| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۲(کتاب النکاح والطلاق) |
مسئلہ ۲۰۶: از گلاوٹھی ضلع بلند شہر مدرسہ اسلامیہ مرسلہ مولوی کریم بخش صاحب مدرس ۹ذیقعدہ ۱۳۱۷ھ کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں ک ایک عورت کا باین ہے کہ میرے شوہر نے مجھ کو طلاق دے دی ہے قطعی جس کو عرصہ ۷ مہینے کا ہوااور اپنے بیان کی تائید میں پنے دو۲بھائی حقیقی اور دوشخص غیر کو پیش کرتی ہے، چنانچہ وُہ چاروں قطعی طلاق دینا مسمّاۃ کوبیان کرتے ہیں اور شوہر سے جو دریافت کیا گیا تو وہ انکار کرتا ہے اس صورت میں عورت مطلقہ سمجھی جائے گی یا نہیں؟بینواتوجروا الجواب ان چاروں میں اگر عورت کے دونوں بھائی یادونوں غیریا ایک بھائی ایک غیر فرض کوئی سے دو۲ شخص ثقہ عادل شرعی قابل قبول شہادت ہوں تو عورت ضرورمطلقہ سمجھی جائے گی شوہر کا انکارگواہان ثقہ کے حضور اصلاً مسموع نہ ہوگا، بھائی کی گواہی بہن کے حق میں شرعاً قبول ہے۔ درمختارمیں ہے :
نصابھا لنکاحٍ وطلاقٍ رجلان اورجل وامرأتان۱؎اھ ملخصاًملتقطا۔
نکاح وطلاق میں شہادت کا نصاب دو۲ مرد یا ایک مرد ااور دو۲ عورتیں ہے ___ اھ ملخصاًملتقطا(ت)
(۱؎ درمختار کتاب الشہادات مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۹۱)
فتاوٰی عالمگیریہ میں ہے :
تجوز شہادہ الاخ لاختہ کذافی محیط السرخسی۲؎۔واﷲتعالٰی اعلم۔
بھائی کی شہادت بہن کے حق میں مقبول ہے، جیسا کہ محیط سرخسی میں ہے۔ واﷲتعالٰی اعلم(ت)
(۲؎ الفتاوی الھندیۃ الفصل الثالث فیمن لاتقبل شہادتہ للتہمۃ الخ نورانی کتب خانہ پشاور ۳ /۴۷۰)
مسئلہ۲۰۷: ازریاست رامپور مسئولہ امراؤدلہا مفتی غلام حیدر صاحب محلہ زاخ دوارہ مورخہ۲۶ذی الحجہ ۱۳۳۸ھ کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنی بیوی کے دروازہ پرجاکر بآوازِ بلند اپنی زوجہ کے متعلق کہا کہ میں نے فلانے کی بیٹی فلانی کوطلاق دی، اب شوہر کہتا ہے کہ میں نے یہ لفظ ایک دفعہ محض خوف دلانے کے لئے غصّہ کی حالت میں کہا تھا اور گھرمیں زوجہ کے دو۲ بھائی اور والدہ اور نانی اور دروازہ پر ایک ملازم کا بیان ہے کہ ہم نے طلاق دی دی دی کا لفظ تین دفعہ سنا اوردروازہ کے باہر دوشخصوں نے بھی اسی آواز کو سُنا کہتے ہیں کہ ہم نےدی کالفظ ایک دفعہ سُنا ،اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ صورت مذکورہ بالا میں تین طلا ق ہوئیں یاایک طلاق رجعی۔ بینواتوجروا۔ الجواب عورت کے دونوں بھائی اور ملازم ان تینوں شخصوں میں اگر دو۲ ثقہ عادل قابل قبول شرع ہیں تو تین طلاقیں ہوگئیں عورت بے حلالہ نکاح میں نہیں آسکتی بشرطیکہ بھائیوں نے اسے آنکھ سے دیکھا ہو اور اس کے قول مذکور کو کان سے سُنا اور اگر وُہ گھر ہی میں رہے اور یہ باہر ہی رہا تو محض شناخت آواز پر شہادت نہیں ایک طلاق سے زائد ثابت نہ ہوگی پھر اگر واقع میں تین بار "دی" کا لفظ کہا تو اس پر فرض ہے کہ اسے چھوڑدے اور بے حلالہ ہاتھ نہ لگائے اگر خلاف کرے گا مبتلائے زناہوگا اور مستحق عذاب شدید، واﷲعلٰی کل شیئ شہید، واﷲتعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۰۸: تحصیل کچھا نینی تال مرسلہ عبدالغنی صاحب ۱۷رمضان المبارک ۱۳۳۷ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کی دو۲ منکوحہ ہیں ہندہ، زینت۔ ہندہ نے چاہا کہ زینب زوجہ ثانیہ کو طلاق ہوجائے زید کو اہلِ دِہ نے بہت ڈرایا دھمکایامگر زید نے ہرگز نہ مانا زینب کو طلاق نہ دی ان مغویانِ دہ نے پٹواری دِہ سے کہ از قوم ہنود تھا ساز کرکے طرح طرح کے نقصان مالی وجانی منجان کچہری کے اندیشہ پیداکردیا اورکہا تمہاری سلامتی اسی میں ہے کہ تم اپنی عورت زینب کو طلاز دے دو اور یہ کلمات اُس پٹواری سے پُورا مخوف ہوکر کہا کہ میں نے اپنی بی بی کو طلاق دے دی تین مرتبہ اس کلمہ کا اعادہ کیا اورکرایا مگر یہ لفظ طلاق سے ثابت نہ ہُوا کہ کون سی بی بی کو زید سے مرد ہنود پٹواری نے طلاق دلوائی، بعد تھوڑی دیر کے جبکہ جلسہ منتشر ہوگیا پٹواری نے زید سے دریافت کیا کہ تم نے اپنی کون سی بی بی کو طلاق دی زید نے کسی کا کچھ نام بھی نہیں لیا اور کسی عورت کی طرف اشارہ بھی نہ کیا اس صورت میں طلاق ہوئی یانہیں اور زید شوہر اورزینب زوجہ کو باہم کیا کرنا چاہئے؟ الجواب جبکہ زیدنے تین بار جُداجُدا یہ لفظ اپنی زبان سے کہے کہ ''میں نے اپنی بی بی کو طلاق دی'' اگر چہ ڈرانے دھمکانے جبر واکراہ سے اگرچہ وہ کہلوانے والا ہندو یا کوئی تھا اس پرتین عدد طلاق ضرور لازم آئی اگر اس کی مراد زینب تھی تو زینب پرتین طلاق ہوگئیں اور اگر ہندہ مراد تھی تو ہندہ کو تین طلاقیں ہوگئیں اور اگر دھمکانے سے وہ الفاظ زبان سے اداکردئے اور نیت نہ زینب کی تھی نہ ہندہ کی، تو اب اس کے اختیار میں ہے جس کی طرف چاہے ڈال دے اگر زینب کو کہے گا اس پر تین طلاقیں ہوجائیں گی اور ہندہ کو تو اس پر تنویر میں ہے:
لوقال امرأتی طالق ولہ امرأتان اوثلاث تطلق واحدۃ منھن ولہ خیار التعیین۱؎۔
اگر خاوند نے کہا میری بیوی کو طلاق ہے جبکہ سا کی بیویاں دو تھیں یا تین توان میں سے ایک کو طلاق ہوگی ان میں سے طلاق کے لئے ایک معین کرنے کا اختیار خاوند کو حاصل ہوگا۔(ت)
(۱؎ درمختار باب طلاق غیرالمدخول بہا مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۲۲۳)
ردالمحتار میں ہے :
لافرق فی ذلک بین المعلق والمنجز وکذا لافرق بین حلفہ مرۃ اواکثرفلہ صرف الاکثرالی واحدۃ ففی البزازیۃ عن فوائد شیخ الاسلام قال حلال اﷲعلیہ حرام ان فعل کذاوفعلہ وحلف بطلاق امرأتہ ان فعل کذاوفعلہ ولہ امرأتان فاراد ان یصرف ھذین الطلاقین فی واحدۃ منھا اشارفی الزیادات الی انہ یملک ذلک۲؎۔
مذکورہ صورت میں طلاق معلّق ہو یا غیر معلّق ہو اور یونہی یا متعدد بار کہنے میں کوئی فرق نہیں، ایک سے زائد طلاقوں کو ایک ہی بیوی کے لئے مراد لینے کا بھی خاوند کواختیار ہے، تو بزازیہ میں شیخ الاسلام کے فوائد سے منقول ہے کہ اگر خاوند نے کہاکہ اﷲ تعالٰی کی حلال کی ہوئی چیز مجھ پر حرام ہے اگر میں فلاں کام کروں، اور پھر اس نے وہ کام کرلیا اور اس کے بعد پھر اس نے کہااگر میں فلاں کام کروں تو میری بیوی کو طلاق، پھراس نے وُہ کام کرلیا، تو ان دونوں قسموں کے بعد خاوند کو دو۲ بیویوں کی صورت میں اختیار ہے ان دونوں طلاقوں کو ایک بیوی کے لئے قرار دے، زیادات میں خاوند کو اس اختیار کامالک قرار دینے کا اشارہ دیا ہے۔(ت)
(۲؎ ردالمحتار باب طلاق غیر مدخول بھا داراحیاء التراث العربی ۲ /۴۵۹)
اور جبکہ وُہ خالی الذہن تھا کسی لفظ سے کسی عورت کی نیت نہ تھی لیکن یہ الفاظ خالی نہیں جاتے اور شرع اسے تعیین کا اختیار دیتی ہے تو ظاہر اس پر لازم نہیں کہ تینوں طلاقیں ایک ہی عورت پر ڈالے بلکہ ایک پر ایک اورایک پر دو۲ڈال سکتا ہے اوردونوں پر یہ طلاق رجعی ہونی چاہئے جبکہ اسے سے پہلے دو۲والی کو ایک اور ایک والی کو دو۲ طلاقیں نہ دے چکا ہو، پھر اگر دونوں کو اپنے نکاح میں رکھنا چاہے تو عدّت کے اندر رجعت کرلے دونوں بدستور اس کی زوجہ رہیں گی، ہاں آئندہ کبھی اگر دو۲ والی ایک یا ایک والی کو دو۲ طلاقیں دے گا تو تین ہوجائیں گی اور پھر بے حلالہ اس سے نکاح نہ کرسکوں گا۔
اقول : والد لیل علی جواز التفریق مامر عن البزازیۃ عن شیخ الاسلام عن اشارۃ محمد انہ یملک الصرف الی واحدۃ ان اراد فقط افاادانہ یملک التفریق ان شاء والثلاث والاربع والاثنان فی ذلک سواء ولیس قولہ طلقت طلقت طلقت أوامرأتہ طالق امرأتہ طالق امرأتہ طالق کقولہ طلقت امرأتی ثلاثا، او امرأتی طالق ثلاثا فان ھنا قد افھم المغلظۃ فلایملک التخفیف بالتفریق مع ان المروی عن الامام فیہ ایضاخیار التفریق غیر انہ تقع علی کل منھن واحدۃ بائنۃ لئلایلغٰی وصف الاصل فی ردالمحتار رأیت بخط شیخ مشائخنا السائحاتی عن المنیۃلوکان الرجل ثلاث نساء فقال امرأتی ثلاث تطلیقات یقع ثلاث لکل واحدۃ وعندابی حنیفۃ رضی اﷲتعالٰی عنہ لکل واحدۃ منھن طلاق بائن وھو الاصح ۱؎اھ اقول ای الا اذابین وعین احدٰھن فعلیھا الثلاث فلامخالفۃ فیہ لمسألۃ خیار التعیین خلافا لما فھم العلامۃ الشامی اما ھھنا فکل کلمۃ علی واحدۃ وکل تحتمل کل امرأتہ ولاترجیح فالیہ البیان فان شاء جمع الکل علی کل رجعیۃ اذلا اصل ھٰینا موصوفا بالبینونۃ وبہ انحل مافی ردالمحتار، وباﷲالتوفیق، واﷲتعالٰی اعلم۔
دلیل بزازیہ کی گزشتہ عبارت شیخ الاسلام سے منقول کہ امام محمد نے اس میں اشارہ فرمایا کہ خاوند کو ایک ہی بیوی پر دونوں طلاقوں کو صرف کرنیکا اختیار ہے اگر چاہے تو واضح ہُوا کہ انہوں نے افادہ کیا کہ خاوند اگر چاہے تو ان طلاقوں کو اپنی متعدد بیویوں پر متفرق کرسکتا ہے اس میں بیویوں کی تعداد دو۲ یا تین چار ہونے میں کوئی فرق نہیں، اور خاوند کا'' میں نے طلاق دی'' میں نے طلاق دی'' یا یوں''میری بیوی طلاق والی ہے'' تین بارکہنا، اس کاحکم وُہ نہیں جو ''میں نے بیوی کو تین طلاقیں دیں ''یا'' میری بیوی تین طلاقی والی ہے''کا حکم ہے کیونکہ آخری دونوں الفاظ میں طلاق مغلظ مفہوم ہوتا ہے، تو اب اس مغلظہ کو متعدد بیویوں پر تقسیم کرکے مخفّفہ نہیں بناسکتا(لہذا یہ تین ایک ہی بیوی کےلئے قرار پائیں گی) حالانکہ امام سے اس مسئلہ میں بھی مروی ہے کہ انہوں نے یہاں بھی تفریق کا اختیار خاوند کو دیاہے صرف اس میں یہ بات فرمائی کہ ہر ایک بیوی کو ایک طلاق بائنہ ہوگی تاکہ اصل طلاق کا وصف لغو نہ جائے۔ ردالمحتار میں ہے کہ میں کہ میں نے شیخ المشائخ سائحاتی کے خط میں دیکھا انہوں نے منیۃ الفقہاء سے نقل کیا کہ اگر ایک شخص کی تین بیویاں ہوں اور وُہ کہے''میری بیوی کو تین طلاقیں ہیں'' تو اس کی تینوں بیویوں میں سے ہر ایک کو تین تین طلاقیں واقع ہونگی، اور امام ابو حنیفہ رضی اﷲتعالٰی عنہ کے نزدیک ہر ایک بیوی کو ایک ایک بائنہ طلاق ہوگی،اور یہی زیادہ صحیح ہے اھ اقول(میں کہتا ہوں) مگر یہ اس صُورت میں ہے جب خاوند نے بیویوں میں کسی کو معیّن نہ کیا ہو اور اگر اس نے تینوں بیویوں سے ایک کو واضح طور معیّن کرلیا تو پھر ایک کو ہی تین طلاقیں ہوں گی، لہذا یہ صورت، تعین کے اختیار والے مسئلہ کے مخالف نہیں، یہ ابت علّامہ شامی کے فہم کے خلاف ہے،لیکن یہاں زیر بحث مسئلہ میں تو ہر طلاق علیحدہ ذکر کی گئی ہے جو کہ ہر بیوی کے لئے ہوسکتی ہے اور کوئی وجہ ترجیح نہیں ہے لہذاخاوند کو ہی بیان کا حق ہوگا، وُہ چاہے تو سب کو طلاقیں ایک کے لئے بیان کرے اگر چاہے تو ان طلاقوں کو متعدد بیویوں پر متفرق کردے، اگر اس نے متفرق کردیں تو پھر ہر ایک کو طلاق رجعی ہوگی کیونکہ یہاں طلاق کو بائنہ سے موصوف نہیں کیا گیا، او اس تقریر سے ردالمحتار میں ذکر کردہ اشکال حل ہوگیا ،اور توفیق اﷲتعالٰی سے ہی حاصل ہے، واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
(۱؎ ردالمحتار باب طلاق غیرالمدخول بھا داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۴۵۹)