Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۲(کتاب النکاح والطلاق)
89 - 155
مسئلہ۲۰۳: ازکوٹہ راجپوتانہ     مرسلہ محمد ابراہیم خاں دکیل سرشتہ     ۲۳رجب۱۳۳۶ھ 

زید نے اپنی زوجہ ہندہ کو جس کی عمر ۱۵سال کی ہے ہندہ کے باپ عمرو کے مواجہہ میں طلاق بائن مغلظ دے دیا اس طلاق کے اندازاً ایک سال بعد زیدنے کسی طرح پر ہندہ کو بہکا کر یہ کہلادیا کہ مجھے طلاق نہیں ہوئی ہے اور زید بھی طلاق دینے سے انکار کرتا ہے، اس صورت میں پدر ہندہ عمرو کو بروئے شریعت کیسا اختیار حاصل ہے، کیا عمرو قاضی کے سامنے دعوٰی  پیش کرکے استقرارِطلاق کی ڈگری لے سکتا ہے اور پانی لڑکی ہندہ نابالغہ کو زید کے قبضہ سے نکال سکتا ہے؟

الجواب

اﷲ عزوجل ہر غیب کو جانتا ہے فی الواقع اگر زید نے ہندہ کو طلاق مغلظہ دی تھی اور اب زید وہندہ دونوں منکر ہوگئے ہں تو اُن کا نکار کچھ مسموع نہیں، اور ان پر فرض ہے کہ فوراًفوراً جُدا ہوجائیں ورنہ زنا ہے اور دونوں کو عذابِ جہنّم وغضبِ جبّار کا استحقاق ہے، اگر وُہ جُدا نہ ہوں تو ہندہ کے باپ پر فرض ہے کہ قاضی کے یہاں دعوی طلاق کرکے فوراً جدائی کرالے اگر وہ نہ کرے تو جو مسلمان اس پر اطلاع رکھتا ہے اس پر فرض ہے کہ دعوٰی  کرکے اُن میں جدائی کرادے اس میں ہر مسلمان کودعوٰی  اختیار ہے بلکہ اگر کوئی شخص دعوٰی  نہ کرے تو جن جن کے سامنے زید نے طلاق دی تھی اُن پر فرض ہے کہ قاضی کے یہاں حاضر ہوکر گواہی دیں اور اگر اُن میں دو۲ گواہ قابل قبول شرع ہوں تو قاضی پر فرض ہے کہ بغیر کسی مدعی کے ان کے شہادت سُن لے اور اُن مردوعورت کر جبراً جُدا کردے۔ 

اشباہ والنظائر میں ہے : تسمع الشہادۃ بدون الدعوی فی الحد الخالص وفی الطلاق والایلاء والظہار۱؎۔

خالص حد، طلاق، ایلاء اور ظہار میں بغیر دعوٰی  بھی شہادت قبول کی جاسکتی ہے۔(ت)
 (۱؎ الاشباہ والنظائر     کتاب الشہادات والد عادی     ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی     ۱ /۳۵۸)
درمختارمیں ہے : تقدم الدعوی فی حقوق العباد شرط قبولا بخلاف حقوق اﷲتعالٰی لوجوج اقامتھا علی کل واحد فکل احد خصم فکان الدعوی موجودہ۲؎۔(ملخصاً)

حقوق العباد میں شہادت قبول کرنے کے لئے پہلے دعوٰی  پایاجانا شرط ہے بخلاف حقوق اﷲ کے کہ ہر ایک پر واجب ہے کہ ان کو قائم کرے اس لئے حقوق اﷲ معاملہ میں ہر ایک فریق ہوسکتا ہے، گویا کہ دعوٰی  موجود قرار پائے گا۔(ت)
 (۲؎ درمختار         باب الاختلاف فی الشہادۃ        مطبع مجتبائی دہلی         ۲ /۹۸)
ہاں واقع میں زید نے طلاق نہ دی اور ہندہ کا باپ جُھوٹا دعوٰی  طلاق کرکے جُدا کرانا چاہتا ہے تو ہو سخت عذات کا مستحق ہوگا۔والعیاذباﷲ، واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۰۴: ازبلرامپورڈاک خانہ خاص ضلع گونڈہ محلہ پھاٹک جانب اوتر سرائے بختہ مرسلہ نور محمد آتشباز ۲۴صفر ۱۳۳۸ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید خواندہ آدمی ہے عرصہ پندرہ سولہ سال کا گزرتا ہے کہ زید نے اپنی بی بی ہندہ کو بوجہ وجوہ طلاق واحد تنبہاً دی اور بعد گزرنے گزرنے پندرہ یوم کے دونوں میاں بیوی نے رجعت کرلی اور آج تک زید کی زوجیت میں رہی اتفاقاً بعد سولہ برس کے دونوں میں نااتفاقی بوجہ ورغلانے ایک شخص کے جوزید کی تجارت میں شریک تھا ہوگئی اور زدی کے مکان سے فرار ہوگئی بعد چندس روز کے واپس آئی اور سابقہ طلاق واحد کو تین طلاقوں کی مقر ہوئی، چونکہ زید برادری والا آدمی ہے، پنچایت میںیہ مقدہ پیش ہوا اور گواہوں نے بیان کیا، مجھے یاد نہیں ہے کہ زید نے طلاق واحد دی تھی یا طلاق ثلاثہ،اس وقت پنچایت میں زید سے قسم لی گئی،زید نے طلاقِ واحد کی قسم کھالی، ہندہ پھر زید کی زوجیت میںچند روز رہی، بعد ازاں ہندہ پھر فرار ہوکر اور دوگواہ بے نمازی دانمی وار شراب خوارو زانی ایک برادری ودیگرے قوم دیگر کچہری دیوانی میںپیش کرکے مقدمہ دائر کرکے ڈگری حاصل کرلی اور اس شخص کے مکان پر رہتی ہے جو کہ زید کا شریک تھا اور اسی کے ورغلانے کاگمان غالب تھا، پس صورتِ مسئولہ میںہندہ کے گواہ مذکورہ کچہری کا قول معتبر ہوگایا کہ گواہ اول پنچایتی برادرنِ زید کا قسم معتبر ہوگا اور اہلِ برادری کو زید کے شریک جہاں ہندہ رہتی ہے اور اسی کے ورغلانے کا تمام اہلِ برادری کو اور زید کو گمان غالب ہے تنبیہاً خاندان ترک کردینا جائز ہے یانہیں ؟ اور ہندہ زوجہ زید ہوسکتی ہے یانہیں؟

الجواب

اگر یہ بیان واقعی ہے تو پنچایت کا فیصلہ حق تھااس کے بعد ہندہ کا چند روز اس پر کاربند رہ کر اغوائے شیطان سے پھر فساد اٹھانا اور دو۲فاسق گواہ پیش کرکے کچہری سے ڈگری لینا اسے شرعاً کچھ مفید نہیں، ہندہ بدستور زوجہ زید ہے، اور شریک زید پر اگر ہندہ کے اغواکا ثبوت ہوتو اہلِ برادری ضرور اسے برادری سے خارج کریں اُس سے میل جول چھوڑدیں اس کے پاس نہ بیٹھیں۔ اﷲعزّوجل فرماتا ہے: وامّاینسینک الشیطٰن فلاتقعد بعد الذکری مع القوم الظلمین۱؎۔

اگر تجھے شیطان بُھلادے تو یاد آئے پر ظالموں کے پاس نہ بیٹھ۔(۱؎ القرآن ۶/۶۸)

رسول اﷲصلی اﷲتعالٰی  علیہ وسلم فرماتے ہیں :
لیس منّا من خبب امرأۃ علٰی زوجھا۲؎رواہ ابُوداؤد والحاکم بسند صحیح عن ابی ھریرۃ والطبرانی فی الصغیرونحوہ فی الاوسط عن ابن عمروفی الاوسط کابی یعلی بسند صحیح عنابن عباس رضی اﷲتعالٰی عنہم اجمعین۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
ہمارے گروہ سے نہیں جوکسی کی عورت کو اس سے بگاڑدے(اس کو ابوداؤد اور حاکم نے صحیح سند کے ساتھ ابوہریرہ رضی اﷲتعالٰی  عنہ سے اور طبرانی نے صغیر اور اس کی مثل اوسط میں ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی  عنہ سے، اوراوسط میں ابویعلٰی  کی طرح صحیح سند سے ابن عباس رضی اﷲتعالٰی  عنہ سے مروی ہے۔ واﷲ تعالٰی  اعلم۔ت)
 (۲؎ سنن ابوداؤد     کتاب الطلاق     آفتاب عالم پریس لاہور         ۱ /۲۹۶)

(المستدرک للحاکم     باب لیس منّامن خبب امرأۃ علٰی  زوجہا الخ دارالفکر بیروت     ۲ /۱۹۶)
مسئلہ۲۰۵: از پکھریرضلع مظفر پور محلہ نورالعین شاہ شریف آباد رائے پور مظفر پور مرسلہ شریف الرحمٰن صاحب ۳شعبان ۱۳۳۶ھ

ہندہ کہتی ہے کہ مجھے میرا شوہر شیخ اسمٰعیل نے بیکدم پانچ طلاق دی ہے اور ایک ماں اور ایک بھاوج اور ایک غیر عورت بالغ اور ایک لڑکا بارہ چودہ سالہ گواہ رکھتی ہے اس کی مائی کہتی ہے کہ ہاں پانچ طلاق دی ہے اور بھاوج کہتی ہے کہ پانچ طلاقی دی ہے ،غیر عورت موجودہ کہتی ہے کہ دو۲ دی ہے، لڑکاکہتا ہے کہ تین۳دی ہے، اور یہ بھی کہتا ہے کہ وہاں مسمّاۃ مورن بھی تھی مسمّاۃ مورن کہتی ہے کہ طلاق نہیں دی ہے، اور پڑوس موجودہ لوگ سب بیک زبان کہتے ہیں کہ طلاق نہیں دی ہے، اور اسمٰعیل شوہرِ ہندہ کہتا ہے کہ میں حلفاًکہتا ہوں کہ میں نے ہندہ کو طلاق نہیں دی ہے اور نہ دُوں گا، ہندہ اور ہندہ کی ماں اور بھاوج باہمی سازش سے مجھ پر تہمت جھوٹی کی ہے چونکہ میں بیمار تھا ہندہ کواپنی خدمت کے لئے تنبیہ ومجبور کرتا تھا اس لئے مجھ سے ناراض ہوکر جُھوٹی تہمت مجھ پر کی ہے۔

الجواب

صورتِ مذکورہ میں طلاق ثابت نہیں کہ اگر وُہ لڑکا بالغ ہو یا وُہ خواہ بھاوج خواہ وُہ دوسری عورت کہ دو۲ طلاق کہتی ہے ثقہ عادل شرعی نہ ہوں جب توظاہر یہاں تک کہ اگر یہ لڑکا بالغ اور یہ اور ماں اور بھاوج سب ثقہ عادل ہوں فقط وُہ غیر عورت ثقہ نہ ہو جب بھی طلاق اصلاً  ثابت نہ ہوگی پہلی صورت میں اس لئے کہ صرف عورتیں ہیں اور تنہا عورتوں کی گواہ مقبول نہیں اوردوسری صورت میں اس لئے کہ عدالت نہیں اور تیسری صور ت میں اس لئے کہ ماں گواہی بیٹی کے حق میں نہیں۔ درمختار میں ہے : لاتقبل شہادۃ الفرع لاصلہ وبالعکس۱؎۔ (ملخصاً)

فرع(اولاد) کی شہادت اصلا(والدین اور اوپر) کے حق میں اور اس کا عکس ہوتو بھی مقبول نہیں (ملخصاً)۔(ت)
 (۱؎ درمختار     کتاب الشہادت باب القبول وعدمہ     مطبع مجتبائی دہلی     ۲ /۹۴)
بحرالرائق میں ہے :
فی الولوالجیۃ تجوز شہادۃ الابن علی ابیہ بطلاق امرأتہ اذالم تکن لامہ أولضرتھا لانھا شہادۃ علی ابیہ وان کان لامہ اولضرتھالاتجوز لانھا شھادۃ لامہ۱؎۔
ولوالجیہ میں ہے کہ باپ نے اگر اپنی بیوی کو طلاق دی تو بیٹے کی اپنے باپ کے خلاف شہادت مقبول ہوگی بشرطیکہ جس کو طلاق دی گئی ہو وہ اس بیٹے کی ماں یاماں کی سہیلی نہ ہو، یہ شہادت باپ کے خلاف ہونے کی وجہ سے مقبول ہوگی اور اگر بیٹے کی ماں یا اس کی سہیلی ہوتو پھر بیٹے کی یہ شہادت مقبول نہیں کیونکہ اگرچہ باپ کے خلاف ہے لیکن ماں کے حق میں ہے۔(ت)
 (۱؎ بحرالرائق         باب من تقبل شہادۃ ومن لاتقبل    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۷ /۸۰)
اور بالفرض اگر یہ لڑکا بالغ اور بھاوج اور وُہ دوسری عورت سب ثقہ عادل ہوں بھی تو دو۲طلاقیں ثابت ہوسکتیں کہ اسی قدر تینوں شاہدوں کا اتفاق ہے لیکن یہ مذہب صاحبین کا ہے ہمارے امام اعظم رضی اﷲتعالٰی  عنہ کے نزدیک اب بھی شہادت مقبول نہیں کہ دو۲ اور تین۳ میں اختلاف ہے اور اختلاف شہود موجب رَدِّشہادت ۔ ہدایہ میں ہے:

یعتبر اتفاق الشاھدین فی اللفظ والمعنی عندابی حنیفۃ فاذاشہد احدھمابالف والاٰخربالفین لم تقبل الشہادۃ عندہ وعندھما تقبل علی الالف اذاکان المدعی یدعی  الفین وعلی ھذاالطلقۃ والطلقتان والطلقۃ والثلث۲؎۔

امام ابوحنیفہ رضی اﷲتعالٰی  عنہ کے نزدیک دونوں گواہوں کا لفظ اور معنٰی  میں اتفاق معتبر ہے لہذا اگرا یک گواہ نے ایک ہزار کہا اور دوسرے نے دوہزار کہا تو یہ شہادت امام صاحب کے نزدیک مقبول نہ ہوگی، اورصاحبین رحمہا اﷲتعالٰی  کے نزدیک مذکورہ صورت میں ایک ہزار پر دونوں گواہوں کی شہادت قبول کرلی جائے گی بشرطیکہ مدعی نے دوہزارکا دعوٰی  کیا ہو،یُوں ہی ایک طلاق اور دوطلاق کا یا ایک اور تین طلاقوں میں(گواہوں کا اختلاف ہوتو امام صاحب کے نزدیک اس اختلاف میں کوئی طلاق ثابت نہ ہوگی)۔(ت)  تو ثابت ہواکہ صورت مستفسرہ میں اصلاً طلاق ثابت نہیں۔ واﷲ تعالٰی  اعلم۔
 (۲؎ ہدایہ         باب الاختلاف فی الشہادۃ         مطبع مجتبائی دہلی    ۳ /۱۶۵)
Flag Counter