| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۲(کتاب النکاح والطلاق) |
مسئلہ۱۱: از بریلی مرسلہ نواب مولوی سلطان احمد خاں صاحب ۱۳ رمضان مبارک ۱۳۱۰ھ مہر ازواجِ مطہرات حضور سرورِ عالم صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم کا کس قدر تھا ؟ اور مہر حضرت فاطمہ رضی اﷲتعالٰی عنہا کا کس قدر مع تعداد درہم و دینار وتطبیق سکّہ رائج الوقت ارشاد ہو اور وزن درہم و دینار موافق وزن اس وقت کے کیا ہے؟ وبینوا توجروا الجواب عامہ ازواجِ مطہرات وبنات مکرمات حضور پُر نور سیّد الکائنات علیہ وعلیہن افضل الصلٰوۃ اکمل التحیات کا مہر اقدس پانچ سودرہم سے زائد نہ تھا۔
مسلم فی صحیحہ عن ابی سلمۃ قال سألت عائشۃ رضی اﷲتعالٰی عنھا کم کان صداق النبی صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم قالت کان صداقہ لازواجہ ثنتی عشرۃ اوقیۃ ونش، قالت اتدری ماالنش،قلت لاقالت نصف اوقیۃ فتلک خمس مائۃ دراھم ۱؎ احمد والدارمی والاربعۃ عن امیرالمؤمنین عمر الفاروق الاعظم رضی اﷲتعالٰی عنہ قال ماعملت رسول اﷲ صلّی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نکح شیئا من نسائہ ولا انکح شیئا من بناتہ علی اکثر من اثنتی عشرۃ اوقیۃ۲؎۔
صحیح مسلم شریف میں ہے ابوسلمہ نے فرمایا کہ میں نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲتعالٰی سے پوچھا کہ حضور علیہ الصّلٰوۃ والسلام نے اپنی ازواج کیلئے بارہ اوقیہ( چالیس درہم فی اوقیہ) اور ایک نش مقرر فرمایا۔ تو آپ نے پُوچھا کہ تمہیں معلوم ہے نش کیا ہوتا ہے، میں نے کہا نہیں، توآپ نے فرمایا: نش نصف اوقیہ کو کہتے ہیں، تو یہ کل پانسو درہم ہوئے۔ امام احمد، دارمی اور سُنن اربعہ(ابوداؤد، نسائی، ترمذی، ابن ماجہ) نے امیر المومنین عمر فاروق رضی اﷲتعالٰی عنہ سے روایت کیا کہ انہوں نے فرمایا حضور علیہ الصّلٰوۃ والسلام نے اپنی ازواج یا صاحبزادیوں کا نکاح بارہ اوقیہ سے زیادہ پر کیا ہو یہ مجھے معلوم نہیں۔(ت)
(۱ صحیح مسلم کتاب النکاح باب الصداق قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۴۵۸) (۲ جامع الترمذی ابواب النکاح امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی ۱ / ۱۳۲)
مگر اُم المومنین اُمِّ حبیبہ بنت ابی سفیان خواہر جناب امیر معاویہ رضی اﷲتعالٰی عنہم کہ ان کا مہر ایک روایت پر چار ہزاردرہم ۳؎
کما فی سنن ابی داؤد
( جیساکہ سُنن ابی داؤد میں ہے۔ت)دوسری میں چار ہزار دینارتھا۔
فی المستدرک صححہ الحاکم واقرہ الذھبی ولایخالف ھذامامر من حدیثی ام المؤمنین وامیر المؤمنین رضی اﷲتعالٰی عنہما فان ھذہ الامھارلم یکن من رسول اﷲصلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم بل من ملک الحبشۃ سیّد نا النجاشی رضی اﷲتعالٰی عنہ۔
جیسا کہ مستدرک میں امام حاکم نے اس کی تصحیح کی اورذہبی نے اس کوثابت مانا، اور یہ حضرت ام المؤمنین اور عمر فاروق رضی اﷲتعالٰی عنہما سے مروی کا مخالف نہیں ہے کیونکہ یہ مہر حضور علیہ الصّلٰوۃ والسّلام نے مقرر نہیں کیا بلکہ حبشہ کے بادشاہ حضرت سیّدنا نجاشی رضی اﷲتعالٰی عنہ نے مقرر کیا تھا۔(ت)
(۳ سنن ابی داود کتاب النکاح باب الصداق آفتاب عالم پریس لاھور ۱/ ۲۸۷) (۴ المستدرک للحاکم کتاب النکاح مہر ام حبیبہ دارالفکر بيروت ۲/۱۸۱ )
اور حضرت بتول زہرا رضی اﷲتعالٰی عنہا کا مہراقدس چار سو چاندی۵
علی ماذکر فی المرقاۃ الجزم بہ عن روضۃ الاحباب والمواھب
(جیساکہ مرقاۃ میں ذکر فرمایا کہ روضۃ الاحباب اور مواہب نے اس پر جزم کیا ہے۔ت)
(۵ مرقاۃ المفاتح کتاب النکاح فصل ثانی حدیث ۔۳۳ مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ۶/ ۳۶۰ )
درہم شرعی کا وزن ۳ ماشے ۱-۱ / ۵ سرخ چاندی ہے
کما حققنا فی الزکوۃ من فتاوٰنا
(جیسا کہ ہم نے اپنے فتاوٰی کی کتاب الزکوٰۃ میں اس کی تحقیق کی ہے۔ت)
اور دینار ایک مثقال یعنی چار۴ماشے سونا،
یہی وزن سبعہ ہے یعنی سات مثقال وزن میں برابر دس درہم کے ،
فی تنویر الابصار کل عشرۃ دراھم ۱ وزن سبعۃ مساقیل ۱
( تنویر الابصارمیں ہے کہ ہر دس ۱۰ کا وزن سات مثقال ہے۔ت)
(۱؎ درمختار تنویر الابصار باب زکوٰۃ المال مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۱۳۴)
اور باعتبار قیمت ایک دینار شرعی دس۱۰ درہم کا تھا،
فی ردالمحتار فی الھدایۃ کل دینار عشرۃ دراہم فی الشرع قال فی الفتح ای یقوم فی الشرع بعشرۃ کذاکان فی الابتداء۲؎۔
ردالمحتارمیں ہے کہ ہدایہ میں ہے کہ ہر دینار دس۱۰درہم ہے شرع، فتح میں فرمایا ہے کہ شرع میں ہر دینار کی قیمت دس۱۰ درہم مقرر ہوئی جیسا کہ ابتداء میں تھا۔(ت)
(۲؎ ردالمحتار باب زکوٰۃ المال داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۳۱)
یہاں کا روپیہ ۱۱ ماشہ ۲ سُرخ ہے تو درہم اس کا ۷/۲۵ ہے کہ مجنس کرنے سے درہم ایک سوچھبیس روپیہ ۴۵۰ ہواتو درہم روپے کا ۲۶لا ۱ /۴۵۰ یعنی ۷/۲۵ ٹھہرا جس کا حاصل یہ ہے کہ معہ۷ روپے برابر م عہ۲۵ درہم کے یا ایک روپیہ برابر ۳-۴/۷ درم کے، ولہٰذا نصاب فضّہ کہ دوسودرم۲۰۰ ہے اس درم ہ اس روپے سے ؎۵۶ آتی ہے صما ۵۰/درمکے ما لعہ ۱۴۰ ہوئے اور چار سو۴۰۰ مثقال کے ایک سوساٹھ ۱۶۰ روپے، دس۱۰ درہم اقل مقدارِ مہر ہے عا ۱۲/۹-۳/۵ پائی یعنی دوروپے پونے تیرہ آنہ اور پانچواں حصّہ پیسے کا،چار ہزار درم کے یہاں کہ سکّہ سے ایک ہزار ایک سوبیس ۱۱۲۰ روپے ہُوئے، اور ہر دینار دس۱۰ درہم کا ہے، لہذا چار ہزار دینار کے گیارہ ہزار دوسوروپے۔ اس حساب سے ظاہر ہُوا کہ زمانہ اقدس رسالت میں سونے کی قیمت ساڑھے سات روپے تولہ سے بھی کم تھی کہ جب دینار یعنی ساڑھے چار ماشہ سونا دس۱۰ در م یعنی دو۲ روپے بارہ۱۲ آنے ۹-۳/۵ پائی کا تھا تو بحساب اربعہ ایک تولہ سونا معہ ۷/۵-۳/۵ پائی کا ہوا، یہ برکات دنیا تھیں علاوہ برکات دینیہ کے جن کا شمار ﷲعزّوجل کے سواکوئی نہیں کرسکتا
وان تعدوا نعمۃ اﷲ لاتحصوھا ۳؎
(اور اگر اﷲ کی نعمتیں گنوتوانہیں شمار نہ کرسکوگے۔ت)
(۳؎القرآن الکریم ۱۶ /۱۸)