| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۲(کتاب النکاح والطلاق) |
مسئلہ۲۰۹: ۲۳ ربیع الآخرشریف ۱۳۱۲ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کی دو۲ زوجہ ہیں چھمی اور بشیرن،اور اس نے دو۲بار یا تین بار کہا میری عورت پر طلاق، اور کسی کا نام نہ لیا تو اُن میں کس پر اور کتنی طلاقیں پڑیں گی، بینواتوجروا الجواب صورتِ مستفسرہ میں یا تو وُہ دونوں عورتیں مدخولہ ہوں گی یا دونوں غیر مدخولہ یا ایک مدخولہ ایک غیر مدخولہ، اور ہر صورت میں یا تو ایک کی تخصیص کرے گا کہ میں نے اسی کو طلاقیں دی تھیں یا دونوں کودینا بتائے گا تویہ چھ صورتیں ہوئیں اور بہر تقدیر مذکور دوبار کہا یا تین بار تو مجموع بارہ۱۲ ہیں جن میں یہ جگہ مدخولہ کے اس لحاظ سے کہ اسے پہلے ایک طلاق دے چکا ہے یا دو۲یانہیں چالیس۴۰ (عہ)بلکہ اٹھاون (عہ) ہوجائیں گی، ان سب کا حکم چار اصل کلی سے نکل سکتا ہے: اوّل : زن غیر مدخولہ تفریق طلاق کی صلاحیت نہیں رکھتی یعنی غیر مدخولہ کو یُوں کہے کہ اس پر دو۲ طلاقیں یا اس پر تین طلاق، جب تو اس پر دو۲ یا تین طلاقیں ہوں گی اور اگر دو یا تین یو ں کہا کہ تجھ پر طلاق تجھ پر طلاق، تو ایک ہی طلاق ہوکر نکاح سے نکل جائے گی باقی لغوجائیں گی۔ دوم : مدخولہ جمعاً وتفریقاً ہر طرح تین طلاق رک کی صالحہ ہے زیادہ کی نہیں کہ تین۳سے آگے طلاق ہی نہیں ، تو جس مدخولہ کو کبھی ایک طلاق دے چکا تھا اب اُسے دو۲ سے زائد نہیں دے سکتا اور جسے وُہ دو۲ دے چکا اس پر ایک سے زیادہ نہیں ڈال سکتا، اگر زیادہ دے گا باقی لغو ہوجائیں گی۔ سوم : کلام جب تک مؤثر بن سکے گا لغو نہ ٹھہرائیں اگے، اور ایسا دعوٰی جس میں کوئی حصّہ کلام کا لغو جاتا ہوتسلیم نہ کریں گے۔ چہارم : جس کے پاس دو۲زوجہ ہوں اور وُہ بلاتعیین اپنی عورت کو طلاق دے تو اسے اختیار ہے کہ وہ طلاق اُن میں سے جس کی طرف چاہے پھیرے تعیین مطلقہ میں اس کا بیان معتبر ہوگا جب تک اس کے قبول میں کلام کا لغو ہونا نہ لازم آتا ہو۔
عہ: دونوں مدخولہ ہونے میں چھ۶ صورتیں ہیں کہ دونوں (۱) سادہ ہوں یعنی اس سے پہلے کسی کو کوئی طلاق نہ دی تھی یادونوں کو ایک ایک دے چکا تھا یادو(۳) دویا ایک(۴)سادہ دوسری کو ایک یا ایک (۵) سادہ دوسری کو دو یا ایک(۶) کو ایک دوسری کو دو۲،اورایک مدخولہ دوسری غیر مدخولہ میں تین ۳ صُورتیں ہیں کہ وہ(۱)مدخولہ سادہ ہو یا ایک(۲) پاچکی ہو یا دو(۳)، تو یہ نوہوئیں اور دسویں (۱۰) وُہ کہ دونوں غیر مدخولہ، ان دسوں پر محتمل ہے کہ ایک کی تخصیص کرے یا دونوں کو دینی کہے بیس۲۰ہوئیں'ان بیسوں ۲۰پر احتمال ہے کہ لفظ دو۲ بار کہا یا تین ۳بار، چالیس۴۰ ہوئیں ۔ عہ: اس لئے کہ ان دس۱۰ صورتوں میں چھ۶ صورتیں اختلاف حال زوجہ کی ہیں یعنی چوتھی سے جس میں ایک سادہ اور دوسری کو ایک ہوچکی ہے نویں ایک مدخولہ اور دوسری غیر مدخولہ ہے اور چار۴ صورتیں دسوں۱۰ سے متعلق ہونے والی ہیں، دو۲کی تخصیص دو کی تقسیم، تین کی تخصیص تین کی تقسیم، ان صورتوں سے ان چار شکلوں میں جن میں حال زوجتین متفق ہے کوئی اختلاف نہ پڑے گا جس کی چاہو تخصیص مان لو یا تین قسم کی تقسیم جس پر طلاق چارہودو اور دوسری پر ایک واقع مان لو حکم ایک ہی رہے گا جس کی چاہو تخصیص مان لو یا تین قسم کی تقسیم جس پر طلاق چاہو دو اور دوسری پر ایک واقع مان لو حکم ایک ہی رہے گا، لہذا یہ چاروں ۴ چار۴ سے مل کر سولہ۱۶ ہی ہُوئیں، اور اسی طرح ان چھ۶ صوراختلاف حالین میں تقسیم دو سے کوئی فرق نہ آئے گا ہر ایک پر ایک پڑے گی اور بیشک وُہ دونوں ایک حال کی ہوں ایک پڑنے کی ضرور صالحہ ہیں ورنہ اس کے نکاح ہی میں نہ ہوتیں، یہ چھ۶ طلاق چھ۶ہی رہیں، سولہ۱۶ اور چھ۶بائیس۲۲، مگر بحالتِ تخصیص دو۲ یا سہ۳، یہ چھ ۶مختلف الحکم ہوں گی کہ تخصیص ۲یا ۳اس عورت سے کی یا اس سے تقسیم، تین ۳ میں دو۲ اس پر مانیں اور ایک اس پر، بالعکس تو یہ چھ۶ یہاں آکر بارہ ۱۲ ہوئیں اور تین۳ صور تخصیص دو۲و سہ۲وتقسیم سہ۳ سے ضرب کھاکر چھتیس۳۶ بائیس۲۲ اٹھاون۸۸، واﷲتعالٰی اعلم ۱۲منہ۔
یہ چاروں اصول جابجا کُتبِ فقہ میں مصرح ہیں، پس اگر چھمّی بشیرن دونوں مدخولہ ہیں تو اب ان میں سے جس کی تخصیص کرے گا دویاتین جتنی طلاقیں دی ہیں سب اسی پر پڑیں گی دوسری پر کچھ نہیں بشرطیکہ وہ اتنی طلاقوں کی صلاحیت رکھتی ہو مثلاً دوبار لفظ مذکور کہاتو اب جس کی تخصیص کرتا ہے اُسے دو۲ طلاقیں کبھی نہ دی ہوں یا تین بار کہا تواصلاًنہ دیں ہوورنہ جس قدراس کی صلاحیت ہے اُتنی اس پر باقی دوسری پر پڑیں گی جبکہ اس میں کل باقی کی صلاحیت ہوورنہ ایک طلاق بنا چاری لغو ٹھہرے گی مثلاً دوبار کہا اور چھمّی کی تخصیص کی اور اسے پہلے دو۲ بار دے چُکا تو اس بار پر ایک ہی پڑکر وہ تین طلاقوں سے مطلقہ ہوجائے گی، اور اگر تین اور اس سے پہلے ایک دے چکا تھا تو اب اس پر دو۲ ہی پڑکر تین ہوجائیں گی اور دونوں صورتوں میں باقی ایک بشیرن پر پڑے گی، اور اگر چھمّی کو دو دے چکا تھا تو اب تین بار کہا تو اس پر ایک پڑکر تین ہوگئیں اور باقی دو۲ بشیرن پر پڑیں گی جبکہ بشیرن پرپڑیں گی جبکہ بشیرن کو پہلے دو۲ نہ دے چکاہو ورنہ ان دو۲ باقیماندہ سے ایک ہی بشیرن پر پڑکر اس کی بھی تین ہوجائیں گی اور ایک مجبوراً لغو ہوجائے گی اس کے لئے کوئی محل نہیں، اوراگر دونوں کو دینا بتاتا ہے تو ہر ایک پر ایک ایک تو ضرور پڑے گی، رہی تیسری، اگر اس کی صلاحیت کسی میںنہیں تو لغوجائے گی اور خاص ایک میںہے تو اُسی پر ضرور پڑے گی اور دونوں میں ہیں تو وُہ جسے بتائے گا اس پر ہوگی مثلاً چھمی بشیرن دونوں پہلے دو۲ دو۲ طلاقیں پاچکی تھیں تو اب ہر ایک پر ایک ایک پڑکر تین تین ہوگئیں تیسری بیکار، اوراگر مثلاًچھمّی کو دو۲ ہوچکی تھی اور بشیرن کو ایک، تو یہ تین جو دونوں کو دیں ان میں کی دو۲ خاص بشیرن پرپڑیں گی اور چھمّی پر ایک، اگر چہ وہ اس کا عکس بتاتا ہوکہ میں نے چھمّی پر دو۲ ڈالیں اور بشیرن پر ایک۔ اور اگر دونوں ایک ایک طلاق ہوچکی تھی یا ایک بھی نہ ہوئی تھی یا ایک کو ایک، دوسری کو اصلاً نہ ہوئی تھی تو دونوں ان تینوں میں سے دو۲ کی قابل ہیں جس پر دو۲بتائے گا اس پر ان کی دو۲ پڑیں گی، اور جس پرایک اس پر ایک۔ اور اگر دونوں غیر مدخولہ ہیں تو ایک کی تخصیص اصلاً قبول نہ ہوگی کہ باقی کو لغویت لازم آتی ہے بلکہ ہر طرح دونوں پر ایک ایک پڑے گی، اور اگر تین بار کہا تھا تو تیسری عبث جائے گی۔ اور اگر مدخولہ وغیر مدخولہ ہیں اور تخصیص غیر مدخولہ کی کرتا ہے تو مقبول نہ ہوگی بلکہ دو۲ کی صورت میںدونوں پر ایک ایک پڑے گی اور تین کی صورت میں غیر مدخولہ کی کرتا ہے تو مقبول نہ ہوگی بلکہ دو۲ کی صورت میں دونوں پر ایک ایک پڑے گی اور تین کی صورت میں غیر مدخولہ پر ایک اور باقی دو مدخولہ پر اگر اسے پہلے دو۲ نہ دے چکا ہو ورنہ اس پر بھی ایک ہی، اور تیسری بیکار۔اور اگرتخصیص مدخولہ کی کرتا ہے تو مقبول ہوگی جبکہ دو۲ کی صورت میں اسے پہلے دو۲ اور تین۳ کی صورت میں پہلے ایک یادو۲ نہ دے چکاہوورنہ ایک یا دو۲ مدخولہ پر پڑکر باقی ایک غیرمدخولہ پر پڑجائیں گی، اور اگر دونوں کو دینا بتاتا ہے تو غیرمدخولہ پرایک ہی پڑے گی اگرچہ اس ر تین میں سے دو۲ بتاتا ہو باقی مدخولہ پر بشیرن تین کی صورت میں اُسے پہلے دو۲ نہ دی ہوں ورنہ اس پر بھی ایک پڑیگی اور ایک عبث۔ غرض تقسیم طلاق وتخصیص غیرمدخولہ کے احکام یکساں ہوں گے۔ خانیہ میں ہے :
لوکان لہ امرأتان لم یدخل بھما فقال امرأتی طالق امرأتی طالق بانتاوان قال اردت واحدۃ منھما لایصدق وکذالو قال امرأتی طالق وامرأتی طالق وکذا العتق ولوکان دخل بھما فقال امرأتی طالق امرأتی طالق کان لہ ان یوقع الطاقین علٰی احدٰھما۱؎۔
ایک شخص کی دو۲ بیویاں ہیں دونوں سے دخول ابھی نہیںکیا تو اس کی تصدیق نہ کی جائیگی، اور یُونہی اگراس نے کہا میری بیوی کو طلاق اور میری بیوی کو طلاق یعنی عطف کے ساتھ دونوں جُملے کہے تو بھی یہی حکم ہے ۔یونہی اپنے دو۲ غلاموں کے بارے میں عتق کے لئے ایسے کہا تو دونوں آزاد ہوجائیں گے، اور اگر دونوں بیویوں کو دخول کرچکا ہوتوان کو ''میری بیوی کو طلاق،میری بیوی کو طلاق''کہا تو خاوند کو اس صورت میں یہ اختیار ہوگا وُہ دونوں طلاقوں کو ایک بیوی کے لئے قراردے۔(ت)
(۱؎ فتاوٰی قاضی خاں کتاب الطلاق نولکشورلکنھؤ ۱ /۲۰۷)
جو ہمارے اس بیان کو سمجھ لے وُہ اس مسئلہ کے تمام باقی صدہا صور کے بھی احکام نکال سکتا ہے مثلاً دو۲ زوجہ کی حالت میں یہ لفظ چار۴ یا پانچ۵ یا چھ۶ بارکہا تین کی حالت میں دو۲ سے نو تک یا چار۴ کی صورت میں دو۲ سے بارہ۱۲ تک کہ اس سے زائد جو کچھ ہے وُہ مطلقا فضو ل ہوگا کما لایخفی(جیسا کہ پوشیدہ نہیں ہے۔ت)۔ رہا ایک ہی بار کہنا اس کا حکم سب صورمیں یہی ہے کہ جس پرچا ہے ڈال سکتا ہے کہ کم سے کم ایک کی صلاحیت تو ہر زوجہ میں ضرور ہے۔ واﷲتعالٰی اعلم۔