی ہے کہ اس نے طلاق دے دی تھی، تواگر وہ طلاق رجعی تھی توکچھ حرج نہیں اور اگر بائن تھی تو عورت کو اس سے کہناچاہئے کہ تُونے طلاق نہیں دی سہی ازسرِ نو نکاح میں کیا حرج ہے، اور مرد کو چاہئے کہ تجدید نکاح کرلے، اور اگر عورت جانتی ہے کہ وہ تین طلاقیں دے چکا ہے تو جس طرح ممکن ہو اس سے بھاگے نجات حاصل کرے اپنا مہر وغیرہ چھوڑنے کے بدلے اس سے طلاق مل سکے تو یُوں لے، نہ ہوتو عذاب اس پر رہے گا جب تک یہ خود اس کے پاس جانے کی رغبت نہ کرے گی۔واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔
Flag Counter